تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2009-08-04

نام میں کیا رکھا ہے ؟!

وَنس اَپن اے ٹائم ۔۔۔۔۔

ہمارے حیدرآباد میں میدانِ سیاست کے ایک ولی اللہ تھے۔ نام تھا ان کا ولی میاں شیخ پیر۔
جب تک حیدرآباد میں رہے سیاست کے ساتھ ساتھ ادب کے میدان میں بھی خاصے گھوڑے دوڑائے مگر کیا کرتے کہ بےادبوں کے درمیان ساری رقم ڈوب گئی۔ لہذا دل شکستہ ہو کر ولایت سدھار گئے۔
جیسے ہی سرزمین انگلستان میں قدم رکھا ، اپنی ہیئت اور وضع قطع کے سہارے آثارِ قدیمہ ہند کی فلاں فلاں راجدھانی کے اعلیٰ حضرت حضور پُرنور نواب فلاں فلاں سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ تھے تو آپ سیاست داں آخر۔ لہذا موقع سے فوراً فائدہ اٹھایا اور اپنے زرخیز ذہن کے سہارے پرانے اردو مضامین کو انگریجی پینٹ کوٹ ہیٹ پہنا پہنا کر بازارِ شعر و ادب میں پہنچانا شروع کیا۔ نام بھی اپنا بدل لیا۔ انگریجی زدہ ہو گئے۔ ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare) کہلانے لگے۔

تو پاشا ! شیخ پیر نے اس قدر ٹوٹ کر لکھا کہ بہتوں کے قلم سوکھ گئے ، خاموش ہو گئے ، تھک ہار کر میدان چھوڑ گئے۔ اب ولی میاں جی میدانِ ادب و تہذیب و ثقافت پر بلاکھٹکے راج کرنے لگے۔ ایسا لکھا کہ بقول شخصے ایک ایک لفظ موتیوں میں پروئے جانے کے قابل ہونے لگا۔ تحریر کا ہر ہر جملہ بطور محاورہ زمانے میں رائج ہونے لگا۔
جناب شیخ پیر دنیا کی بےثباتی دیکھ چکے تھے۔ مشرق و مغرب کی تہذیب و ثقافت سے آشنا ہو چکے تھے۔ اپنی اپنی نوعیت کی خامیاں دونوں طرف محسوس کر چکے تھے۔ لہذا ایک محاورہ کچھ یوں بھی ایجاد کر ڈالا :
نام میں کیا رکھا ہے !
شیخ پیر رکھو یا شیکسپئر ۔۔۔ آدمی تو کام سے جانا جائے گا۔

مگر بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ اب ولی میاں جی کو دنیا چھوڑے کوئی چار صدیاں ہونے آ رہیں۔ دنیا تو آجکل ایک عشرہ کیا ایک سال میں بدل کر رہ جاتی ہے۔ ابھی ہماری نوجوانی کے کل تک کالج میں کوئی موبائل تھامے نظر آجاتا تو آتے جاتے کوئی سو دو سو "وعلیکم السلام" کہتے کہتے بچارے کی زبان سوکھ جاتی اور آج ہاتھ میں 4G-آئی فون پکڑے یا ڈیل انسپائرن ، بچارے کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اب ایسی صورتحال میں محاورہ بچارہ کب تک ساتھ دے۔

نام میں تو آج کل بہت کچھ رکھا ہے۔ آپ ذرا شاہ رخ خان یا مائیکل جیکسن یا انجلینا جولی یا پھر پامیلا انڈرسن کے نام پر کوئی ویب سائیٹ بنا کر دیکھیں، تیزرفتار ٹریفک آپ کی سائیٹ کے گوگل پیج رینک کو 7 یا 8 تک کھینچ نہ لے جائے تو پھر بتانا۔
دوسری طرف کوئی اردو اخبار والا اپنے مذہبی ایڈیشن میں سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین کا کوئی مضمون چھاپ دے تو پھر دیکھیں اخبار اور اس کا دفتر دوسرے دن زمین پر اپنا وجود رکھتا بھی ہے کہ نہیں؟

تو بھائی پاشا ! آج نام کی بڑی اہمیت ہے۔ آپ کا نام اوبامہ ہے تو دنیا آپ کی جیب میں۔ اگر صدام ہے تو پھندا آپ کے گلے میں۔ لہذا حقیقت تو یہ ہے کہ ولی میاں جی کا محاورہ دراصل دورِ حاضر میں کچھ یوں ہونا چاہئے :
نام ہے تو جہاں ہے !

خیر ! ہوا یوں کہ ابھی ہمارے کزن نے حیدرآباد کی آئی ٹی انڈسٹری سے ایک تازہ ترین خبر گوش گزار کی۔ بتایا کہ ایک مشہور آئی ٹی کمپنی کے جنرل ڈائرکٹر کو جڑواں لڑکے تولد ہوئے۔ نام انہوں نے ایک ہی سوچ رکھا تھا لہذا عین موقع پر پریشان ہو گئے۔ اپنی نوخیز سیکریٹری سے پوچھا تو اس نے جھٹ سے رائے دے دی کہ دفتر کے نوٹس بورڈ پر ملازمین کو اپنی اپنی پسند کے منتخب کردہ نام لکھنے کو کہا جائے۔ بعد میں ان میں سے بہترین کا آپ خود انتخاب کر لیجئے۔ سیکریٹری کی طرح مشورہ بھی خوبصورت تھا لہذا نوٹس بورڈ پر نوٹس آویزاں کر دی گئی۔
سب سے پہلے جس نے نوٹس بورڈ پر نام دینے کا اعزاز حاصل کیا وہ بچارہ اسی دن جبراً سبکدوش کیا گیا تھا۔ جاتے جاتے بھی احسان مندی کا صلہ اتار گیا۔
شام میں سیکریٹری نے نوٹس اتاری تو نام تو ایک ہی لکھا نظر آیا جو سب سے پہلے فرد نے لکھا تھا باقی جس نے بھی لکھا بس یہی لکھا کہ وہ سب سے پہلے لکھنے والے سے بالکل متفق ہے !!

سب سے پہلے لکھنے والے نے کن دو ناموں کا مشورہ دیا تھا؟؟
یہ آپ تھوڑی سی زحمت اٹھا کر یہاں دیکھ لیں !!

رہے نام اللہ کا !!!!

6 تبصرے:

ابوشامل نے لکھا ۔۔۔

کیا داستان سنائی ہے ولی میاں شیخ پیر کی۔ کمال کر دیا۔ انہیں بھی حیدرآباد پہنچا دیا۔
واقعی ہم تو قائل ہو گئے کہ "نام ہے تو جہان ہے"۔

ابن سعید نے لکھا ۔۔۔

اب میں تبصرے کہاں سے کاپی کرکے پیسٹ کروں؟ یہاں تو اردو ایڈیٹر ہے نہیں! اوہ اچھا محفل تو ناں!!

راشد کامران نے لکھا ۔۔۔

واہ پاشا جاتے جاتے بھی کیا کھندل کھندل کے مارے باس کُوں۔
بڑے ہی اچھے انداز میں لکھی ۔۔ مزا آگیا۔

SHUAIB نے لکھا ۔۔۔

واہ پاشا
مزہ آگیا تمہاری تحریر پڑھ کے
نام میں کیا رکھا ہے؟
خود کا نام خدا کرلو پھر شاہ رخ خان بن جاؤ اگر قسمت ساتھ دے تو

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

@ ابوشامل:
جی بھائی ، تعریف کا شکریہ۔ بھئی آپس کی بات ہے، یار لوگوں نے خواہ مخواہ بتنگڑ بنایا ہے کہ چاند پر کوئی گیا کہ نہیں؟ ورنہ ہم حیدرآبادی تو آرمسٹرانگ سے پہلے ہی چاند پر قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ کبھی موقع ملا تو اس کا بھی قصہ مع تصویر لگا دیں گے۔
@ ابن سعید :
اچھی بات ہے بھائی ، اب آپ فرماتے ہیں تو اردو ایڈیٹر بھی لگا دیتا ہوں۔
@ راشد کامران :
ہاہاہا۔ راشد کامران بھائی۔ لگتا ہے آپ بھی حیدرآبادیوں کے درمیان رہے ہیں۔ حیدرآباد کا ایک مشہور لطیفہ ہے کہ جنگل میں ہاتھیوں کا جھنڈ گزرا تو ایک درخت کے نیچے کھیل رہے تمام چوہے دوڑ کر درخت پر جا چڑھے۔ درخت کے نیچے سے جب ہاتھی گزرنے لگے تو ایک چوہا بےخبری میں ایک ہاتھی کی پشت پر جا گرا۔
درخت پر موجود تمام چوہوں نے مل کر نعرہ لگاتے ہوئے اپنے ساتھی کو مشورہ پھینکا :
کھندل دے !!!
@ SHUAIB :
نہیں شعیب بھائی۔ آپ کا تنازعہ دیکھنے کے بعد تو ایسی ہمت ہم حیدرآبادی نہیں کرتے کیونکہ : اگلا گرا پچھلا ہشیار !

راشد کامران نے لکھا ۔۔۔

جناب بالکل درست سمجھے ہیں‌ آپ ۔۔ عرضہ دراز تک میرے پانچوں روم میٹ حیدرآباد سے ہی تھے اور آج کل بھی کافی سارے دفتری ساتھی بھی حیدرآباد سے ہیں۔۔ ہم لوگ اب بھی کبھی کبھی مل کر فلم دی انگریز کے سین بڑے ہی مزے لے لے کر دیکھتے ہیں۔ شاید آپ نے بھی دیکھ رکھی ہو بڑی ہی مزیدار فلم ہے۔ بلکہ دکنی اردو کا پورا انسائیکلو پیڈیا ہے۔

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے