تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2008-02-10

ہندوستان کی پولیس

کسی بھی ملک کے لیے وہاں کی پولیس کا طاقتور اور مضبوط ہونا فخر کی بات ہوتی ہے لیکن پولیس کی یہ مضبوطی اور طاقت ظلم کو روکنے کے لیے ہو نہ کہ ظالموں کے ہاتھوں کو قوت پہنچانے کے لیے۔
دورِ حاضر کے ہندوستان میں پولیس کے مظالم عام سی بات ہو گئی ہے۔ یہ مظالم کن پر ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ : کمزوروں اور خصوصاً مسلمانوں پر ‫!
ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف درحقیقت جو فرقہ پرست ذہن کام کر رہا ہے وہ امن قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری کو طاق پر رکھ کر نفرت پھیلانے میں مصروف ہے۔ اگر عمومی طور پر ساری پولیس کو اس لیے فرقہ پرست نہیں کہا جا سکتا کہ اب بھی سیکولر ذہن رکھنے والے لوگ اس ڈپارٹمنٹ میں برسرخدمت ہیں تب بھی افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ یہ سیکولر ملازمینِ پولیس اپنی ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں۔ ان کی ذمہ داری تو یہ بھی ہونی چاہئے بلکہ ہے کہ وہ ہندوستانی عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف پیدا کیے جا رہے نفرت کے زہر کی نشاندہی کریں اور اس کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ ورنہ "خاموشی" تو ظالموں کا ساتھ دینے کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

محمود بن محمد صاحب ، ایک آئی۔پی۔ایس (انڈین پولیس سروس) عہدیدار کے طور پر کئی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ آپ "نیشنل پولیس اکیڈمی" کے ڈائرکٹر ، مجسٹریٹ اور ڈپلومیٹ بھی رہ چکے ہیں۔ پولیس کی موجودہ حالت سے وہ بہت فکرمند ہیں۔ آپ کہتے ہیں ‫:
‫’’کسی بھی ملک میں پولیس اور فوج اس کی داخلی اور دفاعی طاقت ہوتی ہے۔ فوج میں شامل ہوتے وقت اس کی سب سے بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے دشمن کو مارنا۔ لیکن پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ملک کے شہریوں کی حفاظت کرنا۔ ان دونوں خدمات میں انتخاب کے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے لیکن انتخابی طریقہ کار میں اس بات کو پوری طرح نظرانداز کیا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے غلط لوگوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔
سابق ریاست حیدرآباد (دکن) میں جب پولیس میں بھرتی ہوتی تھی تو پہلے امیدوار کا تحریری امتحان نہیں لیا جاتا تھا بلکہ اس کا انٹرویو ہوتا جس میں امیدوار کی نفسیاتی جانچ کی جاتی تھی۔ یہ دیکھا جاتا تھا کہ اس میں کسی کے لیے نفرت تو نہیں؟ کہیں وہ شرانگیز تو نہیں ہے؟ لیکن آج کل پہلے تحریری امتحان لیا جاتا ہے اور انٹرویو میں بھی صرف آئی۔کیو (‫IQ) کو دیکھا جاتا ہے۔ ای۔کیو (‫EQ) یعنی "جذباتی قابلیت" کو نہیں دیکھا جاتا۔ جب غلط ہاتھوں میں طاقت آ جاتی ہے تو اس کے صحیح استعمال کی کیسے امید کی جا سکتی ہے؟ پولیس کی بھرتی سے ایسے لوگوں کو دور رکھنا چاہئے جو کسی مذہب یا طبقے سے نفرت رکھتے ہیں ، جو ‫SADIST ذہن رکھتے ہیں یا پھر نفسیاتی طور پر بیمار ہیں۔‘‫‘

کے۔وی۔وی۔سبرامنیم ، تقریباً بیس سال پہلے پولیس کی اعلیٰ سروس سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ آپ نے مختلف عہدوں پر رہ کر خدمات انجام دی ہیں۔ پولیس کے بدلتے ہوئے چہرے کے بارے میں اپنے تاثرات یوں ظاہر کرتے ہیں ‫:
‫’’پولیس ڈپارٹمنٹ کا قیام لوگوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ سماج میں جرائم پر کنٹرول کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ شہری، مجرموں سے محفوظ رہیں۔ اس بنیادی پہلو پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا پولیس اس پر کھری اتر رہی ہے؟ اگر نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟
پولیس میں فسادی اور نفرت کا ذہن رکھنے والے ، بدلے کا جذبہ رکھنے والے سازشی ذہنوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں میں پولیس پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ جب پولیس اور سیاست کے گٹھ جوڑ گہرے ہوتے ہیں تو سسٹم میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور لوگ استعمال ہونے لگتے ہیں۔‘‫‘

جب تک پولیس کو سیاست کے چنگل سے دور نہیں رکھا جاتا دونوں ایک دوسرے کے اختیارات کا غلط استعمال کرتے رہیں گے۔ درحقیقت دورِ حاضر میں پولیس کے کام پر نظر رکھنے کے لیے ایک بااختیار اور غیرجانبدار ادارے کی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ ذہنیت اور سیاسی سازشوں سے دور رہے۔

(ایف۔ایم۔سلیم کے مضمون سے شکریہ کے ساتھ استفادہ)
(بحوالہ : روزنامہ اعتماد ، حیدرآباد ، اتوار ایڈیشن ، 8۔ جولائی 07ء )

1 تبصرہ:

urdudaan نے لکھا ۔۔۔

faoj ki bhi yahi kuchh kahaani hai. RSS ko hafte dene waale faojiyoN ki kami naheen hai. rishwat khori karte waqt faoji afsaraan yeh khayaal karte hain keh jab 'civilian' rishwat lesakate haiN to ham kyun naheen, aakhir hameiN laotkar unhi mein milna hai, tab sirf kamaaee hi hamaara rutbah dikhaaegi na keh eemaandaari. Lekin aise hi afsaraan 'farzi daehshatgardoN' tak ko goli maar dena chaahiye ki zaehniyat ke tahet 'farzi watanparsati' ka 'mukhoTa' lagaae shaan se ghoomte bhi haiN.

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے