احمد فراز :: سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں ۔۔۔ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2008/08/26

احمد فراز :: سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں ۔۔۔

عصرِ حاضر کے ممتاز شاعر احمد فراز طویل علالت کے بعد پیر 25۔اگست۔2008ء کی رات اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 77 برس تھی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ، آمین۔

فراز صاحب اپنے وطن پاکستان میں جتنے مشہور و معروف تھے ، اتنے ہی ہندوستان میں بھی مقبول تھے۔ وہ بھارت کو اپنا دوسرا گھر بھی کہتے تھے۔ ہندوستان کے کسی بھی بڑے مشاعرے میں ان کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی۔ پچھلے دنوں شنکر-شاد مشاعرے کے علاوہ جشنِ بہار میں بھی وہ مدعو رہے اور سامعین کے پُرزور اصرار پر اپنی وہ طویل غزل بھی سنائی تھی ‫:
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں


اپنے ایک انٹرویو میں فراز نے کہا تھا : دکھی لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا ہے۔ اور اسی ضمن میں ان کا ایک مشہور شعر ہے ۔۔۔
اب اور کتنی محبتیں تمہیں چاہئے فراز
ماؤں نے ترے نام پہ بچوں کے نام رکھ لئے


فراز کی رحلت کو یہ شعر بھی اچھی طرح بیان کرتا ہے ۔۔۔
کیا خبر ہم نے چاہتوں میں فراز
کیا گنوایا ہے کیا ملا ہے مجھے


فراز گزر گئے ، لیکن فراز کی شاعری کل ، آج اور آنے والے کل بھی ہر سخن فہم کو کتابوں میں دبے پھولوں کی طرح مہک دئے جائے گی ۔۔۔

اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي
يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں


جو بھی دُکھ یاد نہ تھا یاد آیا
آج کیا جانئے کیا یاد آیا
یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں یاد آیا کہ کیا یاد آیا

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اُسے

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ جانے کے لئے آ

1 تبصرہ:

  1. گمنام27/8/08 2:12 AM

    احمد فراز کی رحلت بلا شبہ اردو کے ایک عظیم دور کا خاتمہ ہے۔۔

    اس نے سكوت شب ميں بھي اپنا پيام ركھ ديا
    ہجر كي رات بام پرماہ تمام ركھ ديا۔۔۔۔۔۔۔۔

    آمد دوست كي نويد كوئے وفا ميں عام تھي
    ميں نے بھي اك چراغ سا دل سر شام ركھ ديا

    شدت تشنگي ميں بھي غيرت مہ کشي رہي
    اس نے جو پھير لي نظر ميں نے بھي جام ركھ ديا

    اس نے نظر نظر ميں ہي ايسے بھلے سخن كہے
    ميں نے تو اس كے پاؤں ميں سارا كلام ركھ ديا

    ديكھو يہ ميرے خواب تھے ديكھو يہ ميرے زخم ہيں
    ميں نے تو سب حساب جاں بر سر عام ركھ ديا

    اب كے بہار نے بھي كيں ايسي شرارتيں كہ بس
    كبك دري كي چال ميں تيرا خرام ركھ ديا

    جو بھي ملا اسي كا دل حلقہ بگوش يار تھا
    اس نے تو سارے شہر كو كركے غلام ركھ ديا

    اور فراز چاہئے كتني محبتيں تجھے۔۔۔۔۔
    ما ؤں نے تيرے نام پر بچوں كا نام ركھ ديا

    جواب دیںحذف کریں