حیدرآبادی سے انٹرویو - بشکریہ منظرنامہ ٹیم - Hyderabadi | My city Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2009/06/14

حیدرآبادی سے انٹرویو - بشکریہ منظرنامہ ٹیم

حیدرآبادی سے انٹرویو بشکریہ : منظرنامہ ٹیم

السلام علیکم،
“میرا شہر لوگاں سے معمور کر” قلی قطب شاہ کا ایک مشہور مصرعہ ہے اور ہمارے ایک اردو بلاگر نے اپنے بلاگ کو اس مصرعے سے موسوم کیا ہے۔  آپ کا تعلق حیدر آباد سے ہے اور اسی لیے انٹرنیٹ پر  اردو کی دنیا میں حیدرآبادی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔  حیدرآبادی کا کہنا ہے کہ “باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی”  حالانکہ   حیدر آبادی کے بلاگ پر ہمیں بہت کچھ اچھا پڑھنے کو ملتا  ہے۔  آپ کے بلاگ پر زیادہ تر تحاریر اپنے وطن سے متعلقہ ہوتی ہیں۔   مزید جاننے کے لیے حیدر آبادی سے بات چیت کرتے ہیں۔
خوش آمدید حیدرآبادی صاحب،
و علیکم السلام  ۔ شکریہ ، مہربانی ، نوازش ، کرم۔
سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔
ضرور ، ہمہ تن گوش ہوں !
–        کیا ہم آپ کا اصل نام جان سکتے ہیں؟
@ انگریزی ادب کے ایک مفکر اعظم جنہیں ہمارے حیدرآباد میں “ولی میاں شیخ پیر” کے لقب سے جانا جاتا ہے ، نے فرمایا ہے کہ :
نام میں کیا رکھا ہے، گلاب کو کسی نام سے پکارو ، خوشبو ہی دے گا۔
ہمارے پرانے بلاگ پر یہ جواب سن کر ایک قاری نے لکھا تھا کہ : “حیدرآبادی” کے نِک سے علاقائی تعصب کی بُو آتی ہے جبکہ آپ کے خیالات عموماً یونیورسل محسوس ہوتے ہیں۔
اب اس کے جواب میں ہمارا کہنا تھا کہ ہمارا ایمان علامہ اقبال (رحمہ اللہ) کے اس شعر پر ہے ‫:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
–        آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟
@ جائے پیدائش : حیدرآباد (انڈیا) اور حالیہ مقام : سعودی عرب
–        کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟
@ حیدرآباد کی مشہور جامعہ عثمانیہ سے بی-ای (سول انجینرنگ)۔ اور اسی لحاظ سے اپنے آپ کو “عثمانین” کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں (بالکل ویسے ہی جیسے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اپنے آپ کو “علیگ” کہتے ہیں)۔
خاندانی پس منظر ۔۔۔ ہممم ۔۔۔ حیدرآباد کے ایک معروف گھرانے سے تعلق ہے جس کے بیشتر  افراد اردو شعر و ادب اور اردو خطاطی کے حوالے سے مشہور ہیں۔  عمر عزیز کے ساڑھے تین دہے گزار چلا ہوں ، شادی شدہ ہوں اور اللہ تبارک تعالیٰ نے اولاد کی نعمتوں سے بھی فیضیاب کر رکھا ہے ، الحمدللہ۔
–        آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@ علامہ  اقبال علیہ الرحمة   فرما گئے ہیں :
میری زندگی کا مقصد ترے دین کی سرفرازی
اور دین میرے نزدیک مذہبی پیشواؤں کا علم و فضل نہیں بلکہ قرآن و حدیث کا علم بذریعے سلف الصالحین کا فہم ۔
ایک خواہش تو ہے  ۔۔۔۔ شاید  ٹیکنالوجی کی ترقی کبھی اسے پورا بھی کر جائے  ۔۔۔۔ کہ جو کچھ خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ زبان کو ادائیگی کی  یا  ہاتھوں کو کمپوزنگ کی زحمت دئے بغیر یا تو کمپیوٹر میں محفوظ ہو جائیں یا موبائل میں۔
–         یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟
@ شائد 2005 میں علم ہوا تھا آفس کے ایک ساتھی کے ذریعے ۔ اور اسی دوران یہ بھی پتا چلا تھا کہ اردو میں بھی بلاگنگ کی جا سکتی ہے۔
–        کب سوچا کہ خود بھی بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟
@ اپنی شادی سے ایک سال پہلے 1999ء میں ، میں نے اردو میں ایک  ویب سائیٹ شروع کی تھی جو دراصل حیدرآباد سے اولین اردو ہوم پیج تھا جہاں تصویری اردو میں مختلف موضوعات پر اقتباسات یا تحریریں لگائی جاتی تھیں ۔ اس فری سائیٹ کو میں باقاعدگی سے ماہانہ اپ ڈیٹ کیا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ کوئی ایک ڈیڑھ سال چلا پھر مصروفیات کی نذر ہو گیا۔ تو جب کچھ سال بعد بلاگنگ کا علم ہوا تو سوچا کہ اسی سائیٹ کے مواد کو بلاگ کی تحریری اردو میں منتقل کر دوں کیونکہ اِن پیج فائلیں موجود تھیں۔ مگر یہ کام اب بھی پینڈنگ میں ہے ، اس کے بجائے  موجودہ بلاگ منظر عام پر آ گیا ہے۔
بلاگنگ شروع کرنے کے پیچھے اصل اور بنیادی مقصد تو یہی رہا کہ انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں ہندوستان سے بھی بھرپور نمائیندگی ہو۔ شعیب صاحب تو تھے پہلے سے مگر کچھ متنازعہ سلسلوں میں گھرے رہے ، اردوداں بھائی ہیں مگر غیرمستقل بنیادوں پر۔
–        آپ بلاگ پر کس قسم کے موضوعات پر لکھتے ہیں ؟
@ موضوعات کی کوئی قید تو نہیں ہے میرے ہاں۔ ہاں کوشش یہ رہتی ہے کہ موضوع البتہ  ایسا نہ رہے کہ والد صاحب کا کان کھنچائی والا پیغام موبائل پر مل جائے ۔ جیسا کہ ابھی  ابھی لکھنے کو انجلینا جولی “صاحبہ” پر یہاں کچھ لکھ دیا ہے اور اب فکر  ہے کہ کہیں ڈانٹ نہ آ جائے کہ میاں ،  یہ کیا بکواس لکھنے لگ گئے ہو ؟
علاوہ ازیں میں کسی بھی قسم کی ایسی تحریر لکھنے سے بھی گریز کرتا ہوں جس سے سلف الصالحین سے ثابت شدہ بنیادی دینی عقائد پر ضرب پڑتی ہو۔
–        بلاگنگ کے آغاز میں  کن  کن مشکلات کا سامنا رہا؟
@ چونکہ مجھے پی ایچ پی کے بجائے ایچ ٹی ایم ایل کا زیادہ علم تھا اور پھر کنٹنٹ منیجمنٹ سسٹم کے علم و افادیت سے بھی میں یکسر لاعلم تھا لہذا شروع میں بلاگ کے سیٹ اپ کو درست کرنے میں خاصی ٹھوکریں کھائیں۔ مگر ان ٹھوکروں سے کہیں زیادہ اذیت وہ رہی جب اردو ہوم کی مفت سروس پر بلاگ بنایا تھا اور کوئی سال بھر بعد بنا اطلاع اردو ہوم بند کر دی گئی جس سے مجھے خاصی ذہنی تکلیف اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد سے میں نے بلاگ اسپاٹ اور ورڈ پریس کو چھوڑ کر کسی بھی فری سروس کی طرف توجہ نہیں دی۔
–        کیا آپ صرف اردو میں ہی بلاگنگ کرتے ہیں یا کسی اور زبان میں بھی  بلاگ  لکھتے  ہیں؟
@ جی میں ہندی (دیوناگری رسم الخط) میں بھی کوئی سال بھر سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اردو کے شعر و ادب کا سنہرا حصہ دیوناگری جاننے والوں تک پہنچے جن کی انڈیا میں واضح اکثریت ہے۔ میں صرف رسم الخط تبدیل کرتا ہوں ، الفاظ تقریباً وہی ہوتے ہیں۔ ہندی میں اِس وقت جتنی بلاگنگ ہوتی ہے شائد اردو بلاگنگ اس کا کوئی پندرہ بیس فیصد ہے۔
اس کے علاوہ انگریزی میں میرا ایک تکنیکی بلاگ بھی ہے۔
–        آپ کے بلاگ کا نام “میرا شہر لوگاں سے معمور کر” ہے۔ کچھ اس کا پس منظر بیان کریں گے؟
@ 1581ء میں حیدرآباد کو اپنا دارالحکومت بناتے ہوئے حکمراں قلی قطب شاہ نے ، جو کہ اردو کا صاحبِ دیوان شاعر بھی تھا ، ایک دعا یوں مانگی تھی :
میرا شہر لوگاں سوں معمور کر
رکھیا جوں توں دریا میں من یا سمیع
یعنی :
میرے شہر کو لوگوں سے آباد کر ، جیسا کہ تُو دریا میں مچھلیوں کو بساتا ہے اے خدا !
[ویسے لگتا ہے کہ یہ دعا بھرپور طریقہ سے قبول کر لی ہے اللہ میاں جی نے۔ کیونکہ اِس وقت حیدرآباد کا شمار انڈیا کے ان شہروں میں ہوتا ہے جن کی آبادی کا اضافہ خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب حیدرآباد کے پرانے رقبے کو وسیع کرتے ہوئے کچھ پاس پڑوس کی نئی آبادیوں کو بھی ضم کرتے ہوئے “عظیم تر ممبئی” کی طرز پر “عظیم تر حیدرآباد (Greater Hyderabad)” بنا دیا گیا ہے۔]
تو اس حساب سے  ، جس طرح حیدرآباد ، اپنے بانی کی دعا کی بدولت پھلا پھولا اور انفرادیت حاصل کی  ۔۔۔۔ بالکل اسی پس منظر میں  دعا ہے کہ میرا بلاگ بھی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
–        کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی  فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@ ضرور ہوا ہوگا۔ معاشی نہ سہی تو دوسرے معنوں میں  سہی۔ اگر مستقبل میں  اردو کے لئے “گوگل ایڈسنس” منظور ہو جائے تو پھر تو شائد ایک خلقت سی چلی آئے گی دامنِ محبوب کو تھامے تھامے  ۔۔۔۔
–        اگر آپ  کو  اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے مزید یہ کہ آپ کی مادری زبان کونسی ہے؟
@ میں اردو بولتا ہوں ، لکھتا ہوں ، پڑھتا ہوں ، اوڑھتا ہوں ، پہنتا ہوں  ۔۔۔ اب اس سے زیادہ تعلق بیان کرنا تعزیری دائرے میں آ جائے گا۔
میری مادری زبان بھی “اردو” ہی ہے۔ ویسے بھی آج سے کوئی بیس پچیس سال پہلے ہر حیدرآبادی کی مادری زبان اردو تھی چاہے مسلم حیدرآبادی ہو کہ غیر مسلم۔ اب ہندو توا عروج  ، گلوبلائزیشن اور اردو کی سرکاری یا غیرسرکاری عدم سرپرستی کے سبب اردو بس  چنندہ  مسلم گھرانوں تک سمٹتی جا رہی ہے۔
–        آپ کیا سمجھتے ہیں کہ  اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟
@ اگر ہندو پاک سے ہٹ کر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اردو واقعتا زندگی کی بھرپور سانسیں لے رہی ہے۔ مختلف ممالک میں اردو کی نت نئی بستیوں کا قیام ، نوجوان نسل سے شعراء ، ادباء و ناقدین  کی آمد ، اردو اخبارات و رسائل کی خاطر خواہ موجودگی  ۔۔۔۔ گو کہ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے ، مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا تو بہتر ہی ہوتا ہے۔
اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے ہم سب اردو دانوں کو انفرادی سطح پر کوشش کرنا چاہئے۔ اس میں چوں چرا کی گنجائش نہیں۔ جتنے اردو بلاگرز اس وقت موجود ہیں ، کیا انہوں نے اپنی اولاد ، بھائی بہنوں کو اردو سکھانے ، لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ دی ؟
–         آپ کا  کہنا ہے کہ حیدرآباد سے آپ پہلے اردو بلاگر ہیں، اس کی کیا وجہ ہے کہ اب تک حیدر آباد سے  کوئی اور اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آ سکا؟
@ اس ضمن میں ہم جیسوں کو اردو یونیکوڈ کے حوالے سے اردو کا عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے خاصی محنت کرنا ہے۔ آنے والے رمضان میں چھٹی پر انڈیا جاؤں گا تو چند شعری و ادبی اداروں میں ایک تربیتی معلوماتی اجلاس رکھنے کا ارادہ ہے۔
اس کے علاوہ بھی ہند سے متعلق اور ہند کی سیاست سے متعلق نیٹ کی اردو یونیکوڈ دنیا میں خاصی غلط فہمیاں (دانستہ یا نادانستہ) نظر میں آتی ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے تین چار موضوعاتی بلاگ عنقریب شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
–        آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ میری اپنی ویب ڈیزائیننگ کمپنی ہوگی جو اردو کے حوالے سے ہندوستان بھر میں اپنی انفرادیت قائم کرے گی ، ان شاءاللہ ۔ اور انڈیا سے مستقل قریب میں بےشمار موضوعاتی اور شخصی بلاگز منظر عام پر آئیں گے ، ان شاءاللہ
–        بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@ دینی و ادبی کتب کا مطالعہ ، ویب ڈیزائیننگ اور اردو کے حوالے سے نیٹ پر کچھ نیا کر دکھانے کی امنگ۔
–        کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام “نیٹ” کی امامت کا

کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
اکثر بلاگرز نے جواب میں “قرآن” کہا تھا ، لہذا اگر یہ سوال کچھ یوں ہوتا :
قرآن کے بعد  ، آپ کی کوئی پسندیدہ  کتاب  ؟
تو میرا جواب ہوگا  : ابن صفی ناولیں (بالخصوص عمران+فریدی  والا معرکہ  “زمین کے بادل”)
2۔ شعر ؟
شعر تو نہیں  ، ایک قطعہ سن لیں :
ہاتھوں میں فقط ہاتھ ہیں سوغات نہیں ہے
کیا بات کریں بات میں وہ بات نہیں ہے
تھک ہار کر ہر بار محبت کے سہارے
ملنے کو تو ملتے ہیں ملاقات نہیں ہے ‫!!
3۔ رنگ ؟
رنگوں پر توجہ برتنے کی عمر گزر چلی
4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟
کھچڑی کے ہیں چار یار
کھٹا ، قیمہ ، پاپڑ ، اچار
5۔ موسم
سالانہ چھٹی کا موسم
غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
شائد کچھ کچھ ۔۔۔
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
شائد کبھی کبھی ۔۔۔
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
یقیناً !
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
بےشک !
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟
اپنے دوستوں سے تو  یہی سنا ہے !
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
کبھی ہاں کبھی ناں
کوئی ایک منتخب کریں :
1۔ دولت، شہرت یا عزت؟
نجیب الطرفین سید ہوں لہذا عزتِ سادات عزیز ہے !!
2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟
کہاں کی اینٹ ، کہاں کا روڑا ؟؟ کہاں شاعرِ ملت ، کہاں مغربی مفکر اور کہاں مغربی ڈرامہ نگار ؟
ہاں اگر یہ ترتیب دی جاتی :
اقبال ، مودودی ، ابن صفی
تو بچارہ بلاگر تڑپتا پھڑکتا رہ جاتا ۔ ورنہ پہلی صورت میں تو ہر کوئی شاعرِ مشرق کو گلے لگائے جائے گا۔
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟
فریقین کی صورتحال پر منحصر ہے۔
5۔انڈیا،  امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟
انگلینڈ میں مقیم میرے ایک پاکستانی دوست کہتے ہیں :
سارے جہاں سے اچھا  مکہ ہمارا !
اور مجھے بھی ان کے اس مصرعہ سے مکمل  اتفاق ہے !!
– اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔
@ انٹرنیٹ کی اردو کمیونیٹی میں پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان سے اردو لکھنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ یوں توازن کی کمی کے سبب کچھ ناموزوں رحجانات کبھی کبھی مشاہدے میں نظر آتے ہیں جن کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔
** زبان کو مذہب یا ملک سے نہیں جوڑنا چاہئے ، ایسا تاثر نہیں دینا چاہئے کہ فلاں فلاں زبان فلاں فلاں مذہب/ملک کی زبان ہے لہذا اس پر فلاں فلاں کا زیادہ حق ہے۔
** ہند وپاک کی سیاسی ونظریاتی کشیدگی زبان زد عام وخاص ہے۔ ان حساس مسائل پر گفتگو کے دوران تحمل مزاجی اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ محض  غیرموزوں جذباتیت دونوں طرف کے مسلمانوں میں بدگمانیاں ہی پیدا کرنے کا سبب بنے گی جبکہ اسلام کا سبق ہے کہ: خاص ہے قومِ رسولِ ہاشمی
** اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ حب الوطنی کے اظہار کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مخالف ملک کو طعن وتشنیع کی زد پر رکھ لیا جائے۔ نیٹ پر بلاگنگ / فورمز کے میدان میں ہم اپنے وطن کے درحقیقت ایسے سفیر ہوتے ہیں جن کا پیغام ، پیغامِ محبت ہوتا ہے۔
** ہر فرد کو اپنے وطن سے کسی نہ کسی حد تک محبت ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے ملک کے خلاف جھوٹا پروپگنڈا برداشت نہیں کر پاتے تو مخالف ملک کے خلاف خبروں کو پھیلانے سے قبل ان کی تحقیق و تصدیق کی طرف بھی تھوڑی توجہ کر لینا چاہئے۔
حیدر آبادی، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔
آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے سب کے سامنے مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا۔ والسلام علیکم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں