قصہ ادبی آلودگی کا - اسد رضا - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

2018/10/04

قصہ ادبی آلودگی کا - اسد رضا

literary-pollution

انشائیہ: قصہ ادبی آلودگی کا
انشائیہ نگار: اسد رضا

آلودگی چاہے فضائی ہو یا صوتی، آبی ہو یا سماجی یہاں تک کہ سیاسی ہو یا اقتصادی بہرحال آلودگی ہی ہے، لیکن جب کل ہند مشاعرہ میں ایک نوخیز شاعر نے ہندی رسم الخط میں لکھی ہوئی اپنی غزل کے اشعار میں "قضا" کو "کجا" پڑھا تو ایک ناقد سخت بیاں نے ہم سے کہا :
"یہ ادبی آلودگی ہے اور اگر شعر وادب کو اس آلودگی سے پاک نہیں کیا گیا تو اردو زبان اس حد تک بگڑ جائے گی کہ واقعی اپنی بڑی بہن ہندی کی ایک شیلی (اسلوب) لگنے لگے گی۔"

ادبی آلود گی کی اصطلاح سن کر ہم اچھل پڑے اور پھر سنبھل کر غور کرنے لگے کہ ہماری زبان میں یہ آلودگی کیسے، کب، کہاں اور کیوں آئی؟ ابھی ہم ان سوالات کا جواب تلاش ہی کر رہے تھے کہ ایک متبسم و مترنم شاعرہ خوب سجی دھجی گویا ابھی بیوٹی پارلر سے اٹھ کر آئی ہوں، اسٹیج پر نمودار ہوئیں، انہوں نے بڑی ادا کے ساتھ سامعین کو آداب کیا۔ شاعرہ نے نسوانی خو ش الحانی کے ساتھ مردانہ کلام پڑھنا شروع کیا۔ چونکہ سامعین کی اکثریت شاعرہ کے کلام کو سن کم اور ان کے حسن کو دیکھ زیادہ رہی تھی لہٰذا ایک ایک لفظ بلکہ حرف پر یہاں تک کہ خاموشی پر بھی شاعرہ کو دل کھول کر داد مل رہی تھی۔ ہم نے ناقد سے کہا :
"ڈاکٹر صاحب یہ محترمہ مردانہ کلام کیوں پڑھ رہی ہیں بلکہ گا رہی ہیں"۔
ناقد نے فوراً کہا "میاں یہ کلام اس شاعرہ کا نہیں ہے بلکہ ایک نابینا شاعر کا ہے۔"
"مگر پُر کشش نسوانی آواز میں یہ مردانہ کلام نہ ادھر کا رہا نہ اُدھر کا یعنی نہ مردانہ رہا نہ زنانہ بلکہ درمیانہ ہو گیا ہے"۔
ہماری بات سن کر ناقدِ سخت بیاں نے صنف سوئم کے انداز میں تالی بجاکر کہا :
"اے ہے میاں! ادبی آلود گی کی یہ اس مشاعرہ میں دوسری مثال ہے"۔

ابھی ہم دونوں ادبی آلودگی کی دوسری مثال پر ماتم کناں ہی تھے کہ ایک شاعر نے مائک تھام کر انتہائی گرجدار آواز میں کہا : "ایک غزل کے چند اشعار پیش ہیں"۔
اور یہ کہہ کر شاعر گرامی ایک آزاد نظم سنانے لگے۔ اس تیسری ادبی آلودگی سے ہم ہی نہیں بلکہ صدر مشاعرہ، چند شعرا اور سامعین بھی ناراض ہوگئے۔ ایک باشعور سامع نے تو چلا کر کہہ ہی دیا :
"میاں مشاعرہ پڑھنے سے پہلے غزل اور نظم میں فرق کرنا تو سیکھ لیجئے"۔۔

لیکن ادبی آلودگی صرف مشاعروں میں ہی نظر نہیں آتی۔ گزشتہ دنوں ہم ایک سیمینار میں گئے۔ سیمینار کا موضوع نہایت پرکشش تھا یعنی "ہندوستان میں اردو کا فروغ"۔ جب ایک ریسرچ اسکالر نے "فروغ اردو میں درپیش مسائل" کے زیر عنوان اپنا مقالہ پیش کیا تو ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے احتجاج کیا :
"یہ مقالہ میری کتاب کے ایک مضمون بعنوان 'اردو کی ترقی میں حائل دشواریاں' کا چربہ ہے۔ ریسرچ اسکالر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا "جناب یہ چربہ نہیں محض اتفاق ہے۔ کیونکہ اردو کے مسائل یکساں ہیں لہٰذا مقالات اور مضامین میں مماثلت ہو سکتی ہے"۔
"یہ مماثلت نہیں چوری اور سینہ زوری ہے"۔ بزرگ پروفیسر چیخے تو ریسرچ اسکالر نے فوراً الزام لگایا کہ :
"پروفیسر صاحب آپ نے اپنی تمام کتابوں میں بھی تو مغربی دانشوروں کی کتابوں کا چربہ اتارا ہے"۔
لیکن اس سے قبل کہ سیمینار جوتم پیزار میں تبدیل ہوجاتا ، ناظم نے دونوں دانشوروں کو خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہوئے دوسرے مقالہ نگار کو دعوت مقالہ دے دی۔ چونکہ دوسرے مقالہ نگار پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ مولوی بھی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مقالہ میں لفظ "مغرب" کو اپنی عربی دانی کا مظاہرہ کرنے کے لیے "ر" پر زبر لگا کر "مغرَب" پڑھا تو ایک یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو نے اعتراض کیا :
"مولانا لفظ 'مغرِب' ہے 'مغرَب' نہیں۔ 'ر' پر زبر نہیں زیر ہے"
اس اعتراض کو سن کر پروفیسر کم (Cum) مولانا بھڑک اٹھے۔ صدر شعبہ اردو کے ہمدردوں نے شور مچانا شروع کر دیا تو پروفیسر مولانا کے حامی بھی اسٹیج کے سامنے آکر نعرے لگانے لگے اور پھر دونوں اردو دانشور اور ان کے گروپ اس طرح زیر و زبر ہوئے کہ اردو کا فروغ پس منظر میں چلا گیا اور پارلیمنٹ کا منظر سامنے آ گیا۔۔

اردو ادبیات میں فرسٹ کلاس فرسٹ ایم اے، پی۔ایچ۔ڈی مگر بے روزگار ایک اسکالر نے ہمیں بتلایا کہ اردو مافیا نے بھی ادبی آلودگی میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ بڑے بڑے اردو اداروں کے سربراہ اردو کے حقیقی ادیبوں، شاعروں اور ناقدوں کا کھل کر استحصال کر رہے ہیں۔ بےروزگار اردو اسکالر نے آہستہ سے ہمارے کان میں بتایا کہ :
"ایک حقیقی ادیب نے جس کے پاس علم زیادہ اور دولت کم تھی، جب دو سال تک سخت محنت کے بعد اردو ادیبوں وشاعروں کی ایک تاریخ تیار کی اور اردو مافیا کے سرغنہ کو برائے اشاعت دی تو سرغنہ نے ایک اردو ادارہ سے یہ کتاب اپنے نام سے شائع کروا کے تاریخ اردو میں شہرت عام اور بقائے دوام حاصل کرلی ، جب کہ ادیب اپنی مفلسی وبے چارگی کا ماتم کرتا ہوا اللہ کو پیارا ہو گیا۔"

ادبی آلودگی کے درشن اب تنقیدی، تاثراتی، تجزیاتی اور شخصیاتی مضامین میں بھی ہونے لگے ہیں۔ شعری وفنی لحاظ سے مفلوک الحال لیکن صاحب دولت و اقتدار شعرا و بےروزگار مگر ادبی لحاظ سے ثروت مند ریسرچ اسکالرس سے اپنی شاعری کے بارے میں مضامین لکھوانے لگے ہیں جن میں ان شعرا کو رامپور کا میر تقی میرؔ ، بجنور کا جگر مراد آبادی، بدایوں کا مرزا غالبؔ ، مرادآباد کا ذوقؔ دہلوی اور پٹنہ کا اثرؔ لکھنؤی ثابت کرنے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں۔
چونکہ ہندوستان جنت نشان میں معیاری اردو پڑھنے والوں کی تعداد گھٹنے کے ساتھ ساتھ اخبارات و رسائل اور کتابوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لہٰذا تیسرے درجے کے اس قسم کے مضامین دوسرے درجے کے رسائل اور چوتھے درجے کے اخبارات میں نہایت آسانی سے شائع ہو جاتے ہیں۔ ایسے مضامین سے ادبی ماحول خاصا آلودہ ہونے لگا ہے لہٰذا معالجین ادب کو اس جانب توجہ دینی چاہئے اور مرحوم مشفق خواجہ (خامہ بگوش) کی طرح ادب کے ان مبینہ تاجروں اور خریداروں کی خبر بھی لینی چاہئے تاکہ ادبی آلودگی کسی حد تک تو ختم ہو۔

انعامات واعزازات اور خطابات کی وجہ سے بھی اردو زبان میں ادبی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ چونکہ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں انعام واکرام اور اعزاز و خطاب سے سرفراز کرنے والی انجمنوں اور تنظیموں نے ایک کاروباری شکل اختیار کر لی ہے لہٰذا اردو سے نابلد لیڈروں، افسروں اور سرمایہ داروں کو "فخر اردو"، "آفتاب ادب" وغیرہ کے خطابات سے نوازا جاتا ہے اور اس سلسلے میں نہایت شاندار اور جاندار تقاریب کا انعقاد بھی بڑے بڑے ہوٹلوں اور ایوانوں میں کیا جاتا ہے۔
اب یہ بات دیگر ہے کہ ان تقاریب کا خرچ صاحب اعزاز خواتین و حضرات اپنی جیبِ خاص سے اٹھاتے ہیں اور اس طرح اٹھاتے ہیں کہ کنوینر اور منتظمین تقریب بھی دو پیسے کما لیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ جب اپنی نمبر دو کی کمائی سے ارب پتی بنے 'نمائش خاں' کو ایک ایسی ہی اسپانسرڈ تقریب میں "ادیب ہند" کا جلیل القدر خطاب دیا گیا تو بعض مستند اور صاحب طرز ادیبوں نے دبی زبان میں اعتراض کیا :
"نمائش خاں نے اپنی تمام بےادب کتابیں، انٹرنیٹ سے چرائے گئے مواد میں اپنے زر خرید لوگوں سے معمولی رد و بدل کروا کے شائع کرائی ہیں۔ لہٰذا خاں صاحب کو ادیب ہند کا خطاب ہرگز نہیں دیا جانا چاہئے تھا"۔
یہ اعتراض سن کر تقریب کے کنوینر نے غصے سے کہا "تو کیا یہ خطاب آپ جیسے قلاّش ادیبوں کو دیا جاتا جو کسی کو ایک کپ چائے یا فلٹر سگریٹ بھی نہیں پلاسکتے۔ معلوم ہے خاں صاحب نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے پورے تین لاکھ روپے دئیے اور اپنے اثر و رسوخ سے عظیم شخصیتوں کو مہمان خصوصی، صدر اور مہمانان ذی وقار بنوایا’‘۔

یہ سن کر حقیقی ادیبوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ ادبی معیار کی کسوٹی اب دولت کے انبار میں دب کر سسک رہی ہے۔ لیکن جب ایک اردو روزنامہ کے اسٹاف رپورٹر نے کنوینر کو غصے سے بولتے ہوئے سنا تو وہ بھی اس کے پاس آکر معلوم کرنے لگا :"کیا معاملہ ہے؟"
کنوینر نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن ادیبوں نے سارا معاملہ رپورٹر کو سمجھایا۔ دریں اثنا نمائش خاں بھی خطاب کی سند لئے ہوئے وہاں آ گئے اور رپورٹر سے انٹرویو لینے کی گزارش کرنے لگے۔ رپورٹر چونکہ اردو کا اسکالر بھی تھا لہٰذا اس نے نمائش خاں سے ان کی ادبی کتب کے بارے میں سوال کیا تو خاں صاحب نے اپنی کتابوں کے نام بتاتے ہوئے کہا :
"میری پہلی ادبی کتاب 1990 میں آئی جس کا عنوان 'موجودہ سیاسی حالات حاضرہ کا تجزیہ' تھا"
"لیکن خاں صاحب موجودہ کے ساتھ حالات حاضرہ کا استعمال غلط ہے " رپورٹر نے اعتراض کیا۔
"ارے بھئی زور دینے اور عصریت پیدا کرنے کے لیے موجودہ کے ساتھ حالات حاضرہ استعمال کیا گیا ہے۔ میری دوسری کتاب 'جنرل پرویز مشرف کی جمہوریت پسندی' تھی اور تیسری ادبی کتاب کا نام ہے 'ہٹلر کی انسان دوستی' جب کہ چوتھی کتاب کا عنوان ہے 'مشہور سیاست داں' اور پانچویں کتاب 'صدر بش کی اسلام نوازی' ہے۔ میری چھٹی ادبی کتاب کا نام 'قومی یکجہتی کے لیے اڈوانی کی قربانیاں' اور ساتویں۔۔۔"
"بس بس مزید کتابوں کے نام بتانے کی ضرورت نہیں"۔ رپورٹر نے خاں صاحب کا کلام قطع کرتے ہوئے کہا :
"کیونکہ چھ کتابوں سے ہی آپ کی ادبی حیثیت پر کافی روشنی پڑ گئی ہے"۔ یہ کہہ کر رپورٹر تو وہاں سے چلا گیا مگر صاحبِ طرز مستند ادیب "ادبی آلودگی مردہ باد، ادبی آلودگی مردہ باد" کے نعرے لگاتے رہ گئے جنہیں لیڈر یا عوام نے توجہ سے نہیں سنا۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں