گھر کا کام بیوی کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ احادیث کی روشنی میں - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/05/01

گھر کا کام بیوی کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ احادیث کی روشنی میں

khichdi-khageena

رسول اللہﷺ کی گھر کے کاموں میں مدد ۔۔۔ اس سے کیا مراد ہے؟


پچھلے دنوں ایک دوست سے گفتگو کے دوران جب صحیح بخاری کی اس مشہور حدیث کا ذکر ہوا کہ:
كان يكون في مهنة أهله تعني خدمة أهله فإذا حضرت الصلاة خرج إلى الصلاة
(آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت میں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت آتا تو تشریف لے جاتے۔)


تب سوال اٹھا کہ "گھر والوں کی خدمت" سے مراد کیا ہے؟
اس کی تشریح میں، علامہ ابن القیم اپنی مشہور کتاب "زاد المعاد" میں لکھتے ہیں:
وأما ترفيه المرأة وخدمة الزوج وكنسه وطحنه وعجنه وغسيله وفرشه وقيامه بخدمة البيت فمن المنكر۔۔۔۔۔
اردو مفہوم:
اور رہا خاوند کا بیوی کی خدمت کرنا، جھاڑو پونچھا کرنا، آٹا گوندھنا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، بستر بچھانا اور خانہ داری کے دیگر امور انجام دینا تو یہ نامناسب ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر قوام بنایا ہے، اور اگر بیوی خاوند کی خدمت کرنے کی بجائے، خاوند بیوی کی خدمت کرنے لگے تو اس کا مطلب ہوا کہ بیوی قوامہ ہے۔


علامہ ابن قیم مزید فرماتے ہیں (عربی متن کا اردو مفہوم)۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے شوہر پر بیوی کا نان و نفقہ، لباس اور رہائش اس لیے واجب کیا ہے کیونکہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے بدلے میں بیوی اس کی خدمت کرتی ہے، اور یہی میاں بیوی کا زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا دستور ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہما کی طرف سے کی جانے والی خدمات دراصل اُن کی اپنی مرضی اور احسان تھا، ان کا یہ موقف اس واقعے سے ردّ ہو جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے پاس آ کر خدمتِ خانہ کی تھکاوٹ کی شکایت کی۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ نہیں فرمایا کہ: ''فاطمہ پر کوئی خدمت نہیں، یہ تمہاری ذمہ داری ہے''
کیونکہ آپ ﷺ فیصلوں میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے تھے۔ اسی طرح جب آپ ﷺ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو سر پر چارہ اٹھائے دیکھا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، تب آپ ﷺ نے ان سے یہ نہیں کہا کہ: ''تمہاری بیوی پر یہ خدمت لازم نہیں، یہ اس پر ظلم ہے''
بلکہ آپ ﷺ نے ان کی بیویوں سے یہ خدمت لینے کو برقرار رکھا، اور دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معاملہ رہا کہ ان کی بیویاں گھر کا کام کرتی تھیں۔۔۔ حالانکہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ ان میں بعض راضی ہیں اور بعض ناپسند بھی کرتی ہیں۔۔۔ اور یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔


یہ فرق کرنا بھی درست نہیں کہ شریف گھرانے کی عورت پر گھریلو خدمت واجب نہیں، بلکہ صرف عام عورت پر واجب ہے، یا امیر پر نہیں بلکہ صرف غریب پر واجب ہے۔ حالانکہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس دنیا میں شرافت کا اعلیٰ ترین درجہ رکھنے والی خواتین میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا شامل ہیں اور وہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی تھیں۔ اور ایک بار انہوں نے خود نبی ﷺ کے پاس آ کر اس خدمت کی شکایت کی۔۔۔ مگر آپ ﷺ نے انہیں اس ذمہ داری سے آزاد نہیں فرمایا۔


نیز خود نبی ﷺ نے ایک صحیح حدیث میں عورت کو ''عانیہ'' (یعنی قیدی یا محتاج) کہا اور فرمایا:
اتقوا الله في النساء ، فإنهن عوان عندكم (صحیح مسلم)
''عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں (یعنی محتاجوں) کی طرح ہیں۔''
اس لفظ (عوان) سے مراد یہ ہے کہ وہ شوہر کی سرپرستی میں ہیں، اور جب یہی حال ہے تو گھریلو ذمہ داری، ہر عورت کے لیے یکساں ہے، کوئی استثناء نہیں۔


علامہ ابن القیم کا کلام یہاں تمام ہوا۔ اسلام ویب (islamweb.net) نے اس کلام پر مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔۔۔۔
ابن القیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں یہ لفظ (عوان) اس لیے بطور دلیل استعمال کیا کہ جب عورت شوہر کی ''سرپرستی'' میں ہے تو گھریلو ذمہ داری فطری طور پر اسی کی ہوگی۔ تاہم یہ لفظ ظلم یا تحقیر کے لیے نہیں بلکہ شوہر کی ذمہ داری اور نگہداشت کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی جیسے قیدی کی ضروریات کا ذمہ اس کے مالک پر ہوتا ہے، اسی طرح بیوی کی ضروریات (نفقہ، لباس، رہائش) شوہر پر لازم ہیں۔


جلیل القدر محدث ابن حجر عسقلانیؒ کے استاذ گرامی زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی (حافظ عراقی) نے اپنی کتاب "طرح التثریب" (واضح رہے یہ کتاب حافظ عراقی اور ان کے فرزند ابو زرعہ العراقی کی مشترکہ تصنیف ہے) کے ایک باب میں صحیح بخاری کی متذکرہ بالا حدیث (گھر والوں کی خدمت) کی شرح میں لکھا ہے:
ليس المراد بالمهنة ما يُعدّ من أعمال النساء، ولا يُظَنّ بأمهات المؤمنين الموافقة على ذلك والسكوت عنه
(اردو مفہوم): حدیث میں لفظ "مهنة" (خدمت) سے مراد وہ کام نہیں جو خواتین کے ذمے شمار ہوتے ہیں۔ اور امہات المؤمنین سے یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ نبیؐ اگر یہ کام (خواتین کے ذمے والے) کرتے تو وہ اس پر خاموش رہتیں اور موافقت کرتیں۔


یہ تو ہوا دورِ نبویؐ کا ذکرِ خیر۔
آئیے اب ہم اپنے زمانے میں لوٹتے ہیں۔ موجودہ دور میں برصغیر سمیت دنیا کے تقریباً ممالک میں یہ رواج چل نکلا ہے کہ میاں بیوی دونوں کماتے ہیں (یا اپنا گھر چلانے کے لیے دونوں کا کمانا مجبوری بن گیا ہے)۔ اب ایسی صورت میں دورِ نبوی والے "قوام" کا تصور کہاں اور کیسے قائم ہوگا؟
یہ تو ظلم ہوا کہ کمائیں دونوں مگر باورچی خانے یا دیگر گھریلو امور کی ذمہ داری کا مکمل بار صرف عورت پر ڈال دیا جائے۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ جب کمانے میں شراکت داری ہے تو دیگر تمام امور میں بھی مرد کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے ۔۔۔ چاہے کسی بھی طریقے سے سہی، خود کام نہ کر سکے تو پھر ملازم/ملازمہ کا بندوبست کرے۔
فیمینزم تحریک کی حامی لبرل مزاج خواتین کا یہ ٹھوس اور جامد حکم لگانا کہ نہیں بھئی، مردوں کو عورتوں کے ہر کام میں شراکت داری نبھانا ہوگی۔۔۔ ایسا کہنا ایک طرح کی زیادتی ہے۔ کیونکہ "مجبوری" کی بات الگ ہے، لیکن جہاں کوئی مجبوری نہ ہو، وہاں شرعی احکامات سے آگے بڑھ کر اپنے نظریات کیسے ٹھونسے جا سکتے ہیں بھلا؟


پچھلے دنوں ایک اور دلچسپ بات نظر سے گزری۔ ایک ممتاز قلمکار/صحافی خاتون نے لکھا کہ۔۔۔ مردوں کو تو سہولت ہے کہ ہفتہ میں ایک دن چھٹی مناتے ہیں مگر عورتوں کو تو 24x7 کام میں لگے رہنا پڑتا ہے۔ اگر یہ کوئی سنجیدہ دعویٰ ہے تو ناقابلِ قبول ہے، اور اگر طنز ہے تو طنز کو حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ کوئی اصولی یا ضروری بات تو نہیں کہ کام کرنے والا دنیا کا ہر مرد ایک دن چھٹی مناتا ہو۔ مزدور طبقہ تو سال کے 365 دن کام کرتا ہے، شاید ہی کبھی دو چار دن کی چھٹی مناتا ہو ۔۔۔ ونیز ہر مرد صرف دفتری کام تک محدود رہ کر ہفتہ میں ایک دن چھٹی منائے، یہ بھی کوئی لازمی امر نہیں، کیونکہ بہت ممکن ہے وہ اہل خانہ کی کفالت کی ذمہ داری نبھانے سال کے 365 دن اپنے حساب سے کام کرتا ہوگا۔ لہذا اس معاملے میں بھی دو اور دو چار والا کوئی اصول طے کرکے اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرنا زیادتی ہے۔ آخر نبی ﷺ کی دختر نیک اختر رضی اللہ عنہا نے بھی روزانہ کے کام کے بوجھ کا شکوہ کیا تھا، مگر آپ ﷺ نے انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں فرمایا، صرف ذکر کے ذریعے سہولت کا راستہ دکھایا۔


چلتے چلتے ایک دلچسپ لطیفہ بھی پڑھ لیجیے۔
سعودی عرب قیام کے دوران، عائلی ذمہ داری کی تقسیم کچھ یوں تھی کہ ہفتہ کے چھ دن علی الصبح بچوں کو منہ دھلا کر تیار کرنا، ناشتہ کروانا ماں کی ذمہ داری تھی اور جمعہ چھٹی کے دن باپ کی ذمہ داری کہ بچوں کو اٹھائے اور منہ ہاتھ دھلائے یا نہلائے۔ ایک جمعہ چھوٹی بٹیا کو ہم نے زبردستی بستر سے اٹھایا اور منہ دھلوانا چاہا تو اس نے منہ بسور کر عرض کیا:
"ابی کل اِچ مما منہ دھلائے تھے ناں ابو، آج پھر دھونا؟ آج چھٹی ہے ہم منہ نئیں دھوتے جاؤ!"


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
یکم/مئی/2026ء


Keywords: Islamic gender roles, household duties in Islam, wife's responsibilities in Islam, husband and wife roles Quran, Ibn al-Qayyim Zad al-Maad, Fatima bint Muhammad housework hadith, Quawwamiyat in Islam, Islamic marriage responsibilities, Islam on women's rights at home, Sunnah of Prophet Muhammad family life, Muslim women household obligations, classical Islamic scholars on domestic duties
Household Duties in Islam: Whose Responsibility?
Is Housework a Wife's Duty in Islam? What the Quran, Hadith, and Classical Scholars Like Ibn al-Qayyim Really Say

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں