تقریباً نوے برس قبل کے حیدرآباد دکن کے ایک اسکول کا احوال
پروفیسر سید علی اکبر سابق صدر ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد (دکن) کی زندگی اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اقدار سے عبارت ہے۔ انہیں دیکھنے اور جاننے کے بعد کوئی بھی شخص انسانیت کی بقا اور تابناک مستقبل سے مایوس نہیں ہو سکتا۔ صحت مند علمی، ادبی اور سماجی مصروفیات کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا، ستائش کی تمنا اور صلہ کی پرواہ کیے بغیر خاموش طریقے سے مسلسل اور مستقل طور پر کام کیے جانا پروفیسر صاحب کا امتیازی وصف رہا ہے۔
جناب پروفیسر سید علی اکبر کو میں (منظور احمد) نے پہلی بار اس وقت دیکھا تھا جب مہتمم تعلیمات بلدہ کی حیثیت سے گورنمنٹ مڈل اسکول کاچیگوڑہ کے معائنہ کے لیے تشریف لائے تھے۔ میں اس وقت تعلیمی سال 1937-38ء میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔
ہمارے مڈل اسکول کے معائنہ کے سلسلے میں پروفیسر سید علی اکبر کے تشریف لانے کی اطلاع، ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے بھی سنی۔ معائنہ کے یہ معنی تھے کہ طالب علم، استاد، صدر مدرس اور اسکول کے دفتر کا پورا عملہ تیار رہے۔ چنانچہ سبھوں نے اپنی بساط بھر تیاری شروع کر دی۔ اسکول کی فضا میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ ہر طالب علم یہی سوچ رہا تھا کہ نہ جانے ہماری کلاس میں کس طالب علم سے سوالات پوچھے جائیں گے؟ سوالات کس مضمون سے متعلق ہوں گے اور معائنہ کے وقت ہماری کلاس میں کس مضمون کا پیریڈ چل رہا ہوگا۔ میں نے سوچا کہ تاریخ ، جغرافیہ، شہریت، سائینس، دینیات و اخلاقیات یا اردو جیسے مضامین میں سے کوئی مضمون ہو تو مجھے جوابات دینے میں سہولت اور دلچسپی ہوگی۔ دل ہی دل میں یہ دعا بھی تھی کہ خدا کرے کہ ریاضی کا پیریڈ نہ ہو۔ کیونکہ اس میں اپنا ٹٹو، اڑیل قسم کا تھا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو چلتا ہی نہ تھا۔
ادھر اساتذہ کے چہرے سمندر کی سطح کے سکون کا منظر پیش کر رہے تھے اور وہ اپنے اپنے مضامین میں طلباء کو حتی المقدور تیار کروا رہے تھے۔ باقاعدہ ریہرسل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح معائنہ کی تاریخ کے آتے آتے، ہر جماعت میں تمام مضامین کا بڑی عمدگی اور سلیقہ سے اعادہ ہوتا رہا۔ طالب علموں میں مسابقت کے جذبہ نے زندگی کی لہر دوڑا دی۔ ان تیاریوں کے بعد ہر طالب علم کی یہ تمنا تھی کہ سوالات سب سے۔ پہلے اُسی سے شروع ہوں بشرط اجازت جواب دینے میں پہل وہی کرے گا۔ اس طرح ، اپنی کلاس، اپنے مدرسہ اپنے استاد، اپنے صدر مدرس اور اپنے والدین یا سرپرست کا نام روشن کرے گا۔
ہر کلاس کے مانیٹر کے ذریعہ تمام مضامین کی ہوم ورک کی کاپیاں جمع کروا کے سلیقے سے رکھ دی گئیں۔ بالآخر خدا خدا کر کے معائنہ کا دن اور وقت آن پہنچا۔ طالب علم صاف ستھرے لباس میں ٹائم ٹیبل (نظام الاوقات) کے مطابق کتابیں اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے مقررہ وقت سے دس منٹ قبل اپنی اپنی جماعت میں حاضر تھے۔ پورے اسکول میں مکمل خاموشی تھی۔ البتہ سب کے دل، سینوں میں دھڑک رہے تھے۔ معائنہ کی گھڑی گویا محشر کی گھڑی تھی اور ہم سب عرصۂ محشر میں تھے۔ اور ہمارے اعمال کے دفتر چند منٹ میں پیش کئے جاتے والے تھے۔
بالآخر چپراسی نے اطلاع دی کہ پر وفیسر سید علی اکبر صاحب تشریف لا چکے ہیں، اور صدر مدرس صاحب کے اجلاس پر ہیں۔ پھر یہ اطلاع ملی کہ وہ صدر مدرس صاحب کے ساتھ کلاسوں کے معائنہ کے لیے نکل چکے ہیں۔ ہماری طالب علمی کے دور کی یہ روایت تھی اور طلبا اسے اپنا فرض سمجھتے تھے کہ کلاس میں ٹیچر، صدر مدرس یا کوئی اعلیٰ عہدہ دار داخل ہو تو ادیاً اور احتراماً کھڑے ہو جائیں۔
چنانچہ ہماری کلاس میں جیسے ہی صدر مدرس صاحب کے ساتھ جناب پروفیسر سید علی اکبر داخل ہوئے، ہم سب طلبا ایستادہ ہو گئے۔ اس کے بعد مہمان محترم نے ہم سب سے کہا کہ بیٹھ جائیے۔ طلبا بیٹھ گئے، معائنہ شروع ہوا۔ ہوم ورک کی کاپیاں دیکھی گئیں۔ مقررہ نصاب کے بارے میں متعلقہ مدرس صاحب سے سوالات کئے گئے۔ ختم شدہ اور ختم شدنی نصاب کی جانچ کی گئی۔ حاضری کا رجسٹر دیکھا گیا۔ ٹائم ٹیبل کے مطابق مضمون سے متعلق چند طلباء سے سوالات کئے گئے۔ پروفیسر سید علی اکبر کا پروقار اور سنجیدہ چہرہ ہم سب کی توجہ کا مرکز تھا۔ اب مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ کسی قسم کے سوالات کئے گئے۔ البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ مجھ سے کوئی سوال پوچھا نہ گیا۔ مجھ جیسے بعض اور طالب علم بھی تھے جو اضطراب و اشتیاق کے ساتھ سوالات کے منتظر رہے۔ معائنہ کے ختم ہونے تک تمام طالب علموں پر برزخ کی سی کیفیت طاری رہی لیکن ہم سب کیلئے یہ بات باعث مسرت تھی کہ معائنہ اطمینان بخش رہا۔ اور معائنہ کنندہ عہدہ دار کی زبان سے تعریف و تحسین کے الفاظ سننے کا ہمیں موقع ملا۔ ان کے کلاس سے باہر تشریف لے جاتے ہی ہمارے مدرس صاحب نے طالب علموں کی ذہانت مستعدی اور حاضر جوابی کی تعریف کی۔ اسکول کے معائنہ کے اختتام پر صدر مدرس صاحب کی طرف سے تعطیل کے اعلان نے تمام طلبا کی مسرت میں دوگنا اضافہ کر دیا۔
یہ برسوں قبل کی باتیں ہیں اور آج ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں۔
اب نہ وہ طالب علم رہے اور نہ وہ استاد۔
کسی کس کا ماتم کریں اور کس کس کو روئیں اور کب تک؟
ہر روز کے رونے کو کہاں سے جگر آئے؟
تعلیم اب عام ہو گئی ہے۔ حصول تعلیم کے سلسلے میں ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرنے کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن تحصیل علم کا شوق ، بازار کی کوئی جنس تو نہیں کہ اُسے خرید کر مہیا کر دیا جائے۔ جناب پروفیسر سید علی اکبر علم کا سرچشمہ ہیں۔ ان کی شخصیت آج کے طالب علم اور استاد کیلئے مینارۂ نور ہے۔ کاش ! یہ مینارۂ نور، طالب علم اور استاد سب کا مرکز نظر ہو جائے اور اکتساب و فیض علم کا یرخلوص جذبہ صحیح معنوں میں عام ہو جائے۔
(ماخوذ مضمون از: منظور احمد، شائع شدہ: ماہنامہ 'سب رس' حیدرآباد - پروفیسر سید علی اکبر نمبر ، ستمبر و اکتوبر 1983ء)
کمپوزنگ، ترتیب و پیشکش: مکرم نیاز، حیدرآباد۔ بروز منگل، 31/مارچ 2026ء
A 1938 School Inspection in Hyderabad Deccan: Memories of Prof. Syed Ali Akbar and the Nizam Era Education System


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں