تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2013-12-14

ہم جنس پرستی - تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی

ہم جنس پرستی جرم - ہندوستانی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ
11/ دسمبر 2013 کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پی ساتھا شیوم [P Sathasivam]، جسٹس جی ایس سنگھوی [GS Singhvi] اور جسٹس رنجن گوگوئی [Ranjan Gogoi] کی بنچ نے بیک وقت فیصلہ سناتے ہوئے "ہم جنس تعلقات" کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ البتہ عدالت بالا نے معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ تعزیرات ہند کی دفعات میں اس سلسلہ میں موجود شق کو حذف کرے۔

سوشل میڈیا پر بڑی گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔ سینکڑوں سماجی جہد کاروں ، تنظیموں ، سیاسی اور تفریحی ذرائع کی نامور و مقبول شخصیات نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے اس کو شخصی آزادی کے مغائر قرار دیا ہے۔

خاکسار نے بھی چند معتبر سماجی شخصیات سے فیس بک پر بحث کے دوران کہا کہ اسٹیٹ کو یا عدالت عظمیٰ کو حق حاصل ہے کہ مہذب معاشروں میں بدامنی یا انارکی پھیلنے یا پھیلانے سے بچاؤ کے لیے قوانین بنائے۔
عرض ہوا کہ معاشرے کی بات نہیں ہو رہی ۔۔۔ behind the door کی بات ہو رہی ہے کہ آدمی کو حق حاصل ہے کہ جو اس کو پسند ہے وہ اپنی خلوت میں اسے اختیار کرے۔

عجیب بات ہے۔ اچھا بھائی اگر یہ "خلوت میں اپنی مرضی" ہی کی بات ہے تو دنیا کے بیشتر ممالک (بالخصوص مغربی ممالک) میں marital rape (ازدواجی عصمت ریزی) کا قانون تعزیری جرم کے طور پر کیوں نافذ ہے؟
اگر آپ "behind the door" کا نعرہ چھوڑ کر "شخصی آزادی" کے نعرے پر اتر آئیں تو بھائی صاحب! کوئی نوجوان جو دنیا سے اوب چکا ہے ، نوکری نہیں ملتی بیروزگار ہے ، فرسٹریشن کا شکار ہے ۔۔۔ اونچی عمارت سے چھلانگ لگا دیتا ہے ۔۔ جان سے بچ جائے تو پکڑا گیا اور "خودکشی کے جرم" میں جیل کے اندر!
آپ خودکشی کے اس "جرم" کے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھاتے ۔۔ جبکہ اس معاملے میں نہ "باہمی رضامندی" کا سوال ہے اور نہ ہی کسی دوسرے تیسرے کو نقصان پہنچنے کا مسئلہ۔

اور یہ جو بار بار "شخصی آزادی" کے نعرے اچھالے جاتے ہیں۔ کبھی اس کی کچھ واضح تعریف بھی تو کیجیے۔ کیا جنگل کے قانون میں اور انسانوں کے مہذب معاشروں میں واقعتاً کوئی فرق نہیں؟
اگر آپ absolute freedom کے دعویدار ہیں تو اس کا دوسرا مطلب ہی "جنگل راج" ہوتا ہے پھر آپ اپنے "مہذب" ہونے کا دعویٰ قطعاً نہیں کر سکتے!
اور اگر آپ جنگل کے قانون اور انسانوں کے بنائے گئے مہذب معاشرے میں کوئی فرق نہیں کرتے تو پھر اسکول کالج اور جامعات میں یہ anthropology کے اسباق کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟ کیوں یہ سائنس پڑھاتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح تہذیب نے وحشی کو انسان بنایا؟
اسی انسانی تہذیب نے تو ہمیں بتایا ہے کہ "ہم جنسیت" ایک aberration ہے جس کے دور رس نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں ۔۔۔ اس قدر سنگین کہ قرآن (اور بائبل) نے لوط علیہ السلام کی قوم کا عبرت انگیز واقعہ سنا کر ساری انسانیت کو ہوشیار کر دیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود آپ شخصی آزادی پر مصر ہیں تو پھر ایک دن انسان کا لباس بھی اترے گا ، سڑکوں پر صرف مختصر زیر جامہ میں خواتین نظر آئیں گی اور ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ صرف ایک دہلی ریپ کیس نہیں ۔۔۔ ہر شہر گلی محلہ سے روزانہ سینکڑوں ایف آئی آر درج ہونگی تب آپ کو جو بھی فیصلے کرنے ہوں گے ضرور کیجیے گا حضور !

ہم تو اقبال کا یہ مصرع آپ کی خدمت میں پیش کر کے رخصت ہوتے ہیں :

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

بتاریخ : ‪2013-07-14

ہندوستانیوں کے دیرینہ خواب کی تکمیل - اردو-انڈیا کی-بورڈ

کمپیوٹر میں "اردو زبان" شامل کرنے کے لیے کل تک ہم پاکستان کے محتاج رہے تھے کہ بطور اردو زبان "اردو-پاکستان" شامل کرنا مجبوری تھی۔ مگر اردو کی ترویج اور فروغ میں سرگرمی سے حصہ لینے والے مرکزی وزیر انفارمیشن تکنالوجی جناب کپل سبل کی بدولت آج تمام ہندوستانیوں کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے کمپیوٹر یا انڈرائیڈ فون میں اردو زبان کے طور پر "اردو-پاکستان" کے بجائے "اردو-انڈیا" شامل کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر جناب کپل سبل نے آج 12/جولائی کو نئی دہلی میں اردو نسخ و نستعلیق فونٹ اور کی-بورڈ منیجر کا اجرا کیا ہے۔
یو۔این۔آئی کی خبر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔

"اردو زبان ہندوستانی ثقافت کی روح ہے اسے جتنا فروغ دیا جائے گا اس میں اتنی ہی تازگی اور خوشبو آئے گی۔"
مرکزی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی کپل سبل نے آج یہاں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام تیار کردہ "اردو فونٹس" اور "اردو کی-بورڈ منیجر" کا اجراء کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ جدید ترین ٹکنالوجی سے اردو کو ہم آہنگ کرنے کا ان کا دیرینہ خواب آج پورا ہو گیا۔ اس لحاظ سے 12/جولائی/2013ء کی ایک تاریخی حیثیت ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو ملک کی ایک ایسی زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے اور اس کی اسی خوبی کے توسط سے ہم نے آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو آزاد کرایا۔
سبل نے کہا کہ: اس کے ساتھ ہی ہم اردو بولنے اور جاننے والے عام لوگوں کو نئی تکنیک سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی اردو طلباء و طالبات کو جدید ترین ٹکنالوجی سے لیس ٹیبلیٹ تقسیم کریں گے، جس میں ڈکشنری اور انسائیکلو پیڈیا جیسے بہت سے ذخیرے موجود ہوں گے۔

قومی اردو کونسل (این سی پی یو ایل ) کے وائس چیرمین ڈاکٹر وسیم بریلوی نے اردو فونٹس کے سافٹ وئیر اور کی-بورڈ کا اجراء کرنے کیلئے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کمپیوٹر / اردو سافٹ وئیر کی دنیا میں یہ ابتدائی کام ہے اس سمت میں آئندہ جو اقدامات کئے جائیں گے دنیا اس سے حیران ہو جائے گی۔
اردو کونسل کے ڈائرکٹر خواجہ اکرام الدین نے اردو فونٹس سے متعلق سافٹ وئیر اور نئے کی-بورڈ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس کے آغاز سے اردو کے تمام ونڈوز میں داخل ہونے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سافٹ وئیر کیلئے اب تک ہم پاکستان کے محتاج ہوا کرتے تھے۔ اس سمت میں اب ہماری محتاجگی ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اینڈ رائیڈ بیسڈ سافٹ وئیر کے کھلتے ہی اس میں "اردو-انڈیا" لکھا ہوا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اردو کونسل اور سی ڈیک (cDac) کے اشتراک سے تیار کردہ یہ سافٹ وئیر ڈیجیٹل میڈیا اردو لٹچریر کی دنیا میں ایک نیا انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ خط نسخ پر مبنی اس سافٹ وئیر میں مجموعی طورپر 12 فونٹس ہوں گے۔ خواجہ اکرام الدین نے بتایا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی محکمہ کے تعاون سے اردو کونسل نے یہ سافٹ وئیر تیار کیا ہے۔

بتاریخ : ‪2013-07-04

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو ۔۔۔

صاحب! کچھ ادھر ادھر ایسا ویسا پڑھ لیتے ہیں تو پھر سے پرانا زخم ہرا ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی عادت سی ہو گئی ہے کہ سال میں ایک آدھ بار دلِ ناتواں کو ایسے دھچکے کھاتے رہنے کی۔ کوئی پانچ سال قبل اسی بلاگ پر لکھ گئے تھے کہ ۔۔۔ اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ ۔۔۔
گو کہ اس سے چند ماہ قبل کسی نے امید دلائی تھی کہ ہندوستان میں اردو ابھی نہیں مر رہی ہے۔
مگر بات کیا ہے ۔۔ کوئی کچھ کہتا ہے کہ کوئی کچھ۔ اب یہی دیکھیں کہ ابرار رحمانی صاحب نے اردو اور ہندی کے حوالے سے کیا کچھ حقائق بیان کئے تھے؟ فرماتے ہیں ۔۔۔

اکثر ہمارے کچھ "بزرگ" کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری زبان "اردو" دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بڑی عالمی زبان کی اتنی قابل رحم حالت کیوں ہے؟ آپ پھر اصرار کریں گے کہ رپورٹ بتاتی ہے کہ : اردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اب اگر آپ ذرا حقیقت سننے کو تیار ہوں تو سنیں!
آپ جسے اردو کہہ رہے ہیں ، وہ دراصل "ہندوستانی" ہے جو اب زیادہ تر ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط میں لکھی جا رہی ہے۔ آپ کہیں گے کہ نہیں صاحب! اس میں "اردو بولنے والے بھی" شامل ہیں۔ چلئے ہم مان لیتے ہیں۔ مگر کتنے فیصد ؟

بول چال کی سطح پر دونوں زبانیں یقیناً ایک ہی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کی اصل شناخت ان کے رسم الخط سے ہے اور اب اس میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں کہ اردو رسم الخط میں "ہندوستانی" لکھنے والے دیوناگری میں لکھنے والوں سے کافی پیچھے ہیں۔ عالمی رپورٹ میں جس ہندوستانی کے تیسرے نمبر پر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے وہ دیوناگری ہندوستانی ہے "اردو نہیں" ہے۔ (حالانکہ یہ بھی ایک خوش فہمی ہے)۔

عام طور پر ہم یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی زبان دراصل "اردو" ہی ہے۔ یہ ایک خوش فہمی اور ۔۔۔۔
ارے صاحب! یہ "دیوناگری ہندوستانی" ہے۔ آپ کسی بھی ٹی وی اسکرپٹ یا فلم اسکرپٹ کو اٹھائیں، آپ اسے اردو میں ہرگز نہیں پائیں گے، یہ سب دیوناگری میں ہوتے ہیں۔ وجہ ؟
وجہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنی لاپرواہی اور بےتوجہی سے اپنا سارا سرمایہ ہندی والوں کی نذر کر رہے ہیں۔ ہم نہ تو خود اردو رسم الخط استعمال کر رہے ہیں اور نہ ہی اسے اپنے بچوں کو سکھا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کسی بھی زبان کی شناخت اس کا رسم الخط ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی لاپرواہی اور نادانی سے خود اپنی زبان کا بڑا نقصان کیا ہے۔ ہماری نئی نسل اب اردو نہیں جانتی ، اس کے ذمہ دار سب سے پہلے ہم خود ہیں!

اردو اب بڑے پیمانے پر خود اردو والوں کے یہاں سے نکالی جا چکی ہے۔ جب ہم خود ہی اسے نہیں پڑھیں گے تو دوسرا اسے کیوں پڑھے گا؟ اب اردو کی زندگی کی ضمانت صرف اس بات میں ہے کہ ہم لازماً اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں۔ جب تک زیادہ سے زیادہ کسی زبان کو پڑھنے والے نہیں ہوں گے اس زبان کو ختم ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اور یہی صورتحال اگر اردو کے ساتھ بھی رہی تو اردو کو بھی نہیں بچایا جا سکتا!

اردو کے بڑے بڑے ادارے کھول لینے سے ، اردو کے روز نئے نئے رسالے اور اخبارات نکال لینے سے ، اردو کی ڈھیروں کتابیں چھاپ لینے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک ان کتابوں کو پڑھنے والے نہیں ہوں گے ، یہ کتابیں قطعاً بیکار ہوں گی۔ یہ کاغذ کا زیاں ہی سمجھا جائے گا۔ آج اردو کا سب سے بڑا کل ہند ادارہ اردو کی ترقی و فروغ کے بجائے محض اشاعتی ادارہ بن کر رہ گیا ہے اور یہ اشاعتی ادارہ بھی عوامی نہیں بلکہ ذاتی ہو کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح اردو کی ترقی کا دوسرا بڑا ادارہ کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر بنا ہوا ہے جو جگہ جگہ کمپیوٹر سنٹر قائم کر رہا ہے۔ لیکن ان مراکز سے بھی اردو والوں کا کم ہی بھلا ہو رہا ہے بالفاظ دیگر اردو کا کوئی بھلا نہیں ہو رہا ہے پھر بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے!!

بتاریخ : ‪2013-03-13

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت تصویر کائنات کا رنگ ہے !
عورت دنیا کی خوب صورتی ہے!
عورت زمین کا دل ہے !
عورت مرکز ثقل ہے !
عورت محبت ہے !
عورت ماں ہے ! عورت بیوی ہے ! عورت ایک رات ہے ! عورت ایک مسہری ہے ! عورت ایک کوٹھا ہے ! عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ! عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے ! عورت چاندی کا سکہ ہے ! عورت پاؤں کی جوتی ہے !

عورت جب سامنے آتی ہے تو دنیا کی ساری خوبصورتیاں پیچھے ہٹتی چلی جاتی ہیں حتی کہ نگا ہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور نظروں کے سامنے صرف عورت ہی عورت باقی رہ جاتی ہے ۔ عورت جب سامنے آ جاتی ہے تو ارد گرد کی ساری خوبصورتیاں اس کے جسم میں سمٹ آتی ہیں اور اپنے آپ کو اس جسم میں کھو دیتی ہیں اور ختم کر دیتی ہیں ۔

عورت کے چہرے میں چودھویں کی رات کا چاند جگمگاتا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں ستارے جھملانے لگتے ہیں ۔ اس کی آنکھوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے میٹھے پانی کے شفاف چشمے نظر آتے ہیں ۔ اس کی چھاتیوں میں پہاڑوں کا فراز ہوتا ہے ۔ اس کے ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح مہکتے ہیں ۔ اس کی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سمو جاتی ہے ۔ اس کے رخساروں پر لال لال شفق بکھر جاتی ہے اور سرو کا درخت اپنی بلند قامتی اس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
اس کی آواز میں کوئل کی کوک، بلبل کا نغمہ، انگوروں کی مٹھاس اور کبوتروں کی اڑان ہوتی ہے ! وہ جب چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیسیوں مور ناچ رہے ہیں اور سینکڑوں ہرن قلانچیں بھر رہے ہیں ۔ وہ جب جھک جاتی ہے تو قوس قزخ بن جاتی ہے اور جب کھڑی ہوتی ہے تو مندر کے چمکیلے کلس، گرجا کے تکونے گنبد، مسجدکے اونچے مینار کی طرح باوقار نظرآتی ہے ۔
اس کی بانہوں میں بلور ہوتا ہے اور اس کا جسم مرمر سے تراشا جاتا ہے ، لیکن اس مرمریں اور بلوریں جسم میں تتلی کے پروں کی سی ملائمت پائی جاتی ہے اور کم بخت جسم میں شراب کی ان گنت بوتلوں سے زیادہ نشہ گھلا ہوا ہوتا ہے !

بے شک سارا نظام شمسی عورت کے قبضہ و اختیار میں ہے ۔ ۔ ۔ رات اس کی زلفوں میں چھپ کر سو جاتی ہے اور جب اس کے چہرے پر سے زلفیں ہٹ جاتی ہیں تو صبح ہو جاتی ہے اور جب اس کی چوٹی کے بال بکھر جاتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے ۔ فطرت کی ساری خوبیوں کو سمیٹ کر عورت دنیا بن جاتی ہے !

انسان بڑا ہو یا جھوٹا، بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب، رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے ۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کشش ثقل کی وجہ سے قائم اور برقرار ہے لیکن ہماری عقل کہتی ہے کہ دنیا صرف عورت کی کشش سے قائم اور زندہ ہے ۔
دن بھر کے کاموں کے بعد انسان جب اپنی توانائی پر ایک تھکن سی محسوس کرنے لگتا ہے تو پھر عورت کا مقناطیس اسے اپنے طرف کھینچنے لگتا ہے ! عورت ایک رات ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ رات ایک عورت ہے ! عورت کے بغیر رات رات نہیں بلکہ 12 گھنٹوں کا اندھیرا بن جاتی ہے۔

ماضی کے دھندلکے میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ آج تک جاری ہے ۔ اس دور کے آغاز کے ساتھ دنیا کی تنہا خوبصورتی کائنات کا واحد حسن اور زمین کے یکتا جمال کو مرد نے اپنے پیروں تلے روندھنا شروع کیا۔ یہ محض مرد کی طاقت اور اس میں گھلے ملے چاندی اور سونے کے سکوں کی چمک تھی۔ جس نے عورت کے قالب میں عورت کو ہلاک کر دیا اور اپنے نفس کی آگ کو بجھانے کیلئے ایک نرم اور گداز جسم باقی رکھ دیا اور آج بھی ہر قدم پر ایک نرم، ملائم، گداز چکمیلا جسم نظر آتا ہے ۔
اور دنیا کسی قصاب کی بہت بڑی دکان نظر آتی ہے ۔ جس پر مردوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے اور مرد چاندی کے سکے پھینک پھینک کر عورت کے جسم خریدتے جا رہے ہیں لیکن سب عورت کی چھاتیاں ، رانیں ، ہونٹ اور بازو خریدتے ہیں ۔
اصلی عورت کوئی نہیں خرید سکتا۔
اصلی عورت کبھی نہیں خریدی جاسکتی۔
خوبصورتی کو دنیا کا بڑے سے بڑا سرمایہ دار ہرگز ہرگز نہیں خرید سکتا۔

بتاریخ : ‪2013-03-10

خنجر چلے اردو پہ ، تڑپتے ہیں ہم مگر ۔۔۔

بچاری اردو کے نام پر یار لوگ ایسے ایسے سنگین مذاق کرتے ہیں کہ سننے/پڑھنے کے بعد عصر حاضر کا واقفکار اردوداں یا تو الٹی کر بیٹھتا ہے یا بچارے کو کئی دن کے لیے قبض کی شکایت ہو جاتی ہے۔

پچھلے دنوں غریب خاکسار کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایک صاحب نے ہوائی فائر کیا تھا ، بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ موصوف نے محض اپنی سستی شہرت کی خاطر اردو کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا ورنہ ان کا زبان اردو یا اردو شعر و ادب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کوئی اگر شہرت کا اتنا ہی بھوکا ہے تو ہمیں اس قسم کے نفسیاتی مریضوں سے دلی ہمدردی ہے مگر اردو نیوز (سعودی عرب کا مقبول اردو روزنامہ) اور سعودی گزٹ (سعودی عرب کا معروف و معتبر انگریزی روزنامہ) کے ان باکمال صحافیوں کو کیا کہا جائے جنہوں نے بڑے اہتمام سے ان صاحب کی لاف گزاف کے لئے اپنے اخبار کے قیمتی صفحات ضائع کئے تھے؟

اس دفعہ ایک اور صاحب فیس بک پر اپنی اونچی بڑک کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ فیس بک پر ایک گروپ بعنوان "صدائے اردو" قائم کیا گیا ہے۔ جس کی تعارفی سطر یہ ہے کہ : "یہ گروپ اُردو رسم الخط کی بقا اور ترویج کے لئے سرگرم رہےگا۔"
ماشاءاللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ۔
بات اگر صرف اتنی ہوتی تو دل سے ایسی ہی دعائیں نکلتیں اور ہم بھی دامے درمے سخنے ان کی مدد کے لیے دل و جان سے حاضر ہو جاتے۔ مگر مسئلہ تو وہاں پیدا ہوا ہے جہاں بڑے بلند بانگ اور غلط قسم کے دعوے ہوا میں داغے گئے ہیں۔ ذرا دیکھئے کہ موصوف کیا کچھ فرما رہے ہیں ۔۔۔
صدائے اُردو کا تعارف : فائل-1 ، فائل-2 ، فائل-3

جناب من! ہم اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں عرصہ دس سال سے بہ ہوش و حواس قائم و دائم ہیں۔ لہذا ہمیں آپ کے درج ذیل جملوں پر نہایت سخت اعتراضات ہیں ۔۔۔

1) کتاب چہرہ المعروف فیس بک پر ان دنوں جتنے لوگ ہیں شاید اتنے ہی صفحات بھی موجود ہیں لیکن اردو زبان کے حوالے سے ایسے صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے
2) ہماری معلومات کے مطابق قوی امکان ہے کہ ایسا تو ایک بھی فورم نہیں ہے جہاں فقط اردو رسم الخط میں لکھا جاتا ہو۔ ننانوے فیصد سے زیادہ زبان کش رومن میں لکھا جاتا ہے یا پھر بزبان فرنگی۔
3) ہمارے اردو زبان کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کی غالب در غالب اکثریت ایسی ہے جسے ٹائپنگ ہی نہیں آتی۔ وہ آج سائنسی خاص طور انفارمیشن تکنالوجی اور کمپیوٹر کی ترقی کے دور میں بھی ٹائپنگ کو کسی کلرک کا ہنر ہی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عوام الناس سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔
4) ۔۔۔ اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں ، اس کے لئے کسی خصوصی "اردو کی۔بورڈ" کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ انگریزی یا کسی اور زبان کے "کی۔بورڈ" سے بھی اردو ٹائپ کر سکتے ہیں۔

محترم صفدر ہمدانی صاحب! یہ بلاگ پوسٹ ہرگز نہ لکھی جاتی اگر بالا سنگین الزامات لگانے سے آپ گریز کرتے اور ۔۔۔ زرقا مفتی جیسی معروف شاعرہ کا نام بھی نہ لیتے۔
جناب عالی! وہ سروے کہاں اور کس ویب سائیٹ پر پایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "فیس بک پر اردو صفحات کی تعداد درجن بھر بھی نہیں ہے" ؟؟ اگر یہ آپ کا اپنا ذاتی خیال ہے تو برائے مہربانی ایسی بچکانی سوچیں اپنی حد تک محفوظ رکھئے ، علمی دنیا میں بغیر ثبوت کے ایسے ناقص خیالات کی ترسیل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

دوسرے نکتہ کو پڑھ کر تو ناچیز آدھ گھنٹہ تک محض ہنستا ہی رہا۔ حضور! کوئی اگر شترمرغ کی عادت اپنانے پر بضد ہو تو ہو مگر اس شترمرغ کا قول "قول فیصل" نہیں بن جاتا۔ کیا واقعی آپ "اردو محفل" جیسے اولین اردو یونیکوڈ فورم سے واقف نہیں ہیں یا یہ بھی آپ کا "تجاہل غافلانہ" ہے؟؟
"اردو محفل" نے یونیکوڈ اردو فورمز کی جو بنیاد ڈالی تھی ، ماشاءاللہ اس کے بعد کتنے ہی ایسے سینکڑوں فورمز اردو کمیونیٹی کے منظر عام پر وارد ہوئے جنہیں گنتے ہوئے بھی شاید آپ جیسے لوگ گنتی بھول جائیں۔

تیسرے نکتے پر آپ کو بھلا کیا کہا جائے کہ آپ تو آپ ہیں۔ شاید کبھی فیس بک یا سیارہ کی تفصیلی سیر کا موقع ہی نہیں ملا ہوگا۔ ویسے بھی ہمیں ڈر ہے کہ نیٹ کا کوئی جیالا ادیب یا شاعر یا دانشور آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ نہ دائر کر ڈالے۔

آپ کے چوتھے نکتے پر تو باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ حضور عالی ! جب بقول آپ کے "اردو ٹائپنگ اتنی مشکل نہیں" اور "کسی خصوصی اردو کی۔بورڈ کی بھی ضرورت نہیں" تو کیا نیٹ پر موجود اردو دانوں کو کسی باؤلے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تمام دستیاب سہولتوں کے باوجود اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں چاہتے؟
آپ کی اس کم علمی یا کم فہمی کو ہم مذاق سمجھ کر نظرانداز کر جاتے ۔۔۔ مگر "خصوصی کی۔بورڈ کی ضرورت نہیں" جیسے زائد و قابل گرفت الفاظ کے ذریعے جس طرح آپ نے ایم۔بلال۔ایم کے "پاک اردو انسٹالر" کا مذاق اڑایا ہے ۔۔۔ وہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی خواہش رکھنے والے کسی بھی عام اردوداں کو قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا اردو کے فروغ و ترویج کے لئے آپ کی جو بھی نیت رہی ہو وہ یقیناً یہاں مشکوک ثابت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ جو کوئی بھی اردو داں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا ذرا سا بھی بنیادی علم رکھتا ہو وہ "اردو فونیٹک کی۔بورڈ" کی ضرورت و اہمیت سے ناواقف ہو۔

۔۔۔
حضور ! ہم بچارے اردو تہذیب و ثقافت کے مارے ہیں ورنہ اگر آپ ہمارے حیدرآباد میں ہوتے تو واللہ ایسی "شیریں" زبان سنتے کہ ساری دکنی زبان کی فلمیں ہمارے قلم کے آگے پانی بھرتی رہ جاتیں۔ پتا نہیں کیوں دل چاہتا ہے کہ آپ کی بزرگی کا خیال رکھتے ہوئے معاف کر دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خوش گمانی پھر بھی رکھی جا سکتی ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ اس وقت 2013 میں نہیں بلکہ سن 2000ء میں جی رہے ہوں۔

ویسے آپ کے متعلق ہمارے بلاگر دوست خاور کھوکھر نے جو کچھ فیس بک پر لکھا ہے ۔۔۔ وہ بھی ذرا یاد سے پڑھ لیجئے گا ۔۔۔
میں صفدر ہمدانی صاحب کو جانتا ہوں ، نصر ملک صاحب کے ساتھ القمر چلاتے تھے بعد میں عالمی اخبار بنا لی آج یہ اردو یونی کوڈ کی بات کرتے ہیں
لیکن اردو کی انٹرنیٹ کی تاریخ میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ان کے ساتھ ایک لڑکا تھا سکینڈے نیویا کے کسی ملک کا پاکستانی نسل کا ، اس نے آن لائین اردو کا ایک پروگرام بنایا تھا ، جس کو عام کرنے کی درخواست پر ان لوگوں نے انکار کر دیا تھا ، جس کی وجہ سے نبیل صاحب نے ورڈ پریس کے لئے ایک پلگ ان بنایا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے
نبیل صاحب اور م بلال م ہی وہ لوگ ہیں جنہون نے حقیقی معنوں میں اردو کو انٹر نیٹ کی زبان بنایا ہے ان دونوں صاحبان نے اس کام سے کوئی کمائی نہیں کی ،
صفدر ہمدانی صاحب اگر اس ویڈیو سے تاریخ میں یہ لکھوانا چاہتے ہیں کہ ان کے درد کی وجہ تھی کہ انٹر نیٹ پر رومن کی بجائے یونی کوڈ ہو تو یہ بات غلط ہے
ان کی ٹیم نے اپنے نام اور کمائی کے لئے اردو یونی کوڈ کو عام کرنے کی مخالفت کی تھی
اردو یونیکوڈ میں کرنے کے لئے کس نے کام کیا ہے ؟ اگر یہ جاننا چاہتے ہیں تو اردو کے بلاگرز کو دیکھیں جن کی فہرست اپ کو اردو کے سب رنگ پر مل جائے گی
یا پھر اردو محفل دیکھیں کہ اردو یونیکوڈ کا یہ فورم کوئی سات سال سے چلا رہا ہے
اور اگر اپ کو ان دونوں سائیٹوں کا علم نہیں ہے تو؟
آپ نرگیست کا شکار ہیں کہ اپ کو اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا!