ڈیانورا ٹیلی ویژن : کیا آپ نے دیکھا/سنا ہے؟!
دو "وجے" اور ایک کہانی۔ ایک "وجے" وہ جو تلگو سنیما کا چمکتا ستارہ ہے، اور دوسرا وہ "وجے" جو ممبئی کے ایک چھوٹے سے چالیس مربع فٹ کے کمرے سے اٹھ کر ہندوستان کی ایک بڑی الیکٹرانکس ریٹیل چین بن گیا۔ دونوں کا نام ایک، سفر الگ مگر سفر کے ایک موڑ پر دلچسپ ملاپ۔۔۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا کردار بھی ہے: حیدرآباد کے محلہ ملک پیٹ کا وہ پرانا اور یادگار "تِروملا میوزک سنٹر" جو 80ء کی دہائی کی الیکٹرانکس کی دنیا کا ایک روشن باب تھا۔
وجے دیورکنڈہ:
جنوبی ہند کی ٹالی ووڈ فلم (تلگو) انڈسٹری کے موجودہ عہد کے مشہور و مقبول اداکار وجے دیور کنڈہ کو کون نہیں جانتا۔ تلگو فلم "ارجن ریڈی" (ریلیز: 2017ء) سے انہوں نے شہرت کی بلندیاں حاصل کی تھیں۔ حالانکہ ہدایت کار سندیپ ونگا ریڈی کی یہ فلم کافی متنازع قرار پائی تھی (منشیات کی ترویج، خواتین مخالف موضوع کی ترویج، سرقہ کا الزام، ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسوں پر فلم کی تشہیر پر مبنی ہیرو ہیروئین کے بوسے کا منظر۔۔۔)۔
اگست 2017ء میں راجیہ سبھا کے سینئر کانگریسی رکن وی۔ ہنومنت راؤ نے بیچ سڑک پر تلنگانہ آر۔ٹی۔سی کی بس کو روک کر، اس پر لگا فلم کا متنازع پوسٹر پھاڑ دیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ: "حکومت کو پیسوں کی خاطر ایسی تشہیر کی اجازت نہیں دینی چاہیے، اس سے نوجوانوں کی ذہنیت بگڑتی ہے"۔ جواب میں وجےدیورکنڈہ نے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر پوسٹر پھاڑے جانے والے منظر کی تصویر لگائی اور بالواسطہ متذکرہ سیاستداں کو مخاطب کر کے لکھا تھا: "دادا، چِل (Thathayya, chill)"۔
کہا جاتا ہے کہ سندیپ ریڈی نے اپنی ذاتی زندگی کے واقعات کو اس فلم کی شکل دی تھی، اور کہانی لکھنے کے لیے انہوں نے چار سال لگائے۔ فلم کی شوٹنگ صرف 86 دنوں میں مکمل ہوئی اور جس کا بجٹ تقریباً پانچ کروڑ تھا جبکہ فلم نے 51 کروڑ کا مجموعی کلکشن کیا۔ اسی فلم پر وجےدیورکنڈہ کو 2017ء کا بہترین تلگو اداکار فلم فئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ بالی ووڈ کے شاہد کپور نے بھی اس فلم کے ہندی ورژن "کبیر سنگھ (2019ء)" کے ذریعے مقبولیت سمیٹی اور 379 کروڑ کے باکس آفس کلکشن کے ساتھ یہ متذکرہ سال کی دوسری کامیاب بالی ووڈ فلم ثابت ہوئی تھی۔
کاچیگوڑہ (حیدرآباد) کے مشہور 'بدروکا کالج آف کامرس اینڈ آرٹس' سے بی۔کام کی تکمیل کے بعد 2011ء میں وجےدیورکنڈہ نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے اسی سال (2026ء) فروری میں مشہور اداکارہ اور بقول جین-زی نیشن-کرش (Nation's crush) رشمیکا مندنہ سے راجستھان کے شہر اُدے پور کے ایک تاریخی محل میں شادی رچائی ہے۔ حیدرآباد کے امراء، سیاستداں اور سلیبریٹیز کے معروف علاقے "جوبلی ہلز" میں وجےدیورکنڈہ نے 2019ء میں ایک بہت بڑا محل نما مکان خریدا اور اسے "وجے دیورکنڈہ ہاؤس" کا نام دیا تھا۔ اس کی مالیت اندازاً پندرہ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ اس میں متعدد کمرے، ورک اسپیس، انٹرٹینمنٹ روم اور بار کے علاوہ سبزہ زار کے درمیان ناریل، کھجور اور کیلے کے درختوں پر مشتمل ایک وسیع و عریض باغیچہ شامل ہے۔ ڈرائینگ روم میں دنیا بھر سے حاصل کردہ آرٹ کے نادر نمونے اور فلم "ارجن ریڈی" کے گیٹ اپ والا وجے کا ایک دیوقامت پورٹریٹ بھی ہے۔
وجے سیلز:
وجے دیورکنڈہ کو آج کل اکثر و بیشتر "وجے سیلز (الیکٹرانکس اسٹور)" کے اشتہار میں دیکھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ۔۔۔ وجے سیلز ایک مکمل طور پر الگ اور آزاد کمپنی ہے، جس کا اداکار وجے دیورکنڈہ سے کوئی ملکیتی تعلق نہیں۔ وجے سیلز کی کہانی 1967ء میں شروع ہوئی جب نانو گپتا نے ممبئی کے محلہ 'ماہم' میں صرف دو ہزار روپے کے ابتدائی سرمایے سے 40 مربع فٹ کی ایک چھوٹی سی دکان "وجے ٹیلی ویژن اسٹور" کے نام سے قائم کی۔ 1981ء میں کاروباری ڈھانچہ تبدیل کرتے ہوئے اس کا نام "وجے سیلز" رکھا گیا، اور 2006ء میں کمپنی نے ممبئی میں پہلی بار جدید "ڈسپلے کانسیپٹ" کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد پھیلاؤ کا سلسلہ تیزی سے شروع ہوا۔۔۔ پونے، دہلی، گجرات اور ہریانہ تک رسائی ہوئی، اور 2013ء میں پچاسویں اسٹور کا افتتاح ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوا۔ 2019ء میں جنوبی ہند کی مشہور تِروملا میوزک سنٹر (TMC) کے حصول سے 28 نئے اسٹورز شامل ہوئے اور کمپنی تلنگانہ و آندھرا پردیش تک پہنچ گئی۔ آج وجے سیلز کے ملک بھر میں 157 سے زائد اسٹورز ہیں، اور 80 لاکھ سے زیادہ صارفین اس برانڈ پر اعتماد کرتے ہیں۔
مارچ 2025ء میں وجے سیلز نے 'وجے دیورکنڈہ' کو اپنا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا۔۔۔ تاہم یہ بات واضح رہے کہ یہ محض ایک تجارتی معاہدہ ہے، نہ کوئی ملکیت ہے نہ فرنچائز۔ اس شراکت داری کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ۔۔۔ نو کروڑ سے زائد آبادی، فعال صارف منڈی، اور ایک مشترک تلگو تہذیب کی حامل یہ دو ریاستیں، جہاں کمپنی اپنی جڑیں مزید گہری کرنا چاہتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے وجے دیورکنڈہ سے بہتر چہرہ کون ہو سکتا ہے، جن کی سوشل میڈیا پر بے پناہ مقبولیت ہے اور نوجوان نسل جن پر جان چھڑکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں "وجے" کا ایک ہی نام ہونا محض اتفاق ہے! وجے سیلز کا نام اداکار کے نام پر نہیں، بلکہ کمپنی کے بانی نانو گپتا کے چھوٹے بھائی "وجے" کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اور یہ 1981ء کی بات ہے، جب اداکار پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ سو یہ دو "وجے" نام کے سوا کچھ نہیں بانٹتے، البتہ اب ایک ہی چھت تلے ضرور نظر آتے ہیں!
تروملا میوزک سنٹر (ملک پیٹ، حیدرآباد)
بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں تِروملا میوزک سنٹر (Tirumala Music Centre) حیدرآباد کے تاریخی اسمبلی حلقے 'ملک پیٹ' کا سب سے نمایاں اور قدیم الیکٹرانکس و میوزک اسٹور مانا جاتا تھا اور یہ میونسپل کالونی، ملک پیٹ میں واقع تھا اور یہی پتہ آج بھی وجے سیلز کی ملک پیٹ برانچ کے طور پر درج ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تِروملا کی عمارت اور مقام وہی برقرار رہا، صرف نام بدلا ہے۔
حیدرآباد میں آڈیو کیسٹ، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر اور بلیک/وہائٹ ٹیلی ویژن کی خرید و فروخت 80ء کی دہائی میں عروج پر تھی۔۔۔ فلپس اور سونی کے ٹیپ ریکارڈر اس دور کی پہچان تھے۔ کوٹھی (وومنس کالج) کے علاقے بینک اسٹریٹ اور ملک پیٹ کی مرکزی سڑک (ملک پیٹ ریلوے اسٹیشن تا نلگنڈہ چوراستہ) پر میوزک و الیکٹرانکس کی دکانیں قطار در قطار تھیں، اور ملک پیٹ کا تِروملا میوزک سنٹر ان میں سرفہرست تھا۔ تِروملا میوزک سنٹر ملک پیٹ کا وہ نام تھا جسے پورا علاقہ جانتا تھا، اور جو 2019ء تک اپنی الگ شناخت کے ساتھ قائم رہا۔ 1982ء کے دہلی ایشین گیمز سے قبل، دوران اور بعد میں ٹیلی ویژن کی خریداری کے عوامی رجحان کو فروغ ملا تو متعدد برانڈ ہندوستان کے مختلف شہروں میں وارد ہوئے۔ حیدرآباد کے اسی ٹی۔ایم۔سی میں ڈیانورا، ڈالفینار (یا ڈولفن)، اونیڈا، بُش، کونارک، ویسٹن، سولیڈئیر، اپٹرون، کراؤن، نیلکو، کنگسٹن جیسے نام اب تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔
ڈیانورا کے ذکر پر یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہ برانڈ 1973ء میں تمل ناڈو انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور بزنس مین اوبل ریڈی نے مل کر قائم کیا تھا۔ دو سال کے عرصے میں ہی یہ ہندوستان کی پہلی ایسی کمپنی بنی جس نے بڑے پیمانے پر بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی تیار کیے۔ حیدرآباد اور پورے جنوبی ہند میں اس کی مقبولیت سب سے زیادہ تھی، اسی لیے تروملا میوزک سنٹر جیسے مراکز پر ڈیانورا کا اشتہاری بینر نمایاں جگہ پر رکھا جاتا تھا۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
25/اپریل/2026ء
From a ₹2,000 Mumbai Shop to 157 Stores: The Untold History of Vijay Sales, Tirumala Music Centre Hyderabad, and Why They Chose Vijay Deverakonda as Brand Ambassador


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں