صاحبزادہ میکش اور مخدوم کا کلام - 1944 کی کل ہند اردو کانگریس - Hyderabadi | My city Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

2019/02/03

صاحبزادہ میکش اور مخدوم کا کلام - 1944 کی کل ہند اردو کانگریس

جولائی 1944 میں کل ہند اردو کانگریس کے پہلے حیدرآباد اجلاس کے موقع پر حیدرآبادی شعرا کی نظموں کا مجموعہ ایک کتابچے کی شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ جسے شائع کرنے میں صاحبزادہ میکش حیدرآبادی کا بڑا تعاون حاصل رہا۔
اسی کتابچے سے صاحبزادہ میکش کا کلام اور مخدوم محی الدین کی نظم "اندھیرا" ملاحظہ کیجیے۔

sahibzada-maikash
پیام
شاعر: صاحبزادہ میکش

حدِ تعینات سے آگے نکل کے دیکھ
اوہام کو کبھی تو یقیں سے بدل کے دیکھ
مایوس ہو کے بیٹھ نہ جا، رہ نوردِ شوق
منزل کی جستجو ہے تو کچھ اور چل کے دیکھ
فرسودہ ہو گئے ہیں روایاتِ کہنہ سال
دنیا بدلنے والی ہے تو بھی بدل کے دیکھ
ہر عیب میں متاعِ ہنر ہے چھپی ہوئی
لغزش سنبھال لے گی تجھے خود سنبھل کے دیکھ
انوار کی بسیط فضائیں ہیں تیرے ساتھ
تاریکیوں کی گود میں کروٹ بدل کے دیکھ
خاموش ہو نہ جائے کہیں شمع زندگی
اک شعلۂ مدام کی صورت میں جل کے دیکھ
پروردۂ شباب، مجسم شباب ہو
ذرے کے روپ میں ہی کبھی آفتاب ہو

اندھیرا
شاعر: مخدوم محی الدین
نوٹ:
بجلی کا ایسا رقص جو سوکھی کھیتی کے لیے برسات کی نوید دے، ایک اضطراب پرور سکون۔ ایک سکون نواز اضطراب، پیشانی کی ایک شکن، جس میں حوصلوں کی بلندی جھول رہی ہو۔ تبسم کی ایک لہر، جس میں دل کی تمنائیں انگڑائیاں لے رہی ہوں۔ ندی کی ایک لہر جو طوفانوں سے ٹکرا کر بھی ناچتی رہے۔ انسانی پیکر میں بےتاب تمنائیں۔ ایک نیکی جو سکونِ حیات کو حاصل کرنے کے لیے بدی کی ہر پناہ گاہ کو ڈھا دینا چاہتی ہے۔ ایک تلوار جس کو فولادی عزم اور جرات رندانہ نے بنایا ہے۔ ایک پرخلوص دیوانگی جس کی مجاہدانہ بےباکی اپنے مقصد کی خاطر اغراض اور مصلحتوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ ایک نحیف لیکن بلند ہمت سپاہی جو انسانیت کے محاذ پر سینہ سپر ہو کر مستقبل کی فتح کو آواز دے رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
رات کے ہاتھ میں ایک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے یہی ان کا ۔۔۔ کفن!
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ
وہ تہذیب کے زخم
خندقیں
باڑھ کے تار
باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ بیٹھے ہوئے گدھ
وہ تڑختے ہوئے سر
میتیں ہات کٹی پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے اُس پار تلک
سرد ہوا
نوحہ و نالہ و فریاد کناں
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے

رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں