ڈومین تجدید اور سالگرہ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2022/12/29

ڈومین تجدید اور سالگرہ

Domain renewal issues

© مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
29/دسمبر/2022
*****


پرسوں اردو کے ایک بڑے (مگر زندہ) پروفیسر کی سالگرہ کے موقع پر ان کے ایک محب شاگرد نے ایک افسانہ ۔۔۔ ممم میرا مطلب ہے تہنیت نامہ ، اررر سوری ۔۔۔ ایک طویل تعارفی خاکہ کسی سوشل میڈیا گروپ میں پیش فرمایا جس میں داد و تحسین کے ڈونگرے ایسی قلابازیاں دکھا رہے تھے کہ بس کیا بتائیں صاحب۔
خیر ایک جگہ لکھا تھا کہ پروفیسر موصوف اردو کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ ۔۔۔ واہ واہ واہ واہ ۔۔۔ بطور ثبوت فلاں ویب سائٹ دیکھیے ۔۔۔
اس غریب نے لنک کو کلک کیا تو معلوم ہوا کہ ڈومین تو کبھی کا ایکسپائر ہو چکا!


چونکہ راقم خود بھی "ڈومین" نامی اس چیز کے پیچھے برسوں خوار ہو چکا ہے لہذا یادوں کا ایک پٹارا سا کھل گیا۔
ایک زمانے میں ہمارا ایک بڑا معتبر سا قلمی نام رہا تھا، بس صاحب اسی نام سے ڈومین خرید لیا، یہ سعودی عرب کے دورانِ قیام کا ذکرِ خیر ہے، یعنی یہی کوئی چوتھائی صدی قبل کی بات۔ نہ ٹکنالوجی کا زیادہ علم تھا اور نہ آن لائن ٹرانزکشن کے طریقے معلوم تھے۔ ایک نہایت قریبی پاکستانی دوست کو ریال ٹرانسفر کیے اور انہوں نے پاکستان کے اپنے ایک واقفکار کے ذریعے ڈومین نیم دلوا دیا۔ اگلے سال تجدید کی رقم بھی ان کے پوچھنے پر ادا کر دی کہ ہاں بھائی مزید ایک سال تجدید کر دینا۔۔۔ مگر اس کے اگلے سال متذکرہ واقفکار صاحب نے اصل سے تقریباً دس گنا زائد رقم مانگ لی۔ پاکستانی چونے کا بھاؤ تبھی معلوم ہوا تھا۔ مگر خیر سے ایک اور پاکستانی دوست مدد کو آئے اور انہوں نے کراچی بوری والی کوئی دھمکی دے کر ڈومین کا سارا ڈیٹا مجھے فراہم کرا دیا، تب تک ہم ایک انڈین ڈومین پرچیزنگ کمپنی میں اپنا اکاؤنٹ کھول چکے تھے لہذا اپنا ڈومین نام وہیں ٹرانسفر کر لیا۔ پھر ویب ڈیزائننگ و ڈیولوپنگ کی مصروفیات بڑھیں تو ایک سے دو، دو سے چار ، حتیٰ کہ پندرہ بیس ڈومین ناموں کو سنبھالنے کی ذمہ داری کا بوجھ بڑھ گیا۔
ایسے میں ڈومین اور ہوسٹنگ کمپنیوں سے ربط ضبط، ایمیل مراسلت کا بھی خاصا تجربہ حاصل ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ یہ بھی معلوم ہوتا گیا کہ کام نہ ہونے پر درمیانی انگلی کرنے/اٹھانے کا مہذب تحریری طریقہ کیا اور کیسا ہوتا ہے۔


خیر ڈومین تجدید معاملے کے ساتھ ایک اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ ایکسپائر تاریخ سے دو ماہ قبل ہی ایمیل کے ذریعے متنبہ کیا جاتا ہے کہ ہوشیار خبردار، پیسے تیار رکھیں۔ مگر ہم جیسے "حیدرآبادی سوتی ماروں" کو کام کرنا بس آخری دن اور کبھی کبھی تو آخری گھنٹے میں یاد آتا ہے۔ ویسے ڈومین تاریخ ایکسپائر ہونے کے بعد بھی چند دن بطور گریس پیریڈ ملتے ہیں، اگر آپ ہوشیار ہو کر فوراً پےمنٹ کر دیں تو ٹھیک ورنہ پھر وہ ڈومین جو ہاتھ سے نکلا تو ہزاروں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی واپس ملنے کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔
کبھی کبھی ڈومین رجسٹریشن کمپنیاں بھی اپنا داؤ کھیلتی ہیں، اگر آپ نے سپورٹ ٹکٹ کے ذریعے سختی نہ دکھائی اور اپنے موقف پر جم کر بات نہ کی تو پھر اپنی کچھ زائد رقم ڈبونے بھی تیار رہیں۔ فی الحال انڈیا میں سالانہ ڈومین تجدید کی رقم قریب 900 روپے ہے۔ لیکن کچھ ماہ قبل مجھے ایک ڈومین تجدید کی جو نوٹس ملی تو وہاں رقم لکھی تھی 1250 یعنی تقریباً 350 روپے زائد۔ حضور، ہم تو پچاس روپے بھی زائد چارج کیے جائیں تو قلم کی تیر کمان سنبھال لیتے ہیں، لہذا سپورٹ ٹکٹ کی جنگ شروع ہو گئی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ پرانا رجسٹرار مہنگا ہو گیا ہے لہذا ہم نے سستے والا رجسٹرار ڈھونڈ لیا ہے، اسے کہا کہ تو بھائی میرے! سستے والے رجسٹرار پر میرے ڈومین کو منتقل کر دے، ادھر سے جواب آیا کہ، باقاعدہ تحریری نوٹس بھیجیے اور ایک ہفتہ انتظار کیجیے ۔۔۔ اس ڈومین والی ویب سائٹ بھی اس دوران ڈاؤن رہ سکتی ہے۔


تو یہ سب چکر چلتے رہتے ہیں۔ کبھی یوں بھی ہوا کہ کریڈٹ کارڈ سے ادائی کی اور اوپر جو ایک نہایت چھوٹا سا بٹن ہوتا ہے کریڈٹ کارڈ ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا، اس پر سے ٹک ہٹانا بھول گئے۔ اگلے ماہ موبائل پر ایس ایم ایس وصول ہوا کہ آپ کے کریڈٹ کارڈ سے 1250 روپے منہا ہو گئے۔ چیک کیا تو پتا چلا کہ فلاں ڈومین دو ماہ بعد ایکسپائر ہونے والا ہے، آپ نے چونکہ "آٹو رینیول" (خودکار سالانہ تجدید) اپلائی کر رکھا ہے اور آپ کا کریڈٹ کارڈ ڈیٹا بھی آپ کے اکاؤنٹ میں محفوظ ہے، لہذا ڈومین خودکار طور پر رینیو ہو گیا ہے۔
ابے تیری ایسی کی تیسی ۔۔۔ فوراً ٹکٹ کھولا کہ اماں بھائی جان، وہ ذرا میرا کریڈٹ کارڈ ڈیٹا حذف کرو اور ڈومین کو سستے والے رجسٹرار پر منتقل کرو۔
یعنی ہر کام پیچھے پڑ کر کرانا پڑتا ہے، صرف اسٹیج پر پھولوں کے ہار پہن لینے، گلدستے وصول کر لینے یا اپنی تعریف و تحسین میں مضامین لکھوا کر کوئی ٹیکنالوجی کا ماہر نہیں بن جاتا!!


خیر۔۔۔ ہمارے ایک کزن پرسوں پوچھ رہے تھے:
"مکرم بھیا، حیرانی ہوتی ہے کہ آپ اتنے سارے ڈومین اور ہوسٹنگ اسپیسز کو کیسے مینٹین کرتے ہیں؟ کیا ایکسل فائل میں کوئی ڈیٹابیس بنا رکھا ہے؟"
عرض کیا:
ارے ببوا جانی! جسے اپنا اصل "ڈومین" سنبھالنا آ گیا بس سمجھو کہ وہ ساری دنیا کو اپنے کی-بورڈ پر نچا سکتا ہے۔ اور ہم تو پچھلے بائیس سال سے اسی مشق میں مبتلا ہیں۔


کل رات اچانک خاتون خانہ نے بارہ بجکر پانچ منٹ پر نیند سے بیدار کرا دیا، محبت سے بولیں:
"اجی، آج کیا ہے معلوم؟"
ایک ساتھ ہزاروں قمقمے دماغ میں روشن ہو گئے۔
"اوہ ہو ، ہیپی ٹوئنٹی سیکنڈ انیورسری ڈارلنگ!!"
"وہ سب چھوڑو، دے رئیں کیا، یہ بتاؤ پہلے۔۔۔۔"
"اچھا، صبح دیکھتے ہیں ان شاءاللہ"


پس نوشت:
دفتر میں تو بڑی بھاگ دوڑ پر بھی کچھ نہ ہو سکا، اب واپس گھر جانا ہے۔ کوئی فیس بکی دوست دو چار ماہ کے لیے قرض حسنہ دینے تیار ہو تو ذرا ان-بکس میں رابطہ کرے!!

Domain renewal issues

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں