عورت تصویر کائنات کا رنگ ہے !
عورت دنیا کی خوب صورتی ہے!
عورت زمین کا دل ہے !
عورت مرکز ثقل ہے !
عورت محبت ہے !
عورت ماں ہے ! عورت بیوی ہے ! عورت ایک رات ہے ! عورت ایک مسہری ہے ! عورت ایک کوٹھا ہے ! عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ! عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے ! عورت چاندی کا سکہ ہے ! عورت پاؤں کی جوتی ہے !
عورت جب سامنے آتی ہے تو دنیا کی ساری خوبصورتیاں پیچھے ہٹتی چلی جاتی ہیں حتی کہ نگا ہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور نظروں کے سامنے صرف عورت ہی عورت باقی رہ جاتی ہے ۔ عورت جب سامنے آ جاتی ہے تو ارد گرد کی ساری خوبصورتیاں اس کے جسم میں سمٹ آتی ہیں اور اپنے آپ کو اس جسم میں کھو دیتی ہیں اور ختم کر دیتی ہیں ۔
عورت کے چہرے میں چودھویں کی رات کا چاند جگمگاتا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں ستارے جھملانے لگتے ہیں ۔ اس کی آنکھوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے میٹھے پانی کے شفاف چشمے نظر آتے ہیں ۔ اس کی چھاتیوں میں پہاڑوں کا فراز ہوتا ہے ۔ اس کے ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح مہکتے ہیں ۔ اس کی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سمو جاتی ہے ۔ اس کے رخساروں پر لال لال شفق بکھر جاتی ہے اور سرو کا درخت اپنی بلند قامتی اس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
اس کی آواز میں کوئل کی کوک، بلبل کا نغمہ، انگوروں کی مٹھاس اور کبوتروں کی اڑان ہوتی ہے ! وہ جب چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیسیوں مور ناچ رہے ہیں اور سینکڑوں ہرن قلانچیں بھر رہے ہیں ۔ وہ جب جھک جاتی ہے تو قوس قزخ بن جاتی ہے اور جب کھڑی ہوتی ہے تو مندر کے چمکیلے کلس، گرجا کے تکونے گنبد، مسجدکے اونچے مینار کی طرح باوقار نظرآتی ہے ۔
اس کی بانہوں میں بلور ہوتا ہے اور اس کا جسم مرمر سے تراشا جاتا ہے ، لیکن اس مرمریں اور بلوریں جسم میں تتلی کے پروں کی سی ملائمت پائی جاتی ہے اور کم بخت جسم میں شراب کی ان گنت بوتلوں سے زیادہ نشہ گھلا ہوا ہوتا ہے !
بے شک سارا نظام شمسی عورت کے قبضہ و اختیار میں ہے ۔ ۔ ۔ رات اس کی زلفوں میں چھپ کر سو جاتی ہے اور جب اس کے چہرے پر سے زلفیں ہٹ جاتی ہیں تو صبح ہو جاتی ہے اور جب اس کی چوٹی کے بال بکھر جاتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے ۔ فطرت کی ساری خوبیوں کو سمیٹ کر عورت دنیا بن جاتی ہے !
انسان بڑا ہو یا جھوٹا، بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب، رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے ۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کشش ثقل کی وجہ سے قائم اور برقرار ہے لیکن ہماری عقل کہتی ہے کہ دنیا صرف عورت کی کشش سے قائم اور زندہ ہے ۔
دن بھر کے کاموں کے بعد انسان جب اپنی توانائی پر ایک تھکن سی محسوس کرنے لگتا ہے تو پھر عورت کا مقناطیس اسے اپنے طرف کھینچنے لگتا ہے ! عورت ایک رات ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ رات ایک عورت ہے ! عورت کے بغیر رات رات نہیں بلکہ 12 گھنٹوں کا اندھیرا بن جاتی ہے۔
ماضی کے دھندلکے میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ آج تک جاری ہے ۔ اس دور کے آغاز کے ساتھ دنیا کی تنہا خوبصورتی کائنات کا واحد حسن اور زمین کے یکتا جمال کو مرد نے اپنے پیروں تلے روندھنا شروع کیا۔ یہ محض مرد کی طاقت اور اس میں گھلے ملے چاندی اور سونے کے سکوں کی چمک تھی۔ جس نے عورت کے قالب میں عورت کو ہلاک کر دیا اور اپنے نفس کی آگ کو بجھانے کیلئے ایک نرم اور گداز جسم باقی رکھ دیا اور آج بھی ہر قدم پر ایک نرم، ملائم، گداز چکمیلا جسم نظر آتا ہے ۔
اور دنیا کسی قصاب کی بہت بڑی دکان نظر آتی ہے ۔ جس پر مردوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے اور مرد چاندی کے سکے پھینک پھینک کر عورت کے جسم خریدتے جا رہے ہیں لیکن سب عورت کی چھاتیاں ، رانیں ، ہونٹ اور بازو خریدتے ہیں ۔
اصلی عورت کوئی نہیں خرید سکتا۔
اصلی عورت کبھی نہیں خریدی جاسکتی۔
خوبصورتی کو دنیا کا بڑے سے بڑا سرمایہ دار ہرگز ہرگز نہیں خرید سکتا۔
بتاریخ : 2013-03-13
بتاریخ : 2013-03-10
خنجر چلے اردو پہ ، تڑپتے ہیں ہم مگر ۔۔۔
بچاری اردو کے نام پر یار لوگ ایسے ایسے سنگین مذاق کرتے ہیں کہ سننے/پڑھنے کے بعد عصر حاضر کا واقفکار اردوداں یا تو الٹی کر بیٹھتا ہے یا بچارے کو کئی دن کے لیے قبض کی شکایت ہو جاتی ہے۔
پچھلے دنوں غریب خاکسار کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایک صاحب نے ہوائی فائر کیا تھا ، بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ موصوف نے محض اپنی سستی شہرت کی خاطر اردو کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا ورنہ ان کا زبان اردو یا اردو شعر و ادب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کوئی اگر شہرت کا اتنا ہی بھوکا ہے تو ہمیں اس قسم کے نفسیاتی مریضوں سے دلی ہمدردی ہے مگر اردو نیوز (سعودی عرب کا مقبول اردو روزنامہ) اور سعودی گزٹ (سعودی عرب کا معروف و معتبر انگریزی روزنامہ) کے ان باکمال صحافیوں کو کیا کہا جائے جنہوں نے بڑے اہتمام سے ان صاحب کی لاف گزاف کے لئے اپنے اخبار کے قیمتی صفحات ضائع کئے تھے؟
اس دفعہ ایک اور صاحب فیس بک پر اپنی اونچی بڑک کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ فیس بک پر ایک گروپ بعنوان "صدائے اردو" قائم کیا گیا ہے۔ جس کی تعارفی سطر یہ ہے کہ : "یہ گروپ اُردو رسم الخط کی بقا اور ترویج کے لئے سرگرم رہےگا۔"
ماشاءاللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ۔
بات اگر صرف اتنی ہوتی تو دل سے ایسی ہی دعائیں نکلتیں اور ہم بھی دامے درمے سخنے ان کی مدد کے لیے دل و جان سے حاضر ہو جاتے۔ مگر مسئلہ تو وہاں پیدا ہوا ہے جہاں بڑے بلند بانگ اور غلط قسم کے دعوے ہوا میں داغے گئے ہیں۔ ذرا دیکھئے کہ موصوف کیا کچھ فرما رہے ہیں ۔۔۔
صدائے اُردو کا تعارف : فائل-1 ، فائل-2 ، فائل-3
جناب من! ہم اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں عرصہ دس سال سے بہ ہوش و حواس قائم و دائم ہیں۔ لہذا ہمیں آپ کے درج ذیل جملوں پر نہایت سخت اعتراضات ہیں ۔۔۔
محترم صفدر ہمدانی صاحب! یہ بلاگ پوسٹ ہرگز نہ لکھی جاتی اگر بالا سنگین الزامات لگانے سے آپ گریز کرتے اور ۔۔۔ زرقا مفتی جیسی معروف شاعرہ کا نام بھی نہ لیتے۔
جناب عالی! وہ سروے کہاں اور کس ویب سائیٹ پر پایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "فیس بک پر اردو صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے" ؟؟ اگر یہ آپ کا اپنا ذاتی خیال ہے تو برائے مہربانی ایسی بچکانی سوچیں اپنی حد تک محفوظ رکھئے ، علمی دنیا میں بغیر ثبوت کے ایسے ناقص خیالات کی ترسیل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسرے نکتہ کو پڑھ کر تو ناچیز آدھ گھنٹہ تک محض ہنستا ہی رہا۔ حضور! کوئی اگر شترمرغ کی عادت اپنانے پر بضد ہو تو ہو مگر اس شترمرغ کا قول "قول فیصل" نہیں بن جاتا۔ کیا واقعی آپ "اردو محفل" جیسے اولین اردو یونیکوڈ فورم سے واقف نہیں ہیں یا یہ بھی آپ کا "تجاہل غافلانہ" ہے؟؟
"اردو محفل" نے یونیکوڈ اردو فورمز کی جو بنیاد ڈالی تھی ، ماشاءاللہ اس کے بعد کتنے ہی ایسے سینکڑوں فورمز اردو کمیونیٹی کے منظر عام پر وارد ہوئے جنہیں گنتے ہوئے بھی شاید آپ جیسے لوگ گنتی بھول جائیں۔
تیسرے نکتے پر آپ کو بھلا کیا کہا جائے کہ آپ تو آپ ہیں۔ شاید کبھی فیس بک یا سیارہ کی تفصیلی سیر کا موقع ہی نہیں ملا ہوگا۔ ویسے بھی ہمیں ڈر ہے کہ نیٹ کا کوئی جیالا ادیب یا شاعر یا دانشور آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ نہ دائر کر ڈالے۔
آپ کے چوتھے نکتے پر تو باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ حضور عالی ! جب بقول آپ کے "اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں" اور "کسی خصوصی اردو کی۔بورڈ کی بھی ضرورت نہیں" تو کیا نیٹ پر موجود اردو دانوں کو کسی باؤلے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تمام دستیاب سہولتوں کے باوجود اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں چاہتے؟
آپ کی اس کم علمی یا کم فہمی کو ہم مذاق سمجھ کر نظرانداز کر جاتے ۔۔۔ مگر "خصوصی کی۔بورڈ کی ضرورت نہیں" جیسے زائد و قابل گرفت الفاظ کے ذریعے جس طرح آپ نے ایم۔بلال۔ایم کے "پاک اردو انسٹالر" کا مذاق اڑایا ہے ۔۔۔ وہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی خواہش رکھنے والے کسی بھی عام اردوداں کو قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا اردو کے فروغ و ترویج کے لئے آپ کی جو بھی نیت رہی ہو وہ یقیناً یہاں مشکوک ثابت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ جو کوئی بھی اردو داں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا ذرا سا بھی بنیادی علم رکھتا ہو وہ "اردو فونیٹک کی۔بورڈ" کی ضرورت و اہمیت سے ناواقف ہو۔
۔۔۔
حضور ! ہم بچارے اردو تہذیب و ثقافت کے مارے ہیں ورنہ اگر آپ ہمارے حیدرآباد میں ہوتے تو واللہ ایسی "شیریں" زبان سنتے کہ ساری دکنی زبان کی فلمیں ہمارے قلم کے آگے پانی بھرتی رہ جاتیں۔ پتا نہیں کیوں دل چاہتا ہے کہ آپ کی بزرگی کا خیال رکھتے ہوئے معاف کر دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خوش گمانی پھر بھی رکھی جا سکتی ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ اس وقت 2013 میں نہیں بلکہ سن 2000ء میں جی رہے ہوں۔
ویسے آپ کے متعلق ہمارے بلاگر دوست خاور کھوکھر نے جو کچھ فیس بک پر لکھا ہے ۔۔۔ وہ بھی ذرا یاد سے پڑھ لیجئے گا ۔۔۔
پچھلے دنوں غریب خاکسار کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایک صاحب نے ہوائی فائر کیا تھا ، بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ موصوف نے محض اپنی سستی شہرت کی خاطر اردو کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا ورنہ ان کا زبان اردو یا اردو شعر و ادب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کوئی اگر شہرت کا اتنا ہی بھوکا ہے تو ہمیں اس قسم کے نفسیاتی مریضوں سے دلی ہمدردی ہے مگر اردو نیوز (سعودی عرب کا مقبول اردو روزنامہ) اور سعودی گزٹ (سعودی عرب کا معروف و معتبر انگریزی روزنامہ) کے ان باکمال صحافیوں کو کیا کہا جائے جنہوں نے بڑے اہتمام سے ان صاحب کی لاف گزاف کے لئے اپنے اخبار کے قیمتی صفحات ضائع کئے تھے؟
اس دفعہ ایک اور صاحب فیس بک پر اپنی اونچی بڑک کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ فیس بک پر ایک گروپ بعنوان "صدائے اردو" قائم کیا گیا ہے۔ جس کی تعارفی سطر یہ ہے کہ : "یہ گروپ اُردو رسم الخط کی بقا اور ترویج کے لئے سرگرم رہےگا۔"
ماشاءاللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ۔
بات اگر صرف اتنی ہوتی تو دل سے ایسی ہی دعائیں نکلتیں اور ہم بھی دامے درمے سخنے ان کی مدد کے لیے دل و جان سے حاضر ہو جاتے۔ مگر مسئلہ تو وہاں پیدا ہوا ہے جہاں بڑے بلند بانگ اور غلط قسم کے دعوے ہوا میں داغے گئے ہیں۔ ذرا دیکھئے کہ موصوف کیا کچھ فرما رہے ہیں ۔۔۔
صدائے اُردو کا تعارف : فائل-1 ، فائل-2 ، فائل-3
جناب من! ہم اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں عرصہ دس سال سے بہ ہوش و حواس قائم و دائم ہیں۔ لہذا ہمیں آپ کے درج ذیل جملوں پر نہایت سخت اعتراضات ہیں ۔۔۔
1) کتاب چہرہ المعروف فیس بک پر ان دنوں جتنے لوگ ہیں شاید اتنے ہی صفحات بھی موجود ہیں لیکن اردو زبان کے حوالے سے ایسے صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے
2) ہماری معلومات کے مطابق قوی امکان ہے کہ ایسا تو ایک بھی فورم نہیں ہے جہاں فقط اردو رسم الخط میں لکھا جاتا ہو۔ ننانوے فیصد سے زیادہ زبان کش رومن میں لکھا جاتا ہے یا پھر بزبان فرنگی۔
3) ہمارے اردو زبان کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کی غالب در غالب اکثریت ایسی ہے جسے ٹائپنگ ہی نہیں آتی۔ وہ آج سائنسی خاص طور انفارمیشن تکنالوجی اور کمپیوٹر کی ترقی کے دور میں بھی ٹائپنگ کو کسی کلرک کا ہنر ہی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عوام الناس سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔
4) ۔۔۔ اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں ، اس کے لئے کسی خصوصی "اردو کی۔بورڈ" کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ انگریزی یا کسی اور زبان کے "کی۔بورڈ" سے بھی اردو ٹائپ کر سکتے ہیں۔
محترم صفدر ہمدانی صاحب! یہ بلاگ پوسٹ ہرگز نہ لکھی جاتی اگر بالا سنگین الزامات لگانے سے آپ گریز کرتے اور ۔۔۔ زرقا مفتی جیسی معروف شاعرہ کا نام بھی نہ لیتے۔
جناب عالی! وہ سروے کہاں اور کس ویب سائیٹ پر پایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "فیس بک پر اردو صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے" ؟؟ اگر یہ آپ کا اپنا ذاتی خیال ہے تو برائے مہربانی ایسی بچکانی سوچیں اپنی حد تک محفوظ رکھئے ، علمی دنیا میں بغیر ثبوت کے ایسے ناقص خیالات کی ترسیل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسرے نکتہ کو پڑھ کر تو ناچیز آدھ گھنٹہ تک محض ہنستا ہی رہا۔ حضور! کوئی اگر شترمرغ کی عادت اپنانے پر بضد ہو تو ہو مگر اس شترمرغ کا قول "قول فیصل" نہیں بن جاتا۔ کیا واقعی آپ "اردو محفل" جیسے اولین اردو یونیکوڈ فورم سے واقف نہیں ہیں یا یہ بھی آپ کا "تجاہل غافلانہ" ہے؟؟
"اردو محفل" نے یونیکوڈ اردو فورمز کی جو بنیاد ڈالی تھی ، ماشاءاللہ اس کے بعد کتنے ہی ایسے سینکڑوں فورمز اردو کمیونیٹی کے منظر عام پر وارد ہوئے جنہیں گنتے ہوئے بھی شاید آپ جیسے لوگ گنتی بھول جائیں۔
تیسرے نکتے پر آپ کو بھلا کیا کہا جائے کہ آپ تو آپ ہیں۔ شاید کبھی فیس بک یا سیارہ کی تفصیلی سیر کا موقع ہی نہیں ملا ہوگا۔ ویسے بھی ہمیں ڈر ہے کہ نیٹ کا کوئی جیالا ادیب یا شاعر یا دانشور آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ نہ دائر کر ڈالے۔
آپ کے چوتھے نکتے پر تو باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ حضور عالی ! جب بقول آپ کے "اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں" اور "کسی خصوصی اردو کی۔بورڈ کی بھی ضرورت نہیں" تو کیا نیٹ پر موجود اردو دانوں کو کسی باؤلے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تمام دستیاب سہولتوں کے باوجود اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں چاہتے؟
آپ کی اس کم علمی یا کم فہمی کو ہم مذاق سمجھ کر نظرانداز کر جاتے ۔۔۔ مگر "خصوصی کی۔بورڈ کی ضرورت نہیں" جیسے زائد و قابل گرفت الفاظ کے ذریعے جس طرح آپ نے ایم۔بلال۔ایم کے "پاک اردو انسٹالر" کا مذاق اڑایا ہے ۔۔۔ وہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی خواہش رکھنے والے کسی بھی عام اردوداں کو قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا اردو کے فروغ و ترویج کے لئے آپ کی جو بھی نیت رہی ہو وہ یقیناً یہاں مشکوک ثابت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ جو کوئی بھی اردو داں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا ذرا سا بھی بنیادی علم رکھتا ہو وہ "اردو فونیٹک کی۔بورڈ" کی ضرورت و اہمیت سے ناواقف ہو۔
۔۔۔
حضور ! ہم بچارے اردو تہذیب و ثقافت کے مارے ہیں ورنہ اگر آپ ہمارے حیدرآباد میں ہوتے تو واللہ ایسی "شیریں" زبان سنتے کہ ساری دکنی زبان کی فلمیں ہمارے قلم کے آگے پانی بھرتی رہ جاتیں۔ پتا نہیں کیوں دل چاہتا ہے کہ آپ کی بزرگی کا خیال رکھتے ہوئے معاف کر دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خوش گمانی پھر بھی رکھی جا سکتی ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ اس وقت 2013 میں نہیں بلکہ سن 2000ء میں جی رہے ہوں۔
ویسے آپ کے متعلق ہمارے بلاگر دوست خاور کھوکھر نے جو کچھ فیس بک پر لکھا ہے ۔۔۔ وہ بھی ذرا یاد سے پڑھ لیجئے گا ۔۔۔
میں صفدر ہمدانی صاحب کو جانتا ہوں ، نصر ملک صاحب کے ساتھ القمر چلاتے تھے بعد میں عالمی اخبار بنا لی آج یہ اردو یونی کوڈ کی بات کرتے ہیں
لیکن اردو کی انٹرنیٹ کی تاریخ میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ان کے ساتھ ایک لڑکا تھا سکینڈے نیویا کے کسی ملک کا پاکستانی نسل کا ، اس نے آن لائین اردو کا ایک پروگرام بنایا تھا ، جس کو عام کرنے کی درخواست پر ان لوگوں نے انکار کر دیا تھا ، جس کی وجہ سے نبیل صاحب نے ورڈ پریس کے لئے ایک پلگ ان بنایا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے
نبیل صاحب اور م بلال م ہی وہ لوگ ہیں جنہون نے حقیقی معنوں میں اردو کو انٹر نیٹ کی زبان بنایا ہے ان دونوں صاحبان نے اس کام سے کوئی کمائی نہیں کی ،
صفدر ہمدانی صاحب اگر اس ویڈیو سے تاریخ میں یہ لکھوانا چاہتے ہیں کہ ان کے درد کی وجہ تھی کہ انٹر نیٹ پر رومن کی بجائے یونی کوڈ ہو تو یہ بات غلط ہے
ان کی ٹیم نے اپنے نام اور کمائی کے لئے اردو یونی کوڈ کو عام کرنے کی مخالفت کی تھی
اردو یونیکوڈ میں کرنے کے لئے کس نے کام کیا ہے ؟ اگر یہ جاننا چاہتے ہیں تو اردو کے بلاگرز کو دیکھیں جن کی فہرست اپ کو اردو کے سب رنگ پر مل جائے گی
یا پھر اردو محفل دیکھیں کہ اردو یونیکوڈ کا یہ فورم کوئی سات سال سے چلا رہا ہے
اور اگر اپ کو ان دونوں سائیٹوں کا علم نہیں ہے تو؟
آپ نرگیست کا شکار ہیں کہ اپ کو اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا!
مرسلہ:
حیدرآبادی
2 تبصرے
|
موضوعات: urdu, اردو, اردو زبان, اردو یونیکوڈ
بتاریخ : 2013-02-24
تعمیر نیوز - ہندوستان کے پہلے سرچ بیسڈ اردو نیوز پورٹل کا آغاز
![]() |
| بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کیجئے |
ہندوستان سے بلا مبالغہ سینکڑوں اردو اخبارات ، روزانہ ، سہ روزہ ، ہفت روزہ اور پندرہ روزہ بنیاد پر شائع ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تقریباً سبھی کی اپنی ویب سائیٹس بھی قائم ہیں۔
لیکن ۔۔۔ پرنٹ شکل کے اخبار میں اور ویب ایڈیشن کی خبروں میں جو فرق ہوتا ہے ، اس سے ناواقفیت کے سبب یہ تمام ہی اخبارات اپنے پرنٹ ایڈیشن کی خبریں جوں کی توں تصویری صورت میں ویب سائیٹ پر پیش کر دیتے ہیں جس کے سبب یہ خبریں ایک طرف تو سرچ انجنز میں شامل نہیں ہو پاتیں اور دوسری طرف بھاری بھرکم امیجز کے سبب آج کا نیٹ قاری ان ویب صفحات کو کھول کر پڑھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
ہر چند کہ کچھ ہندوستانی اردو اخبارات نے اپنے یونیکوڈ ویب ایڈیشن پیش تو کئے ہیں جیسے روزنامہ آگ لکھنؤ ، روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی ، چوتھی دنیا حیدرآباد، اردو تہذیب نئی دہلی اور ایشیا ایکسپریس اورنگ آباد۔ مگر آرکائیو خبروں کا مطالعہ اور اِن-سائیٹ سرچنگ ونیز سرچ انجن آپٹی مائزیشن کے معاملے میں ان اخبارات نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے لہذا خبروں کی گوگل سرچنگ میں ان اخبارات کا ڈیٹا بھی سامنے نہیں آ پاتا۔
اسی کمی کا اندازہ کرتے ہوئے حیدرآباد کے ادارہ تعمیر ویب ڈیولپمنٹ نے (جس نے پچھلے سال بچوں کی کارٹون/کامکس ویب سائیٹ "اردو کڈز کارٹون" کی داغ بیل ڈالی تھی) اسی ماہ فبروری 2013ء میں موجودہ تکنیکی و سوشل میڈیا ویب معیار کے مطابق ہندوستان کے پہلے مکمل سرچ بیسڈ اردو نیوز ویب پورٹل کا آغاز کیا ہے۔
ہندوستان کی موقر و معتبر قومی نیوز ایجنسیوں پی۔ٹی۔آئی ، یو۔این۔آئی ، آئی۔اے۔این۔ایس کے علاوہ مقامی خبررساں اداروں جیسے انقلاب نیوز نیٹ ورک (ممبئی) ، سہارا نیوز بیورو (دہلی)، سیاست نیوز (حیدرآباد)، منصف نیوز بیورو (حیدرآباد) اور اعتماد نیوز (حیدرآباد) کی اہم اور قابل مطالعہ خبروں کا انتخاب اس نیوز پورٹل پر شائع کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ اس اردو پورٹل کو صرف خبروں تک محدود نہ رکھتے ہوئے کئی دلچسپ اور معلوماتی سلسلے بھی مختلف موضوعات کی شکل میں شروع کئے گئے ہیں جیسے ۔۔۔
- ہندوستان کی تاریخ ، جغرافیہ ، تہذیب و ثقافت
- تاریخِ دکن (سلطنت آصفیہ)
- مسلمانان ہند کے مسائل و موضوعات ، کالم / تجزیے
- ہندوستانی شعر و ادب ، افسانے ، ناول اور کلاسیک
- جنسی تعلیم و تربیت (سیکس ایجوکیشن)
امید ہے کہ اردو ویب دنیا میں ہندوستانی نقطہ نظر کے حوالے سے روزمرہ کی اہم خبریں اور دیگر ضروری و دلچسپ معلومات کی جو کمی محسوس کی جا رہی تھی وہ اب کسی حد تک دور ہو جائے گی۔
![]() |
| بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کیجئے |
مرسلہ:
حیدرآبادی
4 تبصرے
|
موضوعات: indian politics, taemeernews, تعمیر نیوز, ہندوستان, ہندوستانی صحافت, ہندوستانی مسلمان
بتاریخ : 2013-02-14
بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں بیچاری اردو کہاں کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک کی سبقت نے اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔
بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔
دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد 43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔
بچے بوڑھے امیر، غریب ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نا لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟
چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے اردو یونیکوڈ ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔
بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔
چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔
26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔
محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔
مرسلہ:
حیدرآبادی
2 تبصرے
|
موضوعات: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی, سوشل نیٹ ورکنگ, ہندوستان, ہندوستانی میڈیا
بتاریخ : 2013-01-26
یوم جمہوریہ ہند - این۔سی۔سی نغمہ
تمام ہندوستانی دوستوں کو یوم جمہوریہ ہند مبارک ہو۔
ہمارے ایک دوست نے زمانہ طالب علمی کے این۔سی۔سی (National Cadet Corps) کا نغمہ یاد دلایا ہے۔
آپ سب کے لیے پیش ہے ۔۔۔۔
![]() |
| مکمل سائز میں دیکھنے کے لئےتصویر پر کلک کریں |
ہم سب ہندوستانی ہیں
ہم سب ہندوستانی ہیں
اپنی منزل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہو ہو ہو ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں
کشمیر کی دھرتی رانی ہے
سرتاج ہمالیہ ہے
صدیوں سے ہم نے اس کو
اپنے خون سے پالا ہے
دیش کی رکشا کی خاطر
ہم شمشیر اٹھا لیں گے
ہم شمشیر اٹھا لیں گے
بکھرے بکھرے تارے ہیں ہم
لیکن جھلمل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں
مندر گردوارے بھی ہیں یہاں
اور مسجد بھی ہے یہاں
گرجا کا گھڑیال کہیں
ملا کی کہیں ہے اذاں
اک اپنا رام ہے
اک ہی اللہ تعالیٰ ہے
رنگ برنگے دیپک ہیں
لیکن محفل ایک ہے
ہاں ہاں ہاں ایک ہے
ہو ہو ہو ایک ہے
ہم سب ہندوستانی ہیں
ہم سب ہندوستانی ہیں
مرسلہ:
حیدرآبادی
6 تبصرے
|
موضوعات: republic day, ہندوستان, یوم جمہوریہ
سبسکرائب کریں:
بلاگ کے مراسلات (Atom)









