پڑھ کے خط یاد کیا ہے ماضی - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2021/09/16

پڑھ کے خط یاد کیا ہے ماضی

مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
16/ستمبر/2021
*****


پڑھ کے خط یاد کیا ہے ماضی
پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے


ابھی کل ہی مدیر "اثبات" اشعر نجمی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا:
"ایک زمانے میں رسائل میں قارئین کے خطوط چھپتے تھے، گزشتہ شماروں کے بعض مشمولات پر بحث و مباحثہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔۔۔"


کل رات کچھ پرانی دستاویزات ڈھونڈنے کے چکر میں چند دوستوں کے پرانے خطوط ہاتھ آئے۔ یہ نوے (1990) کی دہائی کی ابتدا کا ذکر ہے۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ موبائل کا تو کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ اور "قلمی دوست" جو ہوا کرتے تھے، ان سے روابط بھی بس خطوط (انڈیا پوسٹ: پوسٹ کارڈ / ان لینڈ لیٹر / لفافہ) کے ذریعے استوار ہوا کرتے تھے۔

letter-from-a-penfriend inland letter

زیر نظر خط ممبئی کے ایک عزیز دوست کا ہے جو قلمکار/مصور ہونے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ کی اشتہاری دنیا سے بھی وابستہ تھے۔ (فیس بک پر بھی موجود ہیں، گو رابطہ کم کم ہے)۔۔۔ ان سے میری ایک مختصر ملاقات ممبئی میں ہوئی تھی، اس خط کی وصولی سے کچھ ماہ قبل ہی۔


خط کا متن ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ اور داد دیجیے کہ ہم اُس دور کے باسی، کیسی کیسی زبان پڑھ/لکھ کر بڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ :)


letter-from-a-penfriend

*****
دلعزیز نیازی ، ڈھیروں یاد و سلام
کتنی صدیاں گزریں تمہارا کوئی خط نہیں ملا۔ کیوں؟
یہ تو کوئی بات نہیں کہ انسان اس قدر مصروف ہو جائے کہ اسے اپنے دوستوں، کہ جن کی تعداد ہی کل جمع کل چار ہو۔۔ خط تک نہ لکھ سکے۔
یہ مصروفیت نہیں بلکہ بےمروتی ، بےحسی ، بے نیازی ہے۔ اور نازک مزاج دوستوں کے ذہنوں پر گراں گزرتی ہیں۔
یہ باتیں۔۔ عادتیں۔۔ کہ ہم بھی دلِ نازک ازحد رکھتے ہیں۔ انتہائی حساس ہیں۔۔ کہ ہم قلم اور برش کے شائق ہیں۔
طنز کے یہ تیر جب تیرے جگر کے پار ہو جائیں تو اے لاپرواہ شخص اپنے صمیمِ قلب سے بہت مفصل خط لکھنا تاکہ مابدولت کی روح میں اتر جائیں۔


اجازت۔ خیریت درکار۔
والسلام
5/مارچ/1992


A letter to Mukarram Niyaz from his penfriend, dated March'1992.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں