نقی احمد ندوی صاحب کے تعصبات و تحفظات کا معروضی تعاقب : حصہ آخر
ریاض (سعودی عرب) میں قیام پذیر قلمکار دانشور نقی احمد ندوی صاحب نے ایک مضمون اپنے فیس بک پیج پر جاری کیا ہے جس میں خلیجی ممالک بالعموم اور سعودی عرب بالخصوص کی معیشت، سالمیت اور سماجی و معاشی رجحانات کا موازنہ ایران سے، مخصوص نظریے کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ آئیے ہم بھی کچھ جائزہ لیتے ہیں کہ فاضل تجزیہ نگار کی باتیں کتنی سچ ہیں، کتنی مبالغہ آمیز اور کتنی جانبدارانہ؟ پہلے حصے میں ان کے چند مفروضات کو آن لائن تحقیق کی روشنی میں جانچا گیا تھا، اس بار ان کے مضمون کے اواخر میں بیان کردہ چند جذباتی مواقف کا ٹھوس زمینی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔
قارئین سے ایک درخواست بھی ۔۔۔
حساس یا متنازع موضوعات کے حوالے سے جو تحقیقی مضامین اس بلاگ پر پیش کیے جاتے ہیں، وہ کسی فرد، گروہ، جماعت، تنظیم، ملک، معاشرہ، مذہب، مسلک، زبان، قوم، طبقہ وغیرہ کی اندھی حمایت/مخالفت یا ان کے محض جذباتی ردود پر مبنی نہیں ہوتے۔۔۔ ممکنہ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ بیان کردہ موقف (یا جوابی موقف) کا فعال آن لائن حوالہ بھی دیا جائے۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو 'قلم' جلا کے سر عام رکھ دیا !!
نقی ندوی:1) فرق ترجیحات کا ہے۔ ایران کا فوکس تعلیم اور ٹیکنالوجی پر تھا اور سعودی عرب کا فوکس دولت کمانے پر۔ دولت اب کام نہیں آ رہی، بلکہ اس کے کم ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ جس ملک نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی، وہ آج مضبوط نظر آتا ہے۔
جواب:1) ایران کی معیشت اور ریاستی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی 1979 کے ایرانی انقلاب (Iranian Revolution) کے بعد رونما ہوئی (حوالہ:1)۔ اس سے قبل محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں معیشت تیزی سے پھیل رہی تھی، مگر یہ ترقی زیادہ تر تیل کی آمدنی اور بیرونی طاقتوں کی سرپرستی پر منحصر تھی، جبکہ سماجی ناہمواری اور سیاسی دباؤ بھی نمایاں تھے۔ انقلاب کے بعد نئی قیادت نے خود انحصاری، ریاستی نگرانی اور نظریاتی پالیسیوں کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں دفاعی شعبے، میزائل نظام اور سائنسی تحقیق میں خاصی پیش رفت ہوئی، خصوصاً انجینئرنگ اور طب کے میدان میں۔ تاہم ایران-عراق جنگ، مسلسل عالمی پابندیاں اور بین الاقوامی تنہائی نے معیشت کو شدید دباؤ میں رکھا، جس سے کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل بڑھے۔ یوں ترقی اور مشکلات ساتھ ساتھ چلتی رہیں اور عوام کو اس متضاد صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
"مضبوطی" کا مفہوم محض عسکری یا سائنسی برتری تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع حالت ہے جس میں معاشی استحکام، عوامی خوشحالی، موثر ادارے اور عالمی سطح پر اثر پذیری شامل ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی معیشت (International Political Economy) کے اصول کے مطابق حقیقی طاقت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ریاست اندرونی طور پر اپنے شہریوں کو بہتر زندگی فراہم کرے اور بیرونی طور پر خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھے۔ ایران نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دے کر دفاعی اور سائنسی میدان میں ایک حد تک خود کفالت حاصل کی، لیکن طویل پابندیوں اور معاشی کمزوری نے اس پیش رفت کو محدود رکھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ محض تعلیم اور ٹیکنالوجی کسی ملک کو مکمل طور پر مضبوط بنا دیتی ہے، ادھورا تجزیہ ہے؛ اصل قوت وہی ہے جو ریاستی صلاحیت کو عوامی بہتری میں ڈھال سکے (حوالہ:2)۔
دوسری طرف یہ کہنا کہ: "سعودی عرب کا فوکس صرف دولت کمانے پر رہا ہے"، ادھورا اور کسی حد تک گمراہ کن بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیل کی آمدنی نے ضرور سعودی معیشت کی بنیاد رکھی، مگر گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں ریاست نے تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی مسلسل سرمایہ کاری کی۔ مثال کے طور پر کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اور ٹیکنالوجی کا قیام جدید سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور بیرونِ ملک وظائف کے پروگراموں نے انسانی سرمایہ (Human Capital) کو مضبوط بنایا (حوالہ:3)۔ مزید برآں حالیہ قومی منصوبہ بندی (ویژن-2030) کے تحت معیشت کو متنوع بنانے، صنعت، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے (حوالہ:4)۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ سعودی عرب نے دولت کو بنیاد بنا کر اسے تعلیم، انفراسٹرکچر اور نئی صنعتوں میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اپنائی، نہ کہ محض دولت جمع کرنے پر اکتفا کیا۔
نقی ندوی:2) اہل حدیث کا عقیدہ صحیح ہو سکتا ہے اور شیعہ کا عقیدہ غلط، مگر سلفیت اور وہابیت کی موٹی موٹی کتابیں اور اہل حدیث مقررین کی بے لگام تقریریں میزائل کو روکنے میں ناکام رہی ہیں جس کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا ہے۔
جواب:2) فطری و اصولی موقف تو یہ ہے کہ قوم کی فکری تربیت کے لیے مخصوص افکار و نظریات کا سہارا لینا ایک الگ بات ہے اور جنگی مہارت یا ٹیکنالوجی پر بھرپور عملی توجہ دینا ایک بالکل الگ بات ہے۔ کیونکہ فکری یا مذہبی بیانیہ اور جنگی و سائنسی مہارت دو الگ میدان ہیں اور ایک دوسرے کی نفی بھی نہیں کرتے۔ دنیا کی کئی مثالیں اس کی تائید کرتی ہیں۔ امریکہ میں مذہبی و فکری تنوع کے باوجود ریاست نے دفاعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں جدید دفاعی نظام وجود میں آئے (حوالہ:5)۔ اسی طرح جنوبی کوریا نے اپنی قومی شناخت اور سماجی نظم کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق اور عسکری ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر مضبوط دفاعی صلاحیت حاصل کی (حوالہ:6)۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ فکری تربیت قوم کی شناخت کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی عملی دفاعی قوت فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اصل کامیابی دونوں پہلوؤں کے متوازن امتزاج میں ہے، نہ کہ کسی ایک پر انحصار میں۔
نقی ندوی:3) اب وہ دور یاد کیجیے جب اموی اور عباسی ادوار میں اسلام کا جھنڈا پوری دنیا میں بلند تھا اور دنیا کی ساری اقوام امتِ اسلامیہ کو دنیا کا سپر پاور مانتی تھیں۔ اس دور میں مسلمانوں کا فوکس تعلیم اور ٹیکنالوجی پر تھا۔ چنانچہ ابنِ سینا، الفارابی، ابن الہیثم، الرازی، البیرونی، جابر بن حیان اور نصیر الدین طوسی اسی سنہرے دور کی یادگار ہیں۔
جواب:3) اس جملے میں ایک بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ عباسی و اموی عہد کی سائنسی فضا کو آج کے قومی ریاستی نظام سے براہِ راست جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ اس زمانے کی علمی برتری کا سبب صرف "مذہبی جذبہ" نہیں بلکہ وسیع تر سرپرستی، تراجم کی تحریک، بین الاقوامی علمی تبادلہ اور آزاد فکری ماحول تھا۔ 'سنہرے دورِ اسلامی' میں بغداد کا بیت الحکمت اور دیگر مراکز مختلف تہذیبوں کے علوم کو جذب کر کے نئی تحقیق پیدا کرتے تھے (حوالہ:7)۔ آج کے دور میں سائنسی ترقی کا معیار عالمی اشاریوں، ادارہ جاتی آزادی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی روابط سے طے ہوتا ہے، نہ کہ صرف ماضی کی روایت سے۔
ایران نے گزشتہ دہائیوں میں سائنسی اشاعت اور انجینئرنگ کے میدان میں نمایاں اضافہ کیا ہے (گو کہ یہ ترقی زیادہ تر معیار کے بجائے مقدار تک محدود رہی)، مگر وہ ابنِ سینا یا البیرونی جیسے عالمی اثر رکھنے والے چند بڑے نام اسی پیمانے پر پیدا نہیں کر سکا، جس کی وجہ جدید سائنسی نظام کی پیچیدگی، عالمی مسابقت، اور پابندیوں کے باعث محدود روابط ہیں (حوالہ:8)۔ اس لیے ماضی کا سنہرا دور ایک مختلف تاریخی تناظر رکھتا ہے، جبکہ آج کی کامیابی کا دارومدار کھلے علمی ماحول، معاشی استحکام اور عالمی اشتراک پر ہے۔
نقی ندوی:4) کیا وہ ملک جو صرف درآمدات پر، خاص طور پر ہتھیاروں کی درآمد پر ٹکا ہو، اس ملک کا مقابلہ کر سکتا ہے جو خود ہتھیار بناتا ہو؟
جواب:4) یہ سوال اکثر و بیشتر جذباتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، مگر بین الاقوامی سیاست اور معیشت کے اصول اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ کسی ملک کا صرف اسلحہ درآمد کرنا کمزوری کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعے وہ جدید ترین ٹیکنالوجی تک فوری رسائی حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب دنیا کے بڑے اسلحہ خریداروں میں شامل ہے، مگر اسی بنیاد پر اس کی دفاعی صلاحیت کو کمزور نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وہ جدید نظام، تربیت اور اتحادی تعاون سے اپنی سکیورٹی مضبوط رکھتا ہے (حوالہ:9)۔ دوسری طرف ایران نے طویل پابندیوں کے دباؤ میں اپنی دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دیا، جو ایک حد تک خود انحصاری کی علامت ہے، مگر اسی تنہائی نے جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی اشتراک تک اس کی رسائی کو محدود رکھا، جس کے باعث معاشی دباؤ اور تکنیکی خلا بھی پیدا ہوا (حوالہ:10)۔
اصل اصول یہ ہے کہ جدید دنیا میں طاقت صرف "خود بنانے" یا "خریدنے" سے نہیں بلکہ وسائل، اتحاد، معیشت اور ٹیکنالوجی کے مجموعی توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے یہ سوال خود ہی محدود اور یک رخا ہے۔
نقی ندوی:5) اس تناظر میں بخوبی کہا جا سکتا ہے کہ دولت کبھی تعلیم کی برابری نہیں کر سکتی، اور عیاشی میں مبتلا قومیں ان قوموں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جو قربانی دیتی ہیں اور غربت کے باوجود تعلیم پر توجہ دیتی ہیں۔
جواب:5) یہ جملہ جذباتی تو کہلایا جا سکتا ہے مگر تجزیاتی قطعاً نہیں۔ کیونکہ۔۔۔"دولت بمقابلہ تعلیم" ایک جھوٹا تقابل ہے۔ جدید معیشت میں دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ پائیدار ترقی کے لیے تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری عموماً اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب معیشت مستحکم ہو۔
کئی خلیجی ریاستوں نے تیل کی آمدنی کو محض خرچ کرنے کے بجائے تعلیم، تحقیق اور انسانی سرمایہ (Human Capital) کی تشکیل پر لگایا ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے قومی منصوبے میں تعلیم کو معیشت کی تبدیلی اور علم پر مبنی نظام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے (حوالہ:11)۔ اسی طرح قطر کے قومی وژن میں تعلیم کو انسانی ترقی اور معاشی تنوع کا مرکزی ستون بنایا گیا ہے، جہاں تحقیق اور مہارتوں پر خاص زور دیا جا رہا ہے (حوالہ:12)۔ مزید برآں متحدہ عرب امارات نے اپنی قومی حکمت عملی میں جدید تعلیم، تحقیق اور جدت کو مستقبل کی معیشت کی بنیاد قرار دیا ہے، جس کے تحت جامعات، تحقیقاتی مراکز اور مہارتوں کی ترقی پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے (حوالہ:13)۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی دولت کو صرف عیش و عشرت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے طویل المدتی علمی، تکنیکی اور معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی ہے، جو انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بناتی ہے۔
دوسری طرف ایران میں تعلیم اور سائنسی اشاعت میں واقعی اضافہ ہوا، مگر پابندیوں اور معاشی دباؤ نے عوامی معیارِ زندگی اور ادارہ جاتی کارکردگی کو محدود رکھا۔ اس لیے "عیاشی" یا "غربت" جیسے سادہ لیبل حقیقت کی پیچیدگی کو چھپا دیتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ: تعلیم اور دولت دونوں کو، عوامی بھلائی میں کون سا نظام بہتر طریقے سے بدل رہا ہے؟
حوالہ جات:
2: https://www.worldbank.org/ext/en/country/iran
3: https://www.kaust.edu.sa/en/about
4: https://www.vision2030.gov.sa/en/overview
5: https://www.darpa.mil/about
6: https://www.trade.gov/country-commercial-guides/south-korea-defense-industry-equipment
7: https://www.britannica.com/event/Islamic-world/Science-and-technology
8: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3527047/
9: https://www.sipri.org/sites/default/files/2024-03/fs_2403_at_2023.pdf
10: https://www.csis.org/analysis/strategic-competition-iran-military-dimension
11: https://www.vision2030.gov.sa/en/overview
12: https://en.wikipedia.org/wiki/Qatar_National_Vision_2030
13: https://u.ae/en/about-the-uae/strategies-initiatives-and-awards/strategies-plans-and-visions/innovation-and-future-shaping/uae-centennial-2071
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
15/اپریل/2026ء
Iran vs Saudi Arabia: Education, Wealth and Military Power in Real Perspective


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں