ایک پوسٹ کارڈ کی قیمت تم کیا جانو اردو والے بابو - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2021/02/10

ایک پوسٹ کارڈ کی قیمت تم کیا جانو اردو والے بابو

jnh-postcard
از: مکرم نیاز (حیدرآباد، انڈیا)۔

پیش ہے تقریباً چوتھائی صدی قبل کا ایک خط، بشکل پوسٹ کارڈ!
مکتوب نگار: جاوید نہال حشمی
مکتوب الیہ: مکرم نیاز

آج کی نوجوان اردو نسل جو سوشل میڈیا پر انسٹنٹ تبادلہ خیال کرتی ہے، وہ قلم و قرطاس والی خط و کتابت کی اہمیت، لطافت، انتظار سے شاید ہی واقف ہو۔ محض پندرہ پیسے والے معمولی سے پوسٹ کارڈ پر بھی جو تحریر رقم ہوتی تھی اس کی اہمیت و افادیت اُس دور کے قارئین ہی بہتر جان سکتے ہیں۔
ماہنامہ "بیسویں صدی (نئی دہلی)" کے شمارہ نومبر:1993 میں ناچیز کا ایک افسانہ (بعنوان: گلاب، کانٹے اور کونپل) شائع ہوا تھا جس پر اس خط کے ذریعے جاوید نہال حشمی نے مختصر تبصرہ کیا تھا۔ خط میں اس دور کی سیاسی/سماجی صورتحال پر بھی ایک پیرا کا تبصرہ موجود ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ۔۔۔ احقر کا متذکرہ افسانہ جس فرقہ وارانہ موضوع پر رہا، اس موضوع کی سنگینی آج بھی ویسے ہی برقرار ہے ۔۔۔ اور افسانے میں اٹھایا گیا سوال بھی ویسے ہی قائم ہے!
(یہ افسانہ "تعمیرنیوز" ویب پورٹل پر پڑھا جا سکتا ہے۔
اور ادبی ویب سائٹ "ادبی میراث" پر بھی یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)۔
***
***
کانکی نارہ
24/اکتوبر 93ء
مائی ڈیر مکرم ! السلام علیکم!!
امید ہے بخیر و عافیت ہوگے۔ نومبر 93ء کا "بیسویں صدی" اس وقت ہاتھوں میں ہے۔ تمہاری تازہ ترین تخلیق "گلاب، کانٹے اور کونپل" کا ابھی ابھی میں نے مطالعہ کیا ہے۔ سوچا لگے ہاتھوں اپنا مختصر تبصرہ تمہیں ارسال کر ہی دوں۔
افسانے میں تم نے جو سوال اٹھایا ہے وہ قابلِ تعریف ہے ۔۔۔ خصوصاً ملک کی موجودہ سیاسی اور فرقہ وارانہ صورتِ حال کے پس منظر میں۔ گو کہ اس سوال سے ہم میں سے اکثر لوگ ناواقف نہیں ہیں لیکن تم نے اس پر ایک الگ زاویے سے روشنی ڈالی ہے اور ایک مخصوص طبقے کی خوابیدہ فکر کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ imminent مسائل سے واقف کروا کر ان سے نپٹنے کیلیے تم نے اپنے مخصوص انداز میں للکارا بھی ہے! ۔۔۔ لیکن ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گا ۔۔۔۔ وہ یہ کہ تم نے افسانے کے دوسرے مرکزی کردار "گلاب" کے ساتھ انصاف نہیں کیا! افسانہ پڑھتے وقت یہ گمان ہوتا ہے کہ "گلاب" کا افسانے سے جذباتی تعلق ہے، لیکن افسانے کے اختتام پر پتہ چلتا ہے کہ اس کا افسانے سے صرف علامتی تعلق ہے۔ تم نے "گلاب" کی محبت کی ہلکی اور میٹھی سی کسک کو آخر میں اس طرح fizzle out کر دیا ہے جیسے ۔۔۔ جیسے فلم "بہار آنے تک" میں کہانی کار نے من من سین کے ساتھ کیا ہے!
بہرحال "بیسویں صدی" میں اچھی طرح قدم جمانے پر مبارکباد قبول کرو۔
کچھ حضرت بل مسجد کے متعلق ۔۔۔
نرسمہا راؤ سرکار نے بےشرمی کی حد کر دی۔ مذکورہ مسجد تک احتجاجی جلوس لے جانے والے مسلمانوں پر گولیاں چلوا کر تقریباً 50 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔۔۔ بلاجھجھک، بےدھڑک۔۔۔ لیکن ان ایک لاکھ کارسیوکوں پر ایک پلاسٹک کی گولی بھی نہیں چلائی گئی جو گنبد پر سوار ہتھوڑوں سے مسجد توڑ رہے تھے ؎
سارے جہاں سے اچھا "ہندو"ستاں ہمارا
ج

***
©مکرم نیاز
#خطوط
#افسانہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں