ریاض (سعودی عرب) میں قیام پذیر قلمکار، مصنف و دانشور نقی احمد ندوی صاحب نے آج ہی ایک مضمون اپنے فیس بک پیج پر جاری کیا ہے جس میں خلیجی ممالک بالعموم اور سعودی عرب بالخصوص کی معیشت، سالمیت اور سماجی رجحانات کا موازنہ ایران سے، مخصوص نظریے کے تحت بیان کیا گیا ہے۔
آئیے ہم بھی کچھ جائزہ لیتے ہیں کہ موصوف تجزیہ نگار کی باتیں کتنی سچ ہیں، کتنی مبالغہ آمیز اور کتنی جانبدارانہ؟
نقی ندوی:1) آبادی کے لحاظ سے ایران سعودی عرب سے دوگنا بڑا ہے، مگر رقبے اور وسائل کے اعتبار سے سعودی عرب ایران سے کہیں بڑا ہے۔ سعودی عرب کی جی ڈی پی فی کس تیس ہزار ڈالر ہے اور ایران کی تقریباً چار ہزار چار سو۔ یعنی سعودی عرب ایران سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ مالدار ہے۔
جواب:1) ایران کی آبادی: ~93 ملین ہے اور سعودی عرب کی ~36 ملین۔ اس لحاظ سے ایران واقعی تقریباً ڈھائی گنا بڑا ہے۔ ایران کے پاس بھی دنیا کے بڑے تیل و گیس ذخائر ہیں لہذا یہ کہنا مبالغہ ہے کہ وسائل میں سعودی عرب بہت آگے ہے۔ تیل کے ذخائر (Proven Oil Reserves) کے حوالے سے اگر سعودی عرب (267 ارب بیرل) کی پوزیشن دنیا میں نمبر دو کی ہے تو تیسرے نمبر پر ایران (208 ارب بیرل) کی پوزیشن ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ: ایران بھی عالمی سطح پر بہت بڑے تیل کے ذخائر رکھتا ہے، اور سعودی عرب سے بہت پیچھے نہیں بلکہ سعودی عرب کے بعد اسی کا مقام ہے، لہذا ایران کو وسائل سے محروم ملک جتانا بالکل غلط ہے۔ (حوالہ:1)
نیچرل گیس: دنیا میں سب سے بڑے گیس کے ذخائر روس کے پاس ہیں تو دوسرے نمبر پر ایران ہے۔ یعنی مجموعی طور پر، ایران کا کل توانائی ذخیرہ (تیل اور گیس) بعض صورتوں میں سعودی عرب سے بھی زیادہ طاقتور بن جاتا ہے۔ (حوالہ:2)
اہم سوال یہ ہے کہ: پھر ایران مالدار کیوں نہیں ہے؟
ایران کے پاس بڑے تیل و گیس ذخائر ہونے کے باوجود اس کی آمدنی اس لیے محدود ہے کیونکہ بین الاقوامی پابندیوں نے اس کے توانائی شعبے کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ امریکی اور یورپی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی آئی اور عالمی منڈی تک اس کی رسائی محدود ہو گئی (حوالہ:3)۔ مزید یہ کہ انہی پابندیوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کو بھی روک دیا، جس کے باعث توانائی کے شعبے میں پیداوار اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچ سکی (حوالہ:4)۔ اس کے علاوہ، پابندیوں کے خوف سے کئی عالمی کمپنیاں ایران سے نکل گئیں، جس سے معیشت، کرنسی اور ترقی کی رفتار شدید متاثر ہوئی (حوالہ:5)۔
نقی ندوی:2) ایران کی آبادی بھی بڑی ہے اور دولت بھی کم۔ مزید برآن سالہا سال سے معاشی اور اقتصادی پابندی۔
جواب:2) ایران کے کمزور معاشی حالات کی بنیادی وجہ اس پر عائد طویل المدتی عالمی پابندیاں ہیں، جو اس کے جوہری پروگرام، میزائل سرگرمیوں اور خطے میں اثر و رسوخ کی پالیسیوں کے باعث لگائی گئیں۔ ان پابندیوں نے اس کی تیل کی برآمدات، بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی نظام تک رسائی کو محدود کر دیا، جس سے معیشت متاثر ہوئی۔ اس کے ساتھ اندرونی بدانتظامی، سرکاری کنٹرول اور بدعنوانی نے بھی ترقی کی رفتار کو سست رکھا۔ (حوالہ:6)
اس کے برعکس سعودی عرب نے عالمی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھے، اپنی معیشت کو کھلا رکھا اور تیل کی آمدنی کو موثر طریقے سے استعمال کیا۔ کم آبادی اور زیادہ آمدنی کے باعث وہاں فی کس دولت زیادہ ہے، جبکہ بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی استحکام نے اسے پابندیوں سے محفوظ رکھا اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔ (حوالہ:7)
نقی ندوی:3) دوسری طرف سعودی عرب میں یونیورسٹیوں کی تعداد پچیس سے تیس کے درمیان ہے، جبکہ ایران میں چھ سو سے زیادہ ہے۔ عالمی رینکنگ میں ایران کی تقریباً تیس یونیورسٹیاں آتی ہیں، جبکہ سعودی عرب کی چند۔
جواب:3) ایران اور سعودی عرب کے تعلیمی نظام کا موازنہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ ایران میں جامعات اور تعلیمی اداروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ نجی اور نیم سرکاری اداروں کا پھیلاؤ ہے، تاہم معیار ہر جگہ یکساں نہیں۔ اس کے برعکس سعودی عرب میں جامعات کی تعداد کم ہے مگر وہاں سہولیات، تحقیق اور مالی وسائل نسبتاً بہتر ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں ایران کی بعض جامعات خصوصاً انجینئرنگ اور سائنسی شعبوں میں نمایاں ہیں (انجینئرنگ اور فزکس میں شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران مشہور)۔ جبکہ سعودی جامعات بین الاقوامی تعاون اور تحقیقاتی سرمایہ کاری کے باعث جگہ بناتی ہیں (کنگ سعود یونیورسٹی، کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اور ٹکنالوجی، کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اور منرلز)۔ اخراجات کے لحاظ سے سعودی عرب مجموعی قومی پیداوار کا زیادہ حصہ (مجموعی جی۔ڈی۔پی کا پانچ تا سات فیصد) تعلیم پر خرچ کرتا ہے (حوالہ:8)، جبکہ ایران میں یہ تناسب نسبتاً کم (مجموعی جی۔ڈی۔پی کا تین تا چار فیصد) (حوالہ:9) ہے۔ یوں ایک طرف ایران تعداد میں آگے ہے تو دوسری طرف سعودی عرب معیار اور وسائل میں برتری رکھتا ہے۔
نقی ندوی:4) سائنسی تحقیق میں ایران سعودی عرب سے اتنا آگے ہے کہ اسے وہاں تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ جہاں تک فوجی سازوسامان کی بات ہے تو سعودی عرب زیادہ تر محدود سطح پر ٹینک بناتا ہے، جبکہ ایران ایسے میزائل اور ڈرونز تیار کرتا ہے جنہوں نے حالیہ جنگ کا نقشہ بدل دیا۔
جواب:4) سائنسی تحقیق کے میدان میں ایران نے گزشتہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور تحقیقی مقالوں کی تعداد کے لحاظ سے وہ خطے میں ایک مضبوط حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر انجینئرنگ اور سائنسی علوم میں اس کی کارکردگی (رینک:19) قابلِ ذکر سمجھی جاتی ہے (حوالہ:10)۔ اس کے برعکس سعودی عرب میں تحقیق کا معیار زیادہ تر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل اور جدید سہولیات کی بدولت بہتر ہوا ہے (رینک:33)، اگرچہ مقالوں کی تعداد کے لحاظ سے وہ بعض اوقات پیچھے رہتا ہے (حوالہ:10)۔
فوجی میدان میں ایران نے اپنی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کی تیاری میں پیش رفت کی ہے، جبکہ سعودی عرب زیادہ تر جدید اسلحہ بیرونِ ملک سے حاصل کرتا ہے اور دنیا کے بڑے خریداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک کی حکمت عملی مختلف ہے، ایک خود انحصاری پر زور دیتا ہے اور دوسرا عالمی تعاون پر۔
نقی ندوی:5) ستر سال سے سخت پابندیوں اور اقتصادی بحران کے باوجود ایران نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی، جس کی وجہ سے آج وہ دنیا کے سپر پاور سے مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک اور خاص طور وہ سعودی عرب جس سے تمام مسلمان بے حد محبت کرتے ہیں امریکہ کے سامنے کاسۂ گدائی لیے کھڑا ہے۔ ٹریلین ڈالر کا بزنس اور ہوائی جہاز تحفے میں دینے کے باوجود یہ تمام خلیجی ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
جواب:5) ایران کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ بڑی طاقتوں سے براہِ راست مقابلہ کر رہا ہے، جزوی حقیقت رکھتا ہے مگر مکمل تصویر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے پابندیوں کے دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں اثر و رسوخ کو برقرار رکھا ہے، جسے وہ اپنے بقا کی حکمت عملی سمجھتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ اس کی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار رہی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور عوامی معیارِ زندگی متاثر ہوا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ایران مکمل برتری نہیں بلکہ محدود وسائل کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ (حوالہ:11)
خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مکمل طور پر دوسروں کے سہارے کھڑے ہیں، ایک سادہ مگر ادھورا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں سلامتی کے خدشات، ایران کے ساتھ کشیدگی، اور تیل کی گزرگاہوں کی اہمیت نے انہیں بیرونی دفاعی تعاون پر انحصار کرنے پر مجبور کیا۔ اسی وجہ سے وہ جدید اسلحہ خریدتے اور بڑے دفاعی معاہدے کرتے ہیں تاکہ اپنے نظام اور معیشت کو محفوظ رکھ سکیں۔ یہ انحصار کمزوری نہیں بلکہ ایک حکمت عملی بھی سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ (حوالہ:12)
نقی ندوی:6) سعودی عرب کا ویزن 2030 جو صرف دولت کمانے کا ایک ویزن ہے۔ اس کے تحت پچاس سے زائد میگا پروجیکٹس شروع کیے گئے، جن میں نیوم، درعیہ اور ریڈ سی وغیرہ شامل ہیں۔ ان پروجیکٹس پر اب تک تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پیسہ کمانے کے لیے تفریحی پروگرام بھی شروع کیے گئے، مکہ اور مدینہ کے قریب اور امت کی مقدس سرزمین پر دنیا بھر سے رقاصاوں اور ناچنے والیوں کو بلاکر نچایا گیا اوران کے ساتھ ناچا گیا۔ یہی نہیں یہاں تک کہ شراب کے لائسنس تک دینے کی باتیں ہوئیں۔
جواب:6) سعودی عرب کا ویژن 2030 محض دولت کمانے کا منصوبہ نہیں بلکہ معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانے کی ایک جامع حکمت عملی ہے (حوالہ:13)۔ اس کے تحت سیاحت، صنعت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور تفریح جیسے شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور ملکی آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں۔ نیوم، درعیہ اور بحیرہ احمر جیسے بڑے منصوبے اسی تنوع کا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاحات، خواتین کی شرکت میں اضافہ اور نجی شعبے کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس لیے اسے صرف مالی منصوبہ کہنا درست نہیں بلکہ یہ معاشی و سماجی تبدیلی کا ایک وسیع خاکہ ہے۔ یہ تاثر کہ مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے قریب غیر مناسب سرگرمیاں عام ہیں، مبالغہ پر مبنی ہے اور سرکاری سطح پر اس کی تائید نہیں ملتی۔ اسی طرح شراب بدستور ملک میں ممنوع ہے، البتہ محدود سفارتی یا مخصوص زونز سے متعلق بعض تجاویز زیرِ بحث رہی ہیں، عمومی اجازت نہیں دی گئی۔ ویژن 2030 کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے، معیشت کی تنوع کاری اور قومی سرمایہ فنڈ کے ذریعے مختلف منصوبوں میں لگائی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکمران طبقے کو فائدہ پہنچنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، مگر مجموعی طور پر یہ سرمایہ ملکی ترقی پر خرچ ہو رہا ہے۔
آخری بات:7) کسی ملک کے لیے عسکری یا ایٹمی قوت کا حامل بننا واحد اہمیت نہیں رکھتا!! بلکہ ملک، ملکی سیاست یا ملک کے حکمران، اپنے ملک کے عوام کو کیسی طرز زندگی مہیا کرتے ہیں۔۔۔ وہ بھی یکساں طور اہم ہے!!
اگر کوئی یہ کہے کہ: کسی ریاست کی اصل کامیابی اس کے ایٹمی یا عسکری اثاثوں میں نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو باعزت اور محفوظ طرزِ زندگی دینے میں ہے۔۔۔ تو بےشک یہ ایک وزنی مگر ادھورا اصول کہلائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت بقا دیتی ہے اور معیشت وقار، اور ان دونوں میں عدم توازن ہی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ برصغیر کے ممالک نے سلامتی کو ترجیح دی مگر عام آدمی کی زندگی میں وہ سہولت اور مواقع پیدا نہ کر سکے، اسی لیے لاکھوں لوگ روزگار کے لیے خلیجی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں جہاں معاشی استحکام زیادہ ہے۔ اسی طرح جب کوئی ریاست اپنی توجہ حد سے زیادہ عسکری یا ایٹمی قوت پر مرکوز کر کے عالمی سطح پر خود کو تنہائی اور پابندیوں کا شکار بنا لے تو اس کے معاشی اور سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کی ایک مثال ایران کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف وہ ریاستیں جو صرف خوشحالی پر کھڑی ہوں مگر دفاعی کمزوری رکھتی ہوں، خود کو خطرات میں گھرا پاتی ہیں۔ اس لیے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ ریاست طاقت اور عوامی فلاح، دونوں کو ساتھ لے کر چلے، ورنہ ایک پہلو کی کمی پورے نظام کو غیر متوازن کر دیتی ہے۔
حوالہ جات:
2: https://www.eia.gov/international/content/analysis/countries_long/iran/
3: https://www.eia.gov/todayinenergy/detail.php?id=11011
4: https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S0301420720309910
5: https://www.csis.org/analysis/economic-impact-iran-sanctions
6: https://www.csis.org/analysis/economic-impact-iran-sanctions
7: https://www.eia.gov/international/content/analysis/countries_long/saudi_arabia/
8: https://www.theglobaleconomy.com/Saudi-Arabia/Education_spending/
9: https://www.theglobaleconomy.com/Iran/Education_spending/
10: https://www.scimagojr.com/countryrank.php
11: https://www.reuters.com/world/middle-east/irans-shattered-economy-means-any-success-war-may-be-fleeting-2026-04-08/
12: https://www.grc.net/single-commentary/350
13: https://www.vision2030.gov.sa/en/overview
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
14/اپریل/2026ء
Economy vs Nuclear Power: Why Iran Struggles and Saudi Arabia Thrives


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں