شمع گروپ کے خواتین رسالہ بانو کی مدیرہ سعدیہ دہلوی کا انتقال - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2020/08/06

شمع گروپ کے خواتین رسالہ بانو کی مدیرہ سعدیہ دہلوی کا انتقال

sadia-dehlvi

دہلی کے اپنے وقت کے نامور علمی و ادبی گھرانے "شمع گروپ" سے تعلق رکھنے والی معروف مصنفہ اور سماجی جہدکار سعدیہ دہلوی کا بروز بدھ 5/اگست/2020 کو 63 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ایک طویل عرصہ سے کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھیں۔ پسماندگان میں سعدیہ دہلوی کا ایک بیٹا ارمان علی دہلوی ہے۔
ان کے انتقال پر معروف مورخ عرفان حبیب نے ٹوئٹ کیا کہ:
سعدیہ کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ، سعدیہ دہلی کی معزز اور معتبر شخصیات میں سے ایک تھیں، گوناگوں خوبیوں کی مالک اور ایک اچھی دوست تھیں۔


واضح رہے کہ سعدیہ دہلوی کا تعلق دہلی کے معروف علمی ادبی ادارہ "شمع گروپ" سے تھا جس کے فلمی و نیم ادبی رسالہ "شمع" کا سعدیہ دہلوی کے دادا یوسف دہلوی نے 1938 میں آغاز کیا تھا۔ شمع ہی کے ادارے کے خواتین کے موضوع پر جاری رسالہ "بانو" کی ادارت کا فریضہ بھی سعدیہ نے نبھایا تھا۔
ان کی تحریر کردہ دو کتابیں بھی بہت مشہور ہوئیں
"دلی کا دسترخوان" جس میں انہوں نے دہلی کی یادوں اور کھانوں کی ریسیپی کے بارے میں تحریر کیا تھا۔
صوفی ازم، اسلام کا دل [Sufism: The Heart of Islam] ، جس میں انہوں نے صوفیت کی تحریک، تاریخ اور محبت و رواداری کے پیغام کو اجاگر کیا تھا۔

گوناگوں صلاحیتوں کی مالک سعدیہ دہلوی نے کئی ڈکیومنٹریز اور ٹیلیویژن پروگراموں کے لئے اسکرپٹ لکھی تھیں جس میں ایک ڈرامہ بہت مشہور ہوا تھا "اماں اور فیملی" [Amma and Family] اس میں معروف اداکارہ زہرا سہگل نے اداکاری کی تھی۔ یہ 1995 میں دوردرشن سے ریلیز ہوا تھا۔

سعدیہ دہلوی، انگریزی کے معروف ادیب خشونت سنگھ کے قریبی دوستوں میں شامل تھیں۔ خشونت سنگھ نے اپنی ایک کتاب ان کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:
"سعدیہ دہلوی کے نام۔۔۔ جس نے مجھے اس قدر محبت اور بدنامی دی جس کا میں سزاوار نہ تھا"
ونیز خشونت سنگھ کی کتاب "وومین اینڈ مین ان مائی لائف" کے سرورق پر سعدیہ کی تصویر بھی شامل تھی اور کتاب کا ایک باب (جس کا اردو ترجمہ یہاں پڑھا جا سکتا ہے) ان پر ہی لکھا گیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں