تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2007-11-10

سعودی عرب پاگل خانہ ۔۔۔۔ ؟‫!

صاحبان قدردان ‫!
جب ہم اردو ھوم کے اپنے پرانے بلاگ پر تھے تو سعودی حکومت اور ’آزادیء حقوقِ نسواں‘ کے عنوان سے ایک تحریر لگائی تھی جس میں بی۔بی۔سی کی ایک خاتون رپورٹر کی خبر کا ’جائزہ‘ لیا گیا تھا۔
اسی موضوع کے حوالے سے ابھی آج ہی ایک اور خبر نظر سے گزری ہے ، ملاحظہ فرمائیں ‫:

سعودی عرب پاگل خانہ اور وہاں کے قوانین غیراسلامی ہیں، جمائما خان

ہم چاہتے ہیں کہ اپنی وہی پرانی تحریر مذکورہ بالا خبر کے جواب میں دوبارہ اپنے اس نئے بلاگ پر پوسٹ کر دیں۔ تو لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سعودی حکومت اور ’آزادیء حقوقِ نسواں‘۔

ہمارے ایک قریبی دوست نے بی۔بی۔سی کی اس خبر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مناسب جواب دیا جائے کہ یہ خاتون رپورٹر ، اسلام کے خلاف تعصب کا پرچار کر رہی ہے۔

خبر کی سرخی یوں ہے ‫:
۔۔۔ سعودی عرب اب بھی ایک ایسی مملکت ہے جہاں خواتین نہ ووٹ دے سکتی ہیں ، نہ ڈرائیونگ کر سکتی ہیں ، نہ اپنی پسند کے لباس پہن سکتی ہیں اور نہ ہی اپنی پسند کی جگہوں پر جا سکتی ہیں۔

ہم عرض کرنا چاہیں گے کہ بی۔بی۔سی کی اس خاتون رپورٹر نے دو سچ کہے ہیں تو دو جھوٹ بھی بولے ہیں ‫!
بےشک ووٹنگ اور ڈرائیونگ کی سعودی عرب میں خواتین کو اجازت نہیں ہے۔ لیکن ۔۔۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی سعودی عرب کے بیشمار شاپنگ مالز میں سے چند ایک پر بھی سرسری نظر ڈال لے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا کہ مشرق و مغرب کا ہر فیشن ایبل نسوانی لباس یہاں دستیاب ہے ۔ کیا بی۔بی۔سی کی رپورٹر ہمیں بتا سکتی ہیں کہ : ان تازہ ترین مغربی فیشن ایبل نسوانی ملبوسات کی موجودگی کیا مطلب رکھتی ہے ؟
اور یہ بھی بتاتی جائیں کہ مغربی دنیا کے آخر وہ کون سے ایسے برانڈیڈ نسوانی لباس ، میک اپ ، چشمہ ، گھڑی ، پرفیوم اور دیگر نسوانی لوازمات ہیں جو یہاں دستیاب نہ ہوں ؟
شاپنگ مالز کے دکاندار آخر ایسے بدھو تو نہیں کہ بس باہر سے مہنگے مہنگے مال برآمد کر کے محض ان کی نمائش کرتے بیٹھے رہیں؟

ہمارا خیال ہے قصور رپورٹر محترمہ کا بھی نہیں ۔ بلکہ مغرب کی اس جنس زدہ ذہنیت کا ہے جس نے عورت کے گھریلو تقدس کو پامال کر کے اسے اپنے ہر پراڈکٹ کی برہنہ تشہیر کا ذریعہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
آزادیِ حقوقِ نسواں کا نعرہ لگانے والے طبقے کا سارا زور غالباََ اس بات پر ہے کہ صرف پہننے کی آزادی نہیں بلکہ
ہر قسم کی زینت پہن کر اسے ہر دوسرے تیسرے فرد کو دکھانے کی بھی آزادی حاصل ہونی چاہئے ‫!
یہی وجہ ہے کہ جنس زدہ مغرب ، ابایہ یعنی برقعے کی مخالفت و مذمت کرتا ہے کہ اس طرح وہ عورت کے پوشیدہ حسن سے آنکھیں سینکنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

رہی بات اپنی پسند کی جگہوں پر جانے کی۔
جہاں تک ہمارا تجربہ و مشاہدہ ہے ، دنیا بھر کی عام خواتین کی پسند کی جگہیں صرف دو چار ہی ہوتی ہیں۔ (اگر زیادہ ہوں تو محترم خواتین بلاگران سے درخواست ہے کہ وہ کچھ ان پر روشنی ڈالیں)۔
اپنے رشتہ دار دوست احباب کے گھر ، شاپنگ مالز ، گولڈ بازار ، بیوٹی پارلرز ، تفریح گاہیں۔ یہ وہ چند مخصوص مقامات ہیں جو دنیا بھر کی خواتین کی پسندیدہ جگہیں مانی جاتی ہیں۔
بی۔بی۔سی کی مذکورہ خاتون رپورٹر اگر تعصب سے کام نہ لینے کا وعدہ کریں تو ہم ان سے پوچھنا چاہیں گے کہ : کیا پورے سعودی عرب میں سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر ایسی کوئی ممانعت ان کی نظر سے گزری ہے جس کے ذریعے مذکورہ بالا مقامات پر خواتین کی آمد و رفت ممنوع قرار دی گئی ہو ؟
سعودی عرب میں قیام پذیر مقیمین اور غیر مقیمین خوب جانتے ہیں کہ : ان تمام مقامات پر خواتین کی آمد و رفت بلا روک ٹوک جاری و ساری ہے ۔ حتیٰ کہ اس بات کی بھی قید دیکھنے میں نہیں آتی کہ ان مقامات پر وہ بہرصورت اپنے محرم حضرات کے ساتھ نظر آئیں (براہ مہربانی اس جملے سے یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ ’غیر محرم کا ساتھ‘ بھی ممکن ہے ، بلکہ یہاں صرف ’تنہا خاتون‘ یا ’تنہا خواتین‘ مراد ہیں)۔
پھر ۔۔۔ ہمیں بتایا جائے کہ آخر وہ کون سی ایسی جگہیں ہیں کہ جہاں گھومنے کی خواتین کو آزادی حاصل نہیں ہے؟

اور ۔۔۔ یہ ہوٹل میں سویمنگ کا لطیفہ بھی خوب ہے۔
آج آپ نے سوئمنگ کی فرمائش کی ، کل پینے پلانے والے بار کی فرمائش کریں گی اور ہو سکتا ہے پرسوں نائٹ کلبوں کا بھی تقاضا کر بیٹھیں ، کون جانے ؟
محترمہ ، کیا ہم نے اس ملک کے قوانین ، آپ جیسوں کی مادر پدر آزاد خواہشات کو پورا کرنے کے لیے گھڑ رکھے ہیں؟
کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ ہم کو ہمارے حال پر چھوڑ دیں کہ ہم دقیانوسی اور جاہل ہی بھلے کہ ۔۔۔
ہمارے ہاں اسی دقیانوسیت کے بدلے میں نہ تو فحاشی کو فروغ حاصل ہوتا ہے ، نہ سڑکوں پر سے دن دھاڑے لڑکیاں اٹھا لی جاتی ہیں ، نہ کھلے عام عصمت دری کے قصے دیکھنے ، سننے میں آتے ہیں اور نہ ہی دن یا رات کے کسی بھی حصے میں خواتین کو چھیڑ خانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ‫!!

ایسی جنس زدہ آزادی آپ ہی کو مبارک ہو اور براہ مہربانی ہمیں اسی ’دقیانوسیت زدہ معاشرے‘ میں اپنی زندگی گزارنے کا حق عطا فرمائیں کہ آپ لوگ تو تحفظِ حقوقِ انسانی کے بہت بڑے دعویدار مانے جاتے ہیں۔

1 تبصرہ:

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

خوب تجزیہ فرما یا ہے حیدر آبادی بھیا

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے