ہند و پاک تجارت - گہرے رشتوں کی جانب - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2012/03/06

ہند و پاک تجارت - گہرے رشتوں کی جانب

کٹر پسند افراد کے دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان نے ہندوستان کو "ایم ایف این" یعنی most favoured nation (سب سے زیادہ پسندیدہ ملک) کا درجہ دینے کی راہ میں ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ اب تک پاکستان کی جانب سے تجارتی اشیاء کی مثبت فہرست چلتی رہی ہے یعنی ان چیزوں کی فہرست جو کھلے بازار میں فروخت ہوں۔ اب اس معاملے میں تبدیلی لاتے ہوئے "منفی فہرست" کے ساتھ پاکستان سامنے آیا ہے۔ یعنی پاکستان نے 1200 اشیاء کی ایک ایسی فہرست اب جاری کی ہے جنہیں چھوڑ کر باقی سب چیزیں دونوں ملک آپس میں فروخت کر سکتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئیندہ دس مہینوں میں یہ فہرست چھوٹی ہوتے ہوئے صفر پر آ جائے گی۔

ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو "پسندیدہ ملک" کا درجہ 16 سال پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ لیکن ۔۔۔ 1998ء میں دونوں جانب نیوکلیر ہتھیاروں کی نمائش ، کارگل جنگ ، پھر دہشت گردانہ حملے ۔۔ اس سلسلے کو سیدھی راہ پر آگے نہ لے جا سکے۔
گذشتہ ماہ پاکستانی دورے پر آئے صنعتی اور تجارتی ہندوستانی نمائیندوں کو حکومت پاکستان نے یقین دلایا تھا کہ اس سال کے اواخر تک پاکستان ، ہندوستان کو "ایم ایف این" کا درجہ دے گا مگر پھر کئی مسائل میں گھری پاکستان حکومت کیلئے یہ وعدہ مشکل ثابت ہوا۔
پاکستان کے کچھ صنعتی شعبوں میں ، مثلاً وہاں کی کپڑا صنعت کو یہ فکر ہے کہ ہندوستان کے لئے پاکستان کے بازار کھلنے کے بعد ان کے لئے خود کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ ان کی اس فکر کے زیر اثر پاکستانی حکومت نے "منفی فہرست" کا سائز دگنا کر دیا ہے لیکن اس فہرست کو صفر پر لانے کے مسئلے کو جوں کا توں برقرار رکھا ہے۔

یہاں کچھ باتیں ہندوستان کی جانب سے بھی صاف ہونی چاہئے۔
کہنے کو تو ہم نے گذشتہ 16 سال سے پاکستان کو "ایم ایف این" کا درجہ دے رکھا ہے لیکن ۔۔۔ گذشتہ سال پاکستان کو ہم نے 2 ارب 33 کروڑ روپے کا سامان بیچا مگر پاکستان سے صرف 33 کروڑ روپے کا ہی مال خریدا ہے!
یکسانیت میں اس طرح کی کمی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس ہمیں فروخت کرنے لائق اشیاء کی کمی ہے بلکہ چند وجوہات یہ ہیں کہ :
  • ہم پاکستان کو ان اشیاء کے لئے اشتہار بازی کی اجازت نہیں دیتے
  • پاکستانی صنعت کار / تاجر کو کریڈٹ کی سہولت نہیں دی جاتی
  • دونوں ممالک کے بنکوں کے درمیان لین دین کی اجازت نہیں دیتے

امید ہے کہ آئیندہ 10 مہینوں میں ان سبھی محاذوں پر لگی بندشیں ہٹا کر ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر مقام تک پہنچایا جا سکے گا۔

بشکریہ :
गहरे रिश्तों की ओर (گہرے رشتوں کی جانب)
اداریہ : نوبھارت ٹائمز (ہندی)۔ ٹائمز آف انڈیا پبلی کیشنز ، دہلی۔ 2/مارچ/2012

1 تبصرہ:

  1. اللہ ہم سب پاکستانیوں کو اس قسم کے گہرے رشتوں سے محفوظ رکھے۔
    اللہ تعالیٰ اس منحوس چپل چور صدر کو موت عطا فرمائے جو رہے سہے پاکستان کا بیڑا غرق کرنے میں کسی بھی قسم کی کسر نہیں چھوڑ رہا۔

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here