01 July, 2009

لبراہن کمیشن رپورٹ : تحقیقات مکمل

6-ڈسمبر-1992ء کے سیاہ دن ایودھیا میں بابری مسجد شہید کئے جانے کے ایک ہفتہ بعد اس شہادت کی تحقیقات کے لئے جو کمیشن جسٹس لبراہن کی سرکردگی میں قائم کیا گیا ، اسے "لبراہن کمیشن" کا نام دیا گیا تھا۔

تقریباً 17 سال کی طویل تحقیقات کے بعد 30-جون-2009ء کو (ریٹائیڑڈ) جسٹس لبراہن نے لبراہن کمیشن رپورٹ ، وزیر داخلہ پی۔چدمبرم کے ساتھ وزیر اعظم من موہن سنگھ کو پیش کر دی ہے۔

رپورٹ کی پیش کشی کے بعد جسٹس لبراہن نے کہا :
آج میں آزاد ہو گیا ہوں۔
17 سال کی طویل مدت اور 48 مرتبہ توسیع کی ضرورت پیش آنے کی بنیادی وجہ انہوں نے بعض افراد کے عدم تعاون اور گواہوں کے پیش ہونے میں پس و پیش کا نتیجہ قرار دیا۔

لبراہن کمیشن کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران کاروائی رپورٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس رپورٹ پر مباحث ممکن ہوں گے۔

ابھی اس مشہور و معروف کمیشن کی رپورٹ کا اصل مواد منظر عام پر نہیں آیا ہے حالانکہ آئی-بی-این ٹی-وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس رپورٹ کے اقتباسات اسے حاصل ہو گئے ہیں۔

رپورٹ سے متعلق کچھ جھلکیاں :

** ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاترا پر تنقید تو کی گئی لیکن کلیدی قصوروار کی حیثیت سے رپورٹ میں ان کا نام نہیں لیا گیا۔
** سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ پر مسجد کے انہدام کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات نہ کرنے پر رپورٹ میں ان پر تنقید کی گئی۔
** مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی اور ونئے کٹیار کو رپورٹ میں اس سانحے کا قصور وار قرار دیا گیا۔

** بی-جے-پی کیمپ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اوما بھارتی نے انہدام کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ پھانسی کی سزا قبول کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
** یو-پی-اے نے اس مسئلہ پر بی-جے-پی کو پارلیمنٹ میں الگ تھلگ کر دینے کی کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
** سینئر کانگریسی لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے شہادت کے موقع پر برپا کئے جانے والے بی-جے-پی قائیدین کا نعرہ "ایک دھکہ اور دو" اور اس جیسے دیگر نعروں کی یاد دلاتے ہوئے بی-جے-پی قائیدین پر نکتہ چینی کا آغاز کر دیا ہے۔
** کُل ہند بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ چئرمین جاوید حبیب نے بیان دیا کہ مسلمانوں کو اس رپورٹ کا عرصہ دراز سے انتظار رہا ہے۔ شہادت کے مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا انہوں نے پُرزور مطالبہ بھی کیا ہے۔
** بی-جے-پی نے کانگریس پر سازش کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کو چیلنج دیا کہ وہ متنازعہ مقام پر مسجد تعمیر کرنے کے اپنے وعدہ کو پورا کرے۔
** کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ حکومت رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد اس پر مناسب قدم اٹھائے گی۔ ایک اور ترجمان شکیل احمد نے کہا کہ جب حکومت اگلا قدم اٹھائے تب ملک کو مسجد کی شہادت کے واقعے کے پس پردہ سچائی کو جاننے کا موقع ملے گا۔

شنشاہِ ظرافت : سلیمان خطیب

شعر و ادب اور تہذیب و تمدن کے مرکز شہر گلبرگہ کو اس بات پر بہت ناز ہے کہ اس شہر نے نجانے کتنے سپوتوں کو جنم دیا ، جنہوں نے نہ صرف شعر و ادب کی محفلیں جمائیں بلکہ اپنی تخلیقات سے اپنی انفرادیت کا سکہ جما دیا ۔
ایسے ہی منفرد لب و لہجے کے دکنی شاعر جناب سلیمان خطیب ہیں جنہوں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں نے ذریعے سارے دکن کے میدانِ مزاح نگاری میں اپنی ایک علحدہ شناخت بنائی ۔ زبان کی ندرت ، دل کو چھو لینے والا اندازِ بیاں اور نظموں کی ڈرامائیت کی وجہ سے انہوں نے ہندوستان گیر شہرت حاصل کی ۔

سلیمان خطیب 26۔ ڈسمبر 1922ء کو چٹگوپہ ، معین آباد ، کرناٹک کے ایک مہذب خطیب گھرانے میں پیدا ہوئے اور شہرِ گلبرگہ کو اپنا وطنِ ثانی بنایا ۔ 1941ء سے 1977ء تک آپ واٹر ورکس گلبرگہ میں سرکاری ملازمت پر کارگزار رہے ۔ آپ کی وفات اکتوبر 1978ء میں ہوئی ۔
‫1974ء میں حکومتِ کرناٹک نے انہیں اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا تھا ، اس کے علاوہ بھی بیشمار انعامات و اعزازات سلیمان خطیب کو عطا کئے گئے ۔

سلیمان خطیب نے متوسط طبقہ کے معاشرتی مسائل کو اپنا موضوع بنایا تھا ۔
پہلی تاریخ ، چھورا چھوری ، ساس بہو ، سانپ ، ہراج کا پلنگ ، اٹھائیس تاریخ ۔۔۔ جیسی خطیب کی لازوال نظمیں ، جو حقیقت پسندی اور طنز و مزاح سے لبریز تھیں ، کافی مقبول و معروف ہوئیں ۔

کیوڑے کا بن ، سلیمان خطیب کی مزاحیہ شاعری کا ایک شاہکار مجموعہ ہے ۔ دکنی شاعری کے لیے ایک تاریخی تحفۂ نایاب ہے ۔ ڈاکٹر شمیم ثریا صاحبہ نے ’کیوڑے کا بن‘ کے پیش لفظ میں بالکل صحیح لکھا ہے کہ ‫:
سلیمان خطیب کا دکنی اردو کو شاعری کے لئے اختیار کرنا بلاشبہ ایک جراءت مندانہ اقدام تھا ۔ اپنے اس عمل کے ذریعے انہوں نے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ کوئی بھی زبان ادبی یا غیرادبی نہیں ہے بلکہ وہ زبان جو مقبولِ عام ہو وہی اپنے زمانے کی زبان ہوتی ہے ۔

نظم ’اٹھائیس تاریخ‘ میں خطیب نے ایک مفلوک الحال بیوہ کی درد بھری آہ کو اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے جس میں مزاح کے ساتھ ساتھ طنز کا پہلو بھی مضمر ہے ۔

اٹھائیس تاریخ

روز لڑ لڑ کو جان کھا کھا کو
اچھا جنگل میں سو گئے آ کو
ایسا مرنا بھی کئیکا مرنا جی
گھر میں بیٹی جوان بیٹھی ہے
کِتیورا لوگاں کے پاواں پڑ پڑ کو
گھر سے میت کو میں اٹھائی ہوں
جینا مرنا تمہارا قرضے کا
آج پھولاں اُدھار لائی ہوں
یِتا احسان ہم پو کرنا تھا
تنخواہ لینے کے بعد مرنا تھا ‫!

---
مضمون : شنشاہِ ظرافت ، سلیمان خطیب
مضمون نگار = سید چندا حسینی اکبر
‫(‬ اقتباس بحوالہ : روزنامہ منصف ، حیدرآباد ‫)

29 June, 2009

Google Transliterate - URDU


لیجئے صاحب ، ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ گوگل نے ٹرانسلیٹریٹ (transliterate) آن لائن سہولت ، دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی جاری کر دی ہے۔
اب تو اردو رسم الخط میں لکھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
رومن اردو میں اس طرح لکھئے :
ummeed hai aap sab log khairiyet se hunge

جیسے جیسے آپ لفظ در لفظ لکھتے جائیں گے ، ویسے ویسے رومن اردو اصل اردو رسم الخط میں تبدیل ہوتی جائے گی ، یعنی بالا جملہ یوں لکھا آئے گا :
امید ہے آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے

امید ہے کہ اس سہولت کے سہارے اردو زبان کی زبانی ہمدردی جتانے والے رومن اردو چھوڑ کر اصل اردو رسم الخط کو اپنانے کی طرف توجہ کریں گے۔

26 June, 2009

جماعت اسلامی کے سابق امیر "میاں طفیل محمد" کا انتقال پرملال

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر اور جماعت کے تاسیسی رکن اور بزرگ رہنما
میاں طفیل محمد
جمعرات 25-جون-2009ء کی رات آٹھ بجے قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ علیہ الرحمۃ کی نماز جنازہ آج بروز جمعہ 4 بجے سہ پہر منصورہ ، کراچی میں ادا کی جائے گی۔ آپ نے 95 سال کی عمر پائی اور آپ کے پسماندگان میں 8 دختران اور 4 فرزندان شامل ہیں۔

میاں طفیل محمد 1914ء میں کپورتھلہ ، ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1937ء میں لاء کالج ، لاہور سے ایل-ایل-بی آنرز کی تکمیل کی۔ 1948ء سے 1950ء تک سنٹرل جیل ملتان میں نظربندی کے دوران مولانا مودودی (رح) اور مولانا امین اصلاحی (رح) سے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی۔
26-اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع میں آپ بھی شریک رہے تھے۔ مارچ 1944ء میں آپ جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے اور مولانا مودودی کی وفات تک ان کے رفیق رہے۔
مارچ 44ء سے اگست 47ء تک کل ہند جماعت اسلامی اور اس کے بعد دسمبر 1965ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ نبھایا۔

اکتوبر 1972ء میں جب مولانا مودودی اپنی صحت کی خرابی کے سبب امیر جماعت کے منصب سے سبکدوش ہو گئے تو ارکان جماعت نے میاں طفیل محمد کو 5 سال کے لئے امیر منتخب کر لیا۔ وہ مسلسل تین مرتبہ اس منصب کے لئے منتخب ہوئے اور 1987ء میں خرابئ صحت کی بنا پر جماعت کی امارت سے سبکدوشی اختیار کر لی۔
جماعت اسلامی کی امارت سے فراغت کے بعد ادارہ معارف اسلامی کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے چند سال پہلے تک کارگذار رہے۔ صحت کی زیادہ خرابی اور کمزور بینائی کے سبب اس منصب سے بھی الگ ہو گئے۔

کہا گیا ہے کہ میاں صاحب پیرانہ سالی اور کمزور صحت کے باوجود برین ہیمرج کے حملے تک جامع مسجد منصورہ میں باجماعت نمازوں میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے رہے۔ گزشتہ رمضان المبارک تک پوری نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ کھڑے ہو کر ادا کرتے رہے۔

(تفصیلی خبر ، بشکریہ : اردو نیوز ، سعودی عرب)

24 June, 2009

قرآن وِتھ سرچ - Quran with Search

سافٹ وئر انجینئر محمد کاشف نے "قرآن وِتھ سرچ" نامی سافٹ وئر کو انٹرنیٹ کی دنیا میں متعارف کروایا ہے ، جو کہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل ہے۔
یہ سافٹ وئر اصل عربی متن کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی تراجم میں بھی دستیاب ہے۔
اس میں آپ براہ راست کسی بھی سورة یا آیت کو منتخب کر سکتے ہیں اور دونوں تراجم میں کسی بھی لفظ مثلاً : نماز ، زکوٰة ، عورت ، جہاد ۔۔۔۔ وغیرہ کو بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
سافٹ وئر کے متعلق مزید تفصیلات ۔۔۔۔
اردو میں : یہاں
انگریزی میں : یہاں
سافٹ وئر ڈاؤن لوڈ (5.7 MB) : یہاں

نئی دہلی سے شائع ہونے والے اخبار "جدید خبر" میں ہندی کے 'اسٹار' بلاگر محترم جناب عمر کیرانوی نے اس سافٹ وئر کو ہندوستان بھر میں منظر عام پر لانے اور اسے مفت تقسیم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ تاکہ قرآن کریم کو بیک وقت مختلف زبانوں میں سیکھنے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ محققین ، مقالہ نگار اور ریسرچ اسکالرز بھی خاطر خواہ استفادہ کر سکیں۔
اخبار جدید خبر کی متعلقہ خبر یہاں ملاحظہ فرمائیں۔