ممالک یا قوموں کی تحقیر کرنا۔۔۔ انہیں گالی دینا۔۔۔؟!
قرآن کریم کی ایک بہت مشہور آیت کی ترجمانی/مفہوم کچھ یوں ہے:
دوسروں کے خدا کو برا نہ کہو۔۔۔ (سورہ الانعام، آیت:108)
مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ایک عمومی قاعدہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔
فقہی و اخلاقی روایات میں 'سبّ المسلم بغير حق' کو حرام اور فسق کہا گیا ہے، اور یہ اصول عمومی طور پر مسلمانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسی لیے جو شخص امت، کسی دینی طبقے، یا کسی مسلمان ملک پر لاپرواہ، جارحانہ، تضحیک آمیز اور گالی نما حملہ کرے اور اسے "نیکی" سمجھے، تو ایسے شخص کے طرزِ عمل کو اہلِ علم کے ہاں درست نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ یہ نصیحت نہیں بلکہ سبّ و شتم کے قریب ہوتا ہے۔
(نوٹ: "سبّ" کا مطلب ہے، کسی شخص یا گروہ کی ذات یا خصوصیات کے بارے میں گالی، تحقیر، یا برائی بھرے الفاظ کے ساتھ اسے برا کہنا)۔
اسلامی تعلیمات میں تحقیری ردعمل کیوں ممنوع ہے؟
اسلامی تعلیمات میں سبّ، تحقیر، اور گالی نما تنقید کو اس لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کا مقصد اصلاحِ دل نہیں بلکہ ذلّت، انتقام اور نفسانيت کی تسکین ہوتی ہے۔ قرآن و سنت دونوں جگہ واضح کیا گیا ہے کہ ایسی باتیں فتنہ، نفرت اور معاشرتی انتشار پیدا کرتی ہیں، جس کے باعث اصلاح کی مصلحت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے احکام میں سدّ الذرائع (ذرائعِ فساد بند کرنا) کا اصول ترجیح اور اہمیت رکھتا ہے، یعنی: اگر ایک درست کام اس انداز میں ہو کہ وہ بڑے فساد یا سبِّ اللہ کا سبب بنے تو اسے بھی محدود یا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف اسلامی اخلاق میں احترامِ انسان یہاں تک ہے کہ یہاں تک کہ کافر یا مخالف کو بھی نہ صرف اس کے دین کے بارے میں تحقیری کلمات استعمال کرنے سے نہیں بلکہ اس کے جذبات و مفادات کے خلاف ایسے الفاظ سے بھی منع کیا جاتا ہے جو اسے اللہ کے ساتھ بدسلوکی پر اُکسائیں۔ اسی روشنی میں مسلمانوں، خاص طور پر امت کے گروہوں، علماء، حکام یا ممالک کے بارے میں لاپرواہ، تحقیر آمیز، یا غیاب میں سبّ و شتم کو بھی اسلامی اصولوں کے خلاف سمجھا گیا ہے، کیونکہ ایسا طرزِ عمل دراصل نفسانی انتقام، شہرت یا انتشار کا نام ہے نہ کہ اصلاحِ دین۔
1۔ (تفسیر القرطبي)
اللہ کا ارشاد ہے "اور تم ان لوگوں کو برا نہ کہو جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہیں، اس خوف کے ساتھ کہ وہ اللہ کو برا کہیں، عداوت کے ساتھ اور بے علمی میں"؛ یعنی اللہ نے مسلمانوں سے ان کے بت (معبود) کو گالی دینے سے منع فرمایا، کیونکہ ایسا کرنے سے کافر اور زیادہ نفرت کرتے اور اور زیادہ کفر میں گر جاتے ہیں۔
تطبیقی نکات (ممالک/حکومتوں کی تنقید کی حدود): تنقید کا ہدف اصلاح ہو، نہ کہ نفسِ دشمنی یا تحقیر ہو۔ اگر تنقید سے حکومت یا قوم میں الٹا فتنہ، تشدد یا سبِّ دین کا امکان ہو تو ناقد/مبصر/داعی کو معلوم حالات کے مطابق نرم، مصلحتی اور معتدل انداز میں بیان کرنا چاہیے۔ اگر تنقید کا ذریعہ سبّ و شتم، یا ایسی گالی ہے جو دوسرے لوگوں کو بھی اللہ، دین یا اسلامی مفہومات کے ساتھ بدسلوکی پر اُکسائے تو اسے ترک کرنا واجب ہے۔
2۔ (تفسير ابن كثير)
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور تمام مؤمنین کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ مشرکوں کے معبودوں کو گالی دیں، چاہے اس میں کچھ مصلحت نظر آئے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک بڑی مفسدہ ہے؛ یعنی مشرک اسی طرح بدلہ میں اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے۔
تطبیقی نکات: تنقید میں مصرفِ مصلحت کا خیال رکھنا چاہیے: اگر کسی حکومت یا ملک کے خلاف گالی دینے سے رعیت اور عوام ہی زیادہ متاثر ہوں، یا لوگوں کا ایمان کمزور ہو تو ایسی تنقید حرام ہے۔ "سیاسی مخالفت" اور "برائی و تحقیر" کے درمیان فرق رکھنا ضروری ہے؛ سیاسی مخالفت ہو سکتی ہے، لیکن سبّ اور لعن طعن جائز نہیں۔
3۔ (التحرير والتنوير : ابن عاشور)
ابن عاشور کہتے ہیں کہ "نہ گالی دو ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا دوسرے کو پکارتے ہیں، کہ وہ اس کے جواب میں اللہ کو عداوت کے ساتھ، بے علمی میں برا کہیں"؛ یعنی اس بات کا احتمال ہے کہ جب تم ان کے معبودوں کو گالی دو گے تو وہ تمہارے خدا کو بھی گالی دیں گے اور اسے بدسلوکی اور عداوت سے کہیں گے۔
تطبیقی نکات: اگر مسلمان ملک یا حکومت کی تنقید کرنے والے افراد یہ سمجھ کر گالی دیں کہ "یہ سب کافر ہیں" یا "یہ دین خداوندی سے باغی ہیں" تو اس سے مسلمان عوام کے دلوں میں بھی نفرتِ دین پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے تنقید دلیل، استدلال، اور مثبت اصلاحی تجاویز کے ساتھ ہو، اور کسی دینی مفہوم یا مسلمان کی ذات کو برا بھلا کہنے سے گریز کیا جائے۔
4۔ (روح المعاني : الآلوسي)
علامہ آلوسي لکھتے ہیں کہ "نہ گالی دو ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا دوسرے کو پکارتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے جواب میں اللہ کو عداوت کے ساتھ، بے علمی میں برا کہیں گے"؛ یعنی تم ان کے بت یا ان کے طواغیت کو گالی دو گے تو وہ تمہارے اللہ کو بھی گالی دیں گے، اور یہ سبِّ اللہ کا تعلق ہے، جبکہ ان کے علم میں تمہارے اللہ پر کوئی الزام نہیں۔
تطبیقی نکات: اگر کوئی مسلم حکومت یا ملک کی دینی مزاج والی سیاست کی مخالفت کرے تو اسے اس طرح بیان کرنا چاہیے کہ اللہ یا اسلام کی ذات کو برا نہ کہا جائے۔ تنقید میں ذاتِ اللہ، ذاتِ نبی، یا عام اسلامی مفہومات کو برا بھلا کہنے کی بجائے، سیاسی تصوّر، فیصلے، اور عمل کی نشان دہی کی جائے۔
5۔ (فتاوى إسلام ويب : حکم سب الحكام)
اس فتاویٰ میں لکھا ہے کہ حاکموں کو گالی دینا اور لوگوں کو ان کے خلاف لڑنے پر اُبھارنا زمین میں فساد ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکام دعوت کو دبانے، دعوت کو ختم کرنے، دعوت کے داعیان اور مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے سختی کریں۔
تطبیقی نکات: اگر کوئی مسلمان ملک کی سیاسی یا اخلاقی کمزوریوں کی نشان دہی کرے تو۔۔۔ استدلال، شواہد، اور منطقی توجیہات کے ساتھ ہو۔ عام مسلم عوام کو نہیں بلکہ حکام یا ذمہ داران کو نشانہ بنائے۔ نفرت، بغاوت، یا تشدد کی دعوت دینا حرام ہے، اور اس سے اسلامی دعوت کے خلاف ردی عمل آتا ہے۔
6۔ (دعوتِ اسلامی : اردو تفسیر)
آیت کا لفظ "نہ گالی دو" یہ ہے کہ صرف عام سبّ سے منع فرمایا گیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسی اصول پر یہ بھی داخل ہے کہ مسلمانوں، خاص طور پر مسلم امت کے گروہوں، ممالک اور حکومتوں کے خلاف بے ترتیب، تحقیر آمیز اور گالی نما تنقید جائز نہیں ہے، لیکن علمی، مصلحتی اور مودبانہ نقد جائز ہے۔
تطبیقی نکات: مسلم ملک یا حکومت کی تنقید کرتے وقت۔۔۔ لہجہ گالی نما ہرگز نہ ہو۔ مقصد علمی بحث، اصلاح، اور توجیہ ہو، نہ کہ عام مسلمانوں کو بدنام کرنا یا تحقیر کرنا۔ اگر تنقید متوسط، علمی، اور مثبت لائحہ تکمیل کے ساتھ ہو تو یہ نہ فقط جائز بلکہ مطلوب ہے، لیکن اگر وہ سبّ، تحقیر، یا توحش کا سبب ہو تو اسے ترک کرنا چاہیے۔
7۔ (فتاویٰ اخلاقیاتِ سبّ و شتم)
اس فتاویٰ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان کو بغیر حقِ سبّ کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اور نہ ہی اس کے القاب یا اس کی صفات کے ذریعے اسے گالی دینا جائز ہے، کیونکہ یہی نزاع، فساد، اور نفرت کا سبب بنتا ہے۔
تطبیقی نکات: اگر کوئی مسلم ملک یا حکومت کی تنقید کرے تو۔۔۔ لوگوں کی ذاتی تشہیر، تحقیر، یا گالی سے گریز کرے۔ تنقید سیاسی، قانونی، اور معاشرتی معاملات تک محدود رہے، نہ کہ ذاتی، قومی، یا مذہبی اقدار کے خلاف ہو۔ اگر کسی مسلمان فرد یا ملک کے خلاف تکفیر یا رُجوعِ دین کا اندیشہ ہو تو اسے خاص احتیاط سے کام لینا چاہیے، اور اس میں آیات و احادیث کی تصریح کے بغیر ایسا اقدام نہ کرے۔
اختتامیہ:
اگر کوئی مسلم ملک یا حکومت کی تنقید کرے تو یہ حدود مدنظر رکھے:
* تنقید کا مقصد اصلاح، اصلاحِ سیاست، اور مصلحتِ دین ہو، نہ کہ نفسِ انتقام یا تحقیر۔
* الفاظ مودبانہ، مدلل، اور علمی ہوں، گالی یا تحقیر نہ ہو۔
* حقیقی یا امکانی سبقِ اللہ، سبقِ دین، یا فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے نرم اور تدریجی طریقۂ عمل منتخب کرے۔
* عام مسلمان عوام کو نہیں بلکہ حکام، ادارے، یا غلط فیصلوں کو نشانہ بنایا جائے۔
* اگر تنقید تکفیر، بغاوت، یا تشدد کی طرف جانے کا راستہ کھولے تو اسے ترک کرنا چاہیے۔
Respectful Criticism in Islam: Islamic Ethics of Nasihah, Sab, and Boundaries of Political and Social Critique


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں