تماشہ اہل کرم دیکھتے ہیں - انشائیہ از زین شمسی - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2022/08/22

تماشہ اہل کرم دیکھتے ہیں - انشائیہ از زین شمسی

زین شمسی (دائیں جانب) پٹنہ میں

زین شمسی
22/اگست/2022
*****

کالجوں کی بدنظمی اور شعبہ تعلیم کی بدنیتی کو ۔معاشی تنگ حالی کے سبب برداشت کرتے کرتے جب من تھک جاتا ہے تو ان چاہے فیصلے کے تحت گھر سے نکل پڑتا ہوں۔ کبھی گاٶں کی طرف تو کبھی پٹنہ کی جانب تاکہ دماغی تھکن اور بوجھل من کو کچھ راحت میسر آسکے۔
اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دل نے کہا ، چلو پٹنہ۔ دماغ غرایا، کیوں؟ کس لئے؟ دل و دماغ کی روایتی لڑائی چلتی رہی اور میرے ہاتھ چھوٹے سے بیگ میں کپڑوں کو سجانے میں مصروف ہوگئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دل کے فیصلے کے آگے دماغ کا احتجاج فضول ہے۔ جیت دل کی ہی ہوگی اور پٹنہ کا سفر طے ہے۔


پچیس سال دہلی کی رنگ رلیوں اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں محو رہنے والا دل ایسی جگہوں کا متلاشی تو رہے گا ہی جہاں کچھ ادبی خوراک میسر ہو۔ تو قصہ تمام کہ میں کچھ منٹوں کے بعد ہی آہنی گھوڑے پر سوار پٹنہ کی سمت رواں دواں تھا۔ پٹنہ میں ہمارے متعدد صحافی دوست بھی ہیں، سیاسی دشمن نما دوست بھی ہیں اور ادبی دوست نما دشمن بھی ہیں اور سب کے ساتھ میں انجوائے کرتا ہوں۔ انجوائے کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کو اتنے بے وقوف اور جاہل ثابت کر دیجئے کہ سامنے والے کو اپنے آپ پر یقین آ جائے کہ وہ بہت پڑھے لکھے اور عقلمند ہیں اور اسی پل کا مزہ لیجئے۔ مگر اس میں ایک نقصان یہ ہے کہ لوگ پھر آپ کو پڑھا لکھا یا دانشور یا عقلمند کے زمرے میں نہیں رکھیں گے، کیونکہ ایسا کرنے پر ان کی عقلی شباہت اور تعلیمی لیاقت کو گہرا صدمہ پہنچے گا اور انہیں یہ محسوس ہوگا کہ بے وقوف تو وہ خود نکلے۔ اس لئے میرے اس فارمولے کو اپنانے کی جرأت مت کیجئے گا۔ بہت نقصان میں رہیں گے اور نقصان میں رہ کر مزہ لینا سب کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ میرا ہی میدان ہے، مجھے ہی کھیلنے دیجئے۔


تو پٹنہ اسٹیشن پر اور اسٹیشن کے باہر کی دیواروں پر گوتم بدھ کی بڑی چھوٹی اور منجھولی تصویریں آپ کو یہ درس دیتی نظر آئیں گی کہ امن و شانتی ہی انسانیت کی بنیاد ہے، اور جب 100گز دور اسثیشن کے مہانے پر پہنچیں گے تو شیوجی کا مندر ملے گا جو آپ کو یہ بتائے گا کہ سمندر منتھن کے بعد اگر شیو نے وش نہ پیا ہوتا تو ہر انسان کے دانت سانپ کی طرح ہوتے اور ڈسنا اس کی فطرت میں شامل ہوتا۔ باوجود اس کے انسان کے آستین میں سانپ اور فطرت میں ذسنا پھر بھی انسان کے معمولات کا حصہ ہے۔ ذرا سی بائیں طرف گردن گھمائیں گے تو وہاں ایک عالیشان مسجد بھی دکھائی دے گی۔جو یہ بتائے گی کہ فلاح کا راستہ رب کی عبادت میں پوشیدہ ہے۔ وہ یہ بھی بتائے گی کہ
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے آدمی کو دیتا ہے نجات


اس مسجد کے اطراف میں جائیے تو کباب کی خوشبو سجدے کو موقوف بھی کر سکتی ہے اور نماز کو قضا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے ڈھلمل یقین والے لوگ ادھر نہ جائیں تو اچھا ہے۔بہت پہلے نہیں 20-25سال پہلے پٹنہ اسٹیشن سے باہر یہی نمایاں مسجد کی عمارت تھی ۔ مسافروں کو یہ بات اچھی لگی ہو یا نہ لگی ہو مگر سیاستدانوں اور منتظمین کے دماغ میں یہ خلل پیدا ہوا کہ اشوکا، ہرش وردھن ، چانکیہ کی دھرتی پر مسجد کی گنبد و میناریں کیوں مندر کا کلش کیوں نہیں۔ پھر فیصلہ ہو گیا۔ مندر بناٶ۔ریلوے کی زمین پر ہی کیوں نہ بناٶ۔ مسافروں کی پریشانیوں کو بھی نظر انداز کرو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسجد سے اونچی بناٶ اور یوں شیو مندر کا نرمان ہوگیا۔ مسجد پھر بھی دکھائی دیتی رہی تب کمرشیل پروڈکثس کے بڑے بڑے اشتہار لگانے کی اس شرط پر اجازت ملی کہ مسجد نظر ہی نہ آ سکے۔ گوتم بدھ اور شیو کی روایت کو فروغ دینے کے لئے مسجد کو چھپانا ضروری تھا سو اس ذمہ داری کو بہتر ڈھنگ سے نبھا دیا گیا۔


گاندھی میدان جانے والی سڑک پر بدھا پارک کی تعمیر نے سیر و تفریح کے نئے دروازے وا کئے ہیں۔ طلبا اور عاشقاں کے لئے اطمنان بخش مقامات گاہ بڑے شہروں کو چھوٹے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ بدھا پارک کے سامنے ہی مال ہے۔ جس میں مارکیٹنگ کے مزے لئے جا سکتے ہیں۔ اب یہ آپ کی قسمت پر منحصر ہے کہ جو خریداری آپ نے کی ہے اس کی واجب الادا قیمت آپ سے لی گئی یا آپ ٹھگے سے رہ گئے۔ اسی مال کے بغل میں ہوٹل والی گلی ہے۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہاں پر ہوٹلوں کی قطار ہے اور زیادہ تر ہوٹلس شہر کے بڑے بڑے افسران کی کالی گاڑھی کمائی سے تعمیر کے مرحلہ میں پہنچی ہے۔ اسی گلی کے کسی نہ کسی ہوٹل میں میرے قیام کا انتظام میرے ایک کرم فرما کرا دیتے ہیں جن کا میں شکرگزار ہوں۔
اس مرتبہ بھی میں نے اپنا بیگ ہوٹل کے چھٹے فلور کے ایک کمرے میں اچھالا اور خود کو گدرائے ہوئے سفید بستر پر پھینکا۔ سفر کی تھکان کا اثر زائل ہوتے ہی دماغ سوالیہ نشان بنا کہ اب کیا؟ کیا کرنا ہے۔ پہلے سیاست نمٹاٶ، پھر سماجیات دیکھو پھر ادب کی طرح رجوع کرو۔ پلان بن گیا۔ مگر جسم نے کہا کچھ پٹرول ڈالو۔ عقل و دل نے بھی جسم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میرے قدم کو ایک خوراکی ورک شاپ کی طرف ڈھکیلا۔ کچھ دیر کے بعد میرے سامنے رکھے دہی اور پراثھے پوچھ رہے تھے اے گوشت خور انسان إ تجھے ہوا کیا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے منہ میں رکھ کر خاموش کیاہی تھا کہ اعظم ایوبی کا فون آیا۔ پہنچ گئے پٹنہ؟ میں نے کہا جی آجائیے۔ وہیں جہاں آتے رہے ہیں۔ نصف گھنٹہ کے بعد وہ حاضر تھے ایکسٹرا ہلمٹ کے ساتھ تاکہ گزشتہ بار کی طرح اس باربھی کسی سڈول ٹریفک حسینہ کے ہتھے چڑھ جانے سے ہزار روپے کا جرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔


کچھ سیاسی ملاقاتیں ہوئیں۔۔ کچھ نئی حکومت کے نئے جوش سے آشنائی ہوئی۔ کچھ امیدیں بر آئیں کچھ وعدے شعدے ہوئے۔ کچھ خوش فہمیاں جاگیں کچھ غلط فہمیاں سوگئیں۔ اعظم صاحب اس وعدے کے ساتھ رخصت کئے گئے کہ وہ کل ضرور آئیں گے۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے سماجیات کا نمٹارا یوں کیا کہ سبزی باغ میں کچھ صحافیوں کو کباب کی دعوت دے ڈالی۔ کچھ ایسے صحافی بھی تھے جنہوں نے مجھے صحافت سکھائی تھی اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں میں نے صحافت سکھائی۔ باتیں جتنی زیادہ ہوں گی کبابیں اس سے زیادہ پلیٹ سے غائب ہوں گی۔ لیکن فکر نہیں لطف آئے تو فکر نہیں کرنی چاہئے۔ تہہ در تہہ کبابوں کو پلیٹ سے پیٹ تک لے جانے کا عمل جا ری رہا اور ساتھ میں اردو صحافت کی فکری و معاشی تنگ حالی کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ اخبار کے مالکان امیر سے امیر اور صحافی غریب سے غریب کیسے ہوتے جاتے ہیں۔ معیار کی بات اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ تو اب ضمنی چیز ہو کر رہ گئی ہے۔ سیر حاصل گفتگو کے بعد پھر کبھی ملاقات کے وعدے ہوئے اور نشست برخاست ہوئی۔ حیرت اس بات کی ہوئی کہ موجود لوگوں میں سب سے غریب شخص نے کبابوں کی قیمت اس خوشی میں چکائی کہ انہیں مجھ سے ملنے کی دیرینہ خواہش تھی۔ میں نے انہیں روکا بھی کہ میں کوئی ایوارڈ یافتہ اور مستحکم صحافی نہیں ہوں کہ آپ اتنی قدر کریں۔ مگر وہ بضد تھے کہ تھوڑی سی بے باکی جو میرے قلم میں ہے وہ آپ کی ہمت دیکھ کر ہی پیدا ہوئی۔پلز ہمیں نہ روکیں۔ مجھے ان پر بہت افسوس آیا کہ یہ آدمی کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ترقی وہی کرتا ہے جو مصلحت پسند اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ بےباک بولنے اور لکھنے والا تو ہر طرف سے مارا جاتا ہے۔ حالانکہ اسی وقت میرے دل میں بیٹھا ایک لڑکا بول پڑا کہ:
اختر الایمان تم ہی ہو


اب ادبی سرگرمیوں کی باری تھی۔ کہاں ملے گی یہ خوراک۔ اعظم ایوبی نے کہا پٹنہ کالج چلئے۔ وہاں ایک سمپوزیم ہے۔ شاید کچھ مل جائے وہاں۔ تیار تھا نکل پڑا۔ شعبہ اردو کے کانفرنس ہال میں پہنچتے ہی جے این یو کا نام کانوں میں رس گھول گیا۔ دیکھا ایک صاحب دھوتی کرتا پہنے ڈائس پر بڑی ملایمیت اور حلاوت کے ساتھ اردو میں غیر مسلموں کا حصہ پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ عنوان سے ظاہر تھا کہ اردو کو مذہب سے جوڑ کر ایک نیا پہلو سامنے لایا گیا ہے۔ اردو کو مسلمان بنانے کی آرزو اب پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ سجن بھی اس بات پر اعتراض کرتے نظر آئے کہ فراق، جکبست، پریم چند، دیاشنکر نسیم کو اردو سے پیار تھا مگر اردو مسلمانوں کی زبان کبھی تھی ہی نہیں۔ اب اسے مسلمانوں کی زبان کہا جانے لگا۔ اور اس سیاست کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کا خاتمہ ساہتیہ یعنی ادب سے ہی ممکن ہے۔ أور یہ تب ہوگا جب ہندو مسلم ایک دوسرے کے دل میں نہیں گھر کے اندر جائیں گے۔ زمانہ ہوگیا ہندو مسلم بھائی بھاٰئی کہتے ہوئے مگر دوریاں گھٹنے سے زیادہ بڑھتی گئیں کیونکہ ہندوٶں کو نہیں معلوم کہ مسلمانوں کی شادیاں کیسے ہوتی ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے میت کی روایت کیا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ مسلمانوں کے تہوار کیسے منائے جاتے ہیں اور یہی باتیں مسلمان بھی ہندوٶں کے بارے میں نہیں جانتے۔ جب دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں تو نزدیکیاں بڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور دوریاں بڑھیں گی تو زبان بھی زد پر آئے گی۔
انہوں نے دلچسپ بات کہی کہ پہلے کے لوگ کم پڑھے لکھے تھے لیکن دل کے سچے تھے۔ میرے دادا اپنے مسلمان دوست کے پاس جاتے تو کھانا نہیں کھاتے کہ مسلمان گوشت کھاتے ہیں اور یہ بات وہ کہہ دیتے تھے۔ اسی طرح مسلمان دوست جب ہمارے گھر آتے تو صاف صاف کہہ دیتے کہ تم لوگ جھٹکا کھاتے ہو یہ میرے مذہب میں حرام ہے۔ وہ ساتھ رہتے تھے مگر دل میں کدورت نہیں رکھتے تھے۔ اب لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہوگئے ہیں اس لئے دوسروں کے خلاف ہوگئے ہیں۔ اس کو توڑنا ہوگا اور یہ کام ادب کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ اس کے بعد اردو والوں کی لن ترانیاں سننے کی فرصت مجھے نہیں تھی۔ وہاں سے جو مجھے ملا وہ بیان کر دیا۔


دوسرے دن ایک اور تقریب میں پہنچا اور سب سے پیچھے ایک کونے میں بیٹھ گیا کیونکہ وہاں اردو کے اتنے پڑھے لکھے لوگ تھے کہ میری ہمت ہی نہیں ہوئی ان کا سامنا کرنے کی۔ ایک افسانہ نگار ہوا کرتے تھے۔ کووڈ میں اللہ میاں کو پیارے ہوگئے۔ نام تھا شوکت حیات۔ ان کے کئی افسانے اردو کے منتخب افسانوں میں شمار ہوتے ہیں مگر جب کسی کا انتخاب بازار میں آتا ہے تو انہیں بھول جانے کی ادا کے ساتھ آتا ہے۔ بے باک اور نڈر آدمی تھے۔ اس لئے انہیں ادبی محفلوں میں نہ بلانے کا خاموش فیصلہ اردو کے بڑے بژے دستخط کر چکے تھے۔ شوکت حیات اپنے رویہ اور دوسروں کے سلوک سے تنہا ہو گئے۔ آج ان کی اس تنہائی کا ذکر سب لوگ بڑے اداس لہجے میں کرنے کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ سب نے اپنی طرف سے زور لگا دیا تھا کہ کون ان کے بارے میں زیادہ جانکاریاں رکھتا ہے۔


مجھے دو باتیں بالکل سمجھ میں نہیں آئیں کہ آخر انہیں اکیلا کس نے چھوڑا۔ کس نے انہیں نظر اندازکیا۔ کس نے انہیں کوفت میں مبتلا کیا۔ کیونکہ اسٹیج پر بیٹھی شخصیات نے ان سے روابط کی دلچسپ کہانیاں سنائیں اور ان کے درد پر افسوس کا اظہار کیا تو وہاں جتنے لوگ نہیں تھے وہ لوگ مجرم ہیں یا جو لوگ تھے وہ اپنی گناہوں کی تلافی کر رہے تھے۔ سمجھ میں بات نہیں آئی۔
ایک اور بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اسٹیج پر بیٹھے تمام لوگ اردو کے کسی نہ کسی شعبہ کے منصبدار تھے۔ خواہ اردو ڈائرکٹریٹ ہو یا اردو اکادمی ہو یا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ہیڈ ہوں۔ یہ سب کے سب اردو کی بدحالیوں کا رونا رو رہے تھے۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ان لوگوں کی منصبداری ختم ہونے سے بدحالی آئی ہے یا بدحال کرنے کے بعد ان لوگوں کو ہمدردی آئی ہے۔
اردو اکادمی پہلی بار گیا تھا۔ واہ کیا ٹھاٹ ہیں ماشا اللہ۔ کتابیں کہاں ملیں گی۔ فلاں شخص سے پوچھئے۔ فلاں شخص نے کہا چلاں شخص سے پو چھئے۔پوچھتے پوچھتے فہرست کتب ملی تو اس فہرست میں اتنی کتابیں بھی نہیں تھیں جتنی میری اپنی لائبریری میں ہے۔ یہ اکادمی ہے کہ اردو کی قبرگاہ۔ بہت ڈرتے ڈرتے سیڑھیاں اترا۔
یکایک سید احمد قادری صاحب کا فون آگیا۔ کہاں ہیں۔ سنا ہے کہ پٹنہ میں ہیں۔ میں نے کہا جی۔ پٹنہ میں تو ہوں لیکن کوئی پٹا نہیں ہے اب تک۔ انہوں نے کہا بک امپوریم میں ہوں پٹنے کے لئے تیار ہوں۔ آسکیں تو آجائیں۔ امپوریم گیا۔ کچھ کتابیں دیکھیں۔ کئی چاند تھے سر آسماں پر نظر پڑی۔ دل للچایا۔ قیمت پوچھی۔ سات سو روپے۔ کوئی ڈسکاٶنٹ ہے۔ جواب ملا۔ ڈسکاٶنٹ جوتے پر ملتا ہے کتابوں پر نہیں۔ بے باک جواب ملا تو سوچا خرید ہی لوں۔ تبھی فیس بک پر چل رہے موضوع کا خیال آیا۔ جسے اردو کے ناموران نے پوسٹ کیا کہ آگ کا دریا کے پہلے سو صفحات کوئی سمجھا دے تو مان لوں۔ کسی نے کہا کہ گوتم اور سنسکرت کے علاوہ اس میں کچھ نہیں ہے۔ کسی نے لکھا کہ حیدر نے بے من سے کوئی کہانی رچی ہے۔ تاہم ہم نے ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ قرة العین حیدر نے ماضی کو اس لئے قلمبند کیا تھا کہ مستقبل کے لوگ اس سے درس لیں۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ نرے جاہل ہی نکلیں گے۔ تو کیا پتہ آج کی جنریشن اور آگے کی جنریشن کئی چاند تھے سر آسمان کو فاروقی کی بدعقلی پر مرکوز کرتے ہوئے کہہ دے کہ اس کے تو دس صفحات سمجھ میں نہیں آنے والے۔


جہاں تک اردو کی بات ہے تو خواہ کتنی سرگرمیاں ہوں۔ لن ترانیاں ہوں زمینی حقیقت یہی ہے کہ اردو کو اگر سیاسی مینڈیت میں نہیں ڈالا گیا تو اردو کی روٹیاں کھانے والے بھوکے مر جائیں گے۔
تماشہ اہل کرم دیکھ کر اب یہ فقیر ٹرین میں ہے۔ سکون ہے کہ تین دنوں میں جو دیکھا اس سے نجات ملی۔ اب ٹرین پٹری پر اپنی رفتار سے دوڑ رہی ہے اور میری انگلیاں موبائل پر۔
بھول چوک لینی دینی معاف کر دیجئے گا۔ جو محسوس ہوا لکھ دیا۔ جو نہیں لکھ سکا اس میں مصلحت نہیں ہے بلکہ بھول گیا ہوں گا۔ اتنا طویل کبھی نہیں لکھا۔ اس کے لئے شرمندہ ہوں۔
جے ہند، جے اردو


A travelogue of Patna by Zain Shamsi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں