تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2011/12/30

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب ستائیس (27) دسمبر کو تقریباً 200 سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تاریخ پیدایش 27 ڈسمبر 1797ء ہے ۔
حکومت ہند نے کئی برس قبل ان کا جشن منایا تھا جس پر طنز کرتے ہوے ساحر لدھیانوی نے نظم کہی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی کہ
اردو پہ ستم ڈھا کر غالب پہ کرم کیوں ہے
Urdu pe sitam dhha kar, Ghalib pe karam kyon hai
(Why bury Urdu and then praise Ghalib?)

ویسے تو اِس وقت غالب پر حکومت کا کوئی پروگرام تو نہیں مگر دہلی سے یہ خبر سماجی کارکن فیروز بخت احمد نے دی ہے کہ گلی قاسم جان میں واقع غالب کی حویلی پر پھر سے ناجائز قبضے ہونے لگے ہیں۔
یہ وہی فیوز بخت ہیں جنھوں نے سن 1997ء میں جب کہ غالب کا دو سو سالہ جشن سرکاری طور پر منایا جارہا تھا پارلیمنٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کرکے اس حویلی کو محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انھوں نے اطلاع دی کہ جنرل سیکرٹری یوتھ سرویس مشن جب گلی قاسم جان سے گزر رہے تھے تو انھوں نے دیکھا کہ حویلی غالب میں ایک بڑا سا کاؤنٹر رکھا ہوا ہے اور اس پر تین بڑھئی کام کر رہے ہیں ۔ سیدھے ہاتھ کی جانب دیوار پر کیلیں ٹھکی ہوئی تھیں۔ جن پر کارپنٹر حضرات کی قمیصیں لٹکی ہوئی تھیں۔
جب بڑھیوں سے پوچھا گیا کہ کام کس کا چل رہا ہے؟
تو انھوں نے بتایا کہ برابر میں رہنے والے کسی شفیق کا کام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت سے افراد اس حویلی کو استعمال کر رہے ہیں حتٰی کہ اس میں تقاریب کا انعقاد بھی عمل مبں آ رہا ہے۔ کہیں کوئی میز رکھ کر کپڑے استری کر رہا کوئی ترکاری بیچ رہا ہے تو کسی نے گودام بنا رکھا ہے۔
غالب کے مزار کے پاس ، ان کے اشعار کے جو خوبصورت پانچ طغرے آویزاں تھے ان میں سے اب صرف ایک باقی رہ گیا ہے۔ چیف منسٹر دہلی شیلا ڈکشٹ نے فیروز بخت سے یہ وعدہ تو کیا ہے کہ وہ غالب کی حویلی کے تحفظ کے کچھ بھی کرنے تیار ہیں۔
اب دیکھنا یہی ہے کہ انکا وعدہ کب پورا ہوتا ہے۔

1 تبصرہ:

  1. کل پڑسوں ہی دہلی کے ایک سابقہ باسی سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں بلی ماراں کی گلیوں کا ذکر نکل چلا۔ انہوں نے بھی کچھ ایسا ہی حال بتایا۔ امید ہے کہ ارباب اختیار و اقتدار کرم فرما ہونگے۔

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here