یہ لفظوں کی فقط گفتگو ہے، عدالت نہیں
سمجھ کی ہو اگر راہ تو بات نامکمل نہیں
سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز، خاص طور پر فیس بک، آج کے زمانے کے، وہ ڈرائنگ روم ہیں جہاں سب ایک ساتھ بول رہے ہوتے ہیں، مگر سن کوئی کم ہی رہا ہوتا ہے۔ یہاں دوستی بھی ہے، بحث بھی، معلومات بھی، اور وہ فوری فیصلے بھی جو عدالت عظمیٰ سے پہلے ہی صادر ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ سوال یہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر مکالمے کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ شاید صرف اتنا کہ بات ہو، ربط قائم رہے، اور زندگی کے تجربات ایک دوسرے سے شیئر ہوں۔ مگر ہم نے اسے اکثر "حتمی فیصلوں کی فیکٹری" بنا لیا ہے۔
ہر شخص جو کچھ لکھتا ہے، وہ اپنے مشاہدے اور ذاتی ذوق کے مطابق لکھتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قاری اسے آفاقی سچ سمجھ لیتا ہے، اور پھر مزید آگے بڑھ کر ایسے نتیجے نکال لیتا ہے جن کا لکھنے والے نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا ہوتا۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی فیس بک پوسٹ میں لکھ دے کہ "فلاں شاعر اپنے عہد میں منفرد ہے"، تو فوراً ایک صاحب آ کر پوچھ لیتے ہیں: "کیا آپ نے تمام شعرا کا تقابلی مطالعہ کیا ہے؟ حوالہ کہاں ہے؟" گویا فیس بک اسٹیٹس نہیں، پی ایچ ڈی تھیسس جمع کروایا گیا ہو۔ حالانکہ اس جملے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو وہ شاعر اچھا لگتا ہے، نہ یہ کہ باقی سب کو شاعری چھوڑ دینی چاہیے۔
دوسری مثال لیجیے۔ کسی صاحب نے لکھ دیا کہ "یہ کتاب فلاں موضوع پر بہترین تخلیق ہے جو میں نے پڑھی ہے"۔ اب یہاں "میں نے" پر خاص زور ہے، مگر قاری اکثر اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ فوراً اعلان ہو جاتا ہے کہ یہ تو باقی تمام کتابوں کی توہین ہے۔ حالانکہ اس جملے سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ بچارے صاحب کا مطالعہ اسی حد تک ہے، اور انہیں وہ کتاب پسند آئی۔ پسند آنا کوئی علمی جرم نہیں۔
تیسری مثال فلموں کی دنیا سے۔ کوئی بندہ کہہ دے کہ "یہ فلم اس موضوع پر اب تک کی بہترین پیشکش ہے"، تو کمنٹس میں گویا فلمی عدالت لگ جاتی ہے۔ کوئی دیگر فلموں کے باکس آفس کلیکشن اعداد و شمار کا ڈھیر لگا دیتا ہے، کوئی ایوارڈز گنواتا ہے، اور کوئی پچاس سال پرانی فلموں کی فہرست نکال لاتا ہے۔ حالانکہ یہ جملہ بھی ذاتی تاثر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
ان مثالوں سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر باتیں تاثرات ہوتی ہیں، فیصلے نہیں۔ دعویٰ اور کلیہ وہ چیزیں ہیں جو تحقیق، تنقید اور تفصیلی مطالعے سے ثابت کی جاتی ہیں، نہ کہ دو سطروں کے اسٹیٹس یا کسی ایک/دو کمنٹس سے۔ اس لیے قاری کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ہر جملے کو حتمی اعلان سمجھ کر نہ پڑھے۔
سوشل میڈیا کو اگر ہم مکالمے کی جگہ رہنے دیں، عدالت نہ بنائیں، تو شاید بات بھی بہتر ہوگی اور ذہن بھی ہلکا رہے گا۔ آخر ہر رائے پر ریفرنس مانگنے لگیں گے تو دوستی کہاں جائے گی؟!
کبھی کچھ فرصت ملے ۔۔۔ تو ضرور غور کیجیے کہ ۔۔۔۔۔۔
* یہ رائے ہے، فتویٰ نہیں۔۔۔ ذرا سانس لے کر پڑھا کریں۔
* ہر اسٹیٹس حتمی اعلان نہیں ہوتا، بعض اوقات بس ایک خیال ہوتا ہے۔
* ہر اسٹیٹس پی ایچ ڈی تھیسس نہیں ہوتا، بعض اوقات بس دل کی بات ہوتی ہے۔
* ہر رائے اپنی حد رکھتی ہے، مگر ہم اسے عموماً ابدی سچ بنا دیتے ہیں۔
* سوشل میڈیا پر سب جج ہیں، مگر مکالمہ اب بھی ضمانت پر ہے۔
* مکالمہ زندہ رہے تو اختلاف بھی مہذب رہتا ہے، ورنہ ہر اسٹیٹس ایک مقدمہ بن جاتا ہے۔
* پسند ناپسند اظہار ہے، فیصلہ نہیں۔۔۔ فرق سمجھ میں آ جائے تو انٹرنیٹ آدھا پرسکون ہو جائے۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔ 3/فروری/2026ء
Social Media Conversations: Why Opinions Should Not Be Treated as Verdicts


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں