اردو دنیا میں "اشاریہ سازی" ہمیشہ ایک علمی خدمت سمجھی گئی ہے، مگر اب تک یہ خدمت کتابی شکل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ ریختہ کے ذریعے اشاریہ سازی پر مبنی درج ذیل تین کتب کا راقم نے سرسری مطالعہ کیا ہے:
رسالہ شاہراہ (مرتب: نوشاد منظر) // رسالہ نیا دور (مرتب: محمد اطہر مسعود خاں) // رسالہ جامعہ (مرتب: شہاب ا لدین انصاری)
پچھلے دنوں جب تلنگانہ کے انجینئرنگ کالجز کی تفصیلات پر مبنی ویب ڈائرکٹری کا راقم نے آغاز کیا، تو اس دوران یہ بات بھی ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ، اسی بنیاد پر کسی بھی اردو رسالے کے اشاریے کو ۔۔۔
جدید ویب ٹیکنالوجی، ایس۔کیو۔ایل (SQL) ڈیٹا بیس، فلٹرنگ سسٹم اور سرچ انجن کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ صرف "فہرستِ مضامین" نہیں رہے گا بلکہ اردو تحقیق کے لیے ایک مکمل "ڈیجیٹل نالج پورٹل" بن جائے گا۔
جس طرح راقم الحروف نے تلنگانہ انجینئرنگ کالجز کے منتشر ڈیٹا کو ایک قابلِ تلاش نظام میں تبدیل کیا، اسی طرح اردو رسائل کی اشاریہ سازی کو بھی ایک جدید تحقیقی انفراسٹرکچر کی شکل دی جا سکتی ہے۔
یہ میرا کوئی خیالی یا زبانی کلامی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ ماضی میں (کوئی پندرہ بیس سال کے دوران)، اس قسم کے دو کام یہ ناچیز سرانجام دے چکا ہے جس کی گواہی محترم اعجاز عبید اور اشعر نجمی دے سکتے ہیں۔ رسالہ "شگوفہ (حیدرآباد)" اور رسالہ "اثبات (ممبئی)" کے چند شماروں کا ویب ڈیٹابیس میں نے برسوں قبل بنایا تھا۔
خیر یہ موضوع ایک تفصیلی مضمون کا تقاضا کرتا ہے، مگر فی الحال عام اردو قاری کی معلومات میں اضافے کے لیے چند دلچسپ و مفید نکات ذیل میں پیش خدمت ہیں۔
فرض کیجیے کہ اگر ہم ماہنامہ شاہراہ (دہلی) کے اشاریے پر مبنی کتاب (مرتب: ڈاکٹر نوشاد منظر) کے متعلقہ متن (135 صفحات، ص:169 تا ص:304) کو ویب ڈیٹابیس پر منتقل کرتے ہیں:
نتائج میں شامل ہر لفظ/موضوع/ماہ و سال - ہائپرلنک کے ساتھ ڈسپلے ہوگا۔
1) الف بائی انڈیکس (چار مختلف طرز پر: عنوان مضمون، موضوع، نام مصنف، سال/ماہ)
2) مصنف (مثلاً: خواجہ احمد عباس) کے نام کو کلک کرنے پر: مصنف کے شائع شدہ تمام مضامین کے عنوانات کی فہرست (موضوع ، سنہ/مہینہ وار)
3) سرچ بکس میں کسی لفظ کی تلاش (نتیجہ: یہ لفظ کس مضمون کے عنوان میں شامل ہے؟، مضمون کے مصنف کا نام، شمارہ سال/ماہ)
4) اگر اسکالر یا محقق کو تحقیق کرنا ہو کہ "1947 کے بعد اردو افسانہ" تو اسے اشاریہ سازی کی کتاب میں سینکڑوں صفحات دیکھ کر چیک کرنا پڑتا ہے، جبکہ ویب پورٹل پر فلٹر سلیکٹ کیجیے (یعنی 1947ء کے بعد کے تمام سال)، پھر سرچ بکس میں لفظ "افسانہ" لکھ کر سرچ بٹن دبا دیجیے، نتیجہ ایک سیکنڈ کے اندر سامنے آ جائے گا۔
5) اردو دنیا اب بھی زیادہ تر پی۔ڈی۔ایف، اسکین اور جامد صفحات تک محدود ہے۔ جبکہ جدید ویب دنیا اسٹرکچرڈ ڈیٹا (Structured Data) پر چل رہی ہے۔ اگر اردو میں "ڈیٹا بیس کلچر" کا آغاز کرنا ہو تو پھر ہر مضمون کو ایس۔کیو۔ایل ڈیٹابیس ریکارڈ (SQL Database Record) کے طور پر محفوظ کرنا ضروری ہے۔ جس کے نتیجے میں:
* ایڈوانس سرچ (Advanced Search)
* متعلقہ مواد (Related Articles)
* اسمارٹ سفارش (Smart Recommendations)
* خودکار لنکنگ (Auto Linking)
* کراس ریفرنسنگ (Cross Referencing)
جیسے جدید فیچرز اردو کو دیگر عالمی زبانوں کے کارپس کے مقابلے میں لے آئیں گے۔ اور یوں اردو زبان محض "مطالعہ" سے نکل کر ڈیٹا پر منحصر علمی نظام (Data-driven Knowledge System) میں داخل ہوگی۔
6) نئی نسل کا آج کا قاری گوگل طرز کی سرچ چاہتا ہے۔ لائبریریوں میں بیٹھ کر فہرستیں کھنگالنے کی فرصت اس بچارے کو دستیاب نہیں ہے۔ اگر اردو رسائل کی دنیا کو موبائل فرینڈلی، فاسٹ سرچنگ، زمرہ جاتی براؤزنگ (کٹیگری براؤزنگ) مع اسمارٹ فلٹرز پر مشتمل بنایا جائے تو قوی امکانات ہیں کہ اردو کا نوجوان طبقہ پہلی مرتبہ اردو تحقیقی مواد سے حقیقی طور پر جڑ سکتا ہے۔
7) جامعات اور محققین کے لیے اس قسم کے ڈیٹابیس پورٹل غیر معمولی سہولت ہی نہیں بلکہ کسی بڑے خزانے کے مترادف ثابت ہوں گے۔ "فلاں موضوع پر پہلے لکھا گیا ہے یا نہیں؟" ریسرچ کے اس ابتدائی مرحلے کو ڈیٹابیس پورٹل انتہائی مختصر کر دے گا کیونکہ 'ریسرچ ڈسکووری' محض لمحے بھر کا کام ہوتی ہے۔
لاتعداد قدیم رسائل اب نایاب ہو چکے ہیں۔ کئی رسائل تو اب صرف چند لائبریریوں میں ہی محفوظ ہیں۔ اگر ان کا اشاریاتی ڈیٹا ویب پر آ جائے تو کم از کم ان کے علمی وجود کا ریکارڈ محفوظ رہے گا۔ اور یہ اردو کے علمی ورثے کی Digital Preservation ہوگی۔
8) آج کی ڈیجیٹل اشاریہ سازی، کل کی اردو اے۔آئی ٹیکنالوجی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر اردو مضامین اسٹرکچرڈ میٹاڈیٹا (Structured Metadata) کے ساتھ محفوظ کیے جائیں تو مستقبل میں درج ذیل عناصر کی تکمیل بآسانی ممکن ہوگی:
* اے۔آئی کی بنیاد پر اردو ریسرچ (AI-based Urdu Research)
* معنوی تلاش (Semantic Search)
* ذہین سفارشات (Intelligent Recommendations)
* موضوعاتی میپنگ (Topic Mapping)
* اردو علمی نقشے (Urdu Knowledge Graphs)
9) اردو کی موجودہ ویب دنیا میں اس وقت پائے جاتے ہیں: بلاگز، نیوز سائٹس، ادبی و ثقافتی پورٹلس، پی۔ڈی۔ایف لائبریریاں وغیرہ۔۔۔ مگر ایک چیز جو نہیں ہے، وہ ہے:
Searchable Scholarly Index Database
اس لیے ڈیٹابیس پورٹل کے قیام کا ایسا کوئی بھی منصوبہ محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ اردو تحقیق کے میدان میں ایک نیا ماڈل شمار ہوگا۔ جسے بعد ازاں اخبارات، عمومی رسائل، دینی مجلے، ادبی جرائد، تاریخی دستاویزات۔۔۔ پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
10) اب تک اشاریہ سازی ایک خاموش کتابی خدمت تھی۔ ویب ڈیٹابیس ٹیکنالوجی اسے:
* باہمی و تفاعلی (Interactive)
* متحرک و مسلسل تازہ ہونے والا (Dynamic)
* قابلِ تلاش و فوری جستجو پر مبنی (Searchable)
* قابلِ توسیع و مسلسل اضافہ پذیر (Expandable)
* اشتراکی و اجتماعی تعاون پر مبنی (Collaborative)
علمی نظام میں بدل سکتی ہے۔
اختتامیہ:
آج اردو میں ہزاروں قیمتی مضامین رسائل کے پرانے شماروں میں دفن ہیں۔ عام قاری یا محقق کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ فلاں موضوع پر کون سا مضمون کس رسالے میں کب شائع ہوا تھا۔
لہذا اگر اس قسم کا ڈیٹابیس پورٹل سنجیدگی سے بنایا جائے تو یہ صرف اردو ویب سائٹ نہیں رہے گا، بلکہ آنے والے برسوں میں اردو تحقیق کے بنیادی حوالہ جاتی نظاموں میں شمار ہو سکتا ہے۔
نوٹ اول:
یہ مضمون ان احباب یا معترضین کے لیے ہرگز بھی نہیں ہے، جن کا پہلا سوال/شکوہ ہی یہی ہوتا ہے کہ: اردو پڑھنے والے کہاں ہیں؟
نوٹ دوم:
حیدرآباد (تلنگانہ) میں اس طرز کا کام پروفیسر رحمت یوسف زئی (موظف صدر شعبۂ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد) اپنی ضخیم ترین اردو کتب لائبریری میں دو تین ماہرین کو ماہانہ تنخواہ دے کر کروا رہے ہیں جو ان کی لائبریری کی ہر کتاب کی تفصیلات، فہرست مضامین، مضامین کے کی-ورڈز وغیرہ کو ایم۔ایس۔ورڈ فائل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔
نوٹ سوم:
اگر ڈاکٹر نوشاد منظر تعاون کریں تو "شاہراہ" کے اشاریے کو ویب ڈیٹابیس شکل میں منتقل کرنے کے لیے احقر مکرم نیاز کی خدمات حاضر ہیں۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
16/مئی/2026ء
How Digital Urdu Magazine Indexing Can Transform Research and Literary Archives


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں