قومی اہلیتی مسابقتی امتحان 2021 - ہندوستانی میڈیکل کالجوں میں داخلہ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2021/09/12

قومی اہلیتی مسابقتی امتحان 2021 - ہندوستانی میڈیکل کالجوں میں داخلہ

neet 2021 exam centre

©مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
12/ستمبر/2021
*****


نیٹ - NEET
National Eligibility cum Entrance Test
برائے سال 2021ء
12/ستمبر بروز اتوار، دوپہر 2 تا شام 5 بجے


قومی اہلیتی مسابقتی امتحان، ہندوستان کے تمام میڈیکل کالجوں میں ایم۔بی۔بی۔ایس/بی۔ڈی۔ایس کے 5 سالہ تعلیمی کورس میں داخلے کے لیے۔۔۔
تمام امیدوارانِ امتحان کے لیے نیک خواہشات

neet-2021

پچھلے سال یہ امتحان تقریباً 132 ہندوستانی شہروں کے مختلف امتحانی مراکز پر منعقد ہوا تھا۔ اس بار شہروں کی تعداد 202 (تقریباً چار ہزار مجموعی امتحانی مراکز) کر دی گئی ہے جس میں دو بین الاقوامی شہر دبئی اور کویت سٹی بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ برسوں کی بہ نسبت اس سال کے اُمیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی 16 لاکھ۔ جن میں سے تقریباً ساٹھ ہزار ریاست تلنگانہ کے امیدوار ہیں۔ اور تلنگانہ کے پانچ شہروں میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔


عموماً یہ قومی اہلیتی مسابقتی امتحان ماہ مئی میں منعقد ہوتا رہا ہے مگر کووڈ وبا کے سبب گذشتہ سال 13/ستمبر کو یہ عمل میں آیا اور امسال آج 12/ستمبر کو۔
کچھ برسوں سے اب اس قومی سطح کے امتحان میں نمایاں کامیابی، تمام ہی ریاستوں کے سرکاری/غیرسرکاری میڈیکل کالجوں (ایم۔بی۔بی۔ایس) میں داخلے کے لیے لازم کر دی گئی ہے۔۔۔ ورنہ اس سے قبل ہر ریاست، ریاستی سطح کا اپنا خود کا مسابقتی امتحان منعقد کیا کرتی رہی۔
تقریباً 41 ہزار ایم۔بی۔بی۔ایس نشستوں پر داخلہ کے لیے سارے ہندوستان سے قریب پونے تین سو کالج موجود ہیں۔


فی الحال کچھ باتیں ریاست تلنگانہ کے حوالے سے۔۔۔


تلنگانہ میں 9 سرکاری کالج اور 23 پرائیویٹ میڈیکل کالج ہیں۔ حیدرآباد میں دو سرکاری کالج: عثمانیہ میڈیکل کالج اور گاندھی میڈیکل کالج اور ان شہروں میں ایک ایک: ورنگل، محبوب نگر، سدی پیٹ، نلگنڈہ، سوریہ پیٹ، نظام آباد اور عادل آباد۔
ویسے تلنگانہ ریاستی کابینہ نے حال ہی میں 7 مزید شہروں (ناگر کرنول، ونپرتی، منچریال، جگتیال، سنگاریڈی، محبوب آباد، کوتہ گڈم) میں میڈیکل کالجوں کے قیام کی منظوری تو دی ہے، جنہیں عمل میں آنے شاید دو چار سال مزید لگیں۔
حیدرآباد میں مسلمان اقلیتی اداروں کی جانب سے قائم شدہ دو میڈیکل کالج بہت مشہور ہیں۔
غالباً انہی دونوں کالجوں کے سبب مسلمان طلبا بالخصوص طالبات میں پانچ سالہ باوقار طبی تعلیم کے حصول کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔


1984 میں سابق رکن پارلیمان حیدرآباد سلطان صلاح الدین اویسی مرحوم کی جانب سے قائم کردہ "دکن میڈیکل کالج"
اور
2003 میں سابق رکن اسمبلی آندھرا پردیش ڈاکٹر وزارت رسول خان مرحوم کی جانب سے قائم کردہ "شاداں میڈیکل کالج"۔


ان دونوں کالجوں میں ایم۔بی۔بی۔ایس کی 150/150 نشستیں دستیاب ہیں۔ جن میں سے 60 فیصد نیٹ مسابقتی امتحان میں نمایاں رینک سے کامیاب طلبہ، باقی 40 فیصد منیجمنٹ کوٹہ کے تحت (ایک موٹی رقم لے کر) نیٹ امتحان کوالیفائی کرنے والے طلبا کو فراہم کی جاتی ہیں۔


اور ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ۔۔۔ ان دونوں کالجوں میں (بلکہ تقریباً تمام میڈیکل کالجوں میں) 85 فیصد نشستیں مقامی طلبا کے لیے محفوظ ہوتی ہیں، مابقی 15 فیصد غیر مقامی اور این۔آر۔آئی طلبہ کے لیے۔
سرکاری و غیرسرکاری کالجوں میں سالانہ فیس میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے منظور شدہ ہے۔
یعنی سرکاری میڈیکل کالج میں سالانہ 15 ہزار اور پرائیویٹ میڈیکل کالج میں سالانہ 60 ہزار۔
فیس کا یہ معیار پھر بھی انجینئرنگ تعلیم کے قومی سطح کے مقبول ادارے جیسے آئی۔آئی۔ٹی اور این۔آئی۔ٹی کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔


راقم الحروف، حیدرآباد کے دونوں مسلم اقلیتی میڈیکل کالجوں کی اہمیت و افادیت کا نہ صرف قائل ہے بلکہ ان کی ترقی و بہتری کے لیے ہمیشہ سے دعاگو بھی۔
بس ایک چیز عموماً سمجھ سے باہر ہوتی ہے۔۔۔ حالانکہ اس چیز کو عزت مآب ہائیکورٹ کی تصدیق بھی حاصل ہے۔
یعنی: منیجمنٹ کوٹہ کے تحت داخلہ کے لیے مستحق طلبا سے ایک خطیر رقم کی وصولی۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ یہ رقم گذشتہ سال ایک کروڑ سے سوا کروڑ کے درمیان رہی۔ جبکہ ہمارے دور میں (یعنی 80/90 کی دہائی) میں یہی رقم بس دو چار لاکھ ہوا کرتی تھی۔
بہرحال اس معاملے کو چونکہ عدالتی فیصلے کا استحقاق حاصل ہے لہذا زیادہ لب کشائی کی جرات نہیں کی جا سکتی۔۔۔۔


بس ہمارے پیارے دوست #مرزا کا قول یہاں دہرانا مناست لگتا ہے:
"پاشا! ان سیٹوں پر سیٹھوں کی بگڑی اولادوں کا حق ہوتا، اپن کئیکو دل پہ لینا۔۔۔ تھوووو۔۔۔ "
پھر مرزا پلٹ کے پان کی پچکاری یوں عالمِ طیش میں اچھالتے جیسے سماج کے بدعنوان ٹھیکہ داروں کے چہرے پر غلیظ تھوک پوت رہے ہوں!!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں