جی ہاں، عالمی ادب کے دو مشہور ادیب: ولیم سومرسیٹ ماہم (جنوری 1874 - دسمبر 1965) اور ای۔ ایم۔ فارسٹر (جنوری 1879 - جون 1970) حیدرآباد دکن کا دورہ کر چکے ہیں۔
پوئٹری سوسائٹی حیدرآباد سنٹر کا آغاز حیدرآباد میں 1937ء میں ہوا جس کے پہلے صدر نواب سر نظامت جنگ بنائے گئے تھے اور جنرل سیکریٹری کا عہدہ مسز روزنتھل نے نبھایا۔
(سابقہ متحدہ) آندھرا پردیش سرکل (1980ء کی دہائی کے دوران) کے پوسٹ ماسٹر جنرل ڈاکٹر ایچ راجندر پرساد، جو کہ خود بھی 'حیدرآباد پوئٹری سوسائٹی' کے رکن رہے ہیں، کہتے ہیں کہ:
**
قدیم حیدرآباد (دکن) میں انگریز ریذیڈنٹ کی بیوی نے تحریک شروع کی تھی کہ 'حیدرآباد پوئٹری سوسائٹی' قائم کی جائے۔ اس "پوئٹری سوسائٹی" کے پہلے صدر سر نظامت جنگ تھے۔ یہ سوسائٹی ابھی بھی کارکرد ہے اور بیگم پیٹ کے قریب اس کی ماہانہ نشستیں ہوتی ہیں۔ انگریزوں کے زمانے سے ہی موسم گرما کے دو مہینوں کے سوا سال بھر میں دس ماہانہ میٹنگیں ہوا کرتی تھیں۔
جنوری 2014ء میں پوئٹری سوسائٹی حیدرآباد سنٹر کا 757 واں اجلاس منعقد ہوا۔
اس سوسائٹی کے ماہانہ جلسوں میں سامرسٹ ماہم، ای ایم فارسٹر اور ڈاکٹر کرن سنگھ شرکت کر چکے ہیں۔ اگرچہ کہ اب اس کے کئی اراکین ضعیف ہو چکے ہیں۔
سر نظامت جنگ کون ہیں؟
سابق شاہی ریاست حیدرآباد دکن کی قابل قدر شخصیات میں نواب سر نظامت جنگ بہادر (پیدائش: اپریل 1871ء ، وفات: 1955ء) کا اسم گرامی بھی شامل رہا ہے۔ انہوں نے انگلینڈ سے بار ایٹ لا کیا تھا۔ وہ سروجنی نائیڈو کے تقریباً ہم عمر تھے۔ انھوں نے سروجنی نائیڈؤ کے والد رگھور ناتھ چٹوپادھیائے سے خانگی طور پر ٹیوشن بھی لیا۔ انگلینڈ سے واپسی پر وہ منصف مجسٹریٹ مقرر ہوئے تھے، اس کے بعد چیف سٹی مجسٹریٹ، رجسٹرار ہائی کورٹ، جج اور بالآخر چیف جسٹس کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کی انگریزی کی قابلیت اتنی اعلی پائے کی تھی کہ انگریز بھی معترف تھے۔
ڈاکٹر ایچ۔ راجندر پرساد بتاتے ہیں کہ:
سر نظامت جنگ، نظام ہفتم میر عثمان علی خاں سے بہت قریب تھے۔ حضور نظام کو کبھی ریذیڈنٹ کو کوئی بات کہلوانی ہوتی تو وہ سرنظامت جنگ کو روانہ کیا کرتے تھے۔ سرنظامت جنگ کی شاعری کی انگلستان میں بھی بہت قدر و منزلت ہوئی۔ ظہیر احمد صاحب کے زیر اہتمام نظامت جنگ کا شعری مجموعہ ریاست حیدرآباد کے پرنٹنگ پریس سے شائع ہوا۔ حضور نظام کے پاس اس کتاب کے کئی نسخے تھے۔ اعلی حضرت سے ملاقات کے لئے جب کوئی اہم شخصیت آتی تو وہ اسے نظامت جنگ کی کتاب عنایت فرماتے۔
جب نظامت جنگ انگلستان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ان کی صحت ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ ڈاکٹروں نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ کسی بلند مقام پر اپنا گھر بنائیں اور وہیں سکونت اختیار کریں۔ چنانچہ انگلستان سے واپسی پر انھوں نے نوبت پہاڑ پر اپنے لئے ہلِ فورٹ تعمیر کروایا۔ جب وظیفے کے بعد سر نظامت جنگ حج بیت اللہ کے لئے گئے تو واپسی پر اُن کو دنیوی زندگی سے دلچسپی نہیں رہی اور وہ زیادہ تر یاد الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ انھوں نے بل فورٹ فروخت کر دینے کا ارادہ کیا تو حضور نظام نے شہزادہ معظم جاہ کے لئے اسے نظامت جنگ سے خرید لیا۔
راجندر پرساد صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پولیس ایکشن کے بعد جب جواہر لعل نہرو حیدرآباد آئے تھے تو انھوں نے سر نظامت جنگ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انھیں بتایا گیا کہ نظامت جنگ گوشہ نشین ہو گئے ہیں اور کہیں آتے جاتے نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پنڈت جی خود سر نظامت جنگ سے ملنے کے لئے ان کی قیام گاہ گئے۔
ڈاکٹر ایچ۔ راجندر پرساد کون ہیں؟
راجندر پرساد صاحب کے جدامجد ابتداء میں مرہٹواڑہ کے کسی علاقے سے آئے تھے اور گولکنڈہ کے قطب شاہی حکمرانوں کے دربار سے وابستہ ہو گئے تھے۔ دوران ملازمت انھوں نے کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیا کہ بادشاہ نے ان کو جاگیر سے نوازا اور ساتھ ہی خطاب دیا 'ہرکارہ' جس کے معنی ہوتے ہیں 'خطوط رساں ' یا 'پوسٹ مین'۔ اس تاریخ سے ان کے خاندان کے ہر فرد کے نام کے ساتھ 'ہرکارہ' لگا ہوا ہے۔ چنانچہ راجندر پرساد صاحب بھی "ہرکارہ راجندر پرساد" کہلائے جاتے ہیں۔ قدرت کی کارفرمائی ملاحظہ ہو کہ راجندر پرساد نے اعلی تعلیم حاصل کی، حکومت ہند کے مسابقتی امتحان میں منتخب ہوئے اور چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس طرح ملک کے معزز ترین ہرکارے کہلائے۔
ڈاکٹر راجندر پرساد کہتے ہیں کہ۔۔۔
نیشنل آرکائیوز دہلی کے بعد اگر سارے ملک میں تاریخی مواد کا غیر معمولی ذخیرہ کہیں ہے تو ریاست حیدرآباد کا محکمہ "اسٹیٹ آرکائیوز" ہے۔ یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں مخطوطات، سرکاری ریکارڈ اور فرامین موجود ہیں۔ فارسی ادب، تلگو اور انگریزی زبانوں میں نہایت بیش قیمت ریکارڈ موجود ہے جس سے عہد گزشتہ کے کئی واقعات کا علم ہوتا ہے۔ کئی آصف جاہی فرامین موجود ہیں جن پر بے شمار اسکالرس ریسرچ کر چکے ہیں۔ خود راجندر پرساد نے ایک اور پی ایچ ڈی کی تکمیل انہی مخطوطات کی مدد سے کی ہے۔ نواب میر عثمان علی خان کے زرین دور پر کی گئی ان کی تحقیق کا موضوع تھا: "آصف سابع میر عثمان علی خاں کا دورِ حکومت 1914 سے 1919 تک"۔ اور ان کے مقالے کا عنوان ہے:
Sunshine and Shadows
ولیم سامرسٹ ماہم (1874–1965):
بیسویں صدی کے ممتاز برطانوی ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس رہے ہیں۔ انسانی نفسیات، سماجی منافقت اور فنکارانہ زندگی پر ان کی گہری نظر ان کے شہرۂ آفاق ناول Cakes and Ale میں پوری آب و تاب سے جھلکتی ہے، جو ادبی دنیا میں آج بھی ایک کلاسیک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ناول کا اردو ترجمہ ترقی پسند ادیب سید محمد عقیل رضوی نے 1963ء میں کیا اور ناول پبلشرز، الٰہ آباد سے شائع ہوا تھا۔
ای۔ ایم۔ فارسٹر (1879–1970):
بیسویں صدی کے ممتاز انگریز ناول نگار اور نقاد رہے ہیں، جنہوں نے انسانی رشتوں، تہذیبی تصادم اور نوآبادیاتی معاشرے کو گہرے فکری شعور کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا شہرۂ آفاق ناول A Passage to India برطانوی ہند کے سماجی و سیاسی تناظر میں مشرق و مغرب کے تعلقات کا ایک لازوال ادبی مطالعہ ہے۔
Discover the forgotten literary visit of Somerset Maugham and E. M. Forster to Hyderabad Deccan and the legacy of the Hyderabad Poetry Society.
Review/Analysis: Mukarram Niyaz
with thanks: حیدرآباد جو کل تھا، مضمون از:سید امتیاز الدین


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں