کہانیوں سے پرے - ہاشم خان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2022/01/19

کہانیوں سے پرے - ہاشم خان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ

kahanion-se-paray-hashim-khan

© مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
19/جنوری/2022
*****


"۔۔۔ خاکسار کا یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو کل پانچ برسوں کی تخلیقی ریاضت پر مشتمل ہے ۔۔ ہر چند کہ تخلیقی عمل شعور پیدا ہوتے ہی ہم رکاب ہو گیا تھا لیکن اسے تخلیق کے تغار میں متشکل ہونے اور منصۂ تسوید پر آنے میں برسوں لگ گئے کیونکہ یہ درون ذات پنپ رہی ہزار محرومیوں کے علاوہ تیرنیم کش کی خلش بھی مانگتے ہیں؛ وہ خلش جو بتدریج جہاں گزیدگی، فسردگی اور وحشت و شوریدگی کے سبب دل کے نہاں خانوں میں روبہ فروغ رہتی ہے اور پھر اپنا دوران مکمل ہونے پر افسانوں کی صورت تنگنائے خیال سے باہر آتی ہے۔ سو یہ کرب و کرامت، یہ بارِ امانت، یہ لاحاصلی کی اذیت جو افسانوں کی شکل میں آپ کے سامنے ہے وہ مجھ عندلیب گلشن ناآفریدہ کے بسانِ کرمکِ نیم شب آتش فکر و سخن میں جلنے کا ماحصل ہے، یہ ذات کے آذر کدے میں سوز دروں کو آنچ دینے اور جہان گزران میں انفس و آفاق کی ارزانی پر کڑھنے اور شب و روز لہو ہونے اور لہو کرنے کا نتیجہ ہے۔"


"آیا کچھ سمجھ میں۔۔۔؟"
مولانا --- حفظہ اللہ کا یہ تکیہ کلام یاد آیا جو وہ جالیات ریاض کی (دعوتِ تبلیغِ دین کورس) کی کلاس میں سبق پڑھاتے ہوئے ہر تھوڑی دیر کو دہرایا کرتے تھے۔ مولانا یو۔پی کے تھے۔ اور ایک دفعہ مجھ خاکسار کی جو دبا کے پِھر گئی تو میں نے بھی بھری جماعت میں ہاتھ اٹھا کر کہہ دیا: نہیں مولانا! کچھ خاک سمجھ میں نہیں آیا۔ اور کئی سال سے میرا یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ۔۔۔ اردو کے ادیب فارسی کو اور مولانا لوگ عربی کو اردو میں کیوں گھسیڑتے ہیں؟


اور اب یہ افسانوں کا مجموعہ ہاتھ میں آیا تو متن دیکھ کر ہاتھ پاؤں پھولے اور توتے بھی اڑ گئے۔ یہ تو معلوم تھا ادیب ہیں، مگر پچھلے دنوں فیس بک پر کرتا پائجامہ ٹوپی والی تصویر میں نظر آئے تو ازراہ تفنن پوچھ لیا کہ: کن مولبیوں کے نرغے میں پھنس گئے یارو؟
کسی نے بتایا: ارے بھائی، یہ خود بھی مولانا ہیں!!


اللہ اللہ کیا وقت آ پڑا مجھ غریب پر اس پچاس سال کی عمر میں۔ ایک تو وہ ادیب مدیر شہیر ہیں جن کے اولین ناول کے چند صفحات پڑھ لو تو ذہن ایکسٹو علی عمران والے مختلف آسنوں میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اب یہ دوسرے ممبیا مہاپرش چلے آئے۔ پہلے ہی سوشل میڈیا کی کچے پکے اردو دانوں سے ہم نبردآزما۔۔۔ اب اوپر سے فارسی/عربی کی مہان مار۔ لہذا ناچیز نے بھی جھلا کر پروفیسر ارشد عبدالحمید کے تبصرے والی ایک پوسٹ میں لکھ دیا تھا کہ:
"آپ کا تبصرہ پڑھنے کے بعد میں نے فرہنگ آصفیہ کی چاروں جلدیں الماری کے اندرونی کونے سے نکال کر بچوں کو ہدایت کر دی ہے کہ فوراً صاف کر کے سامنے کے خانے میں رکھ دیں ۔۔۔ عنقریب ایک کتاب بذریعہ ڈاک آ رہی ہے، جس کو ان چاروں کتابوں کے ریفرنس سے پڑھنے کی ضرورت پڑے گی"


تو صاحبو! وہ کتاب کل آ گئی۔ یعنی محمد ہاشم خان کے افسانوں کا مجموعہ:
"کہانیوں سے پرے"
دفتر میں ہی مصنف کا وہ پیش لفظ پڑھ لیا، جس کے عنوان (قرعۂ کار بنامِ منِ دیوانہ زدند) کی تشریح کے لیے چار ہزار مشاعروں والے اپنے چچا جان یوسف روش سے ملاقات کا اپائنٹمنٹ لینا ابھی باقی ہے۔


خیر خیر مذاق برطرف۔
اس پیش لفظ میں اعظم خاں ۔۔۔ ارر سوری ۔۔۔ ہاشم خان نے کیا ہی خوب کہا:
'اب سوال یہ ہے کہ افسانہ ہے کیا؟ ۔۔۔ تو میرے نزدیک اس کا بس ایک ہی جواب ہے کہ دیکھا اور ماورا لکھا یہ افسانہ ہے، جو دیکھا وہی لکھا یہ خبر ہے!'


آہ! کیا کہہ دیا ظالم! لاؤ ہاتھ بڑھاؤ۔۔۔ بوسۂ عقیدت ثبت کر دوں۔ سبحان اللہ۔
ورنہ آج کل تو لوگ ڈکیومنٹری مواد کی تلاش میں جرمنی فرانس دوڑے جاتے ہیں اور واپسی پر فلم "دیوار" والے سات سو چھیاسی کے ٹیگ کے ساتھ جو تحقیق طبع ہوتی ہے اسے بصد اصرار "ناول" کہا جاتا ہے!


بہرحال احقر کتاب گھر لے گیا۔ چھوٹی بیٹی نے ہاتھ میں کتاب دیکھی تو کہا: "ابو یہ وہ اِچ کتاب ہے ناں؟ اب رکھ دوں بیڈروم میں وہ چاروں ڈکشنریاں؟"
خیر ورق گردانی کرتے ہوئے سوچا کہ وہ افسانہ پہلے پڑھنا چاہیے جو مجموعہ کا ٹائٹل بھی ہے، یعنی: کہانیوں سے پرے!


آہ اور واہ!
کیا غضب کی نمائندہ تخلیق ہے۔ ایک اقتباس پڑھیے ۔۔۔
"کیا تم انفعال کے وہ قطرے نقطوں کی شکل میں حروف کے رخسار پر محسوس نہیں کر رہی ہو؟ لفظ تو تمہارے خاموش تھے میرے نہیں۔ تمہارے الفاظ خاموش نہیں تھے تم سے روٹھے ہوئے تھے کیونکہ تم نے ان کو جذبوں کی روشنائی سے شبنمی کرنا بند کر دیا تھا اس لیے وہ سوکھ سوکھ کر کمزور اور روٹھ روٹھ کر سرکش ہو گئے تھے۔"


اگر آپ روایتی بیانیہ کے ایسے افسانوں کے قاری ہیں جسے پڑھنے/سمجھنے کی شرط میں دو بٹا دو چار کے پہاڑے سے محض واقفیت کافی ہوتی ہے تو پھر معذرت اس کتاب سے دوری ہی آپ کے بہتر مطالعاتی صحت کی ضامن ہے۔
بصورت دیگر اگر آپ ایسا ادب پڑھنے کے آرزومند ہیں جو آپ کے مطالعے اور مذاق کو بلند کرے، آپ کی سوچ اور بصیرت میں وسعت و کشادگی لائے، عالمی سطح پر برتے جانے والے موضوعات، اسلوب اور زبان و بیان کی نکتہ آفرینی سے آگاہی فراہم کرے ۔۔۔ تو پھر اس کتاب کا مطالعہ آپ کے لیے یقیناً مفید ثابت ہوگا۔۔۔ بشرطیکہ آپ اس کے لیے مناسب اور سنجیدہ وقت بھی نکالیں۔
افسانہ 'کہانیوں سے پرے' کا موضوع بہت حساس اور گداز ہے۔ یہ مجھے اس لیے بھی بہت دلچسپ اور خود سے قریب محسوس ہوا کہ اسی طرز پر رسالہ بیسویں صدی کے 1993ء کے ایک شمارے میں راقم کا بھی ایک افسانہ شائع ہوا تھا گو کہ اس کا ٹریٹمنٹ اور انجام مختلف ہے۔
'کہانیوں سے پرے' کا اسلوب ڈائری کے صفحات کی شکل میں ہونے کے باوجود قاری کو کلائمکس تک باندھے رکھتا ہے اور پھر کلائمکس تو افسانے کی جان ہے۔ اسی افسانے کے چند ون لائنر دیکھیے کہ کس قدر جاندار ہیں:
* میں ایک جہنم ہوں جس سے ہزاروں جہنم پسند آتش نفسانی کو بجھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
* زندگی اپنے فطری عناصر میں خود جینے کا ایک مکمل جواز ہے۔
* جب ہم لمحوں میں جینے لگتے ہیں تو زندگی مختصر ہو جاتی ہے۔


آخری بات یہ کہ ۔۔۔ میں نے خاص طور پر یہ مجموعہ اس لیے بھی خریدا کہ حال میں طبع ہونے والی اردو کتب کی تزئین، کمپوزنگ، اشاعت و طباعت کی باریکیوں کا تقابل و موازنہ کر سکوں۔ (وجہ: اس احقر کے افسانوں کا مجموعہ بھی عنقریب طبع ہونے جا رہا ہے)۔
کہانیوں سے پرے کا ٹائٹل کور نہایت فسوں ساز ہے۔ تصویر اور عنوان کی خطاطی کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ البتہ پس ورق پر حمید شاہد کے تاثرات کی تزئین و ترتیب غیرمناسب لگتی ہے۔ جملے کو ادھورا چھوڑ کر 'بقیہ فلیپ پر' لکھنا اچھا نہیں لگا۔ پیراگراف کا اختتام علامتِ ختمہ پر ہونا چاہیے تھا۔
بہرحال حمید شاہد کے اس قول سے مجھ سمیت ان افسانوں کے ہر قاری کو یقیناً اتفاق ہوگا:
"۔۔۔ وہ کہانی کے اندر کرداروں کو ایستادہ کر کے متحرک کرتے اور باہمی رشتے بناتے ہیں، مناظر کو ان کی جزئیات سمیت زندہ کر لیتے ہیں اور ایسا متن تشکیل دینے پر قادر ہیں کہ فن پارے کا ہر جزو ایک نامیاتی وحدت میں ڈھل کر اپنے قاری پر سحر پھونک دیتا ہے۔۔۔"

Kahanion se paray, a collection of Urdu short stories by Mohammad Hashim Khan.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں