فلم دی کشمیر فائلز اور بالی ووڈ کا قدیم غیرمتعصبانہ دَور - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2022/03/16

فلم دی کشمیر فائلز اور بالی ووڈ کا قدیم غیرمتعصبانہ دَور

film-awam-b-r-chopra-aug-1987

© مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
16/مارچ/2022
*****

پہلے کچھ تمہیدی کلمات۔
تقریباً تین/ساڑھے تین دہائی قبل ۔۔۔ جب موبائل نہیں تھا، اسمارٹ فون نہیں تھے، ٹی وی چینلوں کی باڑھ نہیں تھی، یو-ٹیوب/ٹک-ٹاک کلچر نہیں تھا ۔۔۔ جو تھے تو بس اخبارات تھے، کتب و رسائل تھے، لائبریریاں تھیں، سینما تھیٹر تھے ۔۔۔ اور علمی ادبی تہذیبی ثقافتی گفت و شنید کے لیے خطوط نویسی واحد مشغلہ تھا۔


تو یہ اسی زمانے کا ایک خط ہے۔۔۔ میرے اسی یارِ دلدار جاوید نہال حشمی کا، جس کے دو پرانے خطوط کے اقتباسات کچھ عرصہ قبل بھی پیش کر چکا ہوں (کرکٹ ریلائنس ورلڈ کپ 1987 - ایک پرانا مکتوب // ایک پوسٹ کارڈ کی قیمت تم کیا جانو اردو والے بابو
پچھلے دنوں اور اب بھی۔۔۔ کشمیر والی متذکرہ متنازعہ فلم پر سوشل میڈیائی تذکرہ گرما گرم کیک کی طرح ہاتھوں ہاتھ بڑھتا اچھلتا رہا۔ مجھ جیسا بندہ عموماً ایسے انتشار پسندانہ موضوعات سے گریز بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ع
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
کے مصداق موگامبو مفت کی "تشہیر" پر خوش ہوتا ہے!


میرا رجحان عموماً یہ ہوتا ہے کہ اگر تبصرہ ضروری ہی ہے تو اس قسم کے منفی موضوع کی بات کم اور اس کے مقابل مثبت موضوع کا تذکرہ زیادہ ہو۔ تو اسی ضمن میں کل رات اچانک بالی ووڈ کی 1980 کی دہائی کے اواخر کی ایک ایسی فلم کی یاد آ گئی جس پر یارِ عزیز نے اپنے ایک پرانے خط میں دلچسپ تبصرہ کیا تھا۔ کوئی سو ڈیڑھ سو خطوط میں سے اس ایک خط کو ڈھونڈ نکالنا یوں تو دقت طلب کام ہے مگر جذبۂ جنوں کے آگے مشکل بھی نہیں۔
تو ملاحظہ فرمائیے ذیل میں بالی ووڈ کی ہندی فلم "عوام" پر تبصرہ جو انڈیا میں 31/اگست 1987ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ ہدایت کار اور فلمساز تھے بی۔آر۔چوپڑہ، کہانی کار تھے راہی معصوم رضا اور اداکار تھے: اشوک کمار، راجیش کھنہ، راج ببر، سمیتا پاٹل، پونم ڈھلون، نانا پاٹیکر، افتخار، اوم شیوپوری، شفیع انعامدار اور سعید جعفری۔


*****
یہ خط 24/ستمبر 1987 کو 24/پرگنہ (مغربی بنگال) سے حیدرآباد (دکن) ارسال کیا گیا تھا۔
مکتوب نگار : جاوید نہال حشمی
مکتوب الیہ : مکرم نیاز

film awam review by jawed nehal hashami review

***
۔۔۔ ابھی پچھلے ہی دنوں "عوام" دیکھا ہے۔ فلم بہت اچھی ہوئی ہے، لیکن ایک حیرت انگیز چیز دیکھنے میں آئی ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ کچھ ضمیر فروش اور غدارِ وطن اپنے ذاتی مفاد کے لیے ہندوستان کو غیرملکیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک میں انتشار برپا کرنے اور انارکی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن ان سب کو بےنقاب کرنے، ان کی سازش کو ناکام بنانے اور ان کو گرفتار کرنے میں جن وطن پرستوں کا ہاتھ ہے وہ سب کے سب مسلمان ہیں سوائے ایک کے، یعنی صرف راجیش کھنہ جس نے ایک ہندو افسر کا رول کیا ہے۔
گرفتار ہونے والے ضمیر فروش غداروں میں سب ہندو ہیں اور انہیں پکڑنے والے سب مسلمان!
جیسے ڈاکٹر شبنم (سمیتا پاٹل)، شاعر رفیق چور (راج ببر)، فریڈم فائٹر وحشت انصاری (اشوک کمار)، فوجی افسر مصطفیٰ احمد زیدی (نانا پاٹیکر) وغیرہ۔
ہندوستانی مسلمانوں پر جو پاکستان نواز ہونے کا آج کل الزام لگایا جاتا ہے، اس پوائنٹ پر بھی ایک اچھی بات کہی گئی ہے اس فلم میں۔ یار، اگر تم نے یہ فلم "عوام" نہیں دیکھی ہے تو اسے ضرور دیکھنا۔ پتہ نہیں اور میں نے توجہ بھی نہیں دی کہ اس فلم کے ڈائرکٹر، پروڈیوسر اور کہانی کار کون ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا حقیقتوں کا بڑا بولڈ ہو کر اعتراف کیا ہے۔ اور فرقہ پرست ہندوؤں کے دل و دماغ سے یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان سب Anti-India اور Pro-Pakistan ہوتے ہیں۔
***
پس نوشت:
ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ حالت اور ان پر سیاسی سماجی دباؤ کی بہتر عکاسی اگست-2018 میں ریلیز ہونے والی فلم "ملک" میں بھی کی جا چکی ہے۔


Bollywood 1987's film 'Awam' and its review by: Jawed Nehal Hashami. down to a memory lane through a letter.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں