| ناکارہ ۔۔۔ ایک نکھٹو شوہر کی فریاد | آوارہ |
| پیروڈی : ڈاکٹر حلیمہ فردوس | مجاز لکھنؤی |
| -- | -- |
| شہر کے فٹ پاتھ پر ناشاد و ناکارہ پھروں | شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں |
| چیختی ، چنگھاڑتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں | جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں |
| تیری بستی میں اے جاناں در بہ در مارا پھروں | غیر کی بستی ہے کب تلک دربدر مارا پھروں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| چلچلاتی دھوپ اور کوؤں کا منڈلاتا یہ جال | یہ رُو پھیلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال |
| جیسے ساسو کا تصور جیسے سالی کا خیال | جیسے صُوفی کا تصوّر جیسے عاشق کا خیال |
| آہ دیکھو کردیا کیا آپ کے اباّ نے حال | آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| میں ہوں اک داماد بھولا گھر سے نکلا جس گھڑی | پھر وہ ٹوٹا اک ستارا پھر وہ چھوٹی پھلجھڑی |
| تنگ آکر کھا نہ لوں میں زہر کی کوئی پُڑی | جانے کس کی گود میں آئے یہ موتی کی لڑی |
| ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی | ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| جی میں آتا ہے کہ میں سسرے کا سر یہ پھوڑ دوں | لے کے ہر چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں |
| دی ہے جو گھٹیا سی اسکوٹر اسے میں توڑ دوں | تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں |
| کوئی توڑے گا یہ کیوں کر میں ہی بڑھ کر توڑ دوں | کوئی توڑے یا نہ توڑے، میں ہی بڑھ کر توڑ دوں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| ساس اور سسرے کی چنگیزی نظر کے سامنے | مُفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے |
| بے بسی ہے اور خود سوزی نظر کے سامنے | سینکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے |
| پھر عدالت میں ہے وہ موذی نظر ک سامنے | سینکڑوں سُلطان و جابر ہیں نظر کے سامنے |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| جی میں آتا ہے میرے یہ بال سر کے نوچ لوں | جی میں آتا ہے، یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں |
| اس کنارے نوچ لوں اور اُس کنارے نوچ لوں | اس کنارے نوچ لوں اور اُس کنارے نوچ لوں |
| ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں | ایک دو کا ذکر کیا ، سارے کے سارے نوچ لوں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| تھام لوں دامن کسی کا یہ میری عادت نہیں | راستے میں رُک کے دَم لے لوں میری عادت نہیں |
| جان دے دوں میں کسی پہ یہ میری فطرت نہیں | لوٹ کر واپس چلا جاؤں ، میری فطرت نہیں |
| اور کوئی مل جائے تجھ سا یہ میری قسمت نہیں | اور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| دل مرا رو رو کے کہتا ہے پری خانے میں چل | رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل |
| پھر کسی سسٹر سے باتیں کر دواخانے میں چل | پھر کسی شہنازِ لالہ رُخ کے کاشانے میں چل |
| یہ نہیں ممکن نکھٹو تو تو ویرانے میں چل | یہ نہیں ممکِن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں ، رعنائیاں | ہر طرف بکھری ہوئی ، رنگینیاں ، رعنائیاں |
| ہر قدم پہ دعوتیں دینے لگیں انگڑائیاں | ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑایئاں |
| بڑھ رہی ہیں بانہیں پھیلاتے ہوئے دلداریاں | بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوایئاں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں |
| - | - |
| دل میرا پھر سے دھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں | دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں |
| گھر میں اک بلبل چہک اٹھا ہے آخر کیا کروں | میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں |
| میرا ویرانہ مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں | زخم سینے کا محک اٹھا ہے آخر کیا کروں |
| میری جانم کیا کروں ، اے پیاری جانم کیا کروں | اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں |
2009/06/01
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Author Details
Hyderabadi

HAHAHA buhat achey
جواب دیںحذف کریںخوب!!!
جواب دیںحذف کریںبہت ہی خوب جنابِ عالی۔۔۔مزا آگیا۔۔
جواب دیںحذف کریں