قرآن و حدیث میں تعارض کا سچ: عام مسلمان کا کیا حق؟ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/06/05

قرآن و حدیث میں تعارض کا سچ: عام مسلمان کا کیا حق؟

quran-hadith-no-contradiction-islamic-scholar-harmony

قرآن و سنت کے درمیان حقیقی تعارض کا دعویٰ اہلِ علم کے نزدیک درست نہیں، کیونکہ سنت، قرآن کی شرح و بیان ہے، اور بسا اوقات جو تعارض نظر آتا ہے وہ دراصل فہم، سیاق، تخصیص، تقیید یا ناسخ و منسوخ کے اصولوں سے حل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا کہ جس روایت کو کوئی عام آدمی اپنی عقل یا ذوق کے مطابق نہ سمجھ سکے وہ لازماً قرآن کے خلاف ہے، نہ اصولِ حدیث کے مطابق ہے اور نہ ہی محدثین اور مفسرین کے منہج کے مطابق۔


مسئلے کی اصل نوعیت کیا ہے؟

آج بعض حلقوں میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ قرآن و سنت سے جو روایات متعارض محسوس ہوں، ان کے متن پر غور کرنا ہر شخص کا حق ہے، بلکہ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صحیح بخاری میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جنہیں من و عن قبول کرنا محال ہے۔ اس طرزِ فکر میں ایک درست بات اور ایک غلط بات باہم خلط ملط ہو جاتی ہیں:
1) درست بات یہ ہے کہ اہلِ علم روایت کے متن، سند، دلالت اور محلِ ورود پر غور کرتے ہیں؛
2) لیکن غلط بات یہ ہے کہ ہر غیر متخصص شخص اپنے محدود فہم کو حاکم بنا کر روایت کو قرآن کے خلاف قرار دے دے!


بالا فرق کو سمجھے بغیر بحث الجھ جاتی ہے۔ اہلِ علم کی تحقیق ایک منضبط علم ہے، جب کہ عام آدمی کا تاثر یا ذہنی اشکال بذاتِ خود حجت نہیں بنتا۔


قرآن و سنت کا اصولی تعلق

قرآنِ مجید نے بار بار نبی کریم ﷺ کی اطاعت، اتباع اور آپؐ کے فیصلے کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سنت و حدیث محض تاریخی مواد نہیں بلکہ دین کی تشریح اور عملی صورت ہیں۔ اسی بنا پر اہلِ علم یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ حدیثِ صحیح قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی؛ اگر بظاہر خلاف دکھائی دے تو یا تو سمجھنے والے کے فہم میں نقص ہے، یا روایت کے محل کو صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا، یا پھر قرآن کے عام حکم کی حدیث کے ذریعے تخصیص و تقیید مراد ہے۔
احناف کی علمی روایت میں بھی یہی اصول ذکر ہوا ہے کہ بعض اوقات قرآن کے اطلاق کو حدیث مقید کر دیتی ہے، اور ظاہری تعارض کی ایک بڑی وجہ لغتِ عرب، اسالیبِ خطاب اور اصولِ استنباط سے ناواقفیت ہوتی ہے۔ لہٰذا قرآن کو اصل معیار ماننے کا صحیح مطلب یہ نہیں کہ حدیث کو اپنی رائے کی کسوٹی پر پرکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ قرآن، سنت اور فہمِ سلف کو باہم ملا کر دیکھا جائے۔


ائمۂ سلف اور متقدمین محدثین کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ جس روایت پر اشکال ہو اسے فوراً ردّ کر دیا جائے، بلکہ وہ پہلے جمع و تطبیق کی کوشش کرتے تھے، پھر ضرورت پڑنے پر ترجیح، تخصیص یا تاویل کی طرف جاتے تھے۔ اسی اصول کو امام ابن تیمیہؒ نے اپنے مجموعی منہج میں نہایت قوت کے ساتھ واضح کیا کہ صحیح نقل اور صریح عقل میں حقیقی تعارض نہیں ہوتا، اور اگر تعارض محسوس ہو تو اس کا سبب یا تو ثبوت میں ضعف ہوتا ہے یا فہم میں نقص۔
ابن تیمیہ سے منقول اصولی تعبیر یہ ہے:
«فإن النصوص الشرعية لا تتعارض» (ترجمہ: شریعت کے نصوص میں کوئی بگاڑ، کوئی تضاد، کوئی چیرہ دستی نہیں؛ وہ ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہیں)۔
اور ان کے منہج کی ترجمانی اس جملے سے ہوتی ہے:
«وما تعارض عقلٌ صريح ونقلٌ صحيح إلا وكان التعارض في أحدهما من جهة الفهم أو الثبوت» (ترجمہ: وہ عقل جو صاف ہے، اور وہ نقل جو مستند ہے، ان دونوں میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا؛ اگر کوئی تعارض نظر آئے تو وہ دراصل فہم کی کمی ہے یا ثبوت کی کمزوری)۔


ان نصوص سے واضح ہے کہ اصل اعتماد وحی پر ہے، نہ کہ اس محدود عقل پر جو تمام قرائن، دلائل، لغات، اسبابِ ورود اور وجوہِ تطبیق سے واقف نہیں ہوتی۔


شاہ ولی اللہ اور برصغیر کی علمی روایت

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے کتبِ حدیث کی درجاتی حیثیت، ان کے فہم، اور احادیث کے باہمی تعلق پر بڑی باریک علمی گفتگو کی ہے، اور ان کی پوری علمی کاوش یہ بتاتی ہے کہ روایت کو اس کے محل، درجہ، تعاملِ امت اور اصولِ شریعت کے ساتھ ملا کر سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے یہاں یہ تصور نہیں ملتا کہ عام قاری اپنی فطری یا وقتی ذہنی الجھن کی بنیاد پر کسی صحیح روایت کو ردّ کر دے، بلکہ ان کے منہج میں اہلِ علم کی طرف رجوع اور منضبط فہم بنیادی شرط ہے۔ اسی پس منظر میں برصغیر کے محدثین و فقہا نے بھی بارہا واضح کیا ہے کہ اشکالِ حدیث کا حل "انکار" نہیں بلکہ "شرح" ہے، اور تعارضِ ظاہری کا علاج "علم" ہے، "جسارت" نہیں!


عام مسلمان کا دائرہ اور حد

عام مسلمان کو سوال کرنے، اشکال پیش کرنے، اور وضاحت طلب کرنے کا پورا حق ہے؛ لیکن اسے یہ حق نہیں کہ وہ محض اپنی محدود عقل یا سمجھ کی بنا پر حدیث پر حکم لگا دے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سے تعارض کا دعویٰ دراصل ایک بڑے اجتہادی فیصلے کا دعویٰ ہے، اور ایسا فیصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جو قرآن، حدیث، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، لغت، فقہ اور اقوالِ سلف پر گہری نظر رکھتا ہو۔
اس فرق کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: اگر کسی طبی مسئلے میں عام آدمی کو کسی ماہر ڈاکٹر کی رائے اپنی سمجھ کے خلاف لگے تو وہ فوراً یہ نہیں کہتا کہ طب کا اصول غلط ہے، بلکہ پہلے ماہرین سے رجوع کرتا ہے۔ بعینہٖ حدیث کے باب میں بھی اشکال کا پہلا علاج اہلِ علم سے رجوع ہے، نہ کہ روایت پر خود حتمی حکم صادر کر دینا۔


مستشرقین کے اعتراضات اور اہلِ علم کے جوابات

مستشرقین اور جدید منکرینِ حدیث کے اعتراضات عموماً چند دائروں میں گھومتے ہیں: حدیث کی تدوین میں تاخیر، بعض متون کا عقل کے خلاف محسوس ہونا، یا بعض روایات کا قرآن کے ظاہر سے مختلف معلوم ہونا۔ محدثین نے ان اعتراضات کا جواب یہ دیا کہ حدیث کی حفاظت صرف تحریری کتابت سے وابستہ نہیں تھی، بلکہ سماع، حفظ، روایت، شیوخ و تلامذہ کے تسلسل، اور جرح و تعدیل کے نہایت سخت نظام سے ہوئی۔
اسی طرح متن کے باب میں بھی یہ اصول اختیار کیا گیا کہ ہر اشکال زدہ متن کو الگ تھلگ نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ پورے باب کی روایات، قرآن کے دیگر دلائل، عربی اسلوب، شانِ ورود، اور سلف کے فہم کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کیا جائے گا۔ اس لیے مستشرقانہ اعتراضات کی چمک عموماً وہاں تک رہتی ہے جہاں تک قاری کو علومِ حدیث و تفسیر سے واقفیت نہ ہو۔


کیا محدثین و مفسرین نے ایسی روایات پر غور نہیں کیا جو قرآن کی تعلیمات کے خلاف نظر آتی ہیں؟

یہ سوال دراصل اس پورے جدید اعتراض کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جن روایات پر آج اعتراض کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثر پر صدیوں پہلے محدثین، شارحینِ حدیث، فقہا اور مفسرین نے گفتگو کی، ان کے طرق دیکھے، دلالت پر بحث کی، بظاہر تعارض کو رفع کیا، اور اگر کہیں ضعف تھا تو اس کی صراحت بھی کی۔
اس لیے یہ کہنا کہ۔۔۔ "اب جا کر معلوم ہوا کہ بعض روایات قرآن سے نہیں ملتیں"
تاریخی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روایت، درایت، جرح و تعدیل، عللِ حدیث، مختلف الحدیث، ناسخ و منسوخ، اور غریب الحدیث جیسے پورے علوم اسی لیے وجود میں آئے کہ نصوص کو سطحی نہیں بلکہ گہرے علمی منہج کے تحت سمجھا جائے۔


خلاصہ کلام

اس پورے مسئلے کا منظم جواب یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں حقیقی تعارض مان لینا اہلِ سنت کے اصولی منہج کے خلاف ہے، اور عام قاری کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی عقل یا ذاتی احساس کی بنیاد پر کسی صحیح روایت کو قرآن سے متعارض قرار دے دے۔
اہلِ علم کا کام یہ ہے کہ وہ نصوص کو جمع کریں، سیاق و سباق دیکھیں، تخصیص و تقیید کو سمجھیں، اور سلف کے فہم کی روشنی میں مسئلے کو حل کریں۔
لہٰذا درست موقف یہ ہے کہ اشکال ہو تو سوال کیا جائے، تحقیق کی جائے، شروح و تفاسیر سے رجوع کیا جائے، اور معتبر اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جائے، کہ یہی منہج امت کے محدثین، فقہا، مفسرین اور محققین کا رہا ہے۔
لیکن روایت کو فوراً "خلافِ قرآن" قرار دینا ایک غیر علمی طرزِ عمل ہے۔

*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
5/جون/2026ء


Keywords: Quran and Hadith contradiction, Quran Sunnah harmony, Islamic scholarship Hadith studies, Ibn Taymiyyah Quran Hadith, Shah Waliullah Hadith research, Muslim scholars Hadith contradiction, different hadith collections Sahih Sitta, Islamic theology principles Uloom al-Hadith, Muslim scholars on Quran contradiction, Islamic research methodology Fiqh principles
Quran and Hadith: No Real Contradiction Explained
Do Quran and Hadith Contradict? Islamic Scholar's Proof-Based Answer on Quran-Sunnah Harmony

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں