بھارت کا خاتمہ - خشونت سنگھ کی متنازعہ کتاب - pdf download - Hyderabadi | My city Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2019/12/10

بھارت کا خاتمہ - خشونت سنگھ کی متنازعہ کتاب - pdf download

end-of-india-khushwant-singh

دی اینڈ آف انڈیا
یعنی
بھارت کا خاتمہ
یہ نامور انگریزی مصنف خشونت سنگھ (پ: 2/فروری 1915 ، م: 20/مارچ 2014) کی 2003 میں شائع شدہ کتاب کا عنوان ہے۔ جس کا اردو ترجمہ پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔
اپنے دور میں اس کتاب کو اس قدر متنازعہ باور کرایا گیا کہ کوئی بھی اس پر مکالمہ کرنے تیار نہ ہوا۔ قارئین و ناقدین کو ایک معنوں میں ملکی اداروں، شہریوں اور سوسائٹی پر اس قدر غیرمتزلزل اعتماد قائم تھا کہ اس بھروسے کو ریت کا بھرم سمجھنے کوئی تیار نہ ہوا۔۔۔ خشونت سنگھ چونکہ کسی حد تک سمجھ گئے تھے اور جس حقیقت پسندی کا اظہار انہوں نے اس کتاب میں کیا ہے اس کا موازنہ ہندوستان کے موجودہ حالات سے کیا جا سکتا ہے اور سمجھا جا سکتا ہے کہ مصنف کی باتوں میں کس حد تک سچائی ہے؟
کتاب کا اردو ترجمہ پاکستانی مصنف محمد احسن بٹ کی طرف سے ہے اور اس کی اشاعت بھی پاکستانی ناشر کی طرف سے ہوئی ہے۔ ترجمے میں کسی قسم کی خامی، زیادتی یا الفاظ کا متعصبانہ الٹ پھیر محسوس ہو تو اصل انگریزی کتاب سے رجوع کیا جائے۔

اس کتاب کے تعارف میں مصنف خشونت سنگھ لکھتے ہیں:
بھارت تاریک زمانے سے گزر رہا ہے۔ باپو گاندھی کی آبائی ریاست گجرات میں 2002ء کے اوائل میں ہونے والی قتل و غارت گری اور اس کے نتیجے میں نریندر مودی کی زبردست انتخابی فتح ہمارے ملک کو تباہی اور بربادی کے غار میں دھکیل دے گی۔ ہندو جنونیوں کا قاشسٹ ایجنڈا ہماری جدید تاریخ کے ہر تجربے سے مختلف ہے۔ تقسیم کے بعد میرا خیال تھا کہ ہم اس طرح کے قتل عام سے دوبارہ دوچار نہیں ہوں گے۔ مہان (عظیم) بننا تو دور کی بات ہے، بھارت بربادی کا شکار ہو چکا ہے اور کوئی معجزہ ہی بچائے تو بچائے وگرنہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ یہ پاکستان یا کوئی دوسری غیرملکی طاقت نہیں ہوگی کہ جو ہمیں نیست و نابود کرے گی ، بلکہ ہم خودکشی کریں گے۔
۔۔۔ نہرو اس دور کے پہلے اور شاید واحد ہندوستانی رہنما تھے جنہیں ادراک تھا کہ کمیونزم ہندوستانی جمہوریت کا چیلنج نہیں کرے گا بلکہ یہ چیلنج تو مذہبی جنونیت کے احیا سے درپیش ہوگا۔ نہرو جانتے تھے کہ ہر منظم دھرم ایک تخیلاتی عظیم الشان ماضی کی پرستش اور تبدیلی کی مخالفت کرتا ہے۔
۔۔۔ ہندوستان کی سیکولر جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ ہندوؤں میں، جو کہ آبادی کا اسی (80) فیصد تھے، مذہبی بنیاد پرستی کا احیا تھا۔ یاد رہے کہ جب ڈاکٹر راجندر پرشاد، سومنات کے نوتعمیر شدہ مندر کا افتتاح کرنے پر راضی ہو گئے تو نہرو نے انہیں شدید احتجاجی مراسلہ بھیجا کہ ایک سیکولر ریاست کے سربراہ کو مذہبی معاملات سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے نہرو کے بعد آنے والے رہنما ان کی طرح دیانتدار، مخلص اور سرگرم سیکولر نہیں تھے۔ یوں ہندوانتہا پسند گروہ تقویت پانے لگے۔ پورے ہندوستان میں نوجوانوں کے ذہنوں میں مذہبی جنونی تصورات کا زہر بھرا جانے لگا۔ انہیں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف لڑنے اور ان کا قتل عام کرنے کے لیے جنگی تربیت دی گئی۔ مسلح گروہ قائم ہو گئے جو معصوم اور نہتے شہریوں کو ہراساں کرتے رہتے تھے۔ تعلیمی اداروں، انتظامیہ، فوج اور صحافت میں ہندو مذہبی جنونی داخل ہونے لگے۔ ہندوستانی حکمران اپنے مفادات پورے کرنے کے چکر میں رہے اور ہندوستان ہندو جنونیت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

ہندو انتہا پسندوں نے عام ہندوؤں کے ذہنوں میں یہ احساس راسخ کر دیا کہ انہیں غیر ملکیوں نے صدیوں تک لوٹا کھسوٹا اور ان کی تذلیل کی ہے۔ مسلمان تقریباً آٹھ سو سال تک ہندوستان پر حکمران رہے تھے۔ ہندو انتہا پسندوں نے الزام لگایا کہ مسلمان بادشاہوں نے ہندوؤں کے مندروں کو مسمار کروا دیا تھا، ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنایا تھا اور غیر مسلموں کو جزیہ لگا دیا تھا۔ حالانکہ مسلمان حکمرانوں ہی پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ تمام قدیم اور وسطی زمانے کے معاشروں میں ایسا عموماً ہوا کرتا تھا۔
مثال کے طور پر پرانے ہندو بادشاہوں اور راجاؤں نے بھی بدھوں اور جینوں کا قتل عام کروایا اور ان کی پرستش گاہوں (PLACES OF WORSHIP) کو مسمار کروا دیا۔ مغلوں کے بعد ہندوستان پر حکومت کرنے والے برطانویوں نے نہ صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کو یکساں طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا بلکہ عیسائی مشنریوں کو چھوٹ دی کہ وہ پورے ہندوستان میں سکول ، کانچ اور ہسپتال کھولیں ، بائبل کی تعلیمات کا پرچار کریں اور لوگوں کو عیسائی بنائیں۔
برطانوی دور حکومت ہی میں ہندو قوم پرستی نے جنم لیا۔ انتہائی طاقتور تحریک "آریہ سماج" سوامی دیانند سرسوتی (1883ء-1824ء) کی رہنمائی میں شروع ہوئی۔ اس کے "ویدوں کی طرف واپسی" کے نعرے کو زبردست قبولیت حاصل ہوئی اور شمالی ہندوستان میں تو اس نظریے کو بالخصوص قبولیت حاصل ہوئی۔ "آریہ سماج" کے ماننے والوں میں ایک پنجابی لالہ لاجپت رائے (1928ء- 1865ء) بھی تھا، جو کہ ایک کٹر ہندو اور انڈین نیشنل کانگریس کا رکن بھی تھا۔ مہاراشٹر کے بال گنگادھر تلک (1920-1856) کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ اس نے گنپتی کے مسلک کا احیا کیا اور "سوراج (آزادی) ما را پیدائشی حق ہے" کا نعرہ وضع کیا۔
ادھر مسلح ہندو تنظیمیں وجود میں آ چکی تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) تھی۔ اس کی بنیاد 1925ء میں کیشو بلی رام ہیڈگوار (1940ء- 1889ء) نے ناگپور میں رکھی تھی۔ اس نے ایک ہندو راشٹر یعنی ہندو ریاست کے نظریئے کا پرچار کیا۔ وہ مسلمانوں کا دشمن تھا۔ وہ مہاتما گاندھی کا بھی مخالف تھا، کیونکہ مہاتما گاندھی تمام مذاہب کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ کیشو بلی رام کا جانشین ایم۔ ایس۔ گوالکر تھا، جس کا جانشین بالا صاحب دیوراس تھا۔ ان سب رہنماؤں نے ، جو کہ کرشماتی لیڈر تھے اور شرمناک حد تک فرقہ پرست تھے، آر ایس ایس کو فاشسٹ پروپیگنڈے کے ذریعے مضبوط کیا۔ انہوں نے آرایس ایس میں سخت نظم و ضبط قائم رکھا اور زلزلوں اور قحط جیسے المیوں اور تقسیم ہند کے دوران ہندوؤں میں نہ صرف سماجی فلاح کے کام کئے بلکہ دوران تقسیم تو انہوں نے ہزاروں بےبس مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور نہتے جوانوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا، اور ان کے اثاثے لوٹ لئے۔

1990 ء تک آر ایس ایس کے اراکین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں دوسروں کے علاوہ اٹل بہاری واجپائی، ایل کے۔ ایڈوانی ، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور نریندر مودی بھی شامل تھے۔ اوما بھارتی ، ایل۔ کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی تو 6/دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کرنے کے نامزد ملزم ہیں۔ نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا منظم قتل عام کروایا ہے۔ آر ایس ایس مسلمانوں، عیسائیوں اور بائیں بازو والوں کی دشمن تھی اور ہے۔ جب تک وہ مرکزی دھارے کی سیاست کے کناروں پر تھی تو اسے جنونی قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا، تاہم اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ آر ایس ایس کی بغل بچہ، بھارتیہ جن سنگھ کے، جو آج بھارتیہ جنتا پارٹی کہلاتی ہے، 1984 میں لوک سبھا میں صرف دو رکن تھے لیکن 1991 میں لوک سبھا میں اس کے اراکین کی تعداد 117 ہو گئی۔ آج یہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملک پر حکومت کر رہی ہے۔

۔۔۔ فاشزم ہمارے ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ اس کا الزام ہم صرف خود ہی کو دے سکتے ہیں۔ ہم نے جنونیوں کو کسی احتجاج کے بغیر اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع دیا۔ انہوں نے اپنی ناپسندیدہ کتابوں کو جلایا، انہوں نے اپنے مخالف صحافیوں کو مارا پیٹا، انہوں نے اپنی ناپسندیدہ فلمیں دکھانے والے سینماؤں کو جلایا ، انہوں نے حکومت کے منظور شدہ سکرپٹ کو فلمانے والوں کے آلات کو توڑا پھوڑا۔ انہوں نے ایک ممتاز مسلمان مصور کے سٹوڈیو میں بدمعاشی کی اور ان کی تصاویر کو تباہ کر دیا، انہوں نے تاریخ کی کتابوں کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ان کے متن میں تحریف کی۔ ہم نے انہیں یہ سب کچھ کرنے کی چھوٹ دی، گویا ہمیں اس سے کوئی سروکار ہی نہ ہو۔ اب وہ صرف اس جرم میں لوگوں کو ذبح کر رہے ہیں کہ وہ ایک مختلف خدا کو مانتے ہیں ۔ وہ اپنے سے اختلاف کرنے والے ہرشخص سے گالم گلوچ کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے جعلی سیکولر ہیں۔ ہم جوابی حملہ کرنے میں ناکام ہوئے ہیں ، کیونکہ ہم نے اپنی قوت مجتمع نہیں کی اور اپنے ملک کو ان جنونیوں کے ہاتھوں میں جانے دینے کے خطرات کا ادراک نہیں کیا۔ ہم اپنی اس کوتاہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

۔۔۔۔ میں کوئی سورما نہیں ہوں۔ میں تو بزدل سا ینده ہوں تاہم جب میرے سامنے میرے ملک کے حقیقی دشمن ہوں تو میں اپنے خیالات کا ہےخوف ہو کر اظہار ضرور کرتا ہوں۔ یہ کم سے کم ہے جو میں کر سکتا ہوں، ایک طویل عرصے سے میں مذہبی بنیاد پرستی کے لئے ایک موزوں لفظ کو تلاش کر رہا ہوں ، آخرکار میں نے اسے گیتا ہری ہرن کے ناول میں پا لیا۔ وہ انہیں "فنڈوز" (FUNDOOS) کہتی ہے اور ان کی بالکل درست تعریف یوں متعین کرتی ہے:
فنڈو ایک عرفیت ہے، جسے مینا روانی سے ادا کرتی ہے۔ ایک پالتو کے لئے، ایک پالتو دشمن کے لئے ایک عرف۔ شناسا گارڈن ورائٹی نفرت پھیلانے والا، جس سے بچنا محال ہے کیونکہ تمہارے اپنے عقبی صحن میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ فنڈو، فنڈامینٹلسٹ۔ فاشسٹ۔ تاریکی پھیلانے والے۔ دہشت گرد۔ اور میڈ ان انڈیا برانڈ، فرقہ پرست۔۔۔ دوسری کمیونٹی سے نفرت کرنے والے پیشہ وروں کا فریب کارانہ بےضرر نام۔۔

جب میں نے محسوس کیا کہ ہم "فنڈوز" کے خلاف جنگ ہار چکے تو شدید ذہنی کرب، غصے اور مایوسی کے عالم میں اس کتاب میں شامل مضامین کو لکھا۔ ہم گجرات میں ہار چکے ہیں، ہو سکتا ہے ہم کچھ دوسری ریاستوں میں ہار جائیں اور "فنڈوز" زبانی کلامی سیکولرازم کا ذکر کرتے ہوئے۔۔ یا تو یہ ہے کہ اس کے بغیر بھی۔۔۔ ہم پر حکومت کر سکتے ہیں۔
تاہم مجھے اب بھی امید ہے کہ ان کے خلاف ذہنی انقلاب برپا ہوگا، لوگ ان سے برگشتہ ہوں گے اور بالآخر انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا، جہاں سے کہ ان کا تعلق ہے۔ ہر ہوش مند ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ ہندو جنونیوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکے۔

***
کتاب نام : بھارت کا خاتمہ [The End of India]
مصنف: خشونت سنگھ
اردو ترجمہ: محمد احسن بٹ
صفحات : 120
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز: 3.5 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک: نیچے دیا گیا ہے۔

ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
بھارت کا خاتمہ (اردو ترجمہ) - خشونت سنگھ
The End of India - Urdu Translation, By: Khushwant Singh


Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں