نوجوان مسلم جہدکار اور سوشل میڈیا انفلواینسر 'ولی رحمانی' جنہوں نے مسلمانانِ ہند کے مالی تعاون سے حال ہی میں مغربی بنگال میں "امید گلوبل اسکول" جیسا وسیع و عریض تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے ، 'جامعہ ہمدرد دہلی' کے فارغ التحصیل ہیں۔
جامعہ ہمدرد اور اس کے بانی حکیم عبدالحمید (1908-1999) پر ایک معلوماتی تحریر کتابی سلسلہ "اثبات" (شمارہ: 44 ، مع گوشہ اطہر فاروقی) کے صفحہ:464-465 پر شائع ہوئی ہے۔ ونیز اسی کتاب میں، پروفیسر محمد حسن کی سوانح کے چند صفحات (452، 453 اور 454) پر حکیم عبدالحمید کے مختلف کارناموں کا نایاب تذکرہ بھی شامل ہے۔
ہمدرد دواخانہ ( وقف )، جامعہ ہمدرد اور غالب اکادمی (دہلی ) کے بانی حکیم عبدالحمید 1908 میں پرانی دلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ہندوستانی دواخانے میں ملازمت کی اور ہمدرد دواخانہ کے نام سے ایک دوکان شروع کی۔ بڑھتے بڑھتے لال کنویں کے محلے میں ایک بڑی عمارت کا دواخانہ اور کارخانہ بن گیا۔ عبدالحمید نے ابتدائی تعلیم اینگلو عربک اسکول میں حاصل کی ، پھر حکیم اجمل خاں کے طبیہ کالج میں داخلہ لیا جو نامکمل چھوڑ کر دوا خانے میں عملی تجربہ حاصل کرنے لگے۔ 1922 میں والد کی وفات پر اپنے چھوٹے بھائی حکیم محمد سعید کے ساتھ دوا خانے کو سنبھالا۔ ایمانداری اور سادگی حکیم عبدالحمید کی شناخت تھی۔ روغن بادام ، روح افزا، جو شاندہ ، صافی اور خمیرہ گاؤ زباں، ہمدرد کی مشہور ادویات ثابت ہوئیں۔ حکیم سعید نے ہمدرد ( پاکستان ) قائم کیا اور کراچی میں یونیورسٹی بھی بنائی۔ لیکن اکتوبر 1998 میں ان کا سیاسی قتل ہوا۔ 1947 کے سنگین حالات میں حکیم عبدالحمید، نہرو اور آزاد کے سیکولر نظریات کے پیروکار رہے جب کہ دلی میں جگہ جگہ مسلم مخالف فسادات ہو رہے تھے اور مسلمانوں کو پاکستان بھگایا جارہا تھا۔
اسی زمانے میں دور دراز موضع تغلق آباد میں حکیم عبدالحمید نے ڈیڑھ سوا یکٹر زمین خریدی جہاں آج ہمدرد یونیورسٹی ، مجید یہ ہسپتال اور انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کی شاندار عمارات ہیں۔ ہمدرد ایجوکیشنل سوسائٹی میں ایک پبلک اسکول اور ریسرچ سینٹر بنایا جس میں پروفیسر رشید الدین خاں، پروفیسر مونس رضا، پروفیسر محمد حسن وغیرہ نے سارک ممالک کی تاریخ، تہذیب اور زبانوں پر تحقیق کے پروجیکٹ شروع کیے جو دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد عالم مایوسی میں فروغ نہ پا سکے۔ اسی سوسائٹی نے پرانی دلی میں لڑکیوں کا ایک انگریزی میڈیم اسکول بھی قائم کیا۔ 1966 میں شہر سے باہر ہمدرد نرسنگ ہوم اور غالب صدی کے موقعے پر 1969 میں غالب اکادمی جیسا تعلیمی و ادبی ادارہ قائم کیا۔
حکیم عبدالحمید ملک میں سیکولر ازم کے فروغ کے لیے ہر لمحہ کوشاں رہتے تھے اور گاندھی جی کے نظریہ ہندوستانی زبان کے پیروکار تھے۔ ان کے تعلیمی مشن میں علی گڑھ سے سبکدوش وائس چانسلر سید حامد اور مرحوم اوصاف احمد نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آخر عمر تک مطب کرتے رہے اور درویشانہ زندگی گزارتے رہے۔ عرب اور وسط ایشیا کے یونانی نظام ادویہ کی ترقی کے لیے حکیم صاحب نے سب سے اہم خدمات انجام دیں۔ 1948 میں انھوں نے ہمدرد کو قومی فلاح کے لیے وقف ادارہ بنا دیا تھا جس کا فیض آج بھی جاری ہے۔ حکومت ہند نے پدم شری اور پدم بھوشن کے اعزاز اور سوویت یونین نے ابن سینا ایوارڈ سے نوازا۔ 6 / دسمبر 1992 کو اجودھیا میں فرقہ پرستوں اور حکومت اشتراک سے جب بابری مسجد شہید کی گئی تو حکیم عبدالحمید ایک مایوس اور شکست خوردہ انسان بن کر رہ گئے تھے۔ وفات اور تدفین جولائی 1999 میں دہلی میں ہوئی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں