مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمۃ ایک جید ممتاز اور عالمی سطح پر معروف، ہندوستانی اسلامی اسکالر تھے۔ انہوں نے یورپ اور مغرب کی مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچرز دئے۔ انہیں غیر مسلم علمی حلقوں میں بھی "مسلمانوں کے نمائندہ مفکر" کے طور پر قبول کیا گیا۔ 1962ء میں مکہ مکرمہ میں قائم شدہ بین الاقوامی تنظیم "مسلم ورلڈ لیگ" کے بانی اراکین میں مولانا مرحوم کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ونیز وہ مدینہ اسلامی یونیورسٹی کے ہائر کونسل رکن بھی رہے ہیں۔
انہیں سعودی عرب کی جانب سے شاہ فیصل ایوارڈ (1980ء) اور شاہ عبدالعزیز ایوارڈ (1999ء) سے نوازا گیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی طرف "اسلامی شخصیت ایوارڈ" (1999ء) اور 1988ء میں پاکستان کی جانب سے "ستارۂ امتیاز" عطا کیا گیا۔ دو مشہور اسلامی جامعات کی طرف سے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔ 1999ء میں مدینہ یونیورسٹی سے اور 1991ء میں اسلامی یونیورسٹی ملائشیا کی طرف سے۔
یہ بات بھی زبان زد عام ہے کہ مولانا علی میاں ہندوستان کے پہلے ایسے عالم تھے جنہیں سعودی عرب کے شاہی خاندان نے خانہ کعبہ کی چابیاں عنایت کی تھیں۔
اب اگر مولانا مرحوم کا کوئی عقیدت مند اس طرح کا جملہ لکھے:
"آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامک سینٹر کا قیام مولانا علی میاں ندوی کے ہاتھوں ہوا"
تو ایسے غلو پر صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ: یہ کوئی علمی حقیقت نہیں بلکہ عقیدت پر مبنی مبالغہ آمیز اسلوب ہے۔
یہ جملہ مبالغہ اس لیے کہلایا جائے گا کہ اس سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ جیسے مولانا مرحوم نے اسلامک سنٹر خود بنایا تھا یا وہ اس سنٹر کے واحد بانی رکن تھے۔ جبکہ ایسا دعویٰ تاریخی طور پر درست نہیں۔
سچ یہ ہے کہ:
مولانا علی میاں ندوی آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے قیام میں شریک تھے اور اس کے ابتدائی ٹرسٹیز اور بعد ازاں چیئرمین شپ میں شامل رہے۔ پرنس ترکی الفیصل نے گذشتہ سال "عرب نیوز" میں شائع شدہ اپنے مضمون میں اس کی تصدیق کی ہے (حوالہ:1)۔
مولانا علی میاں ندوی آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے نہ صرف وابستہ رہے بلکہ اس کے ابتدائی دور میں چیئرمین و ٹرسٹی کی حیثیت سے اس کی علمی و ادارہ جاتی رہنمائی میں بھی شریک رہے (حوالہ:2،3)۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ وہ کسی تدریسی پروفیسرشپ یا رسمی تعلیمی سربراہی کے منصب پر فائز نہیں تھے۔
یہ مغالطہ پھیلانا بھی درست نہیں کہ سعودی عرب کے شاہ فہد نے "آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز" قائم کیا یا مولانا علی میاں کو سنٹر کی کسی چئیر پر نامزد کیا۔
آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کا قیام کسی عمارت کے بغیر 1985ء میں جب عمل میں آیا تو اس کے بانی ٹرسٹی اراکین میں مولانا علی میاں، ڈاکٹر عبداللہ عمر، پروفیسر کے۔اے۔نظامی، شیخ سلطان القسیمی اور طارق شفیق شامل تھے (حوالہ:1)۔ سنٹر کی موجودہ عمارت کا منصوبہ 1990ء کی دہائی میں تشکیل پایا، جسے بیرونی مالی معاونت۔۔۔ بالخصوص سعودی تعاون (تقریباً بیس ملین پونڈ) سے تقویت ملی، کویت نے بھی سنٹر کی عمارت اور انفراسٹرکچر میں مالی مدد کی (حوالہ:4)۔ آخرکار طویل تعمیراتی مرحلے کے بعد یہ عمارت 2016-17 میں مکمل ہوئی اور پرنس چارلس کے ذریعے مئی 2017ء میں اس کا افتتاح عمل میں آیا۔
** اسلامک سنٹر، دراصل آکسفورڈ یونیورسٹی کے اندر ایک ایسا مرکز ہے جہاں:
* اسلام اور مسلم دنیا پر ریسرچ ہوتی ہے
* لیکچر، کانفرنس، سیمینار ہوتے ہیں
* اسکالرز کو فیلوشپس دی جاتی ہیں
* لائبریری، پبلی کیشنز، اور اکیڈمک نیٹ ورک موجود ہوتا ہے
** جبکہ "چئیر" کسی مخصوص پروفیسر کی پوسٹ/نشست ہوتی ہے جو کہ اکثر کسی ڈونر یا ملک کے نام سے منسوب ہوتی ہے۔
** اسی طرح "فیلوشپ" ایک عارضی یا مستقل ریسرچ پوزیشن/اسکالرشپ ہوتی ہے جو کہ کسی محقق کو کچھ عرصے کے لیے تحقیق یا تدریس کے لیے عطا کی جاتی ہے۔ اسے ایک "علمی سہولت" باور کیا جانا چاہیے۔
آکسفورڈ کے اسلامک اسٹڈیز سنٹر کی تکمیل کے بعد، مختلف مسلم ممالک نے اپنی علمی و سفارتی موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے نامزد چیئرز اور فیلوشپس قائم کیے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے "کنگ سلمان بن عبدالعزیز فیلوشپ" اور "کنگ عبداللہ فیلوشپ" نمایاں ہیں، جو خلیجی علمی اثر کو ظاہر کرتی ہیں۔ کویت نے "کویت فیلوشپ اِن اسلامک اسٹڈیز" کے ساتھ ساتھ عمومی تحقیقی معاونت کے پروگرامز کے ذریعے اپنی موجودگی قائم رکھی۔ عمان کی نمائندگی "سلطان قابوس بن سعید فیلوشپ" کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ ملائشیا نے "تون عبدالرزاق فیلوشپ" اور "تون مہاتیر محمد فیلوشپ" کے ذریعے جدید مسلم ریاستی بیانیہ کو علمی سطح پر جگہ دی۔ برونائی کی طرف سے "سلطان حسن البلقیہ فیلوشپ" خاص طور پر اسلامی مالیات کے میدان میں اہم ہے، اور ملائشیا کی شاہی شخصیات سے منسوب "سلطان ازلان شاہ فیلوشپ" بھی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ تمام چیئرز اور فیلوشپس محض تعلیمی وظائف نہیں بلکہ درحقیقت ان ممالک کی جانب سے عالمی علمی منظرنامے میں اپنی فکری موجودگی اور نرم طاقت (soft power) کو مستحکم کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔
مضمون کے اختتام پر پورے موضوع کی واضح ترین تصویر کچھ یوں بنتی ہے:
آکسفورڈ کے اسلامک اسٹڈیز سنٹر نے ایک علمی مرکز کی بنیاد رکھی، بعد ازاں مختلف مسلم ممالک نے اس میں اپنی مالی معاونت کے ذریعے ایسی علمی نشستیں (چیئرز اور فیلوشپس) قائم کیں جو بظاہر ان کے نام سے منسوب ہیں، مگر حقیقت میں وہ اس ادارے کے مالک یا نصاب کے مکمل مختار نہیں بنتے، بلکہ صرف اثر و رسوخ رکھنے والے شراکت دار (influence stakeholders) کی حیثیت اختیار کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں سعودی عرب کے شاہ فہد کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے: انہوں نے اس سنٹر کی عمارت اور مجموعی ترقی کے لیے نمایاں مالی تعاون فراہم کیا، لیکن نہ تو کسی اسلامی چیئر کو براہِ راست قائم کر کے اس پر کسی اسکالر کی تقرری کی، اور نہ ہی ایسے فیصلوں میں وہ کوئی حتمی اختیار رکھتے تھے۔ کیونکہ آکسفورڈ جیسے اداروں میں تعلیمی تقرریاں اور علمی معیار کا تعین باقاعدہ اندرونی انتخابی بورڈز، کمیٹیوں اور ادارہ جاتی منظوری کے نظام کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ کسی بیرونی مالی سرپرست کی خواہش پر (حوالہ:5،6)۔
حوالہ جات:
2: https://www.youngmuslimdigest.com/2000/06/editorial/abul-hasan-ali-an-nadwi-a-man-of-hope-through-a-century-of-turmoil-part-iv/
3: https://www.oxcis.ac.uk/events/islam-and-knowledge
4: https://drmalsabah.com/en/news/board-trustees-oxford-center-islamic-studies-meets-kuwait
5: https://www.law.ox.ac.uk/content/academic-appointment-process
6: https://www.ox.ac.uk/about/how-we-are-run/governance-finance
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
16/اپریل/2026ء
Oxford Centre for Islamic Studies: The Real Role of Abul Hasan Ali Nadwi and Muslim Funding Influence


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں