سوشل میڈیا پر پڑوسی ملک پاکستان کے ایک نوجوان قلمکار کا کالم وائرل ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ۔۔۔ زورین نظامانی کا ایک (انگریزی) کالم "دی ایکپریس ٹریبون (پاکستان)" میں شائع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہٹا دیا گیا (غالباً فوجی یا حکومتی دباؤ کے باعث)۔ مگر تب تک یہ کالم انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکا تھا (پرنٹیڈ اخبار میں اب بھی موجود ہے)۔ اس کا اردو ترجمہ لاتعداد فیس بک یوزرس کی ٹائم لائن پر نظر آیا ہے۔ اس کالم پر منفی/مثبت قسم کا جو شدید ردعمل سوشل میڈیا پر اس وقت تسلسل سے جاری ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خود زورین نظامانی لکھتے ہیں:
"میرے مضمون (It Is Over) پر غیر معمولی ردِعمل کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد میری تحریر کو اپنے بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ میں پوری وضاحت اور دوٹوک انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرا کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو کوئی بھی میرے الفاظ کو اپنے مخصوص بیانیے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی ذمہ داری مکمل طور پر اسی پر عائد ہوتی ہے۔ میں وہی لکھتا ہوں جو میں دیکھتا ہوں اور میں صرف اور صرف اپنے الفاظ کا ذمہ دار ہوں۔"
متذکرہ کالم کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ:
یہ کالم زورین نظامانی کے نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے کہ اقتدار میں موجود پرانی نسل (بومرز) نوجوانوں (جنریشن زی اور الفا) سے اپنا رابطہ مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ نوجوان نسل بنیادی حقوق، یکساں مواقع اور تیز رفتار ڈیجیٹل آزادی چاہتی ہے، جبکہ پرانی نسل ان کی آواز دبانے اور روایتی بیانیے پر اصرار کر رہی ہے۔ اس بڑے تفاوت کے باعث نوجوان یا تو ملک چھوڑ رہے ہیں یا سوشل میڈیا پر اپنی الگ دنیا بنا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں پرانی نسل کی حکمت عملی اب بے اثر ہو گئی ہے۔
راقم الحروف مکرم نیاز کو اسی موضوع کے حوالے سے اپنے ملک ہندوستان کا موازنہ پیش کرنے میں دلچسپی ہے۔
سب سے پہلے تو انڈیا اور پاکستان کی آبادی کے فرق کو جان لینا ضروری ہے۔ انڈیا کی آبادی، اپنے پڑوسی ملک پاکستان سے تقریباً 6 گنا زائد ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر دونوں ممالک میں نوجوان طبقے (جین وائی اور جین زی) کی آبادی تقریباً یکساں ہے یعنی 50 اور 55 فیصد کے درمیان۔
انڈیا میں مذہبی تفریق کا ایشو ضرور ہے مگر اس میں حقیقت کا تناسب کم اور پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔ پاکستانی میڈیا تو دشمن ملک کے خلاف بیانیہ پھیلائے گا ہی اور انڈیا میں سیاسی لوگ/جماعتیں مذہبی تفریق کا چورن بیچ کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جو چیز حقیقت ہے، وہ ہے انڈیا کا آئین/دستور جس کے تحت سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور یہ دستور اب بھی علمی و عملی سطح پر قائم و برقرار ہے۔
نوجوان طبقہ کی سوچ کو نظرانداز کرنا ہندوستانی برسراقتدار سیاسی جماعت یا دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بےحد مشکل ہے، اس لیے انڈیا میں صورتحال پاکستان کی بہ نسبٹ کافی مختلف ہے۔ آئیے ہم ایک عمومی جائزہ دس نکات کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔
ہندوستانی آئین کے تحت شہریوں کو سہولیات
ہندوستان کا آئین اپنے شہریوں کو کئی بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرتا ہے جو ملک میں ہر حکومت کے لیے رہنما اصول کا کام کرتے ہیں۔ یہ سہولیات نوجوانوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں اور ان کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں:
1. تعلیمی مواقع (بنیادی و اعلیٰ تعلیم):
o ہندوستان: آئین کے آرٹیکل (اکیس-اے) کے تحت 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو بنیادی حق بنایا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری یونیورسٹیاں، کالجز، اے۔آئی۔آئی۔ایم۔ایس / آئی۔آئی۔ایم / آئی۔آئی۔ٹی (میڈیکل، منیجمنٹ، ٹیکنالوجی) جیسے ادارے موجود ہیں جو سبسڈائزڈ فیس پر معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ اسکالرشپس اور ریزرویشن (تحفظات) بھی موجود ہیں۔
o پاکستان: تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری نسبتاً کم اور تعلیمی معیار و رسائی میں چیلنجز زیادہ۔ نوجوانوں کے لیے مواقع محدود۔
2. پروفیشنل اور تکنیکی تعلیم:
o ہندوستان: انجینئرنگ، میڈیکل، مینجمنٹ اور دیگر تکنیکی شعبوں میں وسیع پیمانے پر ادارے اور کورسز دستیاب ہیں۔ "اسکِل انڈیا" جیسے پروگرامز نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے تکنیکی تربیت فراہم کرتے ہیں۔
o پاکستان: تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا انفراسٹرکچر وسعت اور تنوع نہیں رکھتا، اور صنعت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی میں بھی کمی ہے، جس سے روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔
3. معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع:
o ہندوستان: روزگار کے مختلف مواقع پیدا کرنے کے لیے مرکزی حکومت مختلف پالیسیاں بناتی ہے، جیسے "میک اِن انڈیا" اور "سٹارٹ اَپ انڈیا"۔ ملک کی مضبوط معیشت اور تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے (سروسز، آئی ٹی، مینوفیکچرنگ) نوجوانوں کے لیے وسیع روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
o پاکستان: معاشی عدم استحکام اور روزگار کی کمی، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی سست روی۔
4. کاروباری ماحول اور سٹارٹ اَپس (Startups) کی معاونت:
o ہندوستان: "سٹارٹ اَپ انڈیا" پروگرام کے تحت نوجوان کاروباریوں کو مالی امداد، ٹیکس میں چھوٹ، اور کاروبار شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک میں وینچر کیپیٹل اور اینجل انویسٹرز کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
o پاکستان: اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم ابھی نسبتاً ابتدائی مراحل میں، سرمایہ کاری کے مواقع محدود، حکومتی سطح پر جامع اور بڑے پیمانے کی سپورٹ کی کمی۔
5. تکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر:
o ہندوستان: "ڈیجیٹل انڈیا" مہم کے تحت انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنایا گیا ہے، اسمارٹ فونز سستے ہوئے ہیں، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام عام ہوا ہے۔ یہ سب نوجوانوں کو عالمی پلیٹ فارمز سے جڑنے اور فری لانسنگ کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
o پاکستان: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور انٹرنیٹ کی رسائی میں بہتری کی گنجائش ہے، انٹرنیٹ کی قیمت بھی نسبتاً زیادہ، لہذا فری لانسنگ کے لیے عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی چیلنجز کا شکار ہے۔
6. صحت کی سہولیات:
o ہندوستان: سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے مراکز پر بنیادی طبی سہولیات نسبتاً سستی یا مفت دستیاب ہیں۔ "آیوشمان بھارت" جیسے پروگرام صحت بیمہ فراہم کرتے ہیں، جس سے نوجوانوں کو صحت کے اخراجات میں مدد ملتی ہے۔
o پاکستان: صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا فقدان اور بنیادی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جو نوجوانوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔
7. سیاسی شرکت اور اظہار رائے کی آزادی:
o ہندوستان: نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے، سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ آئین اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جس سے نوجوان اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔
o پاکستان: سیاسی عدم استحکام اور بعض اوقات اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں، نوجوانوں میں سیاسی بے دلی (Political Disillusionment) پیدا کر رہی ہیں۔
8. سماجی انصاف اور مساوات:
o ہندوستان: آئین ذات، مذہب، جنس یا نسل کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔ ریزرویشن پالیسیاں پسماندہ طبقوں (واضح رہے کہ مسلمانوں کی کئی ذاتیں بھی پسماندہ طبقات میں شمار ہوتی ہیں) کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہیں۔
o پاکستان: سماجی انصاف اور مساوات کے حصول میں متعدد چیلنجز کا سامنا، سماجی درجہ بندی اور اثر و رسوخ اکثر مواقعوں کو متاثر کرتے ہیں۔
9. ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں:
o ہندوستان: کھیل، آرٹ، موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کو حکومت فروغ دیتی ہے۔ ملک بھر میں پھیلے سینما گھر، تھیٹرز، اور میلے نوجوانوں کو تفریح اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
o پاکستان: ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کی تعداد اور رسائی نسبتاً نہ صرف کم ہے، بلکہ سماجی و مذہبی پابندیاں بھی ان سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں۔
10. عالمی سطح پر رابطے اور مواقع:
o ہندوستان: ہندوستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معیشت اور مضبوط سفارتی تعلقات نوجوانوں کے لیے بیرون ملک تعلیم، روزگار اور کاروبار کے وسیع مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ہندوستانی پاسپورٹ کی قدر بھی نسبتاً بہتر ہے۔
o پاکستان: عالمی سطح پر پاکستان کو معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، جو نوجوانوں کے لیے عالمی مواقعوں کو محدود کرتا ہے، اور ویزا حاصل کرنے میں بھی اکثر و بیشتر مشکلات پیش آتی ہیں۔
Review/Analysis: Mukarram Niyaz


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں