واجدہ تبسم کی کہانی - pdf download - Hyderabadi | My city Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2019/07/17

واجدہ تبسم کی کہانی - pdf download

meri-kahani-wajida-tabassum

واجدہ تبسم
(پ: 16/مارچ 1935 ، م:7/دسمبر 2010)
ہندوستان کی مقبول اردو ادیبہ اور شاعرہ رہی ہیں۔ ان کے زیادہ تر افسانے مشرقی سماج میں عورت کے جنسی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کو پیش کرنے کے لیے معروف سمجھے جاتے ہیں۔
واجدہ تبسم نے اپنی پہلی کتاب "شہرِ ممنوع" میں ایک طویل مضمون اپنے حالات زندگی کے بارے میں لکھا تھا، وہی مضمون بعنوان "میری کہانی" یہاں پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش ہے۔

"میری کہانی" سے چند دلچسپ اقتباسات پیش ہیں۔

"میری کہانی" لکھنے سے قبل میری آنکھوں کے سامنے داغ کا یہ مصرعہ تھا:
شرکتِ غم بھی نہیں چاہتی غیرت میری!
میں نے بہت سوچا۔ بہت سوچا کہ مجھے اپنے حالاتِ زندگی لکھنے چاہئیں یا نہیں؟ کیا اس طرح کچھ کھو دینے کا امکان پیدا ہوتا ہے؟ یا کچھ ملتا بھی ہے؟ کچھ بھی ہو، میں نے سوچا:
"کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی ہے اب"
اور جہاں تک "شرکتِ غم" کا سوال ہے، میں نے اپنے دکھڑے اس لیے نہیں روئے ہیں کہ کسی کو اپنے غم میں شریک کروں کیونکہ اب تو غم صرف ماضی بن گیا ہے۔ اور مجھے تو اس غم کی روداد بس یوں سنانی تھی کہ آپ نے میری افسانہ نگاری کے بارے میں پوچھا تھا۔ اسی لیے میں اپنے یہ مختصر سے حالاتِ زندگی سنا کر ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوں۔

- واجدہ تبسم
(29/دسمبر 1959۔ حیدرآباد دکن)

میرا گھرانا سیدوں کا وہ گھرانا تھا (جی ہاں، صیغۂ ماضی، کیونکہ اب تو ہم نے بقول کسے "فارورڈ" ہو کر بزرگوں کی ناک کٹا ڈالی ہے) جہاں پردے کی سخت قید و بند تھی اور لڑکیوں کی کسی قسم کی آزادی کا تصور ہی ناممکن تھا۔ حد یہ ہے کہ میرے پپا نے ہم بہنوں کو اسی لیے اسکول میں داخل نہ کروایا کہ "لڑکیاں اسکولوں میں پڑھ لکھ کر آوارہ ہو جاتی ہیں"۔
تین سال کی عمر میں جب ہمارے سروں سے ماں اور باپ دونوں کا سایہ اٹھ گیا تو پھر چچا نے نانی اماں سے بڑی منتیں کیں اور یوں ہمیں اسکول میں داخلہ مل گیا۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی کیونکہ اس طرح تو ہماری نگرانی کی اور زیادہ ضرورت تھی (کیا پتا ہم کب پڑھ لکھ کر آوارہ ہو جاتے) اور وہ حسبِ ضرورت کی بھی جاتی تھی۔ ۔۔۔ ان دنوں ہمارے ہاں بہت سارے رسالے آیا کرتے تھے۔ 'شمع' سے لے کر جمالستان، آریہ ورت اور کامیاب تک۔ اور اسی قسم کے اور کئی دوسرے پرچے۔ میں ہر پرچہ الف سے لے کر یے تک چاٹ جایا کرتی۔ جنوں یہیں پر ختم نہیں تھا۔ گھر کا ماہانہ سودا سلف جن کاغذوں میں، رسالوں کے پھٹے ہوئے صفحوں میں بند ہو کر آتا تھا وہ میرے لیے سب سے بڑی دلچسپی تھے۔ میں وہ سارے کاغذ سمیت کر کونے میں جا بیٹھتی اور ہر ادھورا اور مکمل مضمون پڑھ ڈالتی۔ میرا دل چاہا کرتا ساری دنیا کا علم گھول کر پی جاؤں۔ ان دنوں میں چوتھی یا پانچویں میں پڑھتی تھی اور علم کا کوئی واضح تصور اپنے ذہن میں نہ رکھتی تھی۔ یوں کہیے ہر تحریر پڑھ جانے کی دل میں تمنا رکھتی تھی۔ چاہے وہ کیسی ہی گری پڑی کیوں نہ ہوتی۔

پڑھائی کے سلسلے میں مجھے کبھی کسی اہتمام کی ضرورت نہ پڑی۔ ہمیشہ سے میرا اصول رہا ہے کہ امتحان سے چند دنوں پہلے ایک دو بار گہری توجہ سے پوری کتابیں دیکھ ڈالیں اور بس معاملہ ختم۔ مگر میں گھر والوں پر یوں پوز کرتی تھی کہ جیسے میں بڑی بکش (Bookish) بری ہی پڑھاکو ہوں۔ جب دیکھو تب کتاب منہ سے لگی ہے۔ (یہ مدتوں کا راز ایک دن کھل ہی گیا)۔
میں کرتی یہ تھی کہ کور میں کتابوں یا کاپیوں میں اندر ناول اور رسالے رکھ رکھ کر پڑھا کرتی تھی۔ اگرکوئی دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ میں بڑے انہماک سے امتحان کی تیاری میں مشغول ہوں۔ مگر میں تو دوسرے ہی امتحان کی تیاریاں کیا کرتی تھی۔ حد یہ ہے (ممکن ہے آپ میں سے بہت سے یقین کریں بھی ناں) کہ عین امتحان کے دنوں میں بھی ناول پڑھا کرتی۔
بدبختی نے یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ ایک دن ایک رسالہ کاپی میں چھپا کر پڑھ رہی تھی، کسی نے مجھے کوئی کام بتایا۔ میں نے یونہی رسالہ اور کاپی زمین پر رکھ دی اور باہر چلی گئی۔ کاپی پتلی تھی۔ اچانک ہوا کے ایک تیز جھونکے سے اڑ کر دور جا پڑی اور رسالہ نمایاں ہو گیا۔ کسی مہربان بھیا نے یہ واردات نانی اماں سے جا بتائی۔ نانی اماں نے اتنا مارا کہ میرا بے ہوش ہونا باقی رہ گیا ۔ یہی میری زندگی تھی۔ یہی میرے ذوق وشوق کا انعام !!



کتاب "میری کہانی ، از:واجدہ تبسم" پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔
تعداد صفحات: 33
pdf فائل سائز: 2MB

Direct Download link:

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں