سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں کسی نے کچھ دعوے کیے ہیں۔ کچھ جزوی طور پر درست ہیں اور کچھ مبالغہ آمیز اور متنازع ہیں۔ حوالوں کے ساتھ تفصیل درج ذیل ہے۔
(نوٹ: یہ ریکارڈ صرف درست معلومات کی فراہمی کی خاطر پیش کیا جا رہا ہے۔)
دعویٰ 1):
سوشل میڈیا پر اکثر ایران میں اہل السنت کی تعداد اور ان کی مذہبی آزادی کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا اور غلط بیانی کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے مختلف صوبوں میں اہل السنت کی ایک بڑی آبادی آباد ہے اور وہ اپنے مذہبی فرائض آزادی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔
حقیقت:
الف) جزوی درست: ایران میں اہل سنت کی بڑی آبادی (خاص طور پر سیستان و بلوچستان، کردستان، گلستان، ہرمزگان صوبوں میں) موجود ہے اور وہ مقامی سطح پر نماز، عیدین وغیرہ ادا کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات:
The Challenges and Advances of Iranian Sunnis
Islam in Iran
ب) متنازع حصہ: "مکمل آزادی" کا دعویٰ غلط ہے۔ تہران میں سنی مسجد/ نمازِ عید ممنوع ہے، سیاسی عہدوں پر شیعہ ترجیح، اور سنی علما کو گرفتاریاں/امتیاز کا سامنا ہے (US Commission on Religious Freedom 2025 رپورٹ)۔
حوالہ جات:
Fact Check: Do Sunnis Have 'Enough Freedom' in Iran?
https://www.uscirf.gov/countries/iran
State of Coercion: The Situation of Sunni Muslims in Iran
دعویٰ 2):
آبادی: مختلف عالمی اور مقامی رپورٹس کے مطابق، ایران کی کل آبادی کا تقریباً 10% سے 15% حصہ اہل سنت پر مشتمل ہے۔
حقیقت:
مختلف معتبر ذرائع اسے 7-10% (تقریباً 6-8 ملین) بتاتے ہیں، کچھ سنی رہنماؤں کا دعویٰ 12-25% تک ہے۔
تفصیل:
** سی۔آئی۔اے ورلڈ فیکٹ بک: پانچ تا دس فیصد (ویکی پیڈیا)
** ایرانی مردم شماری 2016ء : تقریباً سات فیصد (ویکی پیڈیا)
** اٹلانٹک کونسل/ سنی آبزرورس : بارہ تا پچیس فیصد
(بحوالہ: Sunnis in Iran: An Alternate View )
** الجزیرہ 2025ء : تقریباً 9 فیصد
(بحوالہ: A simple visual guide to Iran and its people )
دعویٰ 3):
ایران میں اہل سنت کی مساجد کی تعداد تقریباً 15,000 سے 17,000 کے درمیان ہے۔ یہ مساجد سیستان و بلوچستان، کردستان، گلستان، اور ہرمزگان جیسے صوبوں میں کثرت سے موجود ہیں۔
حقیقت:
بالا دعویٰ ایرانی سرکاری دعویٰ ہے جسے متنازع قرار دیا جاتا ہے۔ ویکی پیڈیا کے مطابق ایران میں 10,344 سنی مساجد ہیں۔
(بحوالہ: List of mosques in Iran )
ایرانی سرکاری دعوے کی تعداد (پندرہ تا سترہ ہزار) کو ایران-وائر فیکٹ-چیک مبالغہ آمیز قرار دیتا ہے کیونکہ تہران میں ایک بھی "سنی مسجد" موجود نہیں اور ایران میں کئی سنی مساجد کو توڑ دیا گیا یا انہیں ملکی قومیت میں لے لیا گیا۔
(حوالہ: Fact Check: Do Sunnis Have 'Enough Freedom' in Iran? )
متعدد مصدقہ معلومات کے مطابق۔۔۔ ایران میں سنی مساجد یا نماز خانوں کو حکومتی کارروائیوں سے تباہ (bulldoze/demolish) کیا گیا یا قومیت (nationalized/confiscated) بنا دیا گیا۔ یعنی ملکیت سرکاری/شیعہ اداروں کے حوالے کر دی گئی، جس سے سنی برادری عبادت سے محروم ہو گئی۔ یہ تفصیلات IranWire fact-check اور متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے حوالے سے بتائی جاتی ہیں۔
* تہران کی سنی نماز گاہ پوناک : جولائی 2015ء میں بلڈوزر کے ذریعے تباہ کی گئی
حوالہ: Iran regime destroys Sunni mosque in Tehran
* مسجد کی تعمیر کا سرکاری اجازت نامہ حاصل ہونے کے باوجود جنوری 2021ء میں، سنی طبقے پر دباؤ ڈالنے کی خاطر، بلوچ مسجد کی بنیاد تباہ کر دی گئی۔
حوالہ: Activists Say Sunni Mosque Foundations Demolished In Iran 'To Pressure' Sunnis
* شہر مشهد میں سنہ 2025ء کے دوران "مسجد شیخ فیض" کو خامنہ ای کے حکم پر خاک و خون کر دیا گیا۔
حوالہ: عوامل تخريب مسجد اهل سنت مشهد توسط علی خامنهاى
* کئی سنی مساجد کو سرکاری ملکیت بنا کر شیعہ مساجد/ثقافتی مراکز میں تبدیل کر دیا، جیسے تہران/کردستان میں۔
حوالہ: From Sunni to Shīah: Iran’s Sectarian Legacy
دعویٰ 4):
دینی مدارس: ایران میں اہل سنت کے سینکڑوں دینی مدارس (جیسے دارالعلوم زاہدان) مکمل طور پر فعال ہیں جہاں ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
حقیقت:
دعویٰ کسی حد تک درست ہے۔ ایران میں سنی دارالعلوم زاہدان (قائم شدہ 1971ء، تقریباً ڈھائی ہزار مسلکِ دیوبند کے طلبہ) سب سے بڑا فعال سنی مرکز ہے، جہاں قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔ سرکاری دعویٰ زائد از 500 مدارس کا ہے، جو فعال تو ہیں مگر شیعہ کنٹرول والے "پلاننگ کونسل" کے تحت فعال ہیں۔
Iran Sunni Muslims: Population Stats, 15,000 Mosques, Madrasas and Religious Freedom Fact-Check 2026


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں