کیا واقعی سعودی عرب نے امریکی جنگی طیاروں کے لیے نیا ایئر بیس کھول دیا ہے؟ یا یہ صرف ایک وائرل مگر غیر تصدیق شدہ کہانی ہے؟
خلیجی خطے میں کشیدگی کے بیچ ایک خبر تیزی سے پھیل رہی ہے کہ طائف میں واقع کنگ فہد ائربیس کو امریکہ کے لیے کھول دیا گیا ہے تاکہ ایران کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں۔ لیکن جب ہم اس خبر کو مستند عالمی ذرائع کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بڑی اسٹریٹجک پیش رفت اگر واقعی ہوتی، تو رائٹرز، بی۔بی۔سی یا دیگر بڑے میڈیا ادارے اسے نمایاں طور پر رپورٹ کرتے۔ جبکہ اس وقت یہ خبر زیادہ تر محدود یا غیر مرکزی ذرائع تک ہی موجود ہے۔ اس لیے اس کو حتمی حقیقت سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا۔ اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک پورا "چین ری ایکشن" بیانیہ بھی گردش کر رہا ہے ۔۔۔ کہ یہاں سے حملے ہوں گے، پھر ایران جواب دے گا، میزائل مکہ کے اوپر گریں گے، اور یوں ایک بڑی جنگ کا جواز پیدا ہوگا۔ مگر یہ تمام دعوے زیادہ تر قیاس آرائی اور جذباتی تجزیے ہیں، نہ کہ مستند اسٹریٹجک حقائق۔
* اصل سوال یہ نہیں کہ خبر سچی ہے یا جھوٹی۔۔۔ بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ہر وائرل دعوے کو بغیر تصدیق کے مان لیتے ہیں؟
پہلی بات تو یہی کہ یہ ویب سائٹ ۔۔۔۔۔
https://houseofsaud.com
کوئی سرکاری یا عالمی میڈیا ادارہ نہیں ہے!
ویب سائٹ خود کو ایک (آزاد آن لائن اشاعتی پلیٹ فارم) قرار دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ:
یہ ویب سائٹ نہ تو سعودی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ ہے، نہ ہی بی۔بی۔سی، رائٹرز یا الجزیرہ جیسا کوئی بڑا ادارہ ہے۔
مذکورہ خبر کا عنوان:
Saudi arabia opens king fahd air base to US forces as Iran War shifts west
(ترجمہ: سعودی عرب نے کنگ فہد ایئر بیس کو امریکی افواج کے لیے کھول دیا کیونکہ ایران جنگ مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے۔)
تصدیق شدہ نہیں لگتا۔ طائف میں واقع کنگ فہد ائربیس سعودی فضائیہ کا ایک اڈہ ہے، اور عام طور پر امریکہ سعودی عرب کے اندر اپنے مستقل خودمختار اڈے نہیں چلاتا بلکہ میزبان ملک کی اجازت سے محدود تعاون کرتا ہے۔ اگر اتنی بڑی سطح پر کسی نئے اڈے کو "جنگی استعمال" کے لیے کھولنے کا فیصلہ ہوتا تو اس کی واضح اور وسیع کوریج معتبر عالمی میڈیا میں ضرور نظر آتی، جو اس وقت موجود نہیں۔
ہمارے ایک محترم و معزز قلمکار نے اسی خبر کی بنیاد پر اپنی تازہ فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے ۔۔۔
""۔۔۔ اب ہو گا یہ کہ جب یہاں سے امریکی بلکہ اسراٸیلی طیارے بھی اڑ کر ایران پر بمباری کریں گے تو ردعمل میں ایران نے میزیل ٹھوکنے ہیں۔ ان میزیلوں کو جب انٹرسیپٹ کیا جاۓ گا تو وہ گریں گے مکہ مکرمہ کے اوپر ۔ پھر سعودیہ شور مچاۓ گا کہ ایران نے دنیا کے سب سے مقدس مذہبی مرکز کی تقدیس مجروح کی ھے تو مسلم دنیا کے جذبات ہونے لگیں گے مجروح۔ یہاں سے سعودی اتحاد کو ملے گا جنگ میں شامل ہونے کا جواز ۔۔۔ اور پھر امریکہ و اسراٸل کی پوری ہو جاۓ گی وہ تمنا کہ کسی طرح خلیجی ممالک ایران کے ساتھ معرکہ آرا ہوں۔ یوں امریکہ و اسراٸیل کے حصے کا کام کریں گے عرب سارے۔ دفاعی معاہدے کے مطابق پاکستان کو بھی اس یدھ میں کودنا پڑے گا۔""
جہاں تک تجزیہ نگار کے بالا مذکورہ بیان کردہ ممکنہ منظرنامے کا تعلق ہے، وہ زیادہ تر قیاس آرائی اور ذاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔ جنگی حکمتِ عملی اس قدر سادہ یا سیدھی لکیر میں نہیں چلتی کہ کسی ایک اڈے کے استعمال سے لازماً وہ تمام نتائج سامنے آئیں جن کا تجزیہ نگار محترم نے ذکر کیا ہے۔ اسی طرح مقدس مقامات کے اوپر میزائل گرنے، یا اس سے عالمی ردعمل پیدا کرنے جیسے دعوے انتہائی حساس اور غیر یقینی عوامل سے جڑے ہوتے ہیں، جن کی پیش گوئی اس انداز میں کرنا، کسی عام قلمکار یا سوشل میڈیا تجزیہ نگار کے لیے درست عمل نہیں۔
مجموعی طور پر بہتر نقطۂ نظر یہی ہے کہ ایسی خبروں اور تجزیوں کو احتیاط سے لیا جائے اور صرف مستند، بین الاقوامی ذرائع کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس طرح کے بیانیے اکثر جذباتی اور مبالغہ آمیز ہوتے ہیں، جنہیں بغیر تصدیق آگے بڑھانا درست نہیں۔
ویب سائٹ (ہاؤس آف سعود ڈاٹ کام) کا ایک معروضی جائزہ:
(1)
یہ ویب سائٹ اپنے "اباؤٹ" صفحے کی معلومات میں وضاحت کرتی ہے کہ:
یہ ویب سائٹ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات، پروفائلز اور تجزیہ فراہم کرتی ہے۔
یعنی: اس کا مواد اکثر تجزیاتی یا معلوماتی ہوتا ہے۔۔۔ اور ضروری نہیں کہ ہر چیز "مصدقہ بریکنگ نیوز" ہو۔
(2)
اس ویب سائٹ کی ایڈیٹوریل شفافیت محدود ہے!
یہ واضح نہیں ہے کہ۔۔۔ اس کے صحافی کون ہیں؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ ادارتی معیار (ایڈیٹورئیل اسٹینڈرڈس) کیا ہیں؟
جبکہ صحافت کا تجربہ رکھنے والا ہر فرد جانتا ہے کہ۔۔۔ یہ چیزیں کسی بھی نیوز ایجنسی یا پورٹل کی اعلیٰ ساکھ کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔
(3)
مین اسٹریم میڈیا میں "ہاؤس آف سعود" کی متذکرہ خبر کا حوالہ کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر ایسی کوئی خبر واقعی بڑی ہوتی (مثلاً: "سعودی عرب نے نیا ایئر بیس امریکہ کو جنگ کے لیے دیا")
تو لازماً اس کا تذکرہ رائٹرز، بی۔بی۔سی، سی این این یا الجزیرہ پر یقیناً بیان ہوتا۔
اگر اب تک ایسا نہیں ہوا ہے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہاؤس آف سعود کی مذکورہ خبر ابھی تک "مستند تصدیق" سے نہیں گزری۔
(4)
بےشک یہ ویب سائٹ مکمل جعلی نہیں ہے۔ لیکن اعلیٰ صحافتی معیار کی مصدقہ بھی نہیں ہے، لہذا اسے یہ سمجھنا زیادہ بہتر ہوگا:
medium-to-low credibility informational blog
(5)
اس ویب سائٹ کی خبریں، پڑھنے کے قابل ضرور ہیں مگر بغیر تصدیق کے، حتمی حقیقت نہیں مانی جا سکتیں۔
خاص طور پر: جنگ، فوجی اڈے، بین الاقوامی سیاست والی خبریں ہمیشہ درج ذیل مستند ذرائع ابلاغ سے تصدیق کی جانی چاہیے:
وال اسٹریٹ جرنل، اسوسی ایٹیڈ پریس، رائٹرز، بی۔بی۔سی، سی۔این۔این وغیرہ۔
اس مضمون کے درج ذیل فقرے:
جنگ، فوجی اڈے، بین الاقوامی سیاست والی خبریں ہمیشہ درج ذیل مستند ذرائع ابلاغ سے تصدیق کی جانی چاہیے: وال اسٹریٹ جرنل، اسوسی ایٹیڈ پریس، رائٹرز، بی۔بی۔سی، سی۔این۔این وغیرہ۔
کے جواب میں ایک صاحبِ علم نے استفسار کیا کہ:
رائٹرز، بی بی سی کیا معتبر سمجھے جائیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیا وہ ساری خبریں صحیح ہیں جو ان اداروں نے آل سعود کی بدمعاشیوں کے بارے میں نشر کی ہیں؟!
ہمارا سادہ سا موقف یہ ہے کہ۔۔۔
ایک بنیادی بات ہر باشعور قاری کو یاد رکھنا چاہیے!
کسی بھی بڑے میڈیا ادارے جیسے رائٹرز یا بی۔بی۔سی یا سی۔این۔این یا الجزیرہ کو "مکمل طور پر درست" یا "مکمل طور پر غلط" کہنا درست نہیں ہوتا۔
یہ ادارے عمومی طور پر اس لیے "معتبر" سمجھے جاتے ہیں کہ ان کے پاس واضح ادارتی اصول، ذرائع کی تصدیق کا نظام اور عالمی سطح پر جوابدہی کا معقول طرز پر طےشدہ ڈھانچہ موجود ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے کبھی غلطی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ہے کہ ان کی خبریں عموماً قابلِ اعتماد اور تصدیق شدہ ہوتی ہیں، اور اگر غلطی ہو تو وہ اصلاح بھی کرتے ہیں۔
جہاں تک کسی مخصوص ملک یا حکومت (مثلاً آل سعود) سے متعلق خبروں کا تعلق ہے، تو اصول یہی ہونا چاہیے کہ ہم ہر خبر کو اس کے شواہد اور ذرائع کی بنیاد پر پرکھیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ ہمارے موقف کے حق میں ہے یا خلاف؟ اگر ایک ہی موضوع پر مختلف معتبر ذرائع ملتے جلتے حقائق بیان کر رہے ہوں تو اس کی ساکھ بڑھ جاتی ہے، اور اگر اختلاف ہو تو مزید تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم "اندھی حمایت" یا "اندھی مخالفت" کے بجائے تنقیدی مزاج اور متوازن سوچ کو اپنائیں۔ معتبر ذرائع کا حوالہ دینے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ سو فیصد درست ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ عام سوشل میڈیا پوسٹس یا غیر معروف ویب سائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ بھروسا بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
بڑے بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی کھلے عام اصلاح کرتے ہیں۔ اس کے دو واضح ثبوت ذیل میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
بی بی سی:
بی بی سی کے پاس باقاعدہ Corrections & Clarifications کا نظام موجود ہے۔ مثال کے طور پر:
سنہ 2023ء میں غزہ کے ایک اسپتال کے دھماکے کی خبر میں بی۔بی۔سی نے ابتدائی رپورٹنگ میں کچھ غیر مصدقہ دعوے نشر کر دیے تھے۔ مگر بعد میں جب مزید حقائق سامنے آئے تو:
بی بی سی نے اپنی رپورٹ اپڈیٹ کی، اپنی زبان کو درست کیا اور واضح کیا کہ ابتدائی معلومات مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں تھیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی۔بی۔سی اپنی غلطی کو چھپانے کے بجائے درست کرتا ہے!!
رائٹرز (Reuters):
رائٹرز کے پاس بھی ایک مستقل نظام برائے "تصحیح کی پالیسی" موجود ہے، اور وہ اپنی خبروں میں واضح طور پر "تصحیح شدہ (CORRECTED)" لکھتا ہے۔
بطور مثال: مختلف مواقع پر رائٹرز نے۔۔۔ کسی شخصیت کے بیان کی غلط تشریح کی، یا کسی واقعے کی غلط تفصیل پیش کی ۔۔۔ مگر بعد میں اس نے خبر کو اپڈیٹ کیا اور اوپر واضح طور پر لکھا:
This story has been corrected…
یہی طریقہ کار عالمی صحافت میں شفافیت اور جوابدہی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اختتامیہ یہ کہ ۔۔۔ بڑے ادارے بھی غلطی کر سکتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ:
وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں، اسے درست کرتے ہیں اور ریکارڈ واضح رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ۔۔۔ انہیں سوشل میڈیا یا غیر مستند ویب سائٹس کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے اور آگے بھی سمجھا جاتا رہے گا!!
Are BBC and Reuters Trustworthy? Media Credibility, Corrections Policy, and Fact-Checking Explained


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں