ہے تھوکنے کی چیز یہاں بار بار تھوک - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2024/09/14

ہے تھوکنے کی چیز یہاں بار بار تھوک

do-not-spit

ہے تھوکنے کی چیز یہاں بار بار تھوک
(شوکت تھانوی)


صاحب! ہمارے ملک میں تھوکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اگر اس کو ملک گیر مسئلہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جی چاہتا ہے کہ اس قسم کے تمام اشعار میں کچھ ایسی تحریفیں کر دی جائیں کہ ؎
تھوک دیتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے


اس مسئلہ کی ہمہ گیری کا اسی سے اندازہ کر لیجئے کہ ریل کے ڈبوں سے لے کر پلیٹ فارموں تک پر اور سینما گھروں سے لے کر چڑیا گھر تک ہر جگہ صرف یہ تختیاں نظر آئیں گی کہ "مت تھوکو" حالانکہ اور بھی امتناعی تختیاں لگ سکتی ہیں: مثلاً "چوری نہ کرو" یا "مت لڑو" یا "جیب نہ کاٹو" یا "شادی نہ کرو" یا "دوستوں سے ڈرو" وغیرہ مگر سب سے زیادہ زور اسی نہ تھوکنے پر اس لیے دیا گیا ہے کہ خدا جانے ہم پر یہ کیا مار ہے کہ ہم علاوہ اگالدان کے اور ہر جگہ تھوکتے پھرتے ہیں اور اکثر عین ان تختیوں کے نیچے ہی اپنا یہ شوق اس طرح پورا کر لیتے ہیں کہ گویا یہ تختیاں ہمارے ایک پیدائشی حق کو غصب کر رہی ہیں۔
آزادی ملنے کے بعد جب یہ اندازہ ہوا کہ واقعی ایک آزاد قوم کو اس طرح اُس کے کسی حق سے باز رکھنے کی کوشش حق بجانب نہیں ہے تو اب دوسری ہی صورت اختیار کی گئی ہے کہ بعض عمارتوں میں ریت اور برادے سے بھرے ہوئے بکس جا بجا لگے ہوئے ہیں اور ان پر لکھا ہے: "یہاں تھوکو"! چنانچہ بعض امن پسند بلا ضرورت بھی ان بکسوں میں یہ چندہ ڈالتے رہتے ہیں اور بعض بال کی کھال نکالنے والے اب بھی اس سلسلے میں یہ سوچتے ہیں کہ "مت تھوکو" اگر ایک قسم کا حکم امتناعی تھا تو "یہاں تھوکو" ایک قسم کی زبردستی ہے اور کسی کو اس کا کوئی حق نہیں کہ ہم کو ہماری کسی ذاتی ضرورت کے لئے مجبور کرے۔ اگر ہم نے "یہاں تھوکو" کی پابندی سر جھکا کر کرلی تو اس قسم کی تختیاں بھی نظر آنے لگیں گی کہ "یہاں ناچو" یا "یہاں قلابازی کھاؤ" یا "یہاں مار کھاؤ "۔


عہد حاضر کے ایک بہت بڑے محقق کی دریافت یہ ہے کہ "یہاں تھوکو" نہ کوئی حکم ہے نہ کوئی زبردستی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں تھوکنا آپ کا قومی، اخلاقی، معاشرتی اور تمدنی فرض ہے اور اس کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ع
ہے تھوکنے کی چیز یہاں بار بار تھوک
اور ان صاحب نے غالباً رفع شر کے لئے ایک مطلب یہ بھی نکالا ہے کہ "یہاں تھوکو" کا مطلب یہ ہےکہ چونکہ بغیر تھوکے تم رہ ہی نہیں سکتے لہذا بہتر ہے کہ تم کو تھوکنے کی ایک جگہ بتا دی جائے تاکہ تم کسی میز پر یا قلمدان میں یا ٹیلی فون میں یا لیٹربکس وغیرہ میں نہ تھوک دو۔


کیوں صاحب؟ دنیا کے کسی ملک میں بھی اپنے باشندوں کے ساتھ یہ تحقیر آمیز مذاق ہوا ہوگا کہ ان کو تھوکنے تک کی جگہ بتائی جائے مگر اس مذاق کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہوگی کہ آج بھی یہ ریت اور برادے کے بکس صاف شفاف ٹنگے رہتے ہیں اور در و دیوار پر پیک کی گلکاریاں اور تھوک کی نقاشیاں نظر آتی ہیں۔ آپ ہی بتائیے کہ ایسے ملک میں پان کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے اور پان کو یہ بدنام کرنے والے اس ذوق کے کیوں کر مستحق سمجھے جا سکتے ہیں؟ آپ کو دوڑنا پڑتا ہے غسلخانے کی طرف لہذا آپ اس کے مستحق نہیں۔ مستحق تو وہ سمجھے جاتے ہیں جن کا قول یہ ہو کہ ع
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب


اقتباسات از مضمون "محمود نظامی کے نام" (کتاب: بارِ خاطر)
مصنف: شوکت تھانوی


Do not spit here please ... an excerpt from humorous Essay by Shaukat Thanvi.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں