فرقہ وارانہ تشدد : میڈیا اور پولیس کی ملی بھگت ؟ - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

2008/11/08

فرقہ وارانہ تشدد : میڈیا اور پولیس کی ملی بھگت ؟

سی۔این۔این-آئی۔بی۔این کے معروف شو "ڈیولز ایڈوکیٹ (‫Devil’s Advocate)" میں کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے مشہور قلمکار/ سماجی کارکن اروندھتی رائے (‫Suzanna Arundhati Roy) نے بلاجھجھک اعتراف کیا ہے کہ ‫:

فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے میں ہندوستانی میڈیا اور ہندوستانی پولیس کی ملی بھگت ہے ‫!!

پولیس - میڈیا ملی بھگت
Devil's Advocate: Arundhati on media-police collusion

انٹرویو کا اردو ترجمہ : بشکریہ روزنامہ "اعتماد" ، اتوار ایڈیشن ، 2-نومبر 2008ء
اردو ترجمہ کی پ۔ڈ۔ف فائل ڈاؤن لوڈ کریں : پولیس - میڈیا ملی بھگت
فائل سائز : 520 کیلو بائٹس۔ 7 عدد ‫A4 صفحات

اصل انگریزی انٹرویو ‫:
صفحہ 1 : صفحہ 2 : صفحہ 3 : صفحہ 4

مکمل انگریزی انٹرویو (پرنٹنگ کے لیے)‫

مکمل انگریزی انٹرویو ، یوٹیوب پر دیکھئے ‫:
ویڈیو 1 : ویڈیو 2 : ویڈیو 3 : ویڈیو 4

2 تبصرے:

  1. اس نے دست کہا ہے ۔ یہ بات تو بہت پہلے سے لوگ جانتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. قادیانیوں کو قتل کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے مسلمان کے ذمے فقط ان سے سوشل بائیکاٹ ہے اگر مسلمان متحد ہو کر قادیانیوں کا بائیکاٹ کردیں اور نہ ان سے کوئی چیز لیں نہ کوئی دکاندار انہیں چیز فراہم کرے تو یہ از خود مسلمان ہوجائیں گے یا ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوجائیں گے،

    http://www.jasarat.com/unicode/detail.php?category=13&newsid=4986&date=2008-12-08

    جواب دیںحذف کریں