آبنائے ہرمز: طاقت کا دعویٰ یا قانون کی زنجیر؟
دنیا کے 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔۔۔ مگر کیا ایران واقعی اسے بند کر سکتا ہے؟
آبنائے ہرمز کے بارے میں سوشل میڈیا کا اکثر بیانیہ جذباتی یا سیاسی ہوتا ہے، مگر قانونی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ بین الاقوامی قانون ریاستی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی مفاد کو بھی تحفظ دیتا ہے۔ اسی توازن کی وجہ سے کوئی ایک ملک، خواہ وہ جغرافیائی طور پر مضبوط کیوں نہ ہو، عالمی تجارتی شہ رگ کو اپنی مرضی سے بند کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔
ذیل میں اسی موقف پر مبنی پانچ مستند حوالے ملاحظہ کیجیے۔
نوٹ:
United Nations Convention on the Law of the Sea (UNCLOS)
دراصل اقوامِ متحدہ کا بنایا ہوا ایک عالمی معاہدہ ہے جو سمندروں کے استعمال کے قواعد طے کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ طے کرتا ہے کہ کون سا سمندر کس ملک کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور کہاں سب کو برابر حقوق حاصل ہیں؟ اسی قانون کے تحت کچھ اہم آبی راستوں (جیسے آبنائے ہرمز) کو بین الاقوامی گزرگاہ قرار دیا گیا ہے، جہاں ہر ملک کے جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی آمدورفت بغیر کسی سیاسی دباؤ کے جاری رہ سکے، اور کوئی ایک ملک اپنی جغرافیائی پوزیشن کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
1) اَن-کلوس (UNCLOS) کا بنیادی اصول:
یہ بنیادی نکتہ واضح کرتا ہے کہ UNCLOS کے تحت آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جہاں "transit passage" کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق تمام ممالک کے جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کا حق حاصل ہے۔ ساحلی ریاستیں اس حق میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ مزید یہ کہ اس گزرگاہ کو معطل کرنا بھی قانونی طور پر ممنوع ہے۔ یوں قانون عالمی تجارت کے تسلسل کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔
حوالہ:Transit passage shall not be impeded… shall not be suspended
https://chinaus-icas.org/research/irans-closure-of-the-strait-of-hormuz-as-a-reprisal-to-us-israeli-joint-attack-a-legality-analysis/
2) اَن-کلوس (UNCLOS) آرٹیکل 44:
اَن-کلوس (UNCLOS) کا آرٹیکل نمبر:44، ساحلی ممالک پر واضح پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس کے مطابق کوئی بھی ریاست ٹرانزٹ گزرگاہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی اور نہ ہی اسے معطل کر سکتی ہے۔ اس قانون کا مقصد عالمی سطح پر توانائی اور تجارت کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا قانونی ذمہ داری ہے، نہ کہ محض سیاسی انتخاب۔
حوالہ:States bordering straits shall not hamper transit passage… no suspension
https://www.asil.org/insights/volume/16/issue/16/transit-passage-rights-strait-hormuz-and-iran%E2%80%99s-threats-block-passage
3) یکطرفہ بندش کی ممانعت:
یہ بات واضح ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کا یکطرفہ حق حاصل نہیں۔ خاص طور پر عمان جیسے دوسرے ساحلی ملک کی موجودگی اس معاملے کو مزید مشترکہ بناتی ہے۔ اس لیے کسی ایک ملک کی جانب سے مکمل کنٹرول کا دعویٰ قانونی بنیاد سے محروم ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
حوالہ:Iran lacks the right to unilaterally 'close' the Strait
https://chinaus-icas.org/research/irans-closure-of-the-strait-of-hormuz-as-a-reprisal-to-us-israeli-joint-attack-a-legality-analysis/
4) بین الاقوامی روایت اور عدالتی نظیر:
بین الاقوامی روایت اور عدالتی فیصلوں کے مطابق، جیسے Corfu Channel کیس، عالمی سمندری گزرگاہیں کھلی ہونی چاہیے۔ کورفو چینل عدالتی کیس نے یہ اصول قائم کیا کہ عالمی گزرگاہوں کو کھلا رہنا چاہیے۔ یہ صرف تحریری قانون نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ عالمی روایت بھی ہے۔ اسی بنیاد پر آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی سطح پر بحران تصور کیا جاتا ہے۔
حوالہ:International Court of Justice held that states enjoy a right of innocent passage through straits used for international navigation between two parts of the high seas, even without a treaty regime
https://www.aljazeera.com/opinions/2026/3/25/irans-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-an-international-crisis
5) اسٹریٹیجک اہمیت:
آبنائے ہرمز غیر معمولی عالمی اہمیت اس لیے رکھتا ہے کہ یہاں سے دنیا کے لیے بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اسے دنیا کے اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ محض کسی ایک ملک کا علاقائی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اسی عالمی اہمیت کی وجہ سے اس پر بین الاقوامی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے اور اس کی بندش کو دنیا بھر میں سنگین بحران تصور کیا جاتا ہے۔
حوالہ:The Strait of Hormuz is one of the world's most critical oil transit chokepoints... any disruption to flows through the Strait would have huge consequences for world oil markets
https://www.iea.org/about/oil-security-and-emergency-response/strait-of-hormuz
اختتامیہ:
ایران خود بھی اقوامِ متحدہ میں یہ اعتراف کر چکا ہے کہ وہ حقِ آمدورفت (گزرگاہی حقوق) کو تسلیم کرتا ہے۔ عملی طور پر بھی ایران کی جانب سے مکمل قانونی بندش کا کبھی بھی اعلان نہیں کیا گیا، البتہ صرف رکاوٹیں یا دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی رہی ہے۔
حوالہ:Tehran says it has no intention of formally closing the Strait and recognizes navigation rights under international maritime law
https://thedeepdraft.com/2026/03/13/live-wire-iran-says-strait-of-hormuz-open-but-demands-naval-coordination-seafarer-death-toll-rises-after-safesea-vishnu-strike/
Can Iran Legally Close the Strait of Hormuz? Facts, Law and Global Impact
Can Iran close the Strait of Hormuz?
No, Iran cannot legally close the Strait of Hormuz. Under international maritime law (UNCLOS), it is an international waterway where all ships have the right of transit passage, and coastal states cannot block or suspend navigation.
Why can Iran not close the Strait of Hormuz?
* It is an international strait under UNCLOS
* Ships have guaranteed transit passage rights
* Coastal states cannot suspend navigation
* It is shared with Oman, not controlled by one country
* Global trade and oil supply depend on it


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں