اردو کے اکثر قارئین علی باقر کے نام سے کنفیوژ ہو جاتے ہیں اور ان کا زیادہ تر دھیان میر باقر علی داستان گو (دہلی کے آخری داستاں گو، خلیل خان فاختہ والے) یا شیخ باقر علی چرکین کی طرف چلا جاتا ہے۔
ہم یاد دلانا چاہتے ہیں کہ علی باقر (اصل نام: سید علی باقر نقوی) (پیدائش: 18/مئی 1937ء، اٹاوہ، اترپردیش || وفات: 5/مئی 2007ء، دہلی)، حیدرآباد دکن کے مشہور و مقبول افسانہ نگار رہے ہیں، جن کے افسانوں کے پانچ مجموعے {خوشی کے موسم (1978ء)، جھوٹے دلاسے سچے دلاسے(1984ء)، بے نام رشتے(1987ء) ، مٹھی بھر دل (1993ء) اور لندن کے رات دن (2004ء)} شائع ہو چکے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کی عظیم و نمائندہ شخصیت سجاد ظہیر کی دختر نجمہ ظہیر ان سے بیاہی گئی تھیں، اس لحاظ سے علی باقر ، سجاد ظہیر کے داماد تھے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد) اور آکسفورڈ یونیورسٹی (لندن) میں تعلیم حاصل کی تھی۔ تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں ان کا قیام برطانیہ میں تقریباً چودہ (14) برس رہا، بعد ازاں وہ دہلی میں سکونت پذیر ہو گئے۔ (واضح رہے کہ سجاد ظہیر کی ایک اور دختر نادرہ ظہیر، نامور بالی ووڈ اداکار اور سیاست داں راج ببر سے بیاہی گئی تھیں)۔
کچھ عرصہ قبل حیدرآباد دکن کی ممتاز ادبی شخصیت اور مورخ علامہ اعجاز فرخ نے راقم الحروف کو ایک نجی ملاقات میں بتایا تھا کہ ایک ادبی تقریب میں پروفیسر بیگ احساس (مرحوم) نے علی باقر کے ادبی قد و قامت کو اس لیے نظرانداز کرنا چاہا کہ علی باقر کے افسانے "شمع و بیسویں صدی" جیسے نیم ادبی رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ جس پر علامہ نے احتجاج کیا اور وہیں جلسے میں ایک طویل برجستہ تقریر کرتے ہوئے علی باقر کا ایک مکمل افسانہ جوں کا توں اپنی یادداشت کے سہارے سنا ڈالا۔ اس افسانے کے کئی ایک پیراگراف خود علامہ نے اپنے فسوں خیز لہجے میں مجھے بھی سنایا تھا (محض اپنی یادداشت کے سہارے)۔
"لندن کی ایک رات" سجاد ظہیر کا ایک مشہور ناول ہے۔ اور علی باقر اپنے افسانوں کے آخری مجموعہ (لندن کے رات دن، 2004ء) کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
میں نے پہلی بار جب "لندن کی ایک رات" کو پڑھا تھا، میرے وہم و گمان میں نہ تھا کہ میں اس عظیم ناولٹ کے خالق سجاد ظہیر کا داماد ہوں گا۔ میں تو ان کے مداحوں کی بھیڑ میں کھڑا ان کے آٹوگراف لے کر ہی خوش ہو جاتا تھا۔ میری اور نجمہ کی شادی کے بعد بنے بھائی متعدد بار لندن میں ہمارے ساتھ ٹھہرے۔ ادبی محفلیں منعقد ہوئیں، پارکوں کی سیر ہوتی، اچھے فلم اور تھیٹر دیکھنے جاتے، ہم دونوں اپنی پرانی درس گاہ آکسفورڈ جاتے، لندن کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے۔ میں ہر شام ان کے کمرہ میں چلا جاتا اور ان سے بےشمار موضوعات پر باتیں کرتا، کبھی آپ بیتی کبھی جگ بیتی۔۔۔
اپنے افسانوں کے اس انتخاب کا نام "لندن کے رات دن" رکھ کر میں بنے بھائی اور ان کے قریبی دوست مخدوم (محی الدین) سے بھی اپنی عقیدت کا اعتراف کر رہا ہوں۔
شاہانہ مریم کی اشاریات پر مبنی تحقیقی مقالے "حیدر آباد کی جامعات میں اردو تحقیق کی رفتار" کے مطابق، ڈاکٹر مہر النساء نے 2009ء میں پروفیسر فاطمہ پروین کی زیر نگرانی اپنا مقالہ بعنوان "علی باقر کی افسانہ نگاری" داخل کیا تھا۔
ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول کی گیسٹ لکچرار ڈاکٹر شاہ جہاں بیگم گوہر نے اپنے ایک تحقیقی مقالے (علی باقر کے افسانوں میں جدیدیت کا رجحان ، تہذیبی ثقافتی پس منظر) میں لکھا ہے:
علی باقر جدید افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں لیکن انہوں نے انسان کی جلا وطنی، محرومی و ناکامی سے زیادہ انسانی اقدار اور معاشرتی، ثقافتی و تہذیبی اقدار کی پیش کشی پر زیادہ توجہ صرف کی ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کو کبھی نہیں بنایا مگر وہ اپنی تحریروں میں ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔ ان کی کہانیاں بڑی حد تک ان کے احساسات اور مشاہدات اور تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں اس مغربی تہذیب کا تذکرہ ہے جو ان سے برسوں تک طرح طرح کے روپ اختیار کرکے ان کے سامنے آتی رہی اور ایسے موقع پر انہوں نے پلٹ کر مشرقی تہذیب کی طرف دیکھا، کبھی اسے اپنا ہم سفر بانے کے لیے تو کبھی اپنا رہنما۔ وہ مغرب اور مشرق سے اپنی اس لین دین کو پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے قارئین تک پہنچا دیتے ہیں۔ علی باقر ایک افسانہ نگار کے علاوہ ایک دانشور بھی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی ایک خاص نصب العین کے تحت گزاری۔ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو مادیت کا غلام نہ بننے دیا بلکہ اپنی زندگی کو مقصدی بنایا اور سماج کے دبے کچلے اور بے سہارا لوگوں کے لیے عملی طور پر کام کرتے رہے انہوں نے معذوروں کی مدد کے لیے غیر سرکاری تنظیم
Convert Action Now
کے نام سے قائم کی جس کے ذریعہ ملک گیر سطح پر ذہنی و جسمانی طور پر معذوروں کے لیے فلاحی کام کیے۔ علی باقر کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی سیما باقر اس تنظیم کی ایک اہم رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ علی باقر کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں کئی انعامات و اعزازات سے نوازا بھی گیا۔
(نوٹ: ڈاکٹر شاہ جہاں بیگم کے متذکرہ مضمون میں غالباً کتابت کی غلطی سے "سیمہ تراب الحسن" لکھا گیا ہے، جبکہ یہ "نسیمہ تراب الحسن" ہیں، جو علی باقر کی ہمشیرہ ہیں اور حیدرآباد کی معروف ادیب و شاعرہ۔)
اور ۔۔۔ ہمارے عہد کے نامور مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے علی باقر کے افسانوں کے پہلے مجموعہ "خوشی کے موسم" کے لیے جو پیش لفظ تحریر کیا تھا، اس کا آخری حصہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔
علی باقر کی ایک اور پہچان یہ ہے کہ وہ ہم سب کے بنے بھائی یعنی سجاد ظہیر مرحوم اور محترمہ ر ضیہ سجاد ظہیر کا داماد ہے۔ مگر اس نے ادب میں اپنا مقام بنانے کیلئے اس آسان اور موثر رشتے سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اس نے تو بس کھری کہانیاں لکھی ہیں، ادب میں مقام بنانے سے کیا مطلب؟ بنے بھائی نے خود میرے سامنے کئی بار اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ علی باقر کو اپنے افسانوں کا مجموعہ شائع کرنا چاہئے، مگر اس معاملے میں وہ ایسا لاپرواہ ثابت ہوا کہ بنے بھائی کی زندگی میں ان کی اس خواہش کی تکمیل نہ کرسکا۔ (داماد چیز ہی ایسی ہوتی ہے) عملی زندگی میں وہ اب بھی ہر سنجیدہ بات کو ہنس کر ٹال دیتا ہے۔
افسانوں کے اس پہلے مجموعے کی اشاعت بھی دراصل میرے پیہم اصرار اور تقاضوں کا نتیجہ ہے۔ مگر میرے اصرار کا مطلب یہ تو نہ تھا کہ وہ مجھ سے ہی اس کتاب کا پیش لفظ، لکھواتا جسے میں اکثر ''پس و پیش منظر '' کہتا ہوں۔ بھلا میں کس ہنر میں یکتا ہوں۔ اپنی کم علمی اور لفظ کے ثبوت مثالوں کے ساتھ دے کر اس سے کہا: ''بھئی تم کسی بھاری بھرکم شخصیت سے کیوں نہیں لکھواتے ؟ ''
بولا: ''میاں مجتبیٰ ! ہم تو محبت کے دیوانے ہیں۔ وہی کریں گے جو محبت ہم سے کروائے گی''۔ پھر آنکھ مار کر حسب دستور ٹھٹھا مارتے ہوئے بولا : "یوں بھی میں نہیں چاہتا کہ میری کتاب کی وجہ سے تمہارے علاوہ کسی اور کی شہرت میں اضافہ ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ اب ذرا تم بھی مشہور ہو لو۔ اب مان جاؤ، اچھے بچے ضد نہیں کرتے ''۔
شہرت اور محبت یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کیلئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ پیش لفظ لکھنا کون سا مشکل کام ہے۔ سو بحالت مجبوری میں نے علی باقر کے افسانوں کے چلتے جھکڑ کے آگے اپنے اس پیش لفظ کا چھوٹا سا دیا جلانے کی جسارت کی ہے جو یقیناً پہلے ہی افسانے کے جھونکے میں بجھ جائے گا۔ اس کے بعد میں اندھیرے میں رہ جاؤں گا اور آپ علی باقر کے افسانوں کی روشنی میں بہت دور تک چلے جائیں گے اور میں چاہتا بھی یہی ہوں۔
علی باقر کے افسانوں کے اولین مجموعہ (خوشی کے موسم) کی رسم اجرا عصمت چغتائی کے ہاتھوں 1978ء میں جب عمل میں آئی تو عصمت چغتائی نے کہا تھا:
میں نے اور منٹو نے جو باتیں کونین میں ڈبو کر کہی ہیں، ان کو علی باقر نے شکر میں لپیٹ کر کہا ہے جو ان کے فنکارانہ کمال کی غمازی کرتا ہے۔۔۔ مغرب والے جس قسم کا لٹریچر لکھ رہے ہیں ان میں کھری عورت نظر نہیں آتی۔ علی باقر نے یوروپ کی عورتوں کو اصلی روپ میں دیکھا ہے اور یہ کہانیاں لکھ کر مغرب کی عورت پر احسان کیا ہے۔
(بحوالہ: "لندن کے رات دن")
پس نوشت:
ڈاکٹر شاہ جہاں بیگم کا شکریہ کہ انہوں نے فرحت انجم کی کتاب "علی باقر: افسانوں کا تنقیدی جائزہ" کے حوالے سے علی باقر کی تاریخ پیدائش و وفات سے آگاہی دی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں