پرانے شہر کی گلیاں - انشائیہ از مکرم نیاز - Hyderabadi | My city Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2020/02/08

پرانے شہر کی گلیاں - انشائیہ از مکرم نیاز


انشائیہ: پرانے شہر کی گلیاں
انشائیہ نگار: مکرم نیاز ©

ہر شہر میں ایک پرانا شہر ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بقول ہمارے حبیب لبیب مرزا: وہ شہر ہی کیا جس میں کوئی "پرانا شہر" نہ ہو۔
ارے نہیں، آپ غلط سمجھے۔ پرانے شہر میں کوئی ایلین [Alien] مخلوق نہیں بستی۔ اپنے ہی بھائی بندے ہوتے ہیں، بس ذرا اس کی کمی سی ہوتی ہے جسے نئے شہر میں ترتیب، سلیقہ، تمدن، نظم و ضبط، الا بلا وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔
اور پرانے شہر کی معروف و مقبول بےترتیبی کی سب سے نمایاں مثال وہ گلیاں ہوتی ہیں جس میں کوئی نیا نویلا بندہ پھنستا ہے تو اس شاعر کو گالیاں بکتا ہے جس نے کہا تھا: "الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں" ۔۔۔ کمبخت نامراد! شاعرانہ لفاظی کے بجائے ان گلیوں میں چلائے گاڑی اور پھر کرے شاعری!
بچارہ مرکزی سڑک کی بےہنگم ٹریفک سے بچنے کی خوشی میں آرام، سکون و اطمینان سے گاڑی چلا رہا ہوتا ہے کہ کوئی گلی مڑتے ہی سامنے موجود چھوٹا سا مندر یا مسجد یا کوئی اور مذہبی ڈھانچہ دیکھ کر مغالطے میں آتا کہ شاید گلی بند ہے۔ حالانکہ گلی کی ٹریفک اس کے باوجود دائیں بائیں سے رواں دواں ہوتی رہتی ہے۔ اب بچارہ کو سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا شکایت کرے، کس سے کرے؟ ویسے شہر ہی کیا پورے ملک کے ماحول کے ناتے اب ایسی کوئی شکایت ہی بےتکی یا غیرضروری لگتی ہے کہ کیا پہلے تھا؟ سڑک یا مذہبی اسٹرکچر؟
بہرحال رکاوٹ کچھ بھی ہو، اگلی گاڑی کو بلاجھجھک فالو کر لینا چاہیے ورنہ گلیوں کی پیچیدگیوں میں گم ہونے کا یقینی چانس ہوتا ہے۔ پھر یاد آ گئے مرزا جو کہتے ہیں کہ: اگر بائک سوار دھوپ میں اپنے سائے کے رخ کو بھی پہچاننے سے نامانوس ہے تو پھر امید کے سہارے، مرکزی سڑک پر جا نکلنے کی چاہ میں، گلیاں گلیاں بھٹکتے بھٹکتے آخر اسی پوائنٹ پر جا پہنچتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا!!

اور ایک بات روزِ روشن کی طرح واضح رہے۔ ان گلیوں میں کوئی رائٹ سائیڈ، رانگ سائیڈ نہیں ہوتا! جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں، مینا اسی کا ہے۔۔۔ کے مصداق جو راہ خالی نظر آئے گاڑی بھگا لیتے ہیں جانثار۔ اب چاہے درست سائیڈ سے کوئی مسکین ذاتِ شریف پرانی موپیڈ پر خراماں خراماں آ رہا ہو، وہ سوائے خشمگیں نگاہوں سے گھورنے کے، اور کچھ کر نہیں سکتا۔ کیونکہ بچارہ جانتا ہے کہ جس رفتار سے لونڈا گاڑی بھگا رہا ہے اسی رفتار سے زبان بھی چلے گی اور بھلا کون اپنے خاندان کے رشتوں کے نام سڑک پر سنتا بیٹھے؟
دوسری اہم بات یہ کہ جس اسپیڈ سے آپ ان زلفوں میں۔۔۔ ہممم ہمارا مطلب ہے ان گلیوں میں گاڑی دوڑائیں اسی اسپیڈ سے اچانک و بحفاظت گاڑی روکنے کی مہارت بھی آنی چاہیے۔ ورنہ ہوتا ووتا کچھ نہیں آپ ڈیڈ گفٹ [Dad's Gift] گاڑی کی طرح سڑک کو بھی ڈیڈ گفٹیڈ سمجھ کر تیزرفتاری کا مظاہرہ فرمائیں اور اچانک کسی پتلی گلی سے کوئی مام گفٹیڈ [Mom's Gift] بائک کا ورود مسعود ہو جائے تو منہ کے بل پدرانہ شفقت ڈھیر ہوگی، مادرانہ محبت اس لیے نہیں کہ وہ تو بآسانی تیزی سے سائیڈ میں یا پیچھے کھسک جائے گی اور آپ تیزرفتاری پر قابو نہ پا سکنے کے سبب چاروں شانے مع ڈیڈ گفٹ چت!!

اس لیے مرزا فرماتے ہیں کہ: یا تو بندے کو "تیری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم آج کے بعد" گنگناتے ہوئے لیگل [legal] سڑکوں پر رواں دواں رہنا چاہیے یا پھر ان شیطانی آنت نما گلیوں میں خوار ہونے کا شوق ہو تو مہارت، حاضر دماغی اور بےپرواہ سلیقہ اپنے اندر ہمہ وقت ہمہ دم برپا رکھنا چاہیے۔
"بےپرواہ سلیقہ" ہمارے مرزا کی اختراع ہے۔ کہتے ہیں کہ بائک ڈرائیونگ لاپروائی سے سہی مگر اس لاپروائی کا بھی ایک اداکارانہ سلیقہ ہوتا ہے، یعنی ٹکراؤ یا تصادم کے مقامِ واردات پر جمع ہونے والے تماشائیوں کو لگے یہی کہ غلطی آپ کی نہیں بلکہ سو فیصد فریقِ مقابل کی ہے!

اب کوئی قطعاً یہ نہ سمجھے کہ جوانِ رعنا ہی ایسی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ پرانے شہر کی انہی گلیوں میں ایک بار ہماری چشم گناہگار نے یوں بھی دیکھا کہ آدھی سے زیادہ سڑک کھدی پڑی ہے، باقی آدھی کے آدھے سے مین ہول کا ابلتا آلودہ پانی بہہ رہا ہے اور بچے حصے میں دونوں سمتوں سے گاڑیاں اپنی اپنی ڈرائیونگ استعداد کا مظاہرہ فرما رہی ہیں۔ ایسے ماحولِ افراتفری میں ٹووہیلر پر متمکن ایک مردِ میداں، پیچھے برقع پوش اہلیہ، جن کی گود میں ایک عدد نومولود، سامنے دو چھوٹے بچے، اماں باوا کے درمیان پھنسی بڑی بچی، ہینڈل کے دونوں سروں پر لٹکتی تھیلیاں ۔۔۔ اور گاڑی سوار ہیں کہ نہایت اطمینان سے ہارن پر ہارن دیتے پان چباتے ۔۔۔ غالباً کسی سرکس میں رسے پر توازن سنبھالتی لڑکی کے مقام و مرتبے کو بھی پانی پانی کر دینے کے قوی ارادے سے جہاد پر نکلے ہیں۔

ہیلمٹ کا لزوم سارے شہر میں ہے چاہے پرانا شہر ہو کہ نیا۔ مگر اس پر عمل آوری میں عموماً پرانے شہر کے بائک سواروں کی جانب سے کسرنفسی ویسی ہی برتی جاتی ہے جیسی بلدیہ پرانے شہر کی سڑکوں کو درست حالت میں رکھنے میں برتتی ہے۔ اب قانون بچارے ٹریفک پولیس کی گردن پر سوار ہوتا ہے۔ اور وہ چاہے کتنا بھی کنارے پر چھپ کر کھڑا ہو، بائک سوار نے شان سے بغیر سائلنسر کی گاڑی لہراتے بھگاتے عین پولیس والے کے سامنے روکی، بائیں طرف پان کی پچکاری مہارت سے اچھالی، ہینڈل سے لٹکتی ہیلمٹ نکالی، سر پر سلیقہ سے جمائی، پھر مودبانہ طریقہ سے پولیس والے کی توند کو دو انگلیوں سے چھوتے ہوئے کہا:
"چاچا! یہ درشہوار اسپتال کو کاں سے جانا؟"
اور پولیس والے چاچا ساری چوکسی ہیکڑی بھول کر روایتی حیدرآباد اشٹائل میں راستہ سمجھانے لگتے:
"دیکھو میاں، وہ سامنے جو پٹرول پمپ دکھ را نئیں، اس کے تھوڑا آگے پان کا ڈبہ ہے دیکھو، اس سے لگی گلی مارو، پھر دو بائیں چھوڑ کر تیسری پکڑو، ذرّا آگے بلدیہ کے کچرے کی کنڈی دکھتی دیکھو، بس اس کے اِچ سامنے کی گلی میں گھسو، دو منٹ کے بعد ہی اسپتال دکھتا، سامنے اِچ!!"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں