*****
از: ڈاکٹر عمر بن حسن (حیدرآباد)۔
11/اپریل/2026ء
ڈاکٹر عمر بن حسن
حیدرآباد کے جواں سال ادب دوست ابھرتے طنز و مزاح نگار ہیں۔۔۔ اکثر و بیشتر اردو دنیا اور سوشل میڈیا کی ادبی و سماجی شخصیات کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے بلکہ بقول حیدرآبادی محاورے کے، ہاتھ پہ لیتے رہتے ہیں۔
آج ان کی نظرِ کرم اِس حقیر پرتقصیر پر پڑی ہے ۔۔۔ ایک ایسے واٹس ایپ گروپ میں درج ذیل خاکہ پھینک مارا ہے جہاں یہ ناچیز ہمیشہ دو دو تلواروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی پر کمربستہ رہتا ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب موصوف سے کافی عرصے سے شناسائی ہے اور ملاقاتیں بھی، ہمارے شہر کے معروف ڈاکٹر اور بین الاقوامی طنز و مزاح نگار ڈاکٹر عابد معز کے شاگردِ رشید کہلانے کا بھی شرف رکھتے ہیں۔ آج کل کچھ مصروفیات کے باعث ڈاکٹر صاحب نے اپنی فیس بک ٹائم لائن کو آف کر رکھا ہے ۔۔۔ لہذا ان کی اجازت سے ان کا تحریر کردہ خاکہ یہاں پیش ہے۔۔۔
تعمیر پبلیکیشنز کی مکرم نیازیاں
چاند صورتیں اور خوبصورت نام اکثر دغا دیتے ہیں۔ الفلاح، النور اور البراق جیسے مقدس ناموں کی آڑ لے کر کروڑوں روپے کے غبن کئے جا چکے ہیں۔ تعمیر پبلیکیشنز جیسے پیارے نام کے متعلق مجھے کسی طرح کی بدگمانی نہیں ہے۔ یہ واقعی ایک تعمیری ادارہ ہے لیکن واضح طور پر کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کس کی تعمیر سے متعلق ہے، مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی!
تعمیر پبلیکیشنز اور تعمیر ویب پورٹل کے صدر مکرم نیاز صاحب گوناگوں صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ کچھ ہلکے لوگ اپنی شخصیت کا وزن بڑھانے کے لئے انجینئر، آرکیٹکٹ اور سینیئر این آر آئی جیسے دم چھلّوں کو اپنے نام کا مستقل حصہ بنانے پر مُصر رہتے ہیں۔ یہ "رئیس المتشاعرین" دو منٹ بھی کسی علمی موضوع پر گفتگو نہیں کر سکتے اسلئے کہ ان کی خود پسند زندگی 'لفظوں کی خریداری' اور 'زر خرید خوشامدی' کے سہارے گزرتی ہے۔ مکرم نیاز ایسی اوچھی حرکتوں سے بہت دور ہیں۔ ان سے مل کر پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ نہ صرف ایک بڑے ادیب، افسانہ نگار، انجینئر، ویب ڈیزائنر اور پبلشر ہیں بلکہ معروف شاعر روف خلش مرحوم کے فرزند ہیں، اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا !
وہ سلسلہ دَرہم بَرہم میں بیعت ہیں اور اس مسلک کی تمام تعلیمات پر سختی سے کاربند رہتے ہیں۔ ذکر و دعا کے باب میں 'ڈالر کی تسبیح' کے ورد کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں کسی بھی موضوع پر گفتگو چل رہی ہو یہ آستین چڑھا کر کود پڑتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ انھیں مد مقابل کی پگڑی اچھالنے سے زیادہ دھوتی کھینچنے کا شوق ہے۔ ڈیجیٹل ٹکنالوجی، یونیکوڈ، ان پیج، اردو کا مستقبل وغیرہ پر گفتگو کے تمام حقوق بلا شرکت غیرے وہ اپنے نام کر چکے ہیں۔ اگر کوئی سادہ لوح ان موضوعات پر قلم اٹھانے کی حماقت کرے تو مکرم بھائی اس کی شخصیت پر رَندا پھیر دیتے ہیں۔ موصوف بنیادی طور پر روایت شکن ہیں لیکن ذیلی طور پر خاطر شکن، 'گروپ چیٹ' شکن اور شکن در شکن واقع ہوئے ہیں، دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!
تعمیر پبلیکیشنز عمومی طور پر مشہور و معروف ادیبوں کی تخلیقات شائع کرتا ہے، لیکن صدر ادارہ کی ادبی سخاوت جب جوش میں آتی ہے تو وہ اُن جیسے نسبتاً غیر معروف اور گمنام ادیبوں پر کرم فرماتے ہیں۔ گاہے گاہے مکرم نیاز صاحب خود اپنی کتابیں چھاپ کر یہ خلا پر کرتے رہتے ہیں۔ مکرم صاحب ڈیجیٹل میڈیا کے آدمی ہیں۔ اپنے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوں میں بھی سوشل میڈیا کی منافع بخش تکنیک کو استعمال کرتے ہیں۔ جس طرح ایک منٹ کی بات کو پھیلا کر دس منٹ کی یوٹیوب ویڈیو بنائی جاتی ہے، مکرم صاحب تیس چالیس صفحہ کے مواد کو بڑے حروف میں چھاپ کر سو صفحہ کی کتاب بنا دیتے ہیں اور پھر تشہری مہم، رسم اجراء، امیزون اور ڈالرز ہی ڈالرز۔۔۔
بقول شخصے مکرم صاحب حیدرآباد دکن سے زیادہ شمالی ہند میں مشہور ہیں اور شمالی ہند سے بھی زیادہ مشہور پاکستان میں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اردو اکیڈمیاں انھیں ایوارڈز دینے سے کتراتی ہیں۔ خود حیدرآباد یعنی تلنگانہ اردو اکیڈمی نے بھی انھیں کوئی قابل قدر ایوارڈ سے نہیں نوازا ہے۔ بدلے میں مکرم بھائی وقتاً فوقتاً اردو اکیڈمی کو بند اور کھلے لفظوں میں نوازتے رہتے ہیں۔
یوم جمعہ کی اہمیت اور فضیلت سے کسے انکار ہے۔ اس روز مومنین کے قلوب نرم اور روحیں تروتازہ ہوتی ہیں۔اس روحانی بالیدگی کے عالم میں لوگ راہ خدا میں صدقات اور خیرات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ مکرم بھائی نے مؤمنين کے اس جذبہِ خیر سے فیض اٹھانے کے لئے ہفتہ واری "جمعہ مبارک" کالم شروع کیا ہے ، جو خاصا مقبول بھی ہے۔ فیس بک پر لائک اور کمنٹس کی کھنکتی ریزگاری کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب ایک کالم جمعہ جیسے عظیم دن سے منسوب ہو جائے تو اس میں خیر و برکت کا پہلو غالب آ جاتا ہے۔ حقیقت پسندانہ اور روحانی نقطہ نظر یہی ہے کہ اسے قلمکار کی لیاقت سے زیادہ عید المومنین کی برکت اور سعادت سمجھا جائے۔
بقول شخصے مکرم بھائی کاپی رائٹ قوانین کی "کمزوری" کو اپنی "زندگی" کا سامان بنائے ہوئے ہیں۔ مشہور ادیبوں کی تخلیقات کو پی ڈی ایف اور مضامین کی شکل میں "تعمیر ویب پورٹل" کی زینت بنا کر دوسروں کے خونِ جگر کو اپنی ویب سائٹ کے "ٹریفک" میں تبدیل کرتے ہیں۔ بقول اُسی شخصے جس نے ہمیں نیاز کی تمام صیغہ راز والی باتیں بتائی ہیں مکرم نیاز کی قلبی آرزو ہے کہ "قدیم ادب" کے قبرستان پر ایک شاندار "ڈیجیٹل محل" تعمیر کیا جائے۔ واللہ اعلم۔ وہ جانتے ہیں کہ جس ملک میں انسانی جان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو، وہاں "لفظوں کی ملکیت" کا مقدمہ کون لڑے گا؟
اپنی طبعِ عیب جُو کے زیر اثر مکرم نیاز کی مناسب نکتہ چینی تو کر لی لیکن کھری بات یہی ہے کہ زبان و ادب کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر بِھڑ جانے والا یہ شخص درحقیقت اردو کا سچا سپاہی ہے۔ اس کے جذبہ کی صداقت اور خلوص سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لفظوں کی عمارت کھڑی کرنا سول انجینئر مسٹر مکرم نیاز کی "پیشہ ورانہ ضرورت" نہیں جذبہ صادق ہے ، ان عمارتوں کے درو دیوار سے خالص عشق چھلکتا ہے۔ لیاقت ڈگری کا نام نہیں لگن کا نام ہے۔ پرانے مقالوں کی جگالی کرنے والے میراثِ اردو کے "ناخلف میراثی" جن کی بھگدڑ ڈگریوں اور عہدوں کی تقسیم تک محدود ہے، زبان و ادب کی ترقی میں روڑا بنے ہوئے ہیں۔ مکرم نیاز جیسے چند 'غیر اردو داں' عشاق نے اردو کی بقا اور فروغ کے لئے بے دریغ اور بے لوث کام کیا ہے۔ اسے "قلم اور دوات" سے نکال کر "کی بورڈ اور اسکرین" پر منتقل کر دیا ہے۔ اسے نفسیاتی گہرائی، منطقی اسلوب اور سائنسی شعور عطا کیا ہے۔ ان جیسے لوگوں کی خدمات اور اثر پذیری کا اگر تحقیقی جائزہ لیا جائے تو 'جامعاتی مجاہدین اردو' کے مقابلے میں ان مخلصین کا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔
عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا
جانے کیا چیز تھی جو ہم سے لکھی ہی نہ گئی


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں