آکسفورڈ اسلامک سنٹر: یونیورسٹی سے منسلک یا مستقل ادارہ؟ وضاحت - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/04/17

آکسفورڈ اسلامک سنٹر: یونیورسٹی سے منسلک یا مستقل ادارہ؟ وضاحت

oxford-islamic-centre-university-affiliated-vs-independent

رپیڈو، اوبر، اولا۔۔۔ جیسی آسان اور کفایتی حمل و نقل خدمات کے مقبول موبائل فون ایپس اور گوگل میپ کے آج کے دور میں کوئی شخص اگر سوشل میڈیا پر کسی مشہور و مقبول بین الاقوامی ادارے کا لوکیشن دریافت کرتا ہے تو یقیناً اس معصوم کی سادہ لوحی کی داد دینا چاہیے۔
اگر کسی کو "آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز" کی عمارت کے جائے مقام کا پتہ چلانا ہو تو گوگل میپ بآسانی رہنمائی کر سکتا ہے۔ ونیز متذکرہ مرکز کے نام میں جب خود شہر کا نام (یعنی: آکسفورڈ) شامل ہو تب بھی کسی عام فہم قاری کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں کہ سنٹر ضرور آکسفورڈ شہر میں واقع ہوگا۔
پھر بھی ایک قاری صاحب محترم نے کل کی راقم کی فیس بک پوسٹ پر وضاحت طلب کی کہ:
"ذرا یہ بتایا جائے کہ یہ اسلامک سینٹر کہاں قائم ہے یونیورسٹی کے اندر یا آکسفورڈ نامی شہر میں۔۔۔؟"
خیر صاحب، سوال اتنا ہی مختصر ہوتا تو کوئی بات نہ تھی ۔۔۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کچھ کمنٹیٹرس کو غیرضروری لفاظی کا شوق بھی ہوتا ہے ۔۔۔ جیسا کہ متذکرہ سائل و مبصر محترم نے اسی کمنٹ میں لکھا:
"بعد ازاں یہی حقیقت سامنے آئے گی کہ آکسفورڈ میں یونیورسٹی بھی ہے اور وہیں یہ اسلامک سینٹر، لیکن دنوں الگ الگ ہیں یونیورسٹی کے اندر ماننا بعید از قیاس اور دھول جھونکنا ہے"
دھول جھونکنا جیسی اصطلاح پر ہمارا چونک اٹھنا فطری امر تھا لہذا فوراً موصوف کمنٹیٹر کی ٹائم لائن کا دورہ کیا تو کچھ بھی علم نہ ہو سکا کہ یہ ذاتِ شریف ہیں کون؟


اب یہاں ہمیں بھائی نادر خان سرگروہ کی ہمت اور حوصلے پر دادِ شجاعت دینے کو جی چاہتا ہے (کہ وہ پتا نہیں کیسے کیسے جہلائے اعظم اور طرم خانوں کو اپنی ہر ہر پوسٹ میں جھیلتے ہوں گے؟)۔ خان صاحب محترم اردو زبان دانی کی سوشل میڈیا پر ترویج و ترقی کے لیے جتنی محنت و مشقت کرتے ہیں بلکہ اب تک کیے جا رہے ہیں، اس عظیم محنت کے سامنے ہمارا کام تو عشرِ عشیر کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔ گذشتہ 50 سال سے اردو میں لکھتے پڑھتے رہنے، لاتعداد افسانے، مضامین، مقالوں کی اخبارات و رسائل میں اشاعت، تقریباً 100 سے زائد مرتب شدہ اپنی کتب کی طباعت اور تعمیرنیوز کی 13 سالہ ادارت کے باوجود ہماری کم علمی کا معیار کچھ ایسا ہے کہ آج بھی فرہنگ آصفیہ یا نوراللغات کو دیکھے بنا کوئی دن نہیں گزرتا اور اگر فرصت کم ہو تو فوراً نادر خان سرگروہ ذخیرۂ الفاظ کا فیس بک پیج کھولا اور اپنی کمی/خامی درست کر لی۔
اتنی (بےجا) تمہید کے بعد کہنا یہ ہے کہ ۔۔۔
متذکرہ کمنٹیٹر صاحب کے جواب میں ہم نے وضاحت کی:
آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز، آکسفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ایک خودمختار ادارہ ہے، جو کسی کالج یا ڈپارٹمنٹ کا حصہ نہیں بلکہ ایک علیحدہ علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سنٹر آکسفورڈ شہر میں ہی واقع ہے اور آکسفورڈ کے مرکزی تعلیمی علاقے کے بالکل قریب۔


اتنی صاف صاف وضاحت کے بعد لازمی تھا کہ سائل یا تو خاموش ہو جاتا یا کمنٹ کو لائک کر کے آگے بڑھ جاتا۔ مگر نہیں صاحب، کچھ بھائی لوگوں کے دماغ میں ایک کیڑا ہوتا ہے، جو کچھ نہ کچھ عرض فرمانے پر مجبور کرتا ہے، یعنی۔۔۔
"تری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی عرض کریں گے"
سو جنابِ محترم نے فرمایا کہ:
"مستقل ادارہ کہیے منسلک کہنے پر مغالطہ ہو سکتا ہے"


بھائی اگر آپ کو ادارہ جاتی اصطلاحات کی تفہیم سے آگاہی نہیں ہے اور آپ ہر لفظ کو اس کے عام لغوی معنوں میں لینے پر مصر ہیں تو یہ آپ کی کمزوری ہے، اس کا الزام ہمارے سر کیوں؟
خیر موصوف کمنٹیٹر صاحب کو نظرانداز کیجیے۔ ہمارے اصل مخاطب تو ہمارے معزز و محترم قارئین ہیں جن کا ہماری تحریر کو محض پڑھنا ہی ہمارے لیے اعزاز کے مترادف ہے۔


پیارے قارئین کرام!
"منسلک ادارہ" سے مراد دراصل یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بڑے ادارے (مثلاً یونیورسٹی) سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی طور پر خودمختار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی نوعیت علمی (academic)، تحقیقی (research) یا باہمی اشتراک (collaborative) پر مبنی ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ فلاں ادارے سے جڑا ہوا تو ہے، مگر اس میں ضم نہیں ہے۔


جبکہ "مستقل ادارہ" ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو اپنی الگ شناخت رکھتا ہو، کسی اور ادارے کا حصہ نہ ہو اور قائم بالذات (self-standing entity) ادارہ ہو۔ یا پھر یوں سمجھیے کہ: ایک ایسا ادارہ جو اپنی جداگانہ پہچان رکھتا ہو اور کسی دوسرے ادارے کا جزو نہ ہو۔ یعنی کسی اور ادارے سے وابستگی کے بغیر اپنے بل بوتے پر قائم رہا ہو۔


دونوں کے فرق کو ایک جدول کے ذریعے یوں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے:
پہلو || منسلک ادارہ || مستقل ادارہ
-------------
تعلق || کسی بڑے ادارے سے جڑا || خود مختار، الگ
شناخت || جزوی وابستگی || مکمل خودمختاری
کنٹرول || مشترکہ یا محدود || مکمل خود کا


اتنی طویل وضاحت کے بعد ۔۔۔ امید ہے کسی بھی عام قاری کو یہ سمجھنے میں مشکل درپیش نہ ہوگی کہ:
"آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز" دراصل آکسفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ہونے کے باوجود اپنی انتظامی شناخت میں ایک خودمختار علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
17/اپریل/2026ء


Keywords: Oxford Centre Islamic Studies, Oxford University affiliate, academic institution types, self-standing entity, university affiliated center, Islamic research Oxford, institutional autonomy, academic collaboration, university department vs center, higher education structure
Oxford Islamic Centre: Affiliated or Independent?
Oxford Centre for Islamic Studies: Understanding University Affiliation vs Self-Standing Entity Explained

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں