تین طلاق کا موضوع اور بی۔آر۔چوپڑہ کی 1982ء کی فلم نکاح - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2022/05/16

تین طلاق کا موضوع اور بی۔آر۔چوپڑہ کی 1982ء کی فلم نکاح

nikaah 1982 movie br chopra

© مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
16/مئی/2022
*****


ڈاکٹر عبدالرحیم خان، ہمارے ایک بہت اچھے فیس بک دوست ہیں۔ کشادہ دل، حاضر جواب اور مخلص طبع۔ ماہ رمضان کے دوران ایک جگہ انہوں نے اپنے ایک کمنٹ میں مجھ ناچیز کو مخاطب کر کے لکھا تھا:
ویسے آپ کے ہمنام بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ علیگڈہ تعلیم کے دوران ہمارے ایک عزیز مکرم بھائی ہوا کرتے تھے۔ ایک دن افطار پر انہوں نے دعوت دی۔ میں ان کے کمرے پہونچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سرخ رنگ کا ٹیپ ریکارڈر اور سیکڑوں کیسیٹس پڑی ہیں۔ پوچھ بیٹھا۔۔۔۔ مکرم بھائی! آپ رمضان میں بھی گانے سنتے ہیں؟۔۔۔۔۔ برجستہ بول بڑے۔۔۔ "کیا رمضان میں مغل اعظم اور نکاح کے بھی گانے نہیں سن سکتے؟"


***
مغل اعظم کا ذکر پھر کبھی سہی مگر فی الوقت فلم "نکاح" کا ذکرِ خیر ہو جائے ۔۔۔
ستمبر 1982ء میں ریلیز ہوئی یہ فلم "طلاق" (ایک نشست کی تین طلاق) کے موضوع پر تھی اور ریلیز سے قبل ہی تنازعات میں پھنسا دی گئی تھی۔ بی۔آر۔چوپڑا جیسے ممتاز ہدایت کار کی فلم تھی اور فلمساز بھی وہی تھے۔ فلم کا نام پہلے پہل "طلاق طلاق طلاق" رکھا گیا تھا۔ مذہبی طبقے نے شدید احتجاج شروع کر دیا کہ میاں فلم دیکھ کر آئے اور بیوی فلم کا نام پوچھ لے تو طلاق پڑ جائے گی!
بہرحال اس وقت اردو اخبارات میں اسی ضمن میں مزے مزے کی خبریں اور مراسلے پڑھنے کو ملتے تھے۔ ان دنوں ہم دسویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ اور یاد ہے کہ پرانا شہر ہو کہ نیا شہر ۔۔۔ جگہ جگہ ہوٹلوں میں، پان کے ڈبوں پر، کرانہ کی دکانوں کے ٹیب ریکارڈر سے فلم "نکاح" کے نغمے خوب بجا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ اس فلم کا نغمہ "بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی" ہماری جامعہ عثمانیہ کے مشہور و مقبول عام آرٹس کالج کے مرکزی ہال میں فلمایا گیا تھا۔ بلکہ فلم میں ہیرو اور ہیروئین، حیدر (راج ببر) اور نیلوفر (سلمیٰ آغا) دونوں کو جامعہ عثمانیہ کا طالب علم بتایا گیا تھا۔


اواخر 1982ء میں والد صاحب پہلی بار چھٹی پر سعودی عرب سے حیدرآباد تشریف لائے تھے۔ اپنے ہمراہ ٹیپ ریکارڈر اور کچھ پرانی قدیم فلموں کے آڈیو کیسٹ کے ساتھ ساتھ فلم "نکاح" کے تمام نغموں کا کیسٹ بھی۔ وہ کیسٹ اتنی بار بجا اتنی بار بجا کہ ۔۔۔ پھر ایک ہی سال میں گھررررر ررریں کی آواز کے ساتھ ٹیپ کا فیتہ انتقال کر گیا تھا۔


دوسرا واقعہ 1989ء اگست کا ہے۔ کالج کے ہم تمام ہم جماعت ڈگری سرٹیفکیٹ لینے جامعہ عثمانیہ کے انجینئرنگ کالج پہنچے تھے جہاں حیدرآباد کے تمام انجینرنگ کالجز کے طلباء طالبات کا مجمع تھا۔ خوب ہلہ گلہ مچا، فلمی انتاکشری کے مقابلے ہوئے۔ آخر میں شہر کے ایک مشہور انجینئرنگ کالج کی ایک طالبہ نے جب یہ نغمہ نہایت پراثر انداز میں سنایا تو لاتعداد طلبا اپنے اپنے ساتھیوں کے گلے لپٹ کر آنسو بہانے لگ گئے تھے ؎
ابھی الوداع مت کہو دوستو
نجانے پھر کہاں ملاقات ہو، کیوں کہ
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی
خوابوں میں ہی ہو چاہے ملاقات تو ہوگی


یہ پیار میں ڈوبی ہوئی رنگین فضائیں
یہ چہرے یہ نظارے یہ جواں رُت یہ ہوائیں
ہم جائیں کہیں ان کی مہک ساتھ تو ہوگی


پھولوں کی طرح دل میں بسائے ہوئے رکھنا
یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے رکھنا
لمبا ہے سفر اس میں کہیں رات تو ہوگی


یہ ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی دولت
لذت کی دولت یہ خیالات کی دولت
کچھ پاس نہ ہو پاس یہ سوغات تو ہوگی
بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی


فلم "نکاح" کے دو مرکزی مرد اداکار راج ببر اور دیپک پراشر رہے ہیں۔ اور اس دور میں ان دونوں کی جوڑی اسی طرح مشہور رہی جیسے کچھ زمانے بعد انل کپور اور جیکی شراف مشہور ہوئے۔ راج اور دیپک کی انٹری غالباً ایک ساتھ ہی 1980ء میں ہوئی تھی۔ مگر راج ببر نے دیپک کے مقابلے میں بہت نام کمایا اور ان کی فلمیں بھی کافی پسند کی گئیں: انصاف کا ترازو، آپ تو ایسے نہ تھے، پونم، پریم گیت، ارمان، نکاح، اگر تم نہ ہوتے، مزدور، نوکر بیوی کا، آج کی آواز، اعتبار، عوام، لاوا وغیرہ۔ راج 80 کی دہائی میں اپنی اداکاری کے بل پر اتنے مقبول ہوئے کہ کچھ فلمی حلقوں میں کہا جانے لگا تھا کہ امیتابھ بچن کے ٹکر پر راج ببر آ گیا ہے۔ راج ببر اور دیپک پراشر دونوں ہی مشہور و مقبول فلمساز ہدایت کار بی۔آر۔چوپڑا کی دریافت ہیں۔ حالانکہ بی۔آر۔چوپڑا نے جب "انصاف کا ترازو" میں راج ببر کو پہلا موقع دیا تو اس فلم میں ان کا منفی کردار رہا تھا، مگر اسی کردار پر مبنی اپنی موثر اداکاری کے سہارے انہوں نے فلمی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور کے جتنے اچھے اور مقبول ترین نغمے رہے وہ سب راج ببر کے ہی حصے میں آئے: دل کی یہ آرزو تھی کوئی دلربا ملے (نکاح)، تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے (آپ تو ایسے نہ تھے)، ہونٹوں سے چھو لو تم میرے گیت امر کر دو (پریم گیت)، میرے پیار کی عمر ہو اتنی صنم (وارث)۔ مشہور ترقی پسند ادیب سجاد ظہیر کی دختر نادرہ ظہیر سے راج ببر کی شادی 1975ء میں ہوئی تھی اور سمیتا پاٹل (وفات: دسمبر 1986ء) سے انہوں نے 1985 میں بیاہ رچایا جن سے ان کی اولاد پرتیک ببر ہے جو بالی ووڈ کی آج کی نسل کا اداکار ہے۔ راج ببر ان دنوں میدانِ سیاست کا ایک اہم نام ہیں۔


پاکستانی نژاد برطانوی اداکارہ سلمی آغا نے پہلی بار اسی فلم "نکاح" کے ذریعے بالی ووڈ میں داخلہ لیا تھا۔ اپنی گلوکاری کے باعث ہی انہوں نے مقبولیت حاصل کی ورنہ اداکاری کے ذیل میں ان کی کوئی خاص شناخت قائم نہیں ہو پائی۔ یہ صحیح ہے کہ فلم "نکاح" میں انہوں نے حیدرآبادی طالبہ/خاتون نیلوفر کا جو کردار نبھایا وہ واقعی پراثر تھا۔ ان کے نغموں کے کچھ آڈیو البم بھی ٹی۔سیریز نے جاری کیے تھے جس میں "میرا نام یاد رکھنا" ہندوستان کے بڑے شہروں میں کافی مقبول ہوا۔ سلمیٰ آغا ان دنوں ممبئی میں مقیم ہیں، انہیں 2017ء میں ہندوستانی حکومت نے "غیر ملکی ہندوستانی" کی شہریت عطا کی ہے۔


فلم نکاح میں موسیقار روی کی موسیقی کی داد نہ دینا یقیناً ناانصافی ہوگی۔ روی ساٹھویں دہائی کے مقبول عام موسیقار رہے، جن کے فنِ موسیقی کی تعریف ہم نے اپنے بچپن میں بزرگوں سے اکثر و بیشتر سن رکھی تھی۔ غالباً "نکاح" ہی کے ذریعے بالی ووڈ میں ان کی دوسری اننگ کا آغاز ہوا۔ بطور خاص گانا "فضا بھی ہے جواں جواں" کی جو پس منظر موسیقی ہے وہ بالی ووڈ کے فلمی نغموں میں نادر و نایاب ہے۔ کم از کم مجھے لگتا ہے کہ اس طرز پر دوسری دھن جو تخلیق کی گئی ہے، وہ راہل دیو برمن کی "کچھ نہ کہو" (فلم: 1942 اے لَو اسٹوری، ریلیز: 1994) ہے۔ جبکہ میرے دوست #مرزا مذاقاً کہتے ہیں کہ: ان دونوں گانوں کی صرف موسیقی سن لی جائے تو بندہ چار پانچ گھنٹوں کی آرام دہ نیند لے سکتا ہے۔


میری معلومات کے مطابق لکھنؤ کے نمائندہ شاعر حسن کمال بھی اسی "نکاح" کے ذریعے فلم انڈسٹری میں متعارف ہوئے تھے۔ اور مہندر کپور تو تھے ہی ایک منفرد آواز کے مالک۔ خاص طور پر بیتے ہوئے لمحوں کی کسک اور دل کی یہ آرزو تھی کوئی دلربا ملے ۔۔۔ انہوں نے راج ببر کی آواز کے اتار چڑھاؤ اور آہنگ میں جو گایا ہے وہ بار بار سنے جانے کے لائق ہے۔


بالی ووڈ کا وہ بھی ایک سنہرا دور تھا کہ مسلم مسائل کو فلم کا مرکزی موضوع بنایا بھی جاتا تھا تو غیرمتعصب انداز میں اور عوامی تفریح کا خیال رکھتے ہوئے۔ ایک نشست کی تین طلاق گو کہ مسلم معاشرے کا ہمیشہ سے حساس موضوع رہا ہے مگر بی۔آر۔چوپڑہ نے اس مسئلے کو فلم کے آخر میں جس طرح انسانی مسئلہ کے طور پر اجاگر کیا وہ قابل تعریف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم "نکاح" کی ریلیز کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1982ء میں اسی تین طلاق کے موضوع پر ممتاز ہدایتکار راہل رویل کی بھی فلم "دیدارِ یار" (جتیندر، رشی کپور اور ٹینا منیم) ریلیز کی گئی تھی۔ "نکاح" کے حیدرآبادی ماحول کے برخلاف "دیدارِ یار" کا پس منظر لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت تھی۔ مگر افسوس کہ فلم فلاپ گئی۔ حالانکہ فلم میں ایک طوائف کے طور پر ریکھا کا موثر کردار بھی شامل تھا۔


Triple Talaq and B.R.Chopra's 1982 movie Nikaah.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں