آج سے تقریباً چالیس سال قبل کے ایک واقعے کا ذکر ہے۔
کلکتہ کے ہمارے عزیز دوست کا ایک افسانہ مقامی اخبار میں شائع ہوا۔ افسانہ جہیز جیسی قبیح سماجی رسم کے موضوع پر تھا۔ مجھے پسند آیا تو میں نے رائے دی کہ۔۔۔ یار، اسے فلاں رسالے میں بھی اشاعت کے لیے بھیجو (متذکرہ رسالے میں خود میرے افسانے تسلسل سے شائع ہوا کرتے تھے)۔ سو انہوں نے میری فرمائش کا خیال کر کے اپنا افسانہ فلاں رسالے کو بھیجا مگر بدقسمتی سے وہ مدیر کے نوٹ کے ساتھ واپس بھی آ گیا۔
ویسے ۔۔۔ یہ اردو رسائل کے اُس اچھے زمانے کا ذکر ہے، جب مدیران ناقابل اشاعت تخلیقات کو نہ صرف واپسئ ڈاک سے لوٹاتے تھے بلکہ چند سطری وضاحت بھی کرتے تھے کہ تخلیق کیوں ناقابل اشاعت ہے؟ زیادہ تر وجہ یہی بتائی جاتی کہ: ہمارے رسالے کی پالیسی و معیار کے مطابق نہیں ہے۔
مدیر صاحب نے یہی کچھ وجہ لکھی مگر ساتھ ہی ایک سطر مزید یوں کہ: برائی کا سرسری ذکر ٹھیک سہی، مگر افسانے میں تفصیل کے بیان سے برائی کی تشہیر کا شبہ ہوتا ہے!
ہمارے دوست نے جواباً میرے سامنے (بذریعہ خط) مدیر کی کوتاہ علمی کا مذاق تو اڑایا ہی مگر میرے استفسار پر وضاحت بھی کی کہ بعض اوقات افسانے میں برائی کو اور اس کے مختلف پوشیدہ و عیاں پہلوؤں کو وضاحت سے پیش کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، ورنہ لوگوں کو کیسے پتا چلے گا کہ انسانی مزاج یا رویے کا فلاں فلاں پہلو کس برائی سے جڑتا ہے؟ ہاں اسلوب منحصر کرتا ہے کہ قاری کی تربیت مقصود ہے یا چسکہ دلانا؟ منٹو کا اسلوب اس کے افسانوں کے ماحول اور پس منظر سے جڑا ہے، لیکن کوئی خواہ مخواہ کسی مختلف پس منظر میں محض منٹو کے اسلوب کی نقالی پر کمربستہ ہو تو وہ ضرور قابل گرفت معاملہ ہوگا۔
بہرحال۔۔۔ مجھے اپنے دوست کی اس مدلل بات سے اتفاق کرنا پڑا کہ بےشک، بعض اوقات برائی کا سرسری ذکر نہیں بلکہ تفصیلی بیان ضروری ہوتا ہے۔
اب آئیے چالیس سال بعد کے ماحول، یعنی کہ آج کے سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ زمانے میں چلے آتے ہیں۔
فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام وغیرہ پر کیا ہو رہا ہے؟ تصویری پوسٹر، کارٹون یا چند سطور کا بیانیہ ۔۔۔
کہ آج کل طول طویل پڑھنے کی فرصت ہی کسے ہے؟
تو وہ پرانا اصول کہ: "برائی کا سرسری ذکر کوئی خراب بات نہیں" آج کیسے ٹھیک کہلایا جا سکتا ہے؟
آجکل تو سرسری ذکر ہی ہوتا ہے ۔۔۔ مگر اس میں بھی اتنی گہرائی ہوتی ہے کہ دس صفحات کی تفصیل بھی شاید آج کے اس "سرسری" تصویری پوسٹر یا کارٹون کا مقابلہ نہ کر سکے۔
کسی فرد، گروہ، ادارہ، جماعت، تنظیم، علاقہ، ملک وغیرہ ۔۔۔ کا مذاق اڑانا ہو یا ذلیل کرنا ہو، لوگ باگ کارٹون بنا کر وائرل کر دیتے ہیں یا تصویری پوسٹر میں کسی مضحکہ خیز قول کے ساتھ فریق مخالف کا نام جوڑ دیتے ہیں ۔۔۔ یا پھر ۔۔۔ کسی متنازع/معیوب تصویر کے ساتھ یک سطری چبھتا فقرہ جوڑ کر فریق مخالف پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور جو سنجیدہ اور معتبر سوشل میڈیا صارفین ان سب کو صرف یہ سوچ کر شئر کرتے ہیں کہ: سماج کو آئینہ دکھایا جائے!
تو بےشک! ہم ایسے موقع پر کہنا چاہیں گے کہ برائی کو شئر کرنا بھی ایک معنوں میں برائی کی تشہیر میں حصہ لینے کے مترادف ہے!!
(نوٹ: برائی کا حوالہ یا متنازع/معیوب پوسٹر/متن کا حوالہ دے کر علمی یا تحقیقی مضمون یا مقالہ لکھنا ایک الگ بات ہے، جس سے کسی بھی ذی شعور قاری کو اختلاف نہیں ہوگا)۔
فیس بک پر اپنی ٹائم لائن کی سنجیدگی اور بردباری کا ایک موٹا سا اصول یہ بھی ہے کہ۔۔۔
کسی بھی فرقہ/طبقہ کے افراد کی کینہ حسد مغلظات بھری تحریر/تصویر کو اپنی ٹائم لائن پر شئر نہ کیا جائے۔۔۔
اس طرح کی دانستہ/نادانستہ حرکت معیوب تشہیر تو ہے ہی، اس کے علاوہ۔۔۔
* فریقِ مخالف کے خلاف ہمارے ذہنی تحفظات کا اظہار بھی ہے، کیونکہ ہم بباطن چاہتے ہیں کہ دنیا اس کی فلاں فلاں طرز کی بدمعاشی اور کمینگی سے واقف ہو۔
* یہ حرکت مخالفین کو اسی سطح پر اتر کر جواب دینے کی ترغیب دلا کر سوشل میڈیا پر انتشار پسندی کی راہ کو ہموار کرتی ہے۔
* ایسی پوسٹس کو شیئر کرنا دراصل غیر شعوری طور پر منفی مواد کی تشہیر اور تقویت کا سبب بنتا ہے، کیونکہ الگورتھم اسے مزید پھیلاتا ہے اور یوں ہم انجانے میں اسی زہر کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
علامہ محترم فرما گئے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن !!
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
9/اپریل/2026ء
Social Media's Role in Promoting Evil: Dahej Story to Viral Cartoons


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں