سوشل میڈیا کا دردِ سر - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/01/21

سوشل میڈیا کا دردِ سر

social-media-addiction

غرض میرا معاملہ بالکل وہی ہے جو چراغ حسن حسرتؔ نے ریڈیو والے درد سر کی تشبیہ میں بیان کیا۔۔۔ گڑ کھاتا ہوں، گلگلوں سے بچنا چاہتا ہوں۔
میں سوشل میڈیا استعمال کرتا ہوں، مگر سوشل میڈیا مجھے استعمال کر لے، یہ مجھے ہرگز گوارا نہیں۔ میں فیس بک پر جاتا ہوں تو شاعری و سیاسی/سماجی دانشوری میرا تعاقب کرتی ہے، ٹوئٹر (معذرت! ایکس) پر آتا ہوں تو مفکرین کا گویا سیلاب امڈ آتا ہے، انسٹاگرام کھولتا ہوں تو ہر موبائل گزیدہ بندہ میڈیا صحافی بن چکا ہوتا ہے اور تھریڈز پر قدم رکھوں تو ایسے ایسے ادبی جوہر سامنے آتے ہیں کہ غالب اور اقبال اگر زندہ ہوتے تو دوبارہ ریٹائرمنٹ لے لیتے۔ میرا حال یہ ہے کہ میں بےسری تُک بندی اور کوری لفاظی سے بچنا چاہتا ہوں، مگر بچ نہیں پاتا۔ پڑھتا ہوں، دیکھتا ہوں، سہتا ہوں۔۔۔ اور یہ سب بے قصد و ارادہ ہوتا ہے۔
'غزل' کے نام پر چار پانچ لفظ والے دو چار شعر اور 'نظم' جو نظم کی بجائے آفس نوٹس بورڈ پر سجے سرکاری فرمان کی طرح لگتی ہے۔ ہر پوسٹ پر ۔۔۔ واہ واہ، سبحان اللہ۔۔۔ ماشاءاللہ، بہت خوب، 'دل چھو گیا' کے کمنٹس۔۔۔ ایسے لگتا ہے جیسے سب نے ایک ہی "داد دینے والی مشین" انسٹال کر لی ہو!
میں تو بس اپنی نیوز فیڈ صاف ستھری رکھنا چاہتا ہوں، مگر الگورتھم صاحب بالجبر 'یہ بھی دیکھیں'، 'آپ کو ضرور پسند آئے گی' والی ریلز دھکیل دیتے ہیں۔ شاعری کے نام پر کسی الہڑ دیہاتی یا ماڈرن دوشیزہ کی تصویر کے ساتھ بس تُک بندی سی تُک بندی اور نیچے محبت، زندگی، مئے، پیمانہ، غم، درد، جوانی، مستانی، فرزانی کے ہیش ٹیگ اور ہزار لائکس ، سو دو سو شئرز۔۔۔


خدا کی قسم، سوشل میڈیا بالکل ریڈیو کی طرح ہے، ہر وقت بولتا رہتا ہے، اور ہم بلا ناغہ سنتے/پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک پوسٹ پر شاعری، دوسری پر اقوال، تیسری پر سیاسی تجزیہ۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے سارا برصغیر ایک ایسا کھچڑی جلسہ برپا کر رہا ہے، جس کے شاعر اور لکھاری نامعلوم، اور داد مشین سے! کبھی کبھی تو ایسی گونجیلی داد کہ مصنوعی ذہانت بھی شرما جائے کہ ۔۔۔ یار، انڈا دیا فاختہ نے اور کوے داد سمیٹیں!


میں سوشل میڈیا کے خلاف نہیں، صرف اسے حد سے زیادہ سننے/پڑھنے کے خلاف ہوں۔ میں اسکرول کرنے سے انکار نہیں کرتا، صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہر پوسٹ مجھے شاعر، دانشور، سیاسی تجزیہ نگار یا مصلحِ قوم بنانے کی کوشش نہ کرے۔ یہاں ہر شخص کا قلم تلوار ہے اور ہر اسٹیٹس ایک انقلابی منشور۔ دو مصرعے لکھے نہیں جاتے، مگر شاعر ہونے کا اعلان واجب سمجھا جاتا ہے۔ وزن، بحر اور قافیہ اگر نہ ملیں تو جذبات و احساسات کا حوالہ دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔
یہ دردِ سر ایسا ہے کہ اسکرول جائے تو جائے
لائک نہ جائے، نہ دے تو پھر تُو جائے


مجھے اندیشہ ہے کہ اس تحریر سے میرے سوشل میڈیائی احباب کے جذبات مجروح ہوں گے، اس لیے وضاحت ضروری ہے کہ میں سوشل میڈیا کا احترام کرتا ہوں۔ یہاں واقعی باکمال لوگ بھی موجود ہیں، جو خاموشی سے لکھتے ہیں، کم بولتے ہیں اور زیادہ سوچتے ہیں۔ مسئلہ ان سے نہیں، مسئلہ ان لوگوں سے ہے جو ہر تصویر کے نیچے شعر بلکہ ہر شعر کے ساتھ اپنا تھوبڑا، ہر خبر پر فلسفہ اور ہر سانس کے ساتھ دانشوری پوسٹ کرتے ہیں۔


میں سوشل میڈیا اس لیے نہیں پڑھنا چاہتا کہ یہاں اکثر لوگ بولتے بہت ہیں، سنتے بالکل نہیں۔ مکالمہ نہیں، مقابلہ ہے۔ داد کا موقع نہیں، صرف واہ واہ کی بھیک چاہیے ہے۔ اگر واقعی سننے اور سنانے والا آمنے سامنے ہوتا تو شاید بات بن جاتی، مگر یہاں تو حالت یہ ہے کہ گانا قبرستان میں گایا جا رہا ہے اور داد کے لیے مُردوں کو جگایا جا رہا ہے۔
ایسے میں بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو اپنا اسمارٹ فون بند کر دیا جائے، یا کسی پرانے بزرگ کا روزنامچہ یا کتابچہ پڑھ لیا جائے۔۔۔ کم از کم وہاں خاموشی میں بھی وزن اور وقار موجود ہوتا ہے۔


نوٹ: چراغ حسن حسرت کے اندازِ تحریر کی نقل میں ۔۔۔ (بحوالہ مضمون: "ریڈیو سننا")

*****
فکاہیہ از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
21/جنوری/2026ء

social media addiction, the rights and wrongs. Humorous Light-Essay by: Mukarram Niyaz.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں