پہلا سوال:
کیا سعودی عرب میں امریکی ائر بیس موجود ہیں؟
سادہ سا درست جواب: نہیں!
واضح رہے کہ سعودی عرب میں امریکہ کا اپنا خودمختار کوئی بھی فضائی اڈہ موجود نہیں ہے۔
امریکی افواج، مقامی سعودی اڈوں کے اندر بطور مہمان کام کرتی ہیں اور تمام سرگرمیاں سعودی حکومت کی اجازت سے انجام پاتی ہیں۔ بےشک! امریکہ کا سعودی عرب میں فوجی کردار موجود ہے، لیکن یہ مکمل امریکی کنٹرول والے اڈے نہیں بلکہ سعودی اڈوں میں محدود موجودگی ہے۔ سب سے اہم اور فعال مرکز پرنس سلطان ایئر بیس ہے۔
1) پرنس سلطان ایئر بیس
مقام: الخرج، ریاض سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب میں۔
نوعیت: سعودی فضائیہ کا اڈہ (امریکہ کی ملکیت نہیں)۔
کردار: یہاں امریکی فضائیہ کے طیارے، دفاعی نظام اور اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔
افرادی قوت: وقتاً فوقتاً ہزاروں امریکی فوجی یہاں موجود رہتے ہیں۔
یہ اس وقت سعودی عرب میں امریکی فضائی سرگرمیوں کا سب سے اہم مرکز ہے۔
2) اسکان ویلیج (دیگر امریکی فوجی تنصیبات، جو فضائی اڈہ نہیں ہے)
مقام: ریاض کے قریب
نوعیت: امریکی فوجی رہائشی و تربیتی کمپاؤنڈ
کردار: تربیت، مشاورت اور فوجی تعاون کے پروگرام
3) کنگ عبدالعزیز ایئر بیس (تاریخی یا محدود استعمال والا مقام)
مقام: مشرقی صوبہ (ظہران)۔
کردار: ماضی میں (خاص طور پر خلیجی جنگ کے دوران) امریکہ نے استعمال کیا تھا۔
موجودہ صورتحال: اب زیادہ تر سعودی کنٹرول میں ہے، مستقل امریکی موجودگی نہیں ہے۔
پورے خلیجی خطے میں امریکی فوجی نیٹ ورک کا سادہ اور واضح نقشہ، منسلک امیج شکل میں ملاحظہ کیجیے۔
یاد رہے کہ یہ ایک نیٹ ورک سسٹم ہے، یعنی سب اڈے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، الگ الگ نہیں۔ دراصل یہ ایک پھیلا ہوا نیٹ ورک (Distributed Network) ہے۔ جس میں ۔۔۔ قطر، بحرین اور یو۔اے۔ای مرکزی کردار رکھتے ہیں، سعودی عرب مرکزی نہیں بلکہ معاون اور دفاعی کردار ادا کرتا ہے، اور پورا نظام ایک دوسرے سے تعاون کرتا ہے۔ جس کے باعث کسی ایک اڈے پر حملہ ہو جائے تو نظام ختم نہیں ہوتا بلکہ مختلف ممالک مختلف کردار ادا کرتے ہیں اور یوں مکمل جنگی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔
مکمل نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ملک; کردار = کام
قطر; کمانڈ = مرکزی کنٹرول
بحرین; بحری طاقت = سمندری نگرانی
یو۔ اے۔ ای; فضائی حملے = ڈرون و اسٹرائیک
کویت; سپلائی = لاجسٹکس
عراق / اردن; اگلا محاذ = آپریشنز
سعودی عرب; دفاعی بفر = میزائل و فضائی دفاع
دوسرا اہم سوال:
کیا خلیج میں امریکی نیٹ ورک چند برسوں کی پیداوار ہے؟ اور خلیج میں امریکی موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟
جواب:
خلیج میں امریکی فوجی نیٹ ورک کئی دہائیوں میں متعدد وجوہات کے باعث قائم ہوا ہے، جن میں ایران ایک اہم عنصر ہے، مگر واحد وجہ نہیں، بلکہ جو چند وجوہات ہیں، وہ ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔
1) بنیادی مقصد: توانائی اور عالمی تجارت کی حفاظت
خلیج دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی خطے سے گزرتی ہے، خاص طور پر "آبنائے ہرمز" دنیا کی اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے۔ اسی سبب امریکہ (اور اس کے اتحادی) چاہتے ہیں کہ: سمندری راستے کھلے رہیں، تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو اور عالمی معیشت کو جھٹکا نہ لگے۔
2) طاقت کا توازن (Balance of Power)
خلیج میں بڑے علاقائی کھلاڑی ہیں: ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔ اور ان تینوں کے بیچ امریکہ کا کردار یہ ہے کہ: کسی ایک طاقت کو غالب ہونے سے روکا جائے اور دیگر چھوٹے ممالک کو "حفاظتی چھتری (Securtiy Umbrella)" فراہم کی جائے۔
3) اتحادیوں کا دفاع (Security Umbrella)
خلیجی ممالک، خاص طور پر جی۔سی۔سی اراکین، رقبے اور آبادی کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹے ہیں، ہرچند کہ یہ جدید ہتھیار رکھتے ہیں، مگر ان میں مکمل جنگی صلاحیت محدود ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ جی۔سی۔سی رکن ممالک کو فضائی دفاع (missile defense)، انٹیلی جنس، ٹریننگ، فوری ردعمل (rapid response) فراہم کرتا ہے۔
4) دہشت گردی اور علاقائی تنازعات
عراق جنگ (2003)، شام جنگ (2011–)، داعش (ISIS) کے خلاف آپریشنز ۔۔۔ ان سب کے لیے خلیج ایک آپریشنل بیس رہا ہے۔
5) ایران: اہم مگر واحد وجہ نہیں
ایران سے متعلق خدشات میں شامل ہیں: میزائل پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ (عراق، شام، یمن، لبنان)، خلیج میں بحری سرگرمیاں۔ اسی وجہ سے خلیج میں موجود امریکی فوجی نیٹ ورک ایک deterrence (روک تھام) کا کام کرتا ہے۔ لیکن، یہ نیٹ ورک صرف ایران کے خلاف نہیں، بلکہ وسیع علاقائی استحکام کے لیے ہے۔
تیسرا اہم سوال:
اگر امریکی فوجی نیٹ ورک، خلیج میں نہ ہوتا تو جی۔سی۔سی ممالک کو کیا خطرات درپیش تھے؟
جواب:
اگر خلیج میں امریکی فوجی نیٹ ورک نہ ہوتا تو پھر ۔۔۔ جی۔سی۔سی ممالک کو: زیادہ سکیورٹی چیلنجز، زیادہ دفاعی اخراجات اور ممکنہ علاقائی عدم استحکام کا سامنا ہو سکتا تھا۔
1) سمندری راستوں کا خطرہ : آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے خوفناک امکانات ہوتے اور تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی تھی۔ جس کے باعث: عالمی قیمتیں بڑھتیں اور خلیجی معیشت متاثر ہوتی۔
2) طاقت کا عدم توازن: ایران خطے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتا تھا، جس کے باعث جی۔سی۔سی ممالک کو: دفاعی اخراجات بڑھانے پڑتے یا پھر ممکنہ طور پر نئے اتحادی تلاش کرنے پڑتے۔
3) میزائل اور ڈرون خطرات : ایران یا اس سے وابستہ گروہوں کی طرف سے تیل کی تنصیبات یا شہروں کو خطرہ ہو سکتا تھا، بطور مثال: سعودی آرامکو پر ماضی کے حملے (2019)۔
4) علاقائی پراکسی جنگیں : یمن، عراق، شام جیسے محاذوں پر اثر و رسوخ کی جنگ بڑھ سکتی تھی۔
اہم حقیقت (متوازن نقطہ نظر): کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ: امریکی موجودگی کبھی کبھی کشیدگی بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جبکہ دیگر کے مطابق یہی امریکی موجودگی جنگ کو روکتی بھی ہے۔ یعنی ایک متوازن نقطۂ نظر کے بموجب: یہ "سکیورٹی بمقابلہ کشیدگی" کا پیچیدہ توازن ہے۔
آخری اہم سوال:
کیا خلیجی ممالک واقعی امریکہ پر انحصار کم کر رہے ہیں؟
جواب:
مختصر جواب یہ ہے کہ خلیجی ممالک امریکہ پر مکمل انحصار کم تو کر رہے ہیں، مگر اس سے "الگ" نہیں ہو رہے۔۔۔ بلکہ اپنی خارجہ و دفاعی پالیسی کو زیادہ متوازن (multi-vector) بنا رہے ہیں۔ ایک طرف سکیورٹی کے بنیادی ستون اب بھی امریکی شراکت داری ہی ہیں، جیسے Al Udeid Air Base میں امریکی کمانڈ کی موجودگی یا Naval Support Activity Bahrain کے ذریعے سمندری نگرانی؛ دوسری طرف یہی ممالک توانائی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں متبادل شراکت دار بھی بڑھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب نے چین کے ساتھ تیل کی طویل المدتی ڈیلز اور ٹیکنالوجی تعاون کو بڑھایا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے روس اور ایشیائی منڈیوں کے ساتھ مالی و تجارتی روابط وسیع کیے ہیں۔ اسی دوران ہندوستان اور ایشیائی معیشتوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اسی توازن کی ایک نمایاں مثال 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی ہے، جس میں چین نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی قیادت خطے کے تنازعات کو صرف "واشنگٹن" کے ذریعے نہیں بلکہ دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھی سنبھالنا چاہتی ہے۔ اس کے باوجود، جب بات براہِ راست دفاع، فضائی تحفظ یا میزائل دفاع کی آتی ہے تو وہ اب بھی بڑی حد تک امریکی نظام اور انٹیلی جنس پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ اس درجے کی مربوط عسکری صلاحیت فی الحال کسی اور کے پاس اسی سطح پر دستیاب نہیں۔
یوں بہتر انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک "انحصار کم" کرنے کے بجائے "اختیارات بڑھا" رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے چین، روس، یورپ اور ایشیا کے ساتھ معاشی و سفارتی روابط مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار نہ رہے۔ یہ حکمتِ عملی انہیں زیادہ خودمختاری، بہتر سودے بازی کی پوزیشن، اور بدلتی عالمی سیاست میں لچک فراہم کرتی ہے۔
US Military Bases in the Gulf: Strategy, Iran Factor, and GCC Security Dynamics


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں