اردو انفارمیٹکس: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ترجمہ اور لسانی ڈیٹا کا مستقبل - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/03/29

اردو انفارمیٹکس: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ترجمہ اور لسانی ڈیٹا کا مستقبل

اردو انفارمیٹکس: لسانی ڈیٹا، ترجمہ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تناظر میں اردو زبان کے مستقبل کے امکانات!
ڈیجیٹل دور میں اردو کا مستقبل کیسے روشن ہو سکتا ہے؟
- اردو انفارمیٹکس vs اردو کمپیوٹنگ
- مشینی ترجمہ کے چیلنجز
1: میرا تجربہ: سعودی کنگڈم ٹاور سیفٹی سافٹ ویئر کا اردو ترجمہ
2: تعمیرنیوز کا 24,000 مضامین کارپس


مانو سمینار میں راقم الحروف مکرم نیاز کی تقریر کا متن۔۔۔
یہ مقالہ اس بنیادی بنیادی سوال کے گرد ترتیب دیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل عہد میں اردو زبان اپنی علمی اور عملی حیثیت کو کس طرح برقرار رکھ سکتی ہے؟


اکیسویں صدی میں زبان کا تصور نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسی ڈیجیٹل شکل اختیار کر چکی ہے جسے کمپیوٹر نظاموں کے ذریعے سمجھا اور برتا جا سکتا ہے۔ اسی تبدیلی نے لسانیات، ترجمہ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو ایک نئے علمی دائرے - یعنی انفارمیٹکس - کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔
اردو زبان، جو ایک مضبوط ادبی اور تہذیبی روایت رکھتی ہے، اس تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، تاہم اس کی رفتار دیگر عالمی زبانوں کے مقابلے میں نسبتاً سست ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معیاری لسانی ڈیٹا اور منظم ڈیجیٹل وسائل کی کمی ہے۔
میری تحقیق کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اردو انفارمیٹکس کو محض اردو کمپیوٹنگ کے مترادف سمجھنا ایک علمی مغالطہ ہے۔ درحقیقت اردو انفارمیٹکس ایک وسیع تر علمی دائرہ ہے جس میں زبان کو بطور ڈیٹا دیکھتے ہوئے اس کی ڈیجیٹل نمائندگی اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ اردو کمپیوٹنگ زیادہ تر تکنیکی مسائل، مثلاً فونٹس، کی بورڈ، انکوڈنگ اور سافٹ ویئر کی تیاری تک محدود رہتی ہے۔


اس مطالعے میں اردو زبان کی ساختی خصوصیات، خصوصاً اس کے نستعلیق رسم الخط، صرفی نظام اور نحوی ترتیب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہی خصوصیات، جو اردو کو ادبی سطح پر مالا مال بناتی ہیں، ڈیجیٹل نظاموں کے لیے مخصوص چیلنج بھی پیدا کرتی ہیں۔
مقالے کا مرکزی حصہ اردو انفارمیٹکس اور ترجمہ کے باہمی تعلق پر مبنی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں ترجمہ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ مشینی ترجمہ اور عصبی زبان ماڈلز نے زبانوں کے درمیان رابطے کو تیز اور وسیع تر بنایا ہے، تاہم اردو زبان کے لیے ان نظاموں کی کارکردگی ابھی تک محدود ہے، جس کی بنیادی وجہ معیاری اور وسیع کارپس کی کمی ہے۔
ترجمہ کے عملی پس منظر میں ایک ذاتی تجربہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ تقریباً ڈیڑھ دہائی قبل سعودی عرب میں کنگڈم ٹاور کی تعمیر کے دوران ایک کنسٹرکشن سیفٹی سافٹ ویئر نصب کیا گیا جس میں انگریزی کے ساتھ عربی، ہندی، بنگالی اور اردو کی سہولت شامل تھی۔ اس میں اردو ترجمہ کا کام مجھے سونپا گیا، جہاں تقریباً پانچ ہزار تکنیکی اصطلاحات اور مختصر ہدایتی جملوں کو انگریزی سے اردو میں منتقل کرنا تھا۔ اس وقت نہ مشینی ترجمہ موثر تھا اور نہ عصبی زبان ماڈلز دستیاب تھے، اس لیے یہ کام مکمل طور پر انسانی فہم اور سیاقی فہم پر منحصر تھا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ کثیر لسانی ماحول میں معیاری ترجمہ محض سہولت نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن جاتا ہے۔
اسی تسلسل میں بطور بانیِ تعمیرنیوز، میں ایک اور عملی پہلو کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس پلیٹ فارم پر تقریباً چوبیس ہزار متون شائع ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ اردو ادب اور فکری مباحث سے متعلق ہے۔ اوسطاً پندرہ سو الفاظ فی متن کے حساب سے یہ مجموعہ اٹھارہ ملین الفاظ سے زائد بنتا ہے۔ کارپس لسانیات کے اصولوں کے مطابق اس نوعیت کا متنوع اور مسلسل ڈیٹا ایک ممکنہ ویب ماخوذ کارپس کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے منظم اور قابلِ تجزیہ بنایا جائے۔ اس اعتبار سے یہ ذخیرہ اردو کے لیے ایک اہم لسانی وسیلہ بن سکتا ہے۔


ہندوستانی تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف ادارے اردو کے ڈیجیٹل فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان میں خصوصاً مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، این۔سی۔پی۔یو۔ایل اور سی-ڈیک جیسے ادارے قابلِ ذکر ہیں جنہوں نے اردو کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل لغات اور متنی ذخائر کی تیاری کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے۔ تاہم ان کوششوں میں مزید ہم آہنگی اور تسلسل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
آخر میں، میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اردو انفارمیٹکس محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ اردو زبان کے علمی مستقبل کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر اس میدان میں سنجیدہ اور منظم کام کیا جائے تو اردو زبان نہ صرف ڈیجیٹل دنیا میں اپنی موجودگی کو مضبوط کر سکتی ہے بلکہ عالمی علمی مکالمے میں بھی موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔


نوٹ:
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترجمہ کا دو روزہ قومی سمینار بعنوان:
"ترجمہ اور تغیر: زبان، ثقافت اور معاشرے کے باہمی روابط کا مطالعہ"
بتاریخ: 25-26 مارچ 2026ء، بمقام: سید حامد لائبریری آڈیٹوریم، مانو کیمپس، حیدرآباد۔


Keywords: Urdu informatics, Urdu computational linguistics, digital Urdu future, Urdu machine translation, Urdu language technology, Urdu linguistic data, Urdu digital corpus, Urdu tech terminology, Urdu AI translation, Urdu construction safety software
Urdu Informatics: Digital Future of Urdu Language
Urdu Informatics: Linguistic Data, Machine Translation, and Digital Technology Possibilities

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں