کس رزق سے موت اچھی ۔۔۔؟! - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/03/16

کس رزق سے موت اچھی ۔۔۔؟!

rizq-e-halal-ki-talash-mein

زندگیِ نو
جماعت اسلامی ہند کا اہم اردو ماہنامہ ہے جو سنہ 1948ء سے جاری ہے، یعنی تقریباً 78 برس سے دہلی سے شائع ہو رہا ہے اور اب بھی باقاعدگی سے نکل رہا ہے۔ اب بھی اس کے قارئین کا ایک بڑا حلقہ پورے ہندوستان میں پایا جاتا ہے (جس میں ہمارا بھی شمار ہوتا ہے)۔
تنظیمی اور سماجی اصلاح کے میدان میں جماعت اسلامی، ہند کی دیگر مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں جس قدر سنجیدہ اور فعال ہے، اس کا اعتراف مخالفین بھی کسی نہ کسی سطح پر کرنے مجبور ہیں۔ اور، بقول شخصے، اردو ادب پر اہل تشیع کا غلبہ سہی مگر معاشرتی اصلاح کے میدان میں جماعت اسلامی ہند سے وابستہ مخلص و ہمدرد قلمکاروں کی ایک بڑی تعداد جو پائی جاتی ہے اس کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا جانا چاہیے۔
مگر یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف تبلیغ یا دعوت ہی اہم فریضہ ہے یا اس پر عمل یا عملی ترغیب دلانا بھی اتنا ہی اہم ہے؟ کیونکہ۔۔۔ بڑی عجیب بات ہے کہ جماعت کے رہنما، دانشور اور مفکرین جب فرمائیں کہ ۔۔۔
"ازالۂ غربت کے مقصد کا حصول فرد کی اہم اور ضروری ذمہ داری ہے، بےروزگاری کو دور کیا جائے۔۔۔ عمل کے صالح ہونے کی بنیاد ایمان کے بعد رزق حلال ہی ہے۔۔۔ محنت و مشقت سے رزق حلال کی کوشش، پھر اللہ ہی کی راہ میں خرچ، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔"
پھر ایسی تبلیغ اور ایسی تقریروں/تحریروں کے نتیجے میں مسلمان طبقے کی ایک بڑی تعداد، رزق حلال کی خاطر، خلیج کے مسلم ممالک کو جائے، اپنے اہل خانہ کو مالی تنگی سے بچائے، عزیز و اقارب کے ساتھ، محلہ، شہر، ریاست و ملک کے نادار خاندانوں کی اپنی استطاعت بھر مدد کرے، زکوٰۃ و خیرات کے معاملے میں کشادہ دلی دکھائے، زرمبادلہ کے ذریعے وطن اور ابنائے وطن کی خدمت میں حصہ لے تو ۔۔۔
تو اسی جماعت سے ایک طبقہ اٹھے اور اپنے روایتی نظریاتی اختلاف/اختلافات کی بنا پر نہ صرف خلیجی ممالک پر طعنہ زن ہو بلکہ ان ممالک میں رزق حلال کی محنت میں مصروف اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر یہ کہہ کر تیر برسائے کہ:
جو رزق کما رہے ہو، وہ حرام ہے۔۔۔ ایسے رزق سے، جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو، موت بہتر ہے!!
ذرا سوچیے یہ کیسی دیدہ دلیری ہے، کیسی دیوانگی اور کیسا نفاق ہے؟
جس رزق کی مسلسل تاکید کی جاتی ہے، اور جس کا عطا کرنا رب کی توفیق سے عمل میں آتا ہو، اسی کو نشانۂ ملامت بنا لیا جائے تو ایسے مبغوض رویوں کی کیا گرفت نہیں کی جانی چاہیے۔۔۔؟؟
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے "جنگ" کا بہانہ !!


سوشل میڈیا کے اس طبقے کو، جو ایک مسلم ملک سے اظہارِ مدح کی خاطر دیگر کچھ مسلم ممالک کی مذمت میں رات دن مشغول ہے ۔۔۔ انہی کے معتبر رہنماؤں اور قلمکاروں کے درج ذیل ارشادات کا سبق یاد کرانے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے!!

** ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک۔۔۔ از: محی الدین غازی ، زندگی نو، جولائی:2021ء

ازالہ غربت کے مقصد کا حصول نہایت اہم اور ضروری ہے۔ اس لیے اسے ریاست کی ذمہ داری قرار دینے سے پہلے فرد کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔۔۔ اگر کہیں اسلامی ریاست قائم نہیں ہے تو وہاں افراد اپنی سطح پر انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے غربت کے ازالے کی اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔ ازالۂ غربت کا مشن اتنا اہم ہے کہ اسے صرف مال داروں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ غریبوں کو بھی تاکیدی ترغیب دی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو اس میں حصہ لیں۔
۔۔۔ غریبوں کے اندر کمانے کا شوق پیدا کیا جائے۔ اس کے راستے دکھائے جائیں۔ کونسلنگ کے پروگرام ہوں۔ غریبوں کے اندر صحیح جگہ خرچ کرنے کا شعور پیدا کیا جائے۔ ایک دن بھی بے روزگار رہ جانے کو خطرناک قرار دیا جائے۔ بدلتے ہوئے حالات اور مستقبل کی متوقع تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے، اور سماج کو غربت کے چنگل میں پھنسنے سے قبل از وقت متنبہ کیا جائے۔ روزگار فراہم کرنے کی مقامی اسکیمیں اور پروگرام بنائے جائیں۔ محلے، گاؤں، شہر اور ضلع کی سطح پر مہمات منائی جائیں۔ سماج میں ان نمونوں کی ستائش کی جائے جو محنت اور جدوجہد کے ذریعے غربت سے باہر نکلنے میں کام یاب ہوئے۔ محض مال دار لوگوں کو آئیڈیل بنانے کے بجائے، محنت اور ایمان داری سے دولت کمانے والوں اور اپنی اور سماج کی حالت بدلنے والوں کو آئیڈیل بنایا جائے۔


** شکر و احسان۔۔۔ از: ڈاکٹر سلمان مکرم ، زندگی نو، مئی:2021ء

۔۔۔ وہ شخص جو خوب محنت و مشقت سے رزق حلال تلاش کرتا ہے دوڑ دھوپ کرتا ہے اور جب اللّہ تعالٰی اس کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اللّہ تعالٰی کا عطا کردہ یہ مال اللّہ تعالٰی کی خوشنودی کے لیے بے دریغ اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور صرف اللّہ تعالٰی سے اجر کا متمنی ہوتا ہے۔ اللّہ تعالٰی کا ایسے انسانوں سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ رزق حلال کی تلاش، دوڑ دھوپ اور خرچ تمام سرگرمیوں کو قرآن مجید جہاد فی سبیل الله کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔
۔۔۔ اللّہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ جہاں ایک مومن کو رزق حلال کی کوششوں اور اللّہ تعالٰی کے فضل کی تلاش پر ابھارتا ہے اسی طرح۔۔۔ اللّہ تعالی کی خوش نودی کے لیے کام کرنے والوں کو مہمیز کرتا ہے کہ ۔۔۔ شکر و احسان کی روش پر چلتے ہوئے انسانوں کی خدمت کریں اور ان کا فیض انسانوں میں عام کریں۔

** اسلامی معیشت۔۔۔ از: عفان احمد کامل ، زندگی نو، جون:2011ء

عمل کے صالح ہونے کی بنیاد ایمان کے بعد رزق حلال ہی ہے۔ اس کے بغیر عالم بے عمل ہو جاتا ہے اور عمل بے اثر ہو جاتا ہے اور جب کوئی عمل اپنا اثر کھو دیتا ہے تو پھر مطلوب نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔۔۔ معاش کے حلال ہونے کا مسئلہ بہت ہی اہم اور نازک ہے۔ آج اللہ کی نصرت کے شامل حال نہ ہونے کا بہت بڑا سبب حلال معاش اور حلال رزق کا نہ ہونا ہے۔ دوسری طرف بے روزگاری، بھوک اور افلاس کی مار اصل دین سے بڑھتی عملی و حقیقی دوری و بیزاری کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ حلال رزق اور حلال معاش کے مواقع پیدا کرنے کی طرف ہماری توجہ ہمہ جہتی ہونی چاہیے۔
۔۔۔ میدانِ عمل اور میدانِ مطالعہ و بحث دو مختلف چیزیں ہیں۔ مردم شناس ہونے کے لئے افراد کو عملی طور پر پرکھنا ہوتا ہے۔ محض تحریر و تقریر اور کانفرنسوں یا Public Meetings سے اصلیت واضح نہیں ہوتی ہے۔۔۔ جب حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، امیدیں ختم ہو جاتی ہیں تو لوگ بدظنی و مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ سمینارس کام آتے ہیں، نہ سمپوزیم اثرانداز ہوتا ہے اور نہ مقالات حوصلے کو جِلا دیتے ہیں۔


Keywords: Islamist hypocrisy, Gulf migrants halal income, Muslim migration GCC, South Asia labor Gulf, halal livelihood criticism, Jamaat-e-Islami controversy, Muslim workers Saudi UAE, ideological hypocrisy Islam, poverty alleviation Islam, halal rizq debate
Hypocrisy in Criticizing Gulf Migrants' Halal Earnings
Islamist Group Slams Muslim Brothers' Hard-Earned Gulf Income as Haram: Calls Death Better Than 'Flight-Shortening' Work

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں