تدبر کی آڑ میں انکارِ حدیث؟ : ایک علمی تجزیہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) اپنے ایک مضمون (کیا جمہور کا قول حجت ہے؟) میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔
"۔۔۔ یہ دعویٰ کہ 'جمہور کا قول حجت ہے' قرآن کے خلاف ہے، سنت کے خلاف ہے، اجماعِ امت کے خلاف ہے، عقل کے خلاف ہے، اور قرناً بعد قرن اور جیلاً إثر جیل فقہائے امت کے تعامل کے خلاف ہے۔ قرآنِ کریم کی بے شمار آیتوں میں خدا اور رسول کی بات ماننے کو فرض قرار دیا گیا ہے۔"
جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) کے اسکالر عبد العزیز ناصر بڑے سادہ لفظوں میں وضاحت کرتے ہیں کہ: اجماع حجت ہے۔ جمہور نہیں۔ شریعت میں بعض جگہ جمہور کو حجت مانا گیا ہے بعض جگہ نہیں مانا گیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ جمہور دو قسم کے ہوتے ہیں:
1) ایک کسی خاص معاملے میں متعلقہ جمہور لوگوں کی بات
2) دوسرا مطلق جمہور، یعنی سب معاملات میں جمہور لوگوں کی بات
پہلی والی کو حجت مانا گیا ہے مثلاً قانون جاننے والے وکیلوں یا ججوں میں جمہور کی بات، اسی طرح ڈاکٹروں میں جمہور کی بات، اسی طرح علمائے حق میں جمہور کی بات۔ صحت حدیث میں جمہور محدثین کی رائے وغیرہ۔
اور ہمارا کہنا ہے کہ ۔۔۔
دراصل ڈکٹر ندوی صاحب اس جملے کی آڑ میں دانستہ یا غیردانستہ اس بات کا اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ: حدیث کی صحت کا فیصلہ بھی چونکہ خدا اور رسول کا فیصلہ نہیں ہے لہذا روایت کی صحت کا فیصلہ بھی ہر دور میں ہو سکتا ہے۔
جبکہ دین کا عام طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ: جرح و تعدیل، علم الحدیث کی ایک معروف اصطلاح ہے جس کے معنی مخصوص ہیں۔ اور علمِ جرح و تعدیل میں یہ قول راجح ہے کہ:
قدیم ائمۂ ناقدین کے اقوال ہی اصل حجت ہیں، اور متأخرین (بعد کے علماء) کا کام بنیادی طور پر انہی اقوال کو جمع کرنا، ان میں موازنہ کرنا اور استنباط کرنا ہے۔
حافظ سخاویؒ اسی لیے اپنی کتاب "الاعلان بالتوبیخ" میں لکھتے ہیں کہ:
والأقدمون أقرب إلى الاستقامة، وأبعد من الملامة ممن تأخر
قدیم علماء، بعد والوں کی بہ نسبت صحیح راہ کے زیادہ قریب اور ملامت سے زیادہ دور ہیں۔
امام شاطبیؒ بھی اپنی کتاب "الموافقات" میں کچھ اسی طرح بیان کرتے ہیں:
فأعمال المتقدمين في إصلاح دنياهم ودينهم على خلاف أعمال المتأخرين، وعلومهم في التحقيق أقعد، فتحقق الصحابة بعلوم الشريعة ليس كتحقق التابعين، والتابعون ليسوا كتابعيهم، وهكذا إلى الآن
متقدمین کے اعمال دینی و دنیاوی اصلاح میں متأخرین سے مختلف ہیں، اور تحقیق میں ان کا علم زیادہ پختہ ہے، صحابہ کا شریعت کے علوم میں رسوخ تابعین جیسا نہ تھا، اور تابعین تبع تابعین جیسے نہ تھے، اور یہی سلسلہ آج تک جاری ہے۔
لہذا علم الحدیث میں جرح و تعدیل کا اصول یہ ہے کہ:
متقدمین کا کام: راوی کے ساتھ براہِ راست تجربے پر مبنی جرح و تعدیل، جو اصلاً حجت ہے۔
متأخرین کا کام: متقدمین کے اقوال کو جمع کر کے ان میں موازنہ کرنا اور ان سے استنباط کرنا۔ ذہبی اور ابن حجر جیسے متأخرین نے یہی کیا اور ان کے اجتہادی اقوال بھی معتبر ہیں، البتہ وہ متقدمین کے اقوال ہی کی روشنی میں ہیں۔
نئے علماء (معاصرین): جو اس روایتی سلسلے سے ہٹ کر صرف ذاتی رائے سے جرح کریں، ان کا قول دلیل کے طور پر قابلِ قبول نہیں۔
تقریباً ڈاکٹر ندوی کے طرز پر ہمارے ایک اہل علم ڈاکٹر دوست لکھتے ہیں کہ:
"قرآن و حدیث پر غور و تدبر کا عمل قیامت تک جاری رہے گا۔"
جبکہ ہم ایسے جملے کو ایک بہت بڑا مغالطہ مانتے ہیں۔ کیونکہ یہ جملہ دو بالکل مختلف چیزوں کو باہم خلط ملط کر دیتا ہے۔
پہلی چیز ہے: "تدبر و فہم" یعنی قرآن و حدیث کے معانی سمجھنا، ان پر عمل کرنا۔
یہ ہر زمانے میں جاری رہا اور جاری رہے گا بھی، چاہے عام مسلمان ہو یا عالم یا فقیہ یا مدرس یا اسکالر۔
دوسری چیز ہے: "تصحیح و تضعیف" یعنی کسی حدیث/روایت کو صحیح یا ضعیف قرار دینا۔
یہ ایک خاص فن ہے جس کا وقت گزر چکا ہے، یہ فن صرف قدیم ائمہ، ناقدین و محدثین کے لیے مخصوص رہا۔
درج بالا جملے کے ذریعے قصداً یا غیرقصداً پہلی چیز کو دوسری چیز میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یعنی: "تدبر کا حق ہر دور میں ہے" سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ "روایت کی صحت کا فیصلہ بھی ہر دور میں ہو سکتا ہے"۔
جبکہ علوم الحدیث فن کے ماہرین نے اس بات کا مکمل رد کر رکھا ہے۔
علامہ ابن الصلاح "مقدمہ فی علوم الحدیث" (ص:16) میں صاف صاف لکھتے ہیں:
آج کے زمانوں میں اسناد کے اعتبار سے صحیح احادیث کا ازخود اِدراک کرنا دشوار ہو چکا ہے، کیونکہ ان (راویوں) تک پہنچنے کے راستے منقطع ہو گئے اور ان کے احوال سے واقفیت ناممکن ہو گئی۔
لہذا علم حدیث کے دونوں دائروں کو سمجھنا بےانتہا ضروری ہے کہ اہل علم نے انہیں آخر کیونکر الگ الگ دائرے قرار دے رکھا ہے؟
دائرۂ اول: (جو کہ اب بند ہو چکا ہے)
* راویوں کی جرح و تعدیل
* کسی حدیث کو محدثین کے اجماع سے ہٹ کر، صحیح یا ضعیف قرار دینا
* اسنادی تحقیق سے نئے احکام جاری کرنا
دائرۂ دوم (جو کھلا ہے اور قیامت تک جاری رہے گا)
* صحیح ثابت شدہ احادیث کی فقہی تشریح
* احادیث سے نئے پیش آمدہ مسائل کا استنباط
* احادیث کے معانی و مقاصد میں غور و فکر
"کثرتِ رائے" اور "اہلِ فن کا اتفاق" دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ جمہوریت میں کوئی بھی ووٹ دے سکتا ہے، ماہر اور جاہل برابر ہیں۔ محدثین کا اجماع اس کے بالکل برعکس ہے - اسے خود اہلِ علم نے صریحاً بیان کیا ہے۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ کا قول ہے کہ: "اگر محدثین کسی حدیث کی تصحیح پر اجماع کر لیں تو وہ یقیناً سچی ہوتی ہے۔" اور امام شوکانی (تحفۃ الاحوذی) بھی لکھتے ہیں کہ: "ہر فن میں اسی فن کے ماہروں کا اتفاق معتبر ہوتا ہے۔"
یعنی ڈاکٹر کی رائے طب میں معتبر ہے، انجینئر کی نہیں، اسی طرح حدیث کی صحت میں صرف محدثین کی رائے معتبر ہے، کسی بھی عام شخص یا جدید اسکالر کی نہیں۔
محدثین کا اجماع عوامی رائے نہیں! یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے راویوں کو بچپن سے دیکھا، ان کے حافظے آزمائے، ان کے اساتذہ اور شاگردوں کو جانا۔ امام شوکانی نے اس کی نوعیت یوں واضح کی ہے:
"جب خبرِ واحد پر اجماع ہو جائے تو وہ متواتر کی مثل علمِ یقینی دیتی ہے، کیونکہ اجماع نے اس کی صداقت کو یقینی بنا دیا۔"
اس قسم کے مغالطوں کی اصل غرض بس یہی معلوم ہوتی ہے کہ:
اجماعِ محدثین کو "عوامی رائے" کی سطح پر لا کر اسے رد کیا جائے، اور پھر "اپنی عقل" یا "جدید تحقیق" سے حدیث پر حکم لگانے کا راستہ کھولا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ۔۔۔ کوئی بھی قلمکار یا خطیب یا دانشور یہ نہیں بتاتا کہ: کس کی عقل معیار ہوگی؟
عام مسلمان کی؟
پھر سورہ الزمر کی آیت:9 کہاں جائے گی، جس میں بیان ہوا ہے کہ: علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔
یہ آیت تو اس بحث کا بنیادی ترین نقطہ ہے۔ جب کوئی یہ کہے کہ "جمہوری رائے اور اہلِ فن کا اتفاق یکساں ہیں"، تو یہ آیت اس مغالطے کا قرآنی رد ہے کہ علم والا اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے - چنانچہ حدیث کی صحت کے فیصلے میں محدثِ ناقد کی رائے اور ایک عام قاری کی رائے ہرگز برابر نہیں۔
ہمارے خیال میں۔۔۔ دو چیزوں میں فرق کیا جانا چاہیے:
1) عوامی کثرتِ رائے حجت ہے: یہ غلط ہے - قرآن نے اسے رد کیا
2) جمہور فقہاء و محدثین کا قول حجت ہے: یہ صحیح ہے - جمہور فقہاء کی رائے معتبر ہے۔
جبکہ مقتبس کردہ پیراگراف کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اس جملے کا اصل ہدف جمہور فقہاء و محدثین کے قول کو بھی رد کرانا تھا - تاکہ "اپنی عقل" کو بلا روک ٹوک چلانے کی راہ ہموار ہو۔ اور یہی وہ مقام ہے جسے قرآن سختی سے رد کرتا ہے۔
1) "پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (علم والوں) سے پوچھو۔" (النحل: 43)
2) "کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (الزمر:9)
3) "اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے ارباب ِ امر کی طرف لوٹاتے، تو جو ان میں سے استنباط کرنے والے ہیں وہ اسے جان لیتے۔" (النساء:83)
امام ابن قیم نے 'اعلام الموقعین' میں اس آیت کی شرح میں لکھا:
"اُولو الامر سے مراد علماء اور امراء ہیں، اور ہر فن میں اس فن کے اہل ہی اُولو الامر ہیں۔"
خوبصورت جملوں کی آڑ میں ایسے مغالطے خاص طور پر انکارِ حدیث کا رجحان رکھنے والے یا جدت پسند اسکالرز استعمال کرتے ہیں تاکہ:
* قدیم محدثین کی تصحیح کو چیلنج کیا جا سکے
* اپنی ذاتی رائے سے حدیث کو رد کرنے کا راستہ کھولا جائے
* "تدبر" کے خوبصورت لفظ کی آڑ میں، علوم الحدیث کے اصل علمی معیار کو گرایا جائے
جبکہ درست اصول یہ ہے کہ صحت کا فیصلہ قدیم ائمہ نے کر دیا، آج کا عالم/اسکالر صرف انہی کے اقوال نقل کرے گا، نہ کہ ازسرِنو اسنادی تحقیق کا دعویٰ کرے گا۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
15/مئی/2026ء
Can Modern Scholars Re-Authenticate Hadith? What Ibn al-Salah, al-Dhahabi and al-Nawawi Actually Said About the Finality of Isnad Criticism


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں